شہباز گل کی اس سے زیادہ KUTTAY والی ہو نہیں سکتی تھی
تمھاری کتے والی زبان کی وجہ سے وہ آج اندر ترلے کر رہا ہے مجھے باہر نکالو
تم بھگوڑے باہر بیٹھے ہو واپس آ کر مار کھاؤ قربانی دو
میں پچھو گجراتی آں تے جم پل میری لاہور دی اے میں تیرے وچ وڑ کے نکل آواں گا 😂😂😂
سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اس وقت ایک ایسی پوزیشن میں ہے جو اسے تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ملی۔ وینس آ رہا ہے۔ ایران سے سرحد ہے ، رابطہ ہے۔ مسلم دنیا میں ساکھ ہے ، کامیاب ثالث کا کردار ممکن ہے۔ چین سے تعلق ہے جو ایک اور بڑا کھلاڑی ہے جو پاکستان کے ذریعے بات کر سکتا ہے۔یہ وہ موڑ ہے جو ترکی کو ملا تھا 1950 کی دہائی میں اور ترکی نے اسے استعمال کرتے ہوئے خود کو ناگزیر بنا لیا۔ یہ وہ موقع ہے جو قطر کو ملا تو ایک چھوٹے سے ملک نے طالبان اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی اور دنیا کے نقشے پر اپنی الگ شناخت بنائی۔ یہ وہی راستہ ہے جو ناروے نے 1993 میں چنا ، عرفات اور اسرائیل کے درمیان اوسلو معاہدے کی میزبانی کی اور ایک چھوٹا ملک دنیا کے امن کا ضامن بن گیا۔
پاکستان کے پاس ان سب سے زیادہ وزن ہے ۔ ایٹمی طاقت، بڑی فوج، مسلم اکثریتی آبادی، چین اور امریکہ دونوں سے تعلق۔ اگر پاکستان آج امن ساز کی شناخت بنا نے میں کامیاب ہوجائے تو یہ شناخت اسے وہ دے گی جو تیس سال کی امداد نہیں دے سکی۔سرمایہ کاری آتی ہے استحکام سے۔ استحکام آتا ہے ساکھ سے۔ ساکھ بنتی ہے کردار سے اور کردار ثابت ہوتا ہے ایسے لمحوں میں جب دنیا دیکھ رہی ہو۔دنیا کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر ٹکی ہیں۔
سب سے بڑھ کر یہ سب کر گذرنے سے شاید ہم خود بھی میز اور میدان کا فرق جان کر میز کی اہمیت کے بھی قائل ہو جائیں، اور اپنے مشرقی اور شمالی پڑوسیوں کو میز پر لا کے مزاکرات کا سلسلہ چلا دیں-
جمشید اقبال
ریاستیں یوں گچی سے پکڑ کر اندر کرتی ہیں خواہ وہ کتنا ہی بڑا بزنس مین کتنا ہی بڑا ذاکر کیوں نہ ہو جبکہ ہمارے ہاں زندہ فوجی جوان جلوانے والے پراکسی ایجنٹ آج بھی آزاد اور شھیدوں کا مزاق اُڑا رہے ہیں
یہ پہلے ن لیگ کی بھی تحریک انصاف کے دور میں بہت عادت تھی۔ پرچے، دائرے، ڈی جی صاحب کو خود سلائيڈیں چلانا پڑی تھیں، تقریر بند کرنا پڑی ایک مرتبہ ایک کنونشن سینٹر کی تاریں کاٹ دی گئیں۔
بس پھر اللہ جسے چاہے ہدایت دے وہ دلوں کو پھیرنے والا ہے۔
نوٹ: زیر ہے۔ زبر نہیں۔
@ameerabbas84 بیٹا یہ بات 1977 میں ہی پتہ چل گئی تھی تم جیسے عقل سے پیدل لوگوں کو اب پتہ چلی ھے تو یہ تم لوگوں لا قصور ھے اور اسرار یہ لرتے جو کہ تمیں پڑھا لکھا سمجھا جائے
جن بے غیرتوں نے آج اپنے لڑنے والے شیروں کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے آج بھی تقسیم اور حوصلہ شکنی کی کوشش کی وہ ہمیشہ کے لیے میرے دل سے اتر گئے ہیں۔
وہ جانور ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر۔۔جو دھرتی ماں سے وفا نہیں کرتے اپنی سگی ماں کے وفادار بھی نہ ہوگے تھرڈ کلاس زومبیز۔۔