@ShazadAkbar@NCCIAOFFICIAL ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا میں
اے دیدہ ورو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
@Shanum00000 اور سب بھول گئے حرف صداقت لکھنا
رہ گیا کام ہمارا ہی بغاوت لکھنا
لاکھ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا
نہ صلے کی نہ ستائش کی تمنا ہم کو
حق میں لوگوں کے ہماری تو ہے عادت لکھنا
ہم نے جو بھول کے بھی شہہ کا قصیدہ نہ لکھا
اسی خوبی کی بدولت لکھنا
@Shanum00000 اس سے بڑھ کر مری تحسین بھلا کیا ہوگی
پڑھ کے نا خوش ہیں مرا صاحب ثروت لکھنا
دہر کے غم سے ہوا ربط تو ہم بھول گئے
سرو قامت کو جوانی کو قیامت لکھنا
کچھ بھی کہتے ہیں کہیں شہہ کے مصاحب جالبؔ
رنگ رکھنا یہی اپنا اسی صورت لکھنا
حبیب جالب
@ARYSabirShakir@NAB_SKT وُہ کہاں گرہِ سُخن کھولتا ہے
عکس‘ آئینے سے کب بولتا ہے
اِن کو تعبیر کی زنجیر میں بانٹ
خُواب آنکھوں میں کہاں رولتا ہے
کیوں دمکتا ہے ندی کا پانی
کون موجوں میں بدن گھولتا ہے
شہر جب خوف سے چُپ ہو محسنؔ
ایک دِل ہے،کہ بہت بولتا ہے
@agentjay2009 وہ کہ رہے ہیں محبت نہیں وطن سے مجھے
سکھا رہے ہیں محبت مشین گن سے مجھے
میں بے شعور ہوں کہتا نہیں ستم کو کرم
یہ ہی خطاب ملا ان کی انجمن سے مجھے
سپر جو شہ کی بنے غاصبوں کے کام آۓ
خدا بچاۓ رکھے ایسے علم و فن سے مجھے
حبیب جالب
@OfficialShehr@arsched اس رعونت سے وہ جیتے ہیں کہ مرنا ہی نہیں
تخت پر بیٹھے ہیں یوں جیسے اترنا ہی نہیں
ظلم سے ہیں برسر پیکار آزادی پسند
ان پہاڑوں میں جہاں پر کوئی جھرنا ہی نہیں
انتہا کر لیں ستم کی لوگ ابھی ہیں خواب میں
جاگ اٹھے جب لوگ تو ان کو ٹھہرنا ہی نہیں
@Shanum00000 ہر دھڑکن پر خوف کے پہرے
ہر آنسو پر پابندی
یہ جیون بھی کیا جیون ہے
آگ لگے ایسے جیون کو
اپنے ہونٹ سیئے ہیں تم نے
میری زباں کو مت روکو
تم کو اگر توفیق نہیں ہے
مجھ کو ہی سچ کہنے دو
حبیب جالب
لوگوں ہی کا خُوں بہہ جاتا ہے‘ ہوتا نہیں کُچھ سُلطانوں کو
طوفاں بھی نہیں زحمت دیتے،اِن کے سنگیں ایوانوں کو
ہر روز قیامت ڈھاتے ہیں‘ تیرے بے بس انسانوں پر
دِیواروں میں سہمے بیٹھے ہیں‘ کیا خُوب مِلی ہے آزادی
اپنوں نے بہایا خُوں اِتنا،ہم بُھول گئے بیگانوں کو
@MoeedNj مِرے خیال کی دُنیا حَسِین آج بھی ہے
بہت ہَوائیں چلِیں میرا رُخ بدلنے کو
مگر نِگاہ میں وُہ سر زمین آج بھی ہے
صعوبتوں کے سفر میں ہے کاروانِ حُسینؑ
یزید چین سے ، مسند نشِین آج بھی ہے
@NazPari02 رتجگوں نے میری آنکھوں کی بصارت لے لی
دل بینا تجھے تجھے اندھا نہیں ہونے دونگا
دفن ہو جائیگا خود رات کی تاریکی میں
جو یہ کہتا ہے سویرا نہیں ہونے دونگا
@NazPari02 اس چمن کو کبھی صحرا نہیں ہونے دونگا
مرمٹوں گا مگر ایسا نہیں ہونے دونگا
جب تلک بھی مری پلکوں پے دیےروشن ہیں
اپنی نگری میں اندھیرا نہیں ہونے دونگا
تو اگر میرا نہیں ہےتو مجھے بھی ضد ہے
میں تجھے بھی کبھی تیرا نہیں ہونے دونگا
@QasimKhanSuri بہت کہا تھا کہ چھوڑ ضد کو
نہ رول خود کو,چھوڑ ہم کو
یہ اندھیر نگری ہےقاتلوں کی
یہ رہگزر ہے رہزنوں کی
یہ سر زمیں ہے فاسقوں کی
لہو ہے پیتی نہ جینے دے گی
تیرے دکھ نے ہے مار ڈالا
اس دیس کے ہراک جواں کو
تیرے صدمے نا جینے دیں گے
کسی بہن کوکسی بھی ماں کو.