فوری عالمی اپیل
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق، آزادیٔ صحافت اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ
28 ستمبر 2026 کو پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری خوشحال خان اور آئی جی پولیس کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے مظفرآباد میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی، جس میں جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر سنگین الزامات عائد کیے گئے اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ریاست کی رٹ بحال ہو چکی ہے۔
حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ JAAC سے متعلق متعدد مطالبات اور حالیہ احتجاج کے بارے میں ریاستی مؤقف درست ہے۔ دوسری جانب JAAC اور اس کے حامی ان دعوؤں کو مسترد کرتے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے بنیادی مطالبات اور احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں، گرفتاریوں اور مبینہ زیادتیوں کے بارے میں آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران صحافی حیدر شیرازی نے حالیہ احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے مظاہرین کی لاشوں سے متعلق سوال کیا۔ دستیاب ویڈیو اور متعدد میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی جی پولیس لیاقت ملک نے صحافی سے مائیک لینے کی کوشش کی، جس پر صحافتی حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا گیا۔
صحافیوں کا سوال کرنا جرم نہیں ہے۔
ریاستی عہدیداروں سے مشکل اور حساس سوالات پوچھنا آزاد صحافت کا بنیادی حصہ ہے۔ کسی بھی سرکاری افسر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تنقیدی سوال کا جواب دلیل اور شواہد کے ساتھ دے، نہ کہ صحافی کو خاموش کرنے کی کوشش کرے۔
ہم یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ حالیہ احتجاج کے دوران ہونے والی تمام ہلاکتوں، زخمیوں، گرفتاریوں، لاپتہ افراد اور مبینہ طور پر تحویل میں لیے گئے افراد کے بارے میں آزاد، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کرائی جائیں۔
خواجہ مہران ارشد کے گھر کی مبینہ مسماری
اسی دوران جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن اور وکیل خواجہ مہران ارشد سے متعلق ان کے گھر/جائیداد کے انہدام کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
اس معاملے میں سرکاری مؤقف مختلف ہے۔ ایک حالیہ سرکاری مؤقف سے منسلک رپورٹ کے مطابق انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈڈیال میں متعلقہ تعمیرات سرکاری اراضی پر غیر قانونی طور پر قائم تھیں اور کارروائی سے قبل قانونی نوٹس جاری کیا گیا تھا۔
اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس معاملے میں نوٹس، ملکیت کے ریکارڈ، عدالتی احکامات اور انہدام کی قانونی بنیاد عوام کے سامنے لائی جائے، تاکہ حقیقت آزادانہ طور پر معلوم ہو سکے۔
عالمی برادری سے مطالبہ
ہم اقوام متحدہ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اداروں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، غیر ملکی حکومتوں، پارلیمانوں اور بین الاقوامی میڈیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:
1. پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی آزادانہ نگرانی اور تحقیقات کی جائیں۔
2. حالیہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد اور وجوہات کی آزادانہ تصدیق کرائی جائے۔
3. تمام گرفتار، لاپتہ یا زیرِ حراست افراد کے بارے میں معلومات ان کے خاندانوں اور وکلا کو فراہم کی جائیں۔
4. صحافیوں کو آزادانہ طور پر سوال کرنے اور رپورٹنگ کرنے کی اجازت دی جائے۔
5. کسی بھی شہری کے گھر یا کاروبار کے خلاف کارروائی قانونی طریقہ کار اور عدالتی نگرانی کے بغیر نہ کی جائے۔
6. انٹرنیٹ، مواصلات اور دیگر شہری سہولیات کی بندش کو ختم کیا جائے تاکہ عوام، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن آزادانہ طور پر معلومات حاصل اور شیئر کر سکیں۔
7. احتجاج کرنے والے شہریوں اور عام آبادی کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
8. تمام فریقین پر زور دیا جائے کہ اختلافات کا حل پرامن سیاسی اور آئینی طریقے سے نکالا جائے۔
ہم بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر، فلسطین یا دنیا کے کسی بھی حصے میں شہریوں کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کا اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
اگر کسی ریاست کی جانب سے دوسرے علاقوں میں شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال پر سوال اٹھایا جاتا ہے، تو اپنے زیرِ انتظام علاقے میں بھی شہریوں کے بنیادی حقوق، آزادیٔ اظہار، آزادیٔ صحافت اور پرامن احتجاج کے حق کا احترام ضروری ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں جاری صورتحال کو نظر انداز نہ کیا جائے اور وہاں کے شہریوں کے جان، آزادی، عزت اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اور آزادانہ بین الاقوامی نگرانی یقینی بنائی جائے۔
اتنے سارے کیمروں اور صحافیوں کے سامنے، وہ بھی پارلیمنٹ کی راہداری میں، ایک آئی جی کا اس طرح کا رویہ نظر آ رہا ہے۔ ذرا سوچیں، بند کمروں میں اس کے ہاتھوں جو لوگ زیرِ حراست رہے ہوں گے، ان کے ساتھ مبینہ طور پر کیا سلوک ہوتا ہوگا؟
⛔🚩⛔پاکستانی فورسزز نے کشمیریوں کے ہوٹل دکانیں سب کچھ لوٹ کر تباہ و برباد کر دیا۔
ضلع سدھنوتی تحصیل بلوچ میں پاکستانی فورسزز نے جس ہوٹل میں پناہ لی تھی اس ہوٹل کی صورتحال ۔
#BREAKING: Police arrest ex-PM Imran Khan’s sister Aleema Khan at her Lahore home ahead of a planned PTI protest march on Sept. 27, a party spokesman says. https://t.co/z9qHcApX0x