@QasimAliRaza90@AltafHussain_90 بیشک ھمارا قائد صرف ایک سیاسی شخصیت ھی نہیں بلکہ وہ قدم قدم پر رہنمائی کرنے والا ایک شفیق استاد بھی ھے اسکی رہنمائی میں وطن کی بقاء اور عوام کی خوشحالی ھے اسکی رہبری میں ملک اور قوم کی ترقی ھے اور وہ ملک بھر کے تمام مظلوموں کے لئے امید کی ایک کرن ھے وہ ایک مثالی تربیت گاہ بھی ھے۔
حکومت نے مذاکرات کاڈرامہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے ٹیمپوکوتوڑنے کے لئے رچایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریک انصاف اورحکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیرختم ہونے پر میرایہی کہنا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کا ڈرامہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے ٹیمپوکوتوڑنے کے لئے رچایا تھا۔ اگر پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان اور تحریک انصاف سے واقعتا مخلص ہوتے اورانہیں کارکنوں کے جذبات کااحسا س ہوتاتووہ کسی بھی صورت فارم 47 کے تحت قائم ہونے والی موجودہ حکومت سے ہرگز مذاکرات نہیں کرتے۔حکومت نے مذاکرات کادھوکہ دیاہی اسی لئے تھاکہ 4 اکتوبر کو پی ٹی آئی کی جانب سے جولانگ مارچ شروع ہونے جارہاتھا اوراس کے کارکنان جوتیاریاں کر رہے تھے، انہیں سبوتاژ کردیاجائے۔
مجھے حیرت ہے کہ فارم 47کی حکومت سے مذاکرت کرنے والی تحریک انصاف کی ٹیم میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے 9مئی کے بعد جیل سے رہائی کے بعد باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے عمران خان اورتحریک انصاف سے لاتعلقی اختیار کرنے کااعلان کردیاتھا۔
پی ٹی آئی کے رہنماکمپرومائز ہوچکے ہیں، وہ جراتمندانہ فیصلے کرنے سے گریزاں ہیں، وہ تین سال سے عدالت عدالت کھیلتے رہے، پی ٹی آئی کے کارکنوں کوجھوٹی تسلیاں دیکر انہیں بے وقوف بناتے رہے،بہت مشکل سے 27 ستمبر سے لانگ مارچ شروع کرنے کااعلان کیا گیامگر 27 ستمبر سےتین روز قبل اسے مؤخر کردیا گیالیکن پریس کانفرنس کرکے کارکنوں اورعوام کواس حوالے سے آگاہ نہیں کیاگیا۔ 4 اکتوبرکو لانگ مارچ کااعلان کیا گیا تواس سے دوروزقبل حکومت سے مذاکرات شروع کردیے۔ انہوں نے ایسی حکومت کی مذاکرات کی دعوت کوکیوں قبول کیاجس نے ہمیشہ دھوکہ دیا، جس نے سپریم کورٹ کے عمران خان کوالشفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کے واضح احکامات پر عمل نہیں کیا، لہٰذا جو حکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں کواپنے پیروں تلے روند ڈالے وہ کسی سیاسی جماعت سے کسی معاہدے پر کیسے عمل کرسکتی ہے۔
میں تحریک انصاف کے سچے کارکنوں اور عمران خان کے چاہنے والوں سے یہی کہوں گاکہ اگروہ عمران خان کوزندہ سلامت دیکھنا چاہتے ہیں اورانہیں جیل سے باہر نکالناچاہتے ہیں تو انہیں خودفیصلے کرنے ہوں گے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر480 ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب
3 اکتوبر 2026ء
عدالتوں کے فیصلوں کے پرخچے اڑائے جارہے ہیں پھربھی مذاکرات، مذاکرات کا کھیل کھیلا جارہا ہے،
اگرمذاکرات ہرمسئلہ کاحل ہوتے تو پھر دنیا میں کہیں بھی جنگیں نہیں ہوتیں۔ الطاف حسین
………………………………
صوبہ بلوچستان اورصوبہ خیبرپختونخوا سمیت پورے ملک میں امن عامہ کی صورتحال سب کے سامنے ہے، کہنے کو ملک میں جمہوریت ہے میڈیا کا کردار وہی ہے جو مارشل لا دور میں ہوا کرتا ہے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں وہی نشر وشائع کیاجاتا ہے جو حکومتِ وقت چاہتی ہے، تمام ٹی وی چینلز پر جوٹاک شوز اور تجزیئے پیش کیے جاتے ہیں وہ عموماً طےشدہ ہوتےہیں کہ کس موضوع پر کیا کہنا ہے اور ریڈلائن کیا ہوگی۔
میرا کام پاکستان کے عوام کے سامنے سچ کہنا ہے چاہےکسی کو اچھا لگےیا برا لگے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف کے بانی عمران خان اپنے ساتھیوں کے ہمراہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں، 9،مئی2023ء کے کیسوں میں عمران خان اور ان کے ساتھی تو جیلوں میں قید ہیں لیکن انہی مقدمات میں ملوث پی ٹی آئی کے وہ رہنماء جو جیل میں قید تھے لیکن جب انہوں نے پریس کانفرنس کرکے تحریک انصاف اور عمران خان سے لاتعلقی کا اعلان کیا تو انہیں رہا کردیا گیا، کتنے اخبارات نے جرات کرکے کھل کر اس پر اداریئے لکھے جب یہ لوگ بھی مقدمات میں ملوث ہیں توپھر عمران خان سے علیحدگی کااعلان آرام سے اپنے گھرکیسے چلےگئے؟ کتنے ٹی وی چینلز نے اس اہم نکتہ پر کھل کراظہارخیال کیا؟
18، اگست2026ء کو سپریم کورٹ کی جانب سے حکمنامہ جاری کیا گیا کہ عمران خان صاحب کو دوروز کے اندراندر شفاانٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیاجائے اورمیڈیکل بورڈ تشکیل دیکر ان کامکمل طبی معائنہ کرایا جائے۔ عدالت عظمیٰ کے اس حکم کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ حکومت ملک کی سب سےبڑی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرے لیکن سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود موجودہ حکومت، عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے گئی اور ایک گھنٹے بعد انہیں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا۔ ملک کی آخری امید عدالت عظمیٰ ہوتی ہے، موجودہ حکومت نے عدالت عظمیٰ کافیصلہ نہیں مانا لیکن اس حکومتی عمل کےخلاف ٹی وی چینلز کے کسی بھی تجزیئے میں یہ نہیں کہا گیا کہ عدالتی حکم عدولی پر موجودہ حکومت کو فی الفور برطرف کردینا چاہیے اور وزیراعظم سمیت پوری وفاقی کابینہ کو توہین عدالت کے جرم میں گرفتارکیا جانا چاہیے۔
تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر 2026ء کو لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا لیکن پھر لانگ مارچ ملتوی کردیا گیا اور اب 4، اکتوبر2026ء کو لانگ مارچ کرنے کااعلان کیا گیا ہے اور اس دوران پی ٹی آئی کے رہنماؤں اورحکومتی ارکان میں مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔کہا جارہا ہے کہ تحریک انصاف کے متعدل مزاج رکھنے والوں کے ذریعے مذاکرات کیے جارہے ہیں اورمعتدل مزاج رکھنے والوں کی کوئی ریڈ لائن نہیں ہوتی بلکہ ایسا مزاج رکھنے والا چاہتا ہے کہ کسی بھی طریقے سے مذاکرات کامیاب ہوجائیں اورہم وہی فیصلہ کریں جو حکومت چاہتی ہے اور اس طرح ہم لانگ مارچ ایک مرتبہ پھر ملتوی کردیں۔
عمران خان صاحب کے بنیادی نکات یہی ہیں کہ ہمیں ہرطرح سے آزادی چاہیے تاکہ ہم اپنے فیصلے خود کرسکیں اور کوئی ہمیں ڈکٹیشن دینے والا نہ ہو۔ میں پی ٹی آئی کے لوگوں سے سوال کرتا ہوں کہ عمران خان کو جیل میں قید ہوئے تین سال ہوچکے ہیں لیکن انکے چاہنے والوں نے ابھی تک احتجاجی سیاست کیوں نہیں کی؟ PTI کےرہنما کیوں کہتے ہیں کہ ہمیں احتجاجی سیاست کے بجائے مذاکرات کرنے چاہئیں؟ کیا دنیا کے بڑے مسائل مذاکرات کےذریعے حل ہوئے ہیں؟ جہاں عوامی حکومتوں کی آواز کو بندوق کے ذریعے دبایاجاتا ہو، عدالتوں کے فیصلوں کے پرخچے اڑائے جاتے ہوں اس ملک میں باربارمذاکرات کا کیا نتیجہ نکلا؟ کیا سپریم کورٹ اوراسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں پر عملدرآمد کیا گیا؟ پھربھی مذاکرات، مذاکرات کا کھیل کھیلا جارہا ہے، اگرمذاکرات دنیا میں ہر مسئلہ کاحل ہوتے تو پھر دنیا میں کہیں بھی جنگیں نہیں ہوتیں۔
1/2
When a reporter asked former SSG soldier Muhammad Asif what to do with India, he paused for a moment. Right away, DG ISPR stepped in with a savage reply: "He's from the SSG, he only knows how to slap India," making everyone in the room laugh out loud.
#DGISPR#SSG#PakistanArmy #PakistaniMedia #Geopolitics #CheckmateMedia
سینئر صحافی اور معروف تجزیہ نگار مبشر فاروق نے ثبوت وشواہد کے ساتھ منشیات کی اسمگلنگ اور پیپلزپارٹی کے سابق وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا کے گھناؤنے کردار کو بے نقاب کیا ہے*
*براہ کرم اس معلوماتی اور تحقیقی پروگرام کو ضرور سنیں اور زیادہ سے زیادہ شیئر بھی کریں۔
*شکریہ*
https://t.co/fwahM6rXd4
DG ISPR Ahmed Sharif Chaudhry completely shattered New Delhi's recent desperate, Bollywood-tier "Musa Fauji" fiction. By completely shattering the pathetic attempt to pin IIOJK's internal turmoil on Muhammad Asif from Pindigheb, the military leadership exposed a regime too cowardly to own its own domestic rot, state-sponsored terror tracks, and systemic torture.
#DGISPR #AhmedSharifChaudhry #MusaFauji #PakistanArmy #IIOJK #ExposingPropaganda #Geopolitics #CheckmateMedia
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
سنبھلنے کے لئے گرنا پڑا ہے
ہمیں جینا بہت مہنگا پڑا ہے
مری آنکھوں میں تم کیا جھانکتے ہو
تہوں میں آنسوؤں کے کیا پڑا ہے
حواس و ہوش ہیں بیدار لیکن
ضمیر انسان کا سویا پڑا ہے۔۔!!
🟥🟩⬜🇧🇬
@AltafHussain_90@OfficialMqm
یہ حکومت کی بے حسی، بے غیرتی بے شرمی ہے کہ صومالی قزاقوں کی قید میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے لئے حکومت پاکستان کے پاس پیسے نہیں تھے لیکن وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے سرکاری خزانے سے 13 سے 14 ارب روپے میں قیمتی جہاز خریدا گیا۔
#بےحس_حکومت_مردہ_باد
Mosques demolished. Modi Sarkar demolishing India’s plurality & diversity brick by brick.
@CheckMate1_ daily dose of what’s affecting South Asia
👇🏽
ایم کیو ایم کوآرڈینیشن کمیٹی کے رکن ایڈووکیٹ جوہر عابد، ایم کیو ایم شعبۂ خواتین کی ذمہ داران اور مختلف سیکٹرز کے کارکنان نے صومالی قزاقوں کے حملے میں شہید ہونے والے کاشف عمر کے بفرزون میں واقع گھر جا کر ان کے والد، صاحبزادے، صاحبزادی اور دیگر سوگواران سے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی جانب سے تعزیت کی، انہیں دلاسہ دیا اور شہید کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جوہر عابد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام شہداء کی میتوں کی وطن واپسی کو جلد از جلد یقینی بنایا جائے اور شہداء کے لواحقین کی ہر ممکن مالی و اخلاقی معاونت کی جائے۔
30ستمبر 1988ء کو حیدرآباد میں قیامت صغریٰ بپاکی گئی تھی۔
جب بھی اختیارملا، قاتلوں کوانصاف کے کٹہرےمیں لائیں گے۔سانحہ حیدرآباد کی 38 ویں برسی پرخطاب
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
آج سے 38برس قبل 30 ستمبر 1988ء کو سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں قیامت صغریٰ بپا کی گئی تھی۔ اس روز شام کے وقت 10 گاڑیوں میں سوار اسلحہ بردار حیدرآباد شہر میں داخل ہوئے، انہو ں نے شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی،جو سامنے آیا اسے گولیوں کانشانہ بنایا گیا، آدھے گھنٹے تک یہ سلسلہ جاری رہا لیکن نہ پولیس، انتظامیہ پہنچتی ہے، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ایس ڈی ایم پوری انتظامیہ غائب ہوتی ہے۔200 سے زائد معصوم شہریوں کو شہیدکردیا جاتا ہے اور سینکڑوں زخمی ہوتے ہیں جن میں نوجوان، بزرگ، خواتین اوربچے شامل ہوتے ہیں، حیدرآباد کی سڑکیں مہاجروں کے خون سے رنگ دی جاتی ہیں۔ اسی طرح کے حملے جنرل ایوب خان کے زمانے میں کراچی میں بھی ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد میں بے گناہ مہاجروں کوشہید کردیا گیا تھا، اسی طرح کے واقعات ذوالفقارعلی بھٹوکے دور حکومت میں بھی کرائے گئے۔ 14دسمبر1986ء کواسی طرح کراچی میں علی گڑھ کالونی اورقصب کالونی میں پر بھی حملے کرکے مہاجروں کا قتل عام کیا گیا تھا۔جب اسی طرح کے حملے ہوتے رہے تو الطاف حسین نے ڈنکے کی چوٹ پر مہاجروں سے کہا تھا کہ وہ اپنی جان ومال کے تحفظ کے لئے لائسنس بنوائیں اوراسلحہ رکھیں اورمیں آج بھی مہاجروں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی بقا کا سامان کریں۔ امام الانبیا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے بھی صحابہ کومسلح ہونے کادرس دیا اوریہاں تک بتایا کہ کہاں کے بنے ہوئے تیراورتلواریں اچھی ہوتی ہیں۔
میں سانحہ حیدرآباد 30ستمبر1988ء کے شہدا کی 38ویں برسی پر شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کرتا ہوں اوران کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہارکرتاہوں اوران سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب بھی ہمیں اختیارملا، ہم قاتلوں کوانصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔
میں ان متعصب لوگوں کی بھی مذمت کرتا ہوں جو سانحہ حیدرآباد کا الزام بھی ایم کیوایم اور مہاجروں پر لگاتے ہیں، یہ مذاق ہے کہ قتل عام بھی مہاجروں کاہواورالزام بھی ہمی پر لگایاجائے۔ میں سوال کرتاہوں کہ جب 1972ء میں بھٹوکے زمانے میں سندھ اسمبلی میں لسانی بل پیش کیا گیا تھااس وقت پورے سندھ میں فسادات کس نے کرائے تھے؟ کیااس وقت ایم کیوایم موجود تھی؟ کیااس وقت الطاف حسین میدان سیاست میں تھا؟جولوگ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمزپر بیٹھ کرایم کیوایم اور الطاف حسین پرجو جھوٹ اور من گھڑت الزامات لگاتے ہیں، کیا انہوں نے اپنی آنکھوں سے الطاف حسین یا ایم کیوایم کو دہشت گردی کرتے دیکھا ہے؟ ان سے پوچھو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم نے فلاں سے سناہے۔ الزامات لگانے والے سنی سنائی باتیں توبیان کرتے ہیں لیکن کیا انہیں معلوم ہے کہ 30 ستمبر 1988ء کوحیدرآبادمیں کیا ہوا تھا؟ اسی قسم کی نفرت انگیزسوچ نے ملک میں نفرت اورعصبیت کی آگ بھڑکائی ہوئی ہے۔
30ستمبر 1988ء کوحیدرآباد میں مہاجروں کاقتل عام اسی لئے کیا گیا تھا تاکہ مہاجروں کو خوفزدہ کردیا جائے لیکن ہم نہ کل خوفزدہ ہوئے تھے اورنہ آج خوفزدہ ہوں گے۔میں سانحہ حیدرآباد کے شہدا کوخراج عقیدت پیش کرتاہوں اوردعا کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کی قربانیوں کوقبول فرمائے اوران کے لہوکی بدولت ہمیں اپنے مقصد میں کامیابی عطافرمائے۔
الطاف حسین
سانحہ حیدرآباد کے شہدا کی 38ویں برسی پر خطاب
30ستمبر 2026ء
میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ MDCAT کے سامنے آنے والے نتائج میں کراچی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ زیادتی واضح نظر آتی ہے۔ اعتراض یہ نہیں کہ اس میں ٹاپ پر آنے والوں کا تعلق تھر سے ہے، کراچی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ امتحانی نتائج میں زیادتیوں کی شکایات مسلسل سامنے آرہی ہیں، اس سے قبل کراچی میں انٹر بورڈ کے امتحانی نتائج میں بھی جان بوجھ کر تبدیلی کرنے کی شکایت سامنے آئی تھیں جس پر طلبہ نے کئی روز تک احتجاج کیا تھا، کراچی کے طلبہ کے ساتھ تسلسل کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ یہ سب کچھ انہیں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں جان بوجھ کر پیچھے رکھنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے کی جانے والی شکایات کو تعصب کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے ان کا نوٹس لیا جائے۔