جو لوگ عمران خان کی رہائی کا منڈیٹ لے کر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں وہ عوام کو جواب دہ ہے ، عوام نے ان کو ایوانوں تک اس لیے پہنچایا تا کہ وہ ملکی مفاد میں خان صاحب کو رہا کر سکے ۔ پارٹی آئین بہت چیزوں پر بہت واضح ہے ، نئے صوبے بھی پارٹی منشور کا حصہ ہے بس طریقہ کار پر ہمِیں اعتراض ہے ، جب وقت آئے گا ,اس کے لیے بھی پارلیمانی پارٹی کی بیٹھک ہوگی اور مشاورت سے فیصلے ہونگے ،پالیسی صرف خان صاحب کی چلے گی ، مزید ذاتی مفادات میں کیے جانے والے ہر فیصلے کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے ، ہم خان صاحب تک رسائی لینگے اور باقی باتیں خان صاحب سے کرینگے ، ہماری اولین ترجیح خان صاحب تک رسائی ہے ۔
@GD_Alisher@AkMashal لیکن خان صاحب سے رابطہ منقطع کردیا گیا ایسی صورت میں کیا لائحہ عمل ہوگا؟ کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کے سو کالڈ سینئر قیادت تو اندر کھاتے انکل کو پیارے ہوچکے ہیں۔
🚨🚨🚨 توجہ توجہ توجہ 🚨🚨🚨
ان کا نام عبداللطیف چترالی ہے عمران خان کے ساتھ 1996 سے ہے--- ضلع چترال میں ایک ہی ایم این اے کی سیٹ تھی-- اس نظریاتی انسان نے اسٹیبلشمنٹ کے ارب پتی انسان طلحہ محمود کو شکست دیا
پھر یہ شخص ایم این اے بنا اسٹیبلشمنٹ نے ان سے جعلی ترامیم کے دوران ووٹ مانگا انکار پر اس کو جیل میں ڈالا مگر خان کے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹا--
یہ شخص بھی عمرہ ایوب زرتاج شیخ وقاص کی طرح ڈیل پر خود ساختہ روپوش ہو کر کاغان ناران میں مزے کر سکتا تھا یا پھر علی محمد خان گوہر اسد قیصر سریا بی بی کی طرح ڈبل وکٹ کھیل کر اچھا خاصہ عیاشی اور لوٹ مار کر سکتا تھا
قیادت میں کوئی ان کے لیے اواز نہیں اٹھا رہا -- اس دلیر انسان کے لیے اواز اٹھائے🙏
میں بہت واضح بات کروں گا۔ تحریکِ انصاف میں دو قسم کے لوگ ہیں۔
ایک، تحریکِ انصاف کا کارکن ہے جو عمران خان سے محبت کرتا ہے اور ان کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔ دوسرا، ان کی مصلحت پسند قیادت ہے، جو محض اس خوف سے عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے کہ خدانخواستہ کل عمران خان یہ نہ کہہ دے کہ محمود ایم این اے نہیں ہوگا، یا فلاں سینیٹر نہیں ہوگا۔ ان دو قوتوں نے تحریکِ انصاف میں مسائل پیدا کیے ہیں۔
لاکھوں لوگ عمران خان کے نظریات کی وجہ سے ان سے محبت کرتے ہیں۔
جب اعلانِ جنگ ہو جائے، جب آپ کی پارٹی اور آپ کے لشکر پر حملہ ہو، تو پھر جو لوگ رہبری کی صف میں ہوتے ہیں، انہیں سوچنا نہیں پڑتا، بلکہ انہیں میدان میں کودنا پڑتا ہے۔ انہیں ہر حال میں میدان میں اترنا ہوتا ہے۔
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی
General Abdul Waheed Kakar was a great soldier. He was offered an extension just few weeks before his retirement but he politely declined. He took action against many officers who were interfering in politics. He is pride of Pakistan Army. May Allah Rest his Soul in Peace. Ameen
حامد میر سے جب یہ سوال کیا گیا کہ تم “قومی اثاثہ “ فیصل واڈا کو اپنے پروگرام میں اکیلے بٹھا کر کیوں انٹرویو کرتے ہو ، تو اس نے کس ڈھٹائی سے جواب دیا کہ ایسے ہی عمران خان بھی ایک قومی اثاثہ تھا اور ہم اس ایک اکیلے ایم این اے کو بٹھا کر پروگرام میں سوال کیا کرتےتھے
اپنے اس جواب پروہ تنہائی میں ضرور شرمسارہوا ہو گا ۔ کیا منور حسن ، قاضی حسین احمد ، سراج الحق ، اختر مینگل ، محمود اچکزئی ، ولی خان ساجد میر ، مولانا سمیع الحق ، رسول پلیجو وغیرہ یہ سب بھی قومی اثاثہ تھے۔ یہ لیڈر بھی تو کبھی ایک ایم این اے والی یا کبھی بغیر کسی ایم این اے کی پارٹی کے سربراہ تھےاور آپ انہیں بھی پروگرامُ میں اکیلے میں بلاتے تھے ۔
کیا یہ سب فیصل واڈا کی جیسے تھے جس شخص کو پاکستان میں دس لوگ بھی نہ جانیں اگر آپ کا چینل اسے نہ دکھائے ۔ آپ نے اپنے دفاع میں عمران خان کا قد چھوٹا کرنے کی جو کوشش کی ہے ، لگتا ہے آپ جرنلزم تو چھوڑ انصاف کے بنیادی معیارات بھی بھول گئے ہیں ۔
عمران خان سیاست میں آنے سے پہلے بھی اس قوم کا ایک اثاثہ تھا اور آج بھی ہے اورآپ جیسے نوکری پیشہ شکست خوردہ صحافی اسے پاکستان کی تاریخ سے اب نہیں کھرچ سکتے ۔
کاش آپ جواب میں یہ سچ بول لیتے کہ آپ فیصل واڈا کو اپنے شو میں کیوں بلاتے ہو ، کاش ایسا ہو جاتا
ہماری پارٹی کے موجودہ ذمہ داران ، لانگ مارچ کے فیصلہ ساز اور پی ٹی آئی آفیشل چلانے والے خان صاحب کی صحت اور ان تک رسائی پر بات کیوں نہیں کر رہے ہیں ، نا کسی کا کوئی ٹویٹ آرہا ہے نا کوئی بیان ؟
سوشل میڈیا کو اپنی ذاتی مفادات اور مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے عمران خان صاحب کی رہائی کے لیے ہونے والے لانگ مارچ کے پلان بی ، سی ، ڈی کا کیوں نہیں پوچھ رہے ہیں ؟
اس پورے کھیل میں خان صاحب کی رہائی ، رسائی اور یہاں تک کے دوائی کا ذکر بھی منظر عام سے غائب ہوگیا ہے ۔
بات کرنی ہے تو جن لوگوں نے خان صاحب کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے اس پر کی جائے ، خان صاحب تک رسائی مانگنے کے لائحے عمل پر کی جائے ، کون ہے جو نہیں چاہتا کہ اگر خان صاحب رہا ہوگئے تو ان کی دکانیں بند ہو جائے گی اور ملک میں استحکام آجائے گا ۔
سوال بہت ہے لیکن ابھی کے لیے اتنے ہی ۔
مائنس ون نا منظور ۔
ساری گیم اندر والے ڈال رہے ہیں۔ گنڈاپور صاحب کم سے کم خان صاحب کی خیر خیریت تو بتا دیتے تھے قوم کو۔۔۔ غلط بیانیہ بنایا گیا پہلے دن سے ورکر کو گنڈاپور صاحب کے خلاف کیا گیا۔
یہ علی امین گنڈا پور گرفتار نہیں تھے؟؟ مخالفین سن لیں! جب تک ہم زندہ ہیں، کسی کا باپ بھی عمران خان کو مائنس نہیں کر سکتا۔ عمران خان کے دشمنوں کو پہچانیں یہ لوگ آپ کو، آپ کے مقصد کو اور آپ کی تحریک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ علی امین خان گنڈاپور