اس کانڑ تاں بخت خدا نہیں دیندا
نیویں سجنڑ مروڑی وتیے
خود باہنڑ کجا رلے کیریاں تے
ہتھوں آۓ گئے ہوڑی وتیے
ہووے سکھ تاں دشمن ای کم آویندن
منہ بھاویں موڑی وتیے
"مشتاق" سواد تے تاں ہوندا اے
موڈھے اوکھ اچ جوڑی وتیے
صاحبزادہ میاں مشتاق
#اردو
@urdu_bazm#اردو
برسے بغیر ہی جو گھٹا گھر کے کھل گئی
اک بے وفا کا عہد وفا یاد آ گیا
مانگیں گے اب دعا کہ اسے بھول جائیں ہم
لیکن جو وہ بوقت دعا یاد آ گیا
حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمارؔ
کیا بات ہو گئی جو خدا یاد آ گیا
خمار بارہ بنکوی
@urdu_bazm#اردو
ساحل نے کیا ہے مجھے غمگین زیادہ
یونہی تو سمندر نہیں نمکین زیادہ
دنیا نے بڑی دیر میں عزت سے نوازا
محسوس تو ہوگی اسے توہین زیادہ
دیوار پہ کافی نہیں تصویر تمھاری
اس خستگی کو چاہیے تزئین زیادہ
ہر شے ہے یہاں اپنے خد و خال سے خالی
اس شہر سے گزرے ہیں سلاطین زیادہ
+
شاہد ذکی
یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے
میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے
جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میں
دور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے
کیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائے
آپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھے
نیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہے
اور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ہیں مجھے
میں تو خود بکنے کو بازار میں آیا ہوا ہوں
اور دکاں دار خریدار سمجھتے ہیں مجھے
میں بدلتے ہوئے حالات میں ڈھل جاتا ہوں
دیکھنے والے اداکار سمجھتے ہیں مجھے
وہ جو اس پار ہیں اس پار مجھے جانتے ہیں
یہ جو اس پار ہیں اس پار سمجھتے ہیں مجھے
میں تو یوں چپ ہوں کہ اندر سے بہت خالی ہوں
اور یہ لوگ پر اسرار سمجھتے ہیں مجھے
روشنی بانٹتا ہوں سرحدوں کے پار بھی میں
ہم وطن اس لیے غدار سمجھتے ہیں مجھے
جرم یہ ہے کہ ان اندھوں میں ہوں آنکھوں والا
اور سزا یہ ہے کہ سردار سمجھتے ہیں مجھے
لاش کی طرح سر آب ہوں میں اور شاہدؔ
ڈوبنے والے مددگار سمجھتے ہیں مجھے
اختر شمار کی بہت ہی عمدہ غزل
بزبان شاعر
اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کے بھی
اس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں
میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں
اے شمارؔ آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھنا
جانے کس وقت وہ آ جائے پتا کچھ بھی نہیں
@urdu_bazm#اردو
بَین کو بِین کون کرتا ہے
غم کو رنگین کو کرتا ہے
ملتے ہیں اور دیکھ لیتے ہیں
کس کو غمگین کون کرتا ہے
تو ہے بیدل کے شعر کا مصرع
تجھ پہ تضمین کون کرتا ہے
اے مرے میٹھے پانیوں کے خدا
اشک نمکین کون کرتا ہے
+
ہماری آنکھ میں خوشیوں کا رقص ہوتا تھا
اب ان میں درد مکین ہے حضور دیکھیں نا
کسی کا کوئی تو ہوتا ہے اتنے لوگوں میں۔
ہمارا کوئی نہیں ہے حضور دیکھیں نا 🥹
#اردو_زبان#سیماب