صحافی زاہد گشکوری کا کہنا ہے وفاقی دارالحکومت میں 35 سال کے دوران 450 کے قریب بیورو کریٹس نے 39 ارب روپے مالیت کے سرکاری پلاٹس ضبط کئے ہیں، 18 ہزار کے قریب یہ پلاٹس سرکاری ملازمین ، صحافیوں اور پرائیویت پرسنز کو دیئے گئے ہیں۔
اپنے حالیہ وی ولاگ میں انہوں نے انکشاف کیا کہ متعلقہ اتھارٹیز کو 2 ارب روپے دے کر پلاٹس میں ہیراپھیری کی گئی جبکہ پلاٹس کی اصل قیمت 39 ارب روپے ہیں۔ جن کو پلاٹس دیئے گئے، ان میں 300 کے قریب صحافی 25 ریٹائرڈ ججز اور 7 حاضر سروس ججز بھی شامل ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب ڈپٹی کمشنر کےخلاف ایک افسر نے خط لکھا جس میں ان پلاٹس سے متعلق انکشاف کیا گیا۔
صحافی زاہد گشکوری نے مزید کہا 80 فیصد اضافی پلاٹس لینے والے سرکاری افسران ریٹائرڈ ہو چکے ہیں۔ اضافی پلاٹس دینے کا سلسلہ 2006 یوسف رضا گیلانی کے دور میں عروج پر تھا، انہوں نے گریڈ 22 کے افسران کو ایک اور اضافی پلاٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔اس صورتحال پر سیکرٹری انچارج ہاؤسنگ یونس دھاگہ نے 2014 میں وزیراعظم کو ایک خط لکھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ پلاٹ پالیسی کے خلاف ہیں، انہیں واپس لیا جائے۔
صحافی زاہد گشکوری نے مزید انکشاف کیا کہ 24 ایسے سول سرونٹس بھی شامل ہیں جن کی بیویوں کے نام پر پلاٹ الاٹ کئے گئے۔ اسلام آباد میں سرکاری زمینوں کا کھیل اس وقت ٹاپ پر ہیں، سول سرونٹس اضافی پلاٹس لے رہےہیں۔ اب بھی اطلاعات ہے کہ ججز کےلئے مزید پلاٹس نکالے جا رہےہیں۔ اس صورتحال کا وزیراعظم کو نوٹس لینا چاہئے کہ جن لوگوں کو پلاٹ مل رہے ہیں کیا وہ میرٹ پر مل رہےہیں۔
دنیا کی عدالتوں میں بیلجیم کا کافر جج پہلے نمبر پر اور پاکستان کا مسلمان جج ایک سو اکیسویں نمبر پہ آتا ہے ۔
جب قاضی اسٹیٹس اور تعلقات دیکھ کر فیصلے کرنے لگے تو وہ شہر، شہر نہیں رہتے جنگل بن جانتے ہیں ۔
ڈی چوک میں قتل عام ہوا اس کیس میں بیرسٹر گوہر کا بطور گواہ نام ڈالا گیا تھا لیکن وہ گواہی دینے گئے ہی نہیں، اس سے بڑی سہولت کاری اور کیا ہو گی، عمران ریاض خان
یہاں کی بیغیرت پولیس کے منہ پر یہ ویڈیو ایک تھپڑ ہے، یہاں دوپٹہ پھینکنے پر مجھے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا تھا تقریبا ایک سال جیل رکھا گیا، اور مجھے انتشاری اور ریاست مخلاف کہنے والے بیغیرت آج اس ویڈیو پر عورت کی بہادری کی مثالیں دے رہے۔
تھُو ہے تم سب پر۔
پاکستانیوں وہاں ایک پیپر لیک ہونے پہ G-Z نے آسمان سر پہ اٹھا لیا ہے۔اور یہاں ہم ہزراروں کی تعداد میں ایک فٹبال میچ دیکھنے کے لیے اکھٹے ہوتے جائیں گے لیکن تب باہر نہیں جائیں گے جب پٹرول مہنگا ہو رہا ہو گا،جب اکانومی کولیپس ہورہی ہو گی،تب نہیں جائیں گے جب جہاز خریدا جا رہا ہو گا اور خرید کے کہا جائے گا ہاں تو خریدا ہے جہاز ۔
پاکستان کو اگلے تین سال تک ہر سال پرانے قرض اتارنے کیلیے 19 ارب ڈالر درکار ہیں۔ تجارتی خسارہ اس کے سوا ہے۔ یعنی ہر سال کم سے کم 25 ارب ڈالر مزید بیرونی قرض لینا پڑے گا۔ یہ ہے وہ ترقی جو ہمارے حکمرانوں نے گزشتہ پچاس پچپن برسوں میں کی اور عوام کو بے وقوف بنایا۔
It has now been around 1,100 days since my father, Imran Khan, was imprisoned, and my brother and I haven’t heard his voice since March. For months, we’ve been denied contact with him. We remain in the dark about his access to healthcare as his eyesight continues to deteriorate. He urgently needs medical attention, and with no family or legal access, we don’t even get any second hand information or reassurance.
I’ve found myself especially missing him recently. I want to speak to him about mundane things like my cricket, books I’ve been reading and what new movies are good. I understand the people of Pakistan want their chosen leader free, but I miss my father more than ever.
But this is not just about a father. It is about Pakistan, and its future. A rigged, authoritarian regime continues to crush political opposition, undermine democratic institutions, and deny millions of Pakistanis their right to freely choose their leaders, whilst terrorising those who speak their beliefs.
I once again plea to the international community to not look away. Silence in the face of injustice only enables it.
پاکستان میں کرکٹ کا سب بڑا لیجنڈ "عمران خان" ہے جسے عالمی سطح پر ابتک کا مضبوط ترین کپتان مانا جاتا ہے جسکی کرکٹ خدمات کو پوری دنیا سراہتی ہے۔ آج اسی کے نام پر بننے والی حکومت نے اسی کھیل کے میدان میں اپنے لیجنڈ کو فراموش کر دیا۔ شاباش KPK سرکار👍🏻
مئی 2019 کو کیس دائر ہوا/PECA ایکٹ لگا۔
14 روز کا جسمانی ریمانڈ ہوا
تقریبا 6 ماہ سینٹرل جیل لاہور میں گزارے
ہائیکورٹ سے ضمانت ملی۔
آج 16 جولائی 2026 کو کیس جج صاحب نے ایک سال کی Probation پر بھیج دیا۔
ان سات سالوں میں جیل سمیت پیشیاں بھگتیں دماغی مالی دباؤ برداشت کیا جب پکڑا گیا تب سکرین پر میڈیا میں بطور رپورٹر کیرئیر چل رہا تھا اس میں ڈینٹ آیا۔
آج سات سال بعد جب FIA یعنی سرکار کیونکہ کیس سرکار بنام عظیم ہے تو سرکار سات سال مجھے کھجل کرنے کے بعد کچھ پیش نا کر سکی کوئی گواہی کوئی ثبوت ایسا نا دیا جس سے مجھ پر اداروں کیخلاف پروپیگنڈا کرنے یا ریاست مخالف ہونے کا جرم ثابت ہو تو جج صاحب نے احسان کرتے ہوئے کیس کو Probation یعنی عدالتی نگرانی ایک سال کی کہ میں اچھا بچہ بن کر رہوں اس کیلیے ریفر کر دیا۔
مطلب کمال ہے نا کہ عدالت کو ریاست کو سات سال میری پیشیاں بھگتنے کے باوجود بھی ابھی مکمل یقین نہیں آیا اور کیس ایک سال کیلیے مزید Probation پر ڈال دیا ہے اس کے بعد کیس ختم ہو جائے گا ایک اچھے بچے والا سرٹیفیکیٹ عدالت کی جانب سے مل کر، مطلب میرے سات سال کی کھجل خرابی میری تقریبا 6 ماہ کی جیل کا حاصل وصول کیا ہے؟ کیس بنانے والوں کو کون پوچھے گا؟ میرے دماغی مالی اور جسمانی دباؤ کا ازالہ کون کرے گا؟
کوئی نہیں۔۔۔۔
میں اگر پیش نا ہوتا تو میں اشتہاری
میں اگر گواہ ثبوت دلیل نا دے پاتا تو مجرم
مگر ایف آئی اے سات سال کھجل کرنے کے بعد کچھ نہیں لا سکی تو کوئی بات نہیں Probation پیریڈ میرا اور سب اچھا۔
سلام ہے میرے ملک کے قانونی نظام کو ۔۔۔۔
11 ارب والے جہاز کی وجہ سے مریم نواز بھارتی پنجاب تک رسوا ہو رہی ہے، بھارتی پنجاب کا وزیر اعلٰی دراصل اپنا عوام کو بتا رہا ہے کہ " شکر کرو تمھاری وزیر اعلٰی مریم نواز نہیں ہے ورنہ تمھارا 1100 کروڑ بھی جہاز پر خرچ ہونا تھا "
پنجاب میں اس وقت جبر اپنے عروج پر دکھائی دے رہی ہے۔ جو بھی اپنے آئینی اور قانونی حقوق کی بات کرتا ہے، اس کے خلاف طاقت کا استعمال، گرفتاریوں اور تشدد کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ آج صفائی کے شعبے سے وابستہ محنت کش بھی اپنے جائز مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلے، مگر ان کے مطالبات سننے کے بجائے انہیں گھسیٹا گیا،