﷽
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
#خاتم_النبیین_محمدﷺ#درود_وسلام
اے خالق کائنات ! ہر اُس خالی گود کو اپنی رحمت سے بھر دے جو برسوں سے تیری عطا کی منتظر ہے۔
ہر محروم آنکھ کو اولاد کی خوشی اور ہر تڑپتے دل کو قبولیتِ دعا کی بشارت عطا فرما۔ آمین بجاہ النبی الامینﷺ
@Irum_PTI
🚨کیا ان کے علاوہ کوئی مائی کا لعل نہیں بچا پاکستان میں جو عمران خان کی رہائی کے لیے آواز اُٹھا سکے اور عمل کر کے بھی دکھا سکے ؟؟
کاش
پاکستانیو قیادت قیادت کرتے آپ اپنے ان مخلص لوگوں کو نہ کھوتے ۔ ان کا ساتھ دیتے ان کا بازو بنتے تو آج عمران خان رہا ہوتا۔
@taigr1236
ایک محب وطن اس مٹی کی محبت میں شہید ہوگیا
ایک محب وطن اس مٹی کی محبت میں قید ہوگیا
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
#ImranKhanOneAndOnly#ShaheedArshadShareef
4 years ago I was Javeria, Arshad's wife.
Today I am Javeria, Arshad's widow who is still seeking justice.
Grief has changed everything about me.
It changed my laugh, face, smile, hobbies and fashion sense. I sometimes smile for my remaining family, but it never reaches my heart anymore.
It changed my sleep. One phone call on 23rd October 2022 is still ringing in my ears. It changed my strength. I was a person who was afraid of small things. Now I stand in front of courts, the UN, and the whole world alone, because I have to.
It changed my faith in justice. I have knocked on every door in Pakistan and Kenya. 4 years have passed, and I still don't have an answer to the simplest question — Who killed my husband so brutally that his nails and kidney were taken out and where is his gadgets? why both governments are reluctant to give us justice ?
Grief has made me quieter, stronger, sad, and more broken at the same time.
I don't just miss him. I live with his absence every single day. Arshad was silenced because he spoke the truth. I will not be silent because I am living that truth.
#JusticeForArshadSharif @UNHumanRights@unwomen_pak@FESinAsia@unwomenasia@UNESCO@gijn@IFJGlobal@CFWIJ@IWMF@OsloFF@ParisPeaceForum@freedomhouse
23rd October 2026
Martyred 4 years ago, No justice but still is the most relevant journalist in Pakistan. Shaheed Arshad Sharif is a symbol of courage and resistance.
"پاکستانیو! آپ سب سے ایک مخلصانہ گزارش ہے؛ کسی بھی سیاسی جماعت یا وابستگی سے بالاتر ہو کر، ایک بار کھلے دل سے عمران خان کی باتیں سن لیں۔
ذرا غور سے سوچیں تو آپ کو احساس ہوگا کہ یہ شخص کسی ذاتی سیاست یا اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہا، بلکہ اس کا ہر لفظ صرف اور صرف پاکستان اور یہاں کی غیرت مند عوام کے لیے ہے۔ آج پاکستان کے حقیقی مستقبل اور بہتری کے لیے عمران خان کی رہائی انتہائی ضروری ہے۔ آئیے، اس مخلص قیادت کی قدر کریں اور ان کی رہائی کے لیے متحد ہو کر سوچیں، ورنہ آنے والے وقت میں پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ پاکستان کی بقا اسی میں ہے کہ ہم ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر سوچیں! 🇵🇰"
🚨سوال صرف ایک ہونا چاہیے کہ عمران خان کو رہا کب کرو گے؟
سوال:عمران خان کدھر ہے ؟
جواب :یہ سب کو پتہ ہے ۔
سوال:عمران خان کے ساتھ یہ کیا کرنا چاہتے ہیں ؟
جواب:یہ بھی سب کو پتہ ہے ۔
سوال:عمران خان کو اس کے ذاتی معالج چیک کیوں نہیں کر سکتے؟
جواب: جب وہ رہا ہوگا تو خود علاج بھی ہو جائے گا۔
اب سوشل میڈیا صارفین فضول سوال کرنے کی بجائے ایک ہی ڈھنگ کا سوال کر لیں تو بہتر ہے ورنہ بعد میں بارک وارداتیں ڈالنے والے یہ کہتے پھریں گے ہم نے تو عمران خان کی لئے بھر پور آواز اُٹھائی تھی 🤷♀️
#فوکس_صرف_خان_کی_رہائی
کل بھی اور آج بھی
جب تک ہمارا لیڈر رہا نہیں ہوتا
صحافی اوصاف علی خان نے اپنے ایک ویلاگ میں دعویٰ کیا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ میری آخری ویڈیو ہو، اس کے بعد مجھے اٹھوا لیا جائے یا میرے ساتھ پتہ نہیں کیا سلوک ہو یا مجھے مار دیں۔ میں آپ کو سب سے پہلے یہ بتا دوں کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ نے 7 ارب روپے کا پرواز کارڈ پروجیکٹ شروع کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ نوجوانوں کو بڑی اچھی اپرچونٹیز ملیں گی، وہ باہر جا کے ملٹی نیشنل برینڈز میں کام کریں گے اور پاکستان میں پیسہ بھیجیں گے۔ لیکن ان رئیلٹی ہوا کیا؟ پرواز کارڈ کا پروسیس شروع ہوا، اس میں 135 سٹوڈنٹس سلیکٹ ہوئے، جن میں سے 90 لڑکے تھے، 45 لڑکیاں تھیں، سارے پڑھے لکھے تھے، اچھے اچھے جگہوں پر جابز کر رہے تھے۔ٹک ٹاک پر اپ لوڈ اپنے ویلاگ میں ان کاکہناتھاکہ اس کے بعد پروسیس شروع ہوتا ہے، سب سے پہلے، انہیں کہا جاتا ہے کہ آپ اپنی جیب سے پیسے لگائیں، ان دی اینڈ آپ کو صرف پیسے مل جائیں گے جتنا آپ کا خرچہ ہو رہا ہے، پاسپورٹ پہ خرچہ ہو رہا ہے، ٹکٹ پہ خرچہ ہو رہا ہے، سارے پیسے آپ کو ملیں گے۔ سارے نوجوانوں کے چار چار لاکھ روپے لگتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں، ان سے ایک فارم سائن کروایا جاتا ہے، جس میں لکھا جاتا ہے کہ آپ نے 5 ہزار ریال ریسیو کر لیا ہے۔ سٹوڈنٹس اس فارم پہ سائن کرتے ہیں لیکن ساتھ پوچھتے ہیں کہ ہمیں تو 5 ہزار ریال ملے نہیں، آپ ہم سے کیوں سائن کروا رہے ہیں؟ وہ ان کو کہتے ہیں کہ آپ کو مل جائیں گے آپ بے فکر رہیں۔اس کے بعد، سی ایم ہاؤس میں پرواز کارڈ کا لانچنگ ایونٹ ہوتا ہے، اس ایونٹ میں سٹوڈنٹس کو بتایا جاتا ہے کہ آپ نے مریم نواز صاحبہ کے سامنے کہنا ہے کہ آپ کا ایک روپیہ نہیں لگا، آپ کے سارے پیسے حکومت دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ان کو کہا جاتا ہے کہ آپ وہاں پہ ملٹی نیشنل برینڈز میں جاب کریں گے، لیکن ان سے جو فارم سائن کروایا جاتا ہے، وہ فارم وہاں پہ صفائی کمپنی کا ہوتا ہے، اب پروسیس شروع ہو جاتا ہے ،سی ایم ہاؤس میں ایونٹ بھی ہو جاتا ہے، آپ نے ویڈیوز دیکھی ہوں گی سوشل میڈیا پر کہ پرواز کارڈ کی لانچنگ میں آگے لڑکیاں بیٹھی ہیں جو بتا رہی ہیں کہ ہماری 13 ہزار ریال جاب لگی، کوئی کہتی ہے 11 ہزار ریال جاب لگی، جاب جو لگی ہوتی ہے وہ صرف 11 سو ریال کی جاب ہوتی ہے، وہ سارے 135 بچے جب سعودی عرب پہنچتے ہیں، تو ان کو پتہ چلتا ہے کہ ان کے ساتھ حکومت نے فراڈ کیا ہے، وہ کسی ملٹی نیشنل برینڈ میں جاب کرنے نہیں آئے، کسی اپنی فیلڈ سے ریلیٹڈ جاب میں کام کرنے نہیں آئے، بلکہ یہاں پہ جھاڑو پھیرنے آئے ہیں۔وہ واپس آنا چاہتے ہیں، تو وہاں کی حکومت جس کمپنی میں وہ کام کر رہے ہوتے ہیں، وہ کہتی ہے کہ 5 ہزار ریال دو، یعنی کہ 5 لاکھ دو، تو واپس چلے جاؤ۔ اب وہ نوجوان وہاں پہ پھنس چکے ہیں، ان کے ساتھ پہلا فراڈ یہ ہوا کہ انہوں نے سارے جیب سے پیسے لگائے، لیکن حکومت نے یہ تاثردیاکہ سارے پیسے ہم لگا رہے ہیں، بیچ میں جو مریم نواز صاحبہ کے نیچے بندے ہیں، وہ سارا پیسہ کھا چکے ہیں،135 میں سے 15 سے 20 نوجوان پاکستان آئے ہیں، جنہوں نے آ کے مجھے بتایا ہے کہ وہاں پہ ابھی بھی کافی لڑکیاں پھنسی ہوئی ہیں، وہاں پہ ابھی بھی کافی لڑکے پھنسے ہوئے ہیں، جو افورڈ ہی نہیں کر سکتے کہ ان کے پاس 5 ہزار ریال یعنی کہ چار سے ساڑھے چار لاکھ، پانچ لاکھ روپیہ نہیں ہے، وہ واپس نہیں آ سکتے۔ سارے غریب، خونخوار فیملیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایک نوجوان جو شکر گڑھ میں رہتا ہے، اس نے مجھے بتایا کہ جب وہ گیا تھا، تو وہ قرضہ اٹھا کے گیا تھا، تاکہ اپنی فیملی کو سپورٹ کر سکے، لیکن جب وہ واپس آیا، تو اپنی والدہ کے زیور بیچ کے آیا ہے۔لیکن اس نے بتایا کہ وہاں پہ کئی ایسے سٹوڈنٹس ہیں جن کی ماؤں کے پاس زیور نہیں ہے، وہ وہاں پہ پھنسے ہوئے ہیں، کئی لڑکے وہاں پہ ڈپریشن کے مریض ہو گئے ہیں، ایک لڑکی نے مجبوری میں وہاں پہ شادی کر لی ہے، کئی لڑکیوں پہ پتہ نہیں کیا کیا ظلم ہو رہے ہیں، اس وقت میں آپ کو بتا نہیں سکتا۔ اتنا بڑا فراڈ ہوا ہے، یہ اتنا بڑا میگا کرپشن سکینڈل ہے، پرواز کارڈ کا، جو نوجوان بچے بچوں کے ساتھ ہوا ہے اور کس کی وجہ سے پہنچے ہیں؟ حکومتِ پنجاب کی وجہ سے پہنچے ہیں، میں نے پانچ سے چھ بچوں کے انٹرویوز کیے ہیں، ان سارے بچوں کے پاس واپس آنے کے لیے پیسہ نہیں ہے، حکومت کو فوری ایکشن لینا چاہیے۔
PTI officials والے اب کھلم کھلا بے غیرتی پر اتر آئے ہیں ۔
اس لئے عوام کو چاہیے کہ ان انھیں کھلم کھلا جوتوں کے ہار پہنائے جائیں ۔
ساڑھے تین سال سے قید عمران خان انھیں یاد نہیں اور سیف ہاؤس میں بیٹھا سہیل آفریدی ان کی priority ہے ۔
خان صاحب کی آزادی کے لئے نکالا جانے والا لانگ مارچ بیچ میں چھوڑ کر بھاگنے پر سوال کرنے کی بجائے اس کی پوجا ہو رہی ہے۔
خان کی اگر فکر کرتے تو آج خان باہر ہوتا لیکن انھوں نے شروع سے ہی عمران خان کے نام کو بیچا ہے گروپنگ کی ،سازشیں کیں
ورکرز کو مایوس کیا ۔ عمران خان کے پیج کو عمران خان کے خلاف استعمال کیا ۔
ابھی ان کی ذلت کے دن شروع ہو گئے ہیں انشاءاللہ
پختونوں کو پہلے جنگوں سے مارا پھر ڈرون حملوں پھر دہشتگردوں سے اور اب باری ہے نایاب معدنیات کی۔ نہ صرف پختونوں کا سرمایا لوٹنے لگے ہیں بلکہ ان کے بچوں کے لیئے تابکاری، کینسر جیسی بیماریاں ،بھوک اور موت چھوڑ کے جائیں گے۔جو جرنیلوں کی راجدھانی کے لیئے نہایت ضروری ہیں۔