@mazdaki@Khalid_Munir ہمارے علاقوں میں سینہ زنی کیلئے اب بھی یہی نوحا پڑھتے ہیں۔
حسین تیرے لہو کی خوشبو فلک کے دامن سے آرہی ہے
یہ خونِ ناحق چھپے گا کیونکر جسے یہ دنیا چھپا رہی ہے
اک سابق چور ، طبلہ نواز سے ملا ہبت اللہ پریشان
ملا ہبت اللہ نے بدخشاں میں جاری ٹینشن کے خاتمے کے لیے ایک اعلی سطحی کمیشن بنایا ہے ۔اس کمیشن میں طالبان کے انٹیلی جنس ہیڈ عبدالحق وثیق ، آرمی چیف فصیح الدین فطرت ، مانیٹرنگ ہیڈ شمس الدین شریعتی ، ڈپٹی وزیر داخلہ ابراہیم صدر ، اکانومی منسٹر دین محمد حنیف کے علاوہ ہلمند کےگورنر امان الدین منصور شامل ہیں ۔ کمیشن نے بدخشان کے گورنر اسماعیل غزنوی سے بھی ملاقات کر کے معلومات حاصل کی ہیں ۔
اتنے طاقتور کمیشن کی تشکیل جمعہ خان فتح کی وجہ سے ہوئی ہے ۔جمعہ خان زابل کے سابق ڈپٹی گورنر ہیں۔ یہ چھٹی کا بہانہ کر کے اپنے آبائی علاقے نسئے ڈسٹرکٹ بدخشاں پہنچے ہوئے ہیں ۔
جمعہ خان فتح طالبان تحریک میں شامل ہونے سے پہلے ، بارودی سرنگیں ناکارہ بنانے والی این جی او کا حصہ رہے ہیں ، اس سے پہلے یہ مقامی سنگر کے ساتھ طبلہ بجاتے رہے اور سنگت کرتے رہے ، مقامی سکولوں کے ٹیچر کی تنخواہیں چرانے کا الزام بھی ان پر لگا ۔ مائننگ این جی او کے ڈائریکٹر پر ناکام قاتلانہ حملے کے بعد یہ مفرور ہوئے اور پھر طالبان کے کمانڈر کے طور پر دوبارہ نمودار ہوئے ۔
اب یہ اتنے اہم ہو چکے ہیں کہ ملا ہبت اللہ کو ان کے پیدا کردہ مسائل حل کرنے کے لیے طاقتور طالبان راہنماؤں پر مشتمل کمیشن بنانا پڑا ہے ۔ جمعہ خان فتح نے کسی بغاوت یا لڑائی شروع کرنے کا امکان رد کیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حاجی بشر نورزئی طالبان کے فائنانسر اور مالدار ترین شخصیت سمجھے جاتے ہیں ۔ ان کا تعلق ملا ہبت اللہ کے نورزئی قبیلے سے ہے ۔2022 میں امریکی قید سے رہائی کے بعد حاجی بشر نورزئی کو بزنس کے بہت سے لائسنس اور رعایتیں دی گئی ہیں ۔ تاجک اکثریتی صوبے تخار میں بشر نورزئی نے مائننگ سیکٹر پر اپنا کنٹرول بنا لیا ہے ۔ بدخشاں میں یہی کنٹرول حاصل کرنا بشر نورزئی کی خواہش ہے ۔
طالبان نے اقتدار میں واپسی کے بعد مقامی کمانڈروں کو وسیع اختیارات دیے تھے ۔ ان وقتی اختیارات کو آہستہ آہستہ قندھار میں ملا ہبت اللہ کے سیٹ اپ نے واپس لینا شروع کیا ۔ نان پشتون علاقوں میں پشتون اور قندھاری انتظامیہ کی تقرریوں نے مسائل پیدا کیے ہیں ۔ صدیوں سے مائننگ اور قیمتی پتھروں پر مقامی تاجک آبادی کا کنٹرول ہے ۔ یہ کنٹرول ہاتھ سے جاتا دیکھ کر شدید بے چینی ہے ۔ اس بے چینی کا چہرہ جمعہ خان فتح بن چکے ہیں ۔ طالبان کے آرمی چیف فصیح الدین فطرت کا تعلق بھی بدخشاں سے ہے ۔ فطرت کی ثالثی کوششیں بار بار ناکام رہی ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گیم آن ہے ، اپنے اندرونی مسائل افغان خود حل کر لیں گے ۔ سوچ اپن بس یہ رہا ہے کہ ہر ملک میں کوئی نہ کوئی پنجابی ضرور ہوتا ہے ، افغانستان کے پنجابی ہونے کا اعزاز بہت محنت سے قندھاری اپنے نام کرنے کی کوشش میں ہیں ۔ پاکستان میں ٹی ٹی پی ، پی ٹی ایم اور بلوچ علیحدگی پسند وسائل لوٹنے کا الزام پنجابی فوج اور لاہور پر لگاتے ہیں ۔
کابل مین کسی ڈیزائن کی حکومت ہو یہ ہر فوج اور پنجاب مخالف تحریک اور سوچ کی بڑی امی بنی رہتی ہے ۔ خود افغانستان میں باقی چھوٹی قومیتوں کے لیے افغانستان کے پشتون /قندھاری پنجابی بننے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔
Free Visa (not Visa-free entry) has been announced for Pakistani nationals aiming to participate in the farewell of Ayatollah Ali Khamenei Shaheed.
Fill online form at: https://t.co/OHTrxvRoUy
Category: Entry Visa
Validity: 10 Days
Upload a copy of CNIC and visiting card required (business, employment, Student)
Upload your passport size photograph (you can take it with your phone on white background)
State the purpose of your visit within the form.
This is the story of Muhammad Shoaib, a resident of Bilyamin, Parachinar 🇵🇰, who was living and working in the United Arab Emirates as a taxi driver.
According to reports, Muhammad Shoaib was detained during a period of heightened tensions involving Iran, Israel, and the United States, when concerns were being raised about the detention and deportation of certain Pakistani Shia residents in the @UAE. According to local sources and affected families, a number of individuals were reportedly taken into custody and some were deported, although no clear or satisfactory explanation has been provided regarding these actions.
Muhammad Shoaib was also detained in March 2026. Following his detention, his family remained unaware of his condition and whereabouts for several months. On 16 June 2026, they were informed that he had passed away in prison on 29 April 2026.
What makes this case particularly distressing is that his family was notified of his death nearly six weeks after it had occurred. Furthermore, no clear or satisfactory information has been provided regarding the circumstances of his death, the conditions of his detention, or the findings of any post-mortem examination. This lack of transparency raises serious and legitimate questions.
We call upon the UAE authorities to immediately disclose all relevant facts, including the post-mortem report and the full circumstances surrounding Muhammad Shoaib’s detention and death. Transparency and accountability are essential to ensuring justice and maintaining public trust.
We also urge the @GovtofPakistan Pakistan, the Ministry of Foreign Affairs, and Pakistani diplomatic missions to take this matter seriously, ensure an independent investigation, and take effective measures to protect the rights and welfare of Pakistani citizens living abroad.
Muhammad Shoaib family is still waiting for answers. Justice can only be achieved through truth, transparency, and an impartial investigation.
@s_m_marandi@MoeedNj@MohsinnaqviC42@CMShehbaz@KhawajaMAsif@KhSaad_Rafique@WaseemBadami@ImranRiazKhan@sayedzbukhari@uaedgov@eAndUAE@mehdirhasan
یو اے ای میں زیرِ حراست پاکستانی شہری محمد شعیب جاں بحق، اہل خانہ کو ڈیڑھ ماہ بعد اطلاع
پاراچنار کے علاقے بلیامین کے رہائشی پاکستانی شہری محمد شعیب، جو متحدہ عرب امارات میں بطور ٹیکسی ڈرائیور کام کرتے تھے، دورانِ حراست جاں بحق ہو گئے۔
اہل خانہ کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران محمد شعیب کو مارچ 2026 میں متحدہ عرب امارات کے حکام نے حراست میں لیا، جس کے بعد ان کے خاندان کو طویل عرصے تک ان کی گرفتاری، مقام اور حالت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اہل خانہ کو 16 جون 2026 کو اطلاع دی گئی کہ محمد شعیب 29 اپریل 2026 کو جیل میں انتقال کر چکے تھے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وفات کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد اطلاع دینا تشویش ناک ہے، جبکہ تاحال پوسٹ مارٹم رپورٹ اور موت کی وجوہات سے متعلق بھی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
مرحوم محمد شعیب کی میت آج صبح پشاور ایئرپورٹ پہنچے گی، جہاں اہل خانہ اور عزیز و اقارب ان کا آخری دیدار کریں گے۔
اہل خانہ اور متعلقہ حلقوں نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور دیگر اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، متحدہ عرب امارات کے متعلقہ سفارتی حکام سے وضاحت طلب کی جائے اور تحقیقات کی جائیں کہ محمد شعیب کو کن وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا گیا، دورانِ حراست ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا اور ان کی موت کن حالات میں ہوئی۔
مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے مرحوم کے اہل خانہ کو حقائق سے آگاہ کیا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔
@GovtofPakistan@ForeignOfficePk@mofauae
The Ministry of Interior of Pak, which's busy defending the UAE, should seek an answer to why a young man from District Kurram, Shoaib Hussain, was allegedly detained and killed in the UAE despite having committed no crime.
پاکستانی وزارت داخلہ، جو کہ متحدہ عرب امارات کے دفاع میں مصروف ہے، اس بات کا جواب تلاش کرے کہ ڈسٹرکٹ کرم کے جواں سال شعیب حسین کو امارات میں بغیر کسی جرم کے زیر حراست کیوں شھید کیا گیا
جن تکفیریوں کے دباو پر شیعہ سکالر و خطیب امین شہیدی پر پنجاب میں محرم الحرام کی مجالس سے خطاب کرنے پر پابندی لگائی ہے ان کے خلاف فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کے مقدمات متعلقہ حکام کو دیکھائی کیوں نہیں دیئے ؟
@AminShaheedi@HaiderJavedSyed
@BBCUrdu اسرائیل صرف اور صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے۔ جیسے اسرائیل لبنان میں سولین کو مار رہا ہے ویسے اسرائیل میں بھی ہونا چاہیئے تاکہ اس کی ظلم کو لگام ڈالی جا سکے