We send a message to Crown Prince Mohammed bin Salman and the entire Saudi nation: we, the people of Pakistan, stand with you with all our heart and soul.
#PakistaniStandsWithSaudi
مقدس مقامات پر حوثی حملے مذہبی و انسانی اقدار کے منافی ہیں، مقدس مقامات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے
اسلام انسانی جان، مال وعزت کے تحفظ اور جارحیت کی ممانعت کا درس دیتا ہے، موجودہ حالات میں قومی اتحاد اور یکجہتی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے
چیف امام کعبہ عبدالرحمن السدیس کا بیان
اب وقت اگیا ہے کہ مسلمان ایک ہو جائے ورنہ قیامت اپ کے سر پہ ہے
یہ خانہ کعبہ کے باہر کے مناظر ہیں اور مکہ میں جنگ کے بادل لانے والے خود کو مسلمان کہلواتے ہیں یہ کیسی جنگ جس میں اسرائیل محفوظ ہے اور مکہ مکرمہ پر حملوں کا خطرہ ہے
مکہ مکرمہ پر حوثیوں کا حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہوگا۔مکہ مکرمہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ کروڑوں اربوں مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔خاکم بدہن اگر یہ حملہ ہوا تو بدبخت حملہ آور عالم اسلام کے غیض وغضب سے نہیں بچ پائیں گے ۔
امت مسلمہ پوری شدت سے اس حملے کا بھرپور جواب اور سعودی عرب کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔مسلمان ممالک بالخصوص پاکستان اس نازک اور مشکل وقت میں سعودی عرب اور حرم مکی کے تحفظ میں صف اول کا کردار ادا کرے۔
پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے واضح پالیسی کا فوری اعلان کرے۔امت مسلمہ کو آئے روز درپیش چینلجزسے مضبوط اور مؤثر اسلامی بلاک کے قیام کی ضرورت پہلے سے بڑھ کر محسوس کی جا رہی ہے ۔
جمعیت علماء اسلام کے لاکھوں کارکن مملکت سعودیہ پر حملے کے دکھ درد میں شریک ہیں ۔سعودی عرب پر حملے نے امریکہ اور مغربی دنیا کے دوغلے رویے کو ایک بار پھر بے نقاب کردیا ۔
اپنی سمجھدانی کا علاج کرو ہم نے ٹھیک بات کہی ہے، کامران مرتضیٰ ان ایکشن
مولانا کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے
ہمت کریں مولانا کی پوری تقریر میڈیا پر چلائیں قوم فیصلہ کرے گی
ہم اپنے کہنے کے ذمہ دار ہیں تمہارے سمجھنے کے نہیں
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی گفتگو
@syed_bacha یہ اپنے نام کے ساتھ سید لکھتا ہے،سید کاخون نبی علیہ السلام کاخون ہے،مگر نبی کا خون کبھی علماء کے خلاف بولے یہ نہیں ہوسکتا،تو مطلب ہے خون نبی کا نہیں ہے ڈی چوک کاہے۔
عائشہ گلالائی کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن پر اس نوعیت کے غلیظ حملے انتہائی شرمناک اور قابلِ مذمت ہیں۔ یہ خاتون تو صرف خود کو ریلیونٹ رکھنے کے لیے غلاظت اور بے ہودگی کا سہارا لے رہی ہیں۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سیاست کو گندا کرنے کا ایک باقاعدہ اور مسلسل پیٹرن بن چکا ہے؛ کبھی کسی پر عدت میں نکاح کا شرمناک مقدمہ قائم کیا جاتا ہے تو کبھی کسی پر ایسی بازاری اور غلیظ تہمتیں تراشی جاتی ہیں! اور جو لوگ اس غلاظت کو اپنی ٹائم لائنز پر جگہ دے رہے ہیں، وہ بھی اس اخلاقی گراوٹ اور معاشرتی بگاڑ کے برابر کے ذمہ دار ہیں۔ ذرا سوچیے کہ آپ اس معاشرے میں کس کلچر کو پروان چڑھا رہے ہیں؟ سیاست کو گندگی کا ڈھیر بنانے والوں کا ساتھ دینا اس ملک سے دشمنی ہے۔ خدارا! سیاست کو اس حد تک گندہ اور بے توقیر مت کیجیے۔
🚨عائشہ گلالئی کے بیان پہ رہنما جے یو آئی شاہدہ اختر علی کا ردعمل
عائشہ گلالئی پہلے اپنی حثیت واضح کریں وہ مرد ہیں یا عورت ، وہ کبھی مرد بنتا ہے کبھی عورت ، ان کی گندی ذہنیت یہ شو کرتی ہے کہ ان کے ذہن میں کیا لاوا پک رہا ہے ، الحمدللہ ہم نے جب بھی مولانا صاحب کو دیکھا ہے یا تو عبادت کرتے ہوئے یا تو سیاست کرتے ہوئے ، جو بھی مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے اس طرح کی زبان استعمال کرتا وہ اپنے ذہن کی عکاسی کرتا ہے، شاہدہ اختر
حافظ صاحب ! آپ کی، مولانا فضل الرحمٰن کی، آپ ساروں کی اتنی خدمات ہیں اس ملک کے لیے
آپ لوگوں کو ابھی تک ستارہ امتیاز نہیں ملا ؟ خیریت ہے ؟ اس ملک میں ستارہ امتیاز مہوش حیات کو ملتا ہے۔ منصب کی لالچ میں نہیں آنا۔ کیوں ؟ عزت اور ذلت کس کے ہاتھ میں ہے ؟ اللہ کے حوالے کرو۔
#آئین_شکن_مقدس_گائے #سلیکشن_مافیا_نامنظور
#مولانا_شان_پاکستان #معافی_مائی_فٹ