میرا بھی یہی مطالبہ ھے وزیراعظم @CMShehbaz کو مزید پٹرول سستا کرنا چاہئے کیونکہ عوام پچھلے دو سال سے مہنگائی میں پس رہی ھے پٹرول اور بجلی مزید سستی کرکے عوام کو اور ریلیف دو
A reduction of only Rs.75 in petrol prices is unfair. With the war nearly over and global oil prices dropping to around $75 per barrel,consumers deserve a full rollback of petrol prices to their pre-war levels, without any excuses or delays.
متنازعہ ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے والی وزیر صاحبہ سے فوری استعفی لیا جائے اور اس بل کے پیچھے چھپے محرکات جاننے کے لئے ہائی لیول انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے، گھروں کی چادر اور چار دیواری پامال کر کے کیا وزیر صاحبہ اس مُلک میں خانہ جنگی کروانہ چاہتی ہیں ؟
آئی ٹی منسٹر شزا فاطمہ نے جس قسم کا بل اسمبلی سے پاس کروایا ہے۔، اس پر نہ صرف ان سے استعفی لینا چاہئے بلکہ سب سے پہلا ٹاور ان کے گھر میں نصب کرنا چاہئے۔ ایسی بے وقوف عورتیں وزیر بنا کر مسلط کر دی ہیں!
ایران امریکہ جنگ میں اصل لاٹری ہمارے جعلی حکمرانوں کی نکلی جنہوں نے جنگ کی آڑ لے کر مہنگائ کی تباہی مچا دی۔
دنیا میں تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے والی قیمتوں پر پہنچ چکی ہیں
لیکن شہباز شریف صاحب نے ابھی بھی پیٹرول کی قیمت 53 روپے فی لیٹر زیادہ رکھی ہوئی ہے ۔
اور عوام کو ریلیف نہیں دے رہے ۔
آپ شوق سے راتب کھائیں مگر عوام کی ٹرک کے نیچے مت دیں آپ کو سرکاری مال ملتا ہزار روپے لیٹر خریدیں مگر عوام کو وہ ریٹ دیں جو جنگ سے پہلے تھا
چاٹ کہ لب آزاد ہیں تیرے
کفایت شعاری۔ پنجاب میں اعلی سرکاری افسران کے دفاتر اور گھروں کی تزئین و آرائش کیلئے 6 ارب 91 کروڑ مختص کیے گئے ہیں۔
یہ ہیں وہ اخراجات جن کو پورا کرنے کیلیے غریب عوام سے دواؤں پر اور غریب عوام کے بچوں کی تعلیم کی کاپیوں اور اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
75 $ڈالع بیریل کی قیمت ھے اسلیے
100 روپے لیٹر تیل مقرر کیا جانا چاہیے ۔۔
مگر
حکومت نے پیٹرول کی نئی قیمت 300 روپے مقرر کر دی۔
حکومت کو پیٹرول کی قیمت فوری طور پر واپس 252 روپے فی لیٹر کرنی چاہئے، جتنی جنگ شروع ہونے سے پہلے تھی۔
یہ کیا بات ہوئی کہ ابھی پیٹرول کی قیمت کم کرنے کا احسان بھی چڑھا دیا اور 300 روپے تک بلاوجہ قیمت بڑھائی رکھی
“ٹیلی کام بل” کی قومی اسمبلی سے منظوری کو کوئی دلیل، کوئی جواز اور کوئی وضاحت قابلِ دفاع نہیں بنا سکتی۔
اس بل کو پیش کرنے والے، اس کی حمایت کرنے والے اور اس کے حق میں ووٹ ڈالنے والے, سب برابر کے ذمہ دار ہیں!
اپنا حق لینا سیکھیں، چاہے 100 روپے ہوں ۔
ایک دفعہ آپ اپنا حق حلال کا 100 روپے چھوڑ دیں گے ۔
اگلی دفعہ حق کھانے والا آپ کا ایک لاکھ روپے کھائے گا اور اس سے اگلی دفعہ اس سے زیادہ ۔
اور پھر یہ سلسلہ کبھی رکے گا نہیں