@azharkhan جاہلیت کا کیا جواب دیں۔ جیسے جاہل حکمرانوں کے نو رتن ایسے ہیں تو پھر کمہاروں کا ہی کچھ بھلا کر دیں۔ یہ ہیں ایک ڈاکٹر، تو پھر باقی نورتن کیسے ہونگے۔
انیل کپور سے پوچھا گیا فلاں ایکٹر روزانہ چھ چھ شفٹیں (فلمیں) کررہا ہے۔ وہ آرام کب کرتا ہوگا۔ارب پتی ہے پھر بھی پیسے کی اتنی ہوس تو انیل کپور نے جواب دیا تھا دراصل ہندوستانی کے ذہن میں خوف کھڑا ہے کہیں دوبارہ غریب نہ ہو جائے لہذا یہاں ارب پتی بھی اس خوف کا شکار ہے۔
لگتا ہے ہم پاکستانیوں کی اکثریت کو بھی یہی خوف ہے کہ کہیں گھر تک جاتے جاتے دوبارہ بھوک نہ لگ جائے۔ پتہ نہیں کل اتنا اچھا کھانا اتنی تعداد میں ملے یا نہ ملے لہذا سب کچھ چکھ لو چاہے سارا ضائع ہو جائے۔
جسمانی بھوک اور ذہنی غربت ہمارے ڈین این اے میں داخل ہوچکی ہے۔۔ اندازہ کریں پانچ افراد کے اس شودے ٹبر نے کیا حشر کیا ہے خوراک کا۔۔ 😳
@goneneutral تو کیا وہ اڈے انہوں نے ان ممالک کی تعمیر و ترقی کے لیئے بنائے ہوئے ہیں؟ ان میں سے صرف ایک فوجی اڈے میں 40،000 ہزار سے ذیادہ فوجیوں کی موجودگی جنگ وغیرہ کےلئے نہیں صرف پیار و محبت کا پیغام دینے کےلئے ہے۔
@shamshergondal قادری صاحب نے منہاج القرآن کی بنیاد رکھنے کے بعد اس وقت جو نیم سیاسی پریس کانفرنس کی اس میں قسمیں اٹھا اٹھا کر یہ فرمایا تھا کہ انکا اور منہاج القرآن کا سیاست سے کوئی تعلق واسطہ بلکل نہیں ہو گا۔ مگر بعد ازاں محترم نے مکمل طور پر سیاست میں تشریف آوری فرمائ۔
قول اور فعل کا تضاد
@soulat_pasha خان مرحوم futuristic سیاستدان تھے۔ افغان مہاجرین کے متعلق انکے تاریخی الفاظ آج بھی انکی دور اند یشی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ خان مرحوم نے کہا تھا کہ
"گند کی جو بالٹی آج تم لوگ اپنے گلے میں ڈال رہے ہو، ذندگی بھر تم اسکی بدبو سونگھتے رہو گے" اور وقت نے انکی کہی بات کو سچ ثابت کیا