Negotiations happen when two parties sit across each other face to face . there is no negotiation when one is in jail and the other one is in power . #pakistan reality . It’s not a level playing field .
عمران خان جیل میں بیٹھا انتظار کر رہا ہوگا کہ لانگ مارچ ارہا اسلام آباد میرے لوگ ائیں گے
جس کے بعد حکومت گھٹنے ٹیک دے گی مذاکرات ہونگے
مگر اسے کیا پتہ فکسڈ میچ تھا ،،،،،،شہباز گل کو ضرور سنیں
میں خدا کو حاظر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ نوے فیصد پی ٹی آئی کے کارکنان عہدیداران اور پارلیمنٹرینز اور سوشل میڈیا پر دفاع کرنے والے بھی آف دی ریکارڈ یہی باتیں کرتی ہیں جو شہباز گل کر رہا ہے۔
کرپشن کی باتیں تو پی ٹی آئی کا ادنی سے ادنی ورکر بھی جانتا ہے اور کرتا ہے تو ایسے میں ان سب کو چھپ کروانا عمران خان سے وفاداری ہے یا غداری ؟؟
عمران خان کے مضبوط قلعے کے پی کے میں ایمرجنسی لگ گئی، گورنر راج لگ گیا اور عمران خان کے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا لیکن بیانوے ایم پی ایز، چالیس کے قریب ایم این ایز اور باقی تنطیمی لوگوں نے احتجاج تو دور کی بات سوشل میڈیا میسج تک نہ کئے تو میں کیسے خود کو بے وقوف بنا کر چھپ ہو جاؤں کہ یہ سب کچھ اچانک ہی ہو رہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کے قریبی ساتھی ٹویٹس تو کر رہے ہیں، لیکن نہ عمران خان کا ذکر ہے، نہ احتجاج کا اور نہ ہی لانگ مارچ کا۔ ابھی بھی اگر اپ کو سمجھ نہیں ایا ,پھر یا تو آپ پاگل ہیں یا پھر آپ کو کسی سے کوئی لالچ ہے۔
یا پھر اپ ان کے خلاف بات کرنا نہیں چاہتے
جلسہ چھوڑیں ابھی تک پنجاب اسمبلی کے MPAs نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس تک نہیں کی گورنر راج کے خلاف۔ چلو احتجاج ریلی آپکو مشکل لگتی ہے پریس کانفرنس تو کر سکتے تھے۔ بہتر ہوتا ایک سیمنار کرتے۔ میڈیا کو بلاتے۔ بات کرتے کہ جمہوریت کے خلاف یہ ہوا۔
“غداری کے سرٹیفیکیٹ نہ بانٹیں غداری کے سرٹیفیکیٹ نہ بانٹیں”
بالکل نہیں بانٹتے۔ آپ صرف ان سوالوں کے جواب دے دیں۔
۱۔ سہیل آفریدی نے 21 ارب فوج کو کیوں دیے کے پی میں آپریشن کرنے کے لیے؟
لانگ مارچ میں تو وہ کہہ رہا تھا کہ ہر گز کوئی آپریشن نہیں کرنے دوں گا۔ اس نے نہ صرف آپریشن ہونے دیا بلکہ علی امین سے ڈبل سے زیادہ پیسے دیے ان کو۔ کیوں؟
فنانس کے ڈیپارٹمنٹ میں ان کے بندے کو کیوں بٹھائے رکھا؟
۲۔ جس دن سہیل آفریدی نے پشاور جلسے میں اعلان کیا ڈی چوک آئوں گا اس سے اگلے ہی دن 3 مین سٹریم ٹی وی چینلز نے اسے انٹرویو پے بلالیا؟
جبکہ پورا سال نہیں بلایا تھا؟ جس میں اس نے کہا میں ڈی چوک آرہا ہوں؟
یہ اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر ہو سکتا ہے؟
۳۔ گرفتاری کی صورت میں اس کا کیا پلان تھا؟ کون لیڈ کرے گا اور کیسے؟ اس کا ذرہ برابر بھی ثبوت گرائونڈ پے نظر آیا؟
میں صرف ایک بات کہنا چاہتی ہوں
یہ قیادت سے امید تو ایک پرسنٹ بھی نہیں تھی
کے پی کے لوگوں کے اوپر ظلم ہو رہا ہے
کہ ان پر ایمرجنسی لگائی گئی ہے
یہاں پر بات علاقے کی اور ملک کی غیرت کی ہے
عوام نکلے اور اپنا حق لے لے
عوام ہی عمران خان کے ساتھ ہے اور اس کا اللہ اس کے علاوہ اس کے ساتھ نہ پہلے کوئی تھا نہ اب ہے
پریشانی ایک لمحے کی بھی نہیں ہے
ان سب کے چراغ گل ہونے ہیں اپ دیکھتے جائیے گا۔۔
انہوں نے اسمبلیوں سے استعفے نہیں دینے
تو کیا آپ لوگ پھر مایوس ہو جائیں گے ؟
یہ عمران خان کے ساتھ تھے ہی نہیں
یہ سب ایکسپوز ہوں گے عاصم منیر کی طرح فوکس عمران خان اور پاکستان اسکی عوام
اب کھیل یہ ہے کہ عمران خان کو ہر صورت مائنس کرنا ہے، اس میں اپنے بھی شامل ہیں اور کچھ پرائے بھی شامل ہیں، اس مائنس کے چکر میں ایک مسیحا کے طور پر آپ کے سامنے کسی ایک شخص کو لایا جائے گا، ڈاکٹر شہباز گل کا خدشہ
ٹیپو سلطان آخر تک لڑتا رہا مگر نہ اپنی جگہ اور نہ ہی اپنے لوگوں کو چھوڑا اور نہ ہی سرینڈر کر کے اپنی حکومت انگریزوں کی گود میں رکھی آج بھی دنیا اس کی مثال دیتی ہے جبکہ دوسری طرف بہادر شاہ ظفر لڑا ہی نہیں اور اس نے یہ سوچ کر سرینڈر کر لیا کہ بات چیت یا گرفتاری دینے سے جان بخش دی جاۓ گی ۔۔
نوٹ : یہاں حکومت قربان نہیں کی گئی یہاں لڑے بغیر حکومت فوج کی گود میں رکھی گئی ہے یہاں ٹیپو سلطان بننا تھا بہادر شاہ ظفر نہیں ۔
مینا خان آپ یوتھ ونگ میں سہیل سے بھی سنئیر ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ باہر نکلیں گرفتار ہو جائیں۔ لیکن کم از کم ایک وڈیو ریکارڈ کر کے سب کو اعتماد میں لیں۔ کیا ہوا کیسے ہوا کیوں ہوا۔ آگے کا کیا پلان ہے۔ خان کی صحت خرابی کی خبریں پھر آ رہی ہیں۔ خاموش بیٹھنا کوئی حل نہیں۔
ہم کبھی بھی عمران خان کو مائنس ہونے نہیں دیں گے
ہم کسی کو عمران خان کی جگہ لینے نہیں دیں گے
عمران خان صرف اور صرف ایک ہے اور ان کی جگہ کوئی بھی نہیں لے سکتا ہے
عمران احمد خان نیازی زندہ باد
جنرل باجوہ کو سب سے زیادہ غصہ خان کی طرف سے اپنی تقریر میں میر جعفر میر صادق کے الفاظ استعمال کرنے پر تھا۔
کبھی آپ نے سوچا خان نے یہ کیوں استعمال کئیے تھے۔خان کو باہر والوں کا تو پتہ ہی تھا۔ اصل دکھ خان کو یہ تھا کہ اپنے ہم وطن میر جعفر میر صادق بن گئے۔
پاکستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس کے پیچھے عاصم منیر کا ہاتھ ہے۔ اس کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔ سہیل آفریدی اور اس کے ساتھیوں نے لڑے بغیر ہی سرنڈر کر دیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اٹک پل سے آگے بڑھنے کی صورت میں کیا کچھ ہو سکتا تھا، لیکن کم از کم صوابی تک تو مزاحمت کرتے، عوام کے ساتھ کھڑے رہتے اور اپنا مؤقف ڈٹ کر پیش کرتے۔ اس فرعونیت کے سامنے اگر کوئی ڈٹ کر کھڑا دکھائی دیتا ہے تو وہ صرف عمران خان ہے۔ باقی سب کی بہادری کے دعوے اپنی جگہ، لیکن اصل امتحان مشکل وقت میں کھڑے رہنے کا ہوتا ہے۔