فیصل واوڈا کی فرسٹریشن
ان تین کتوں پر کراس❌ لگ چکا ھے اور انکے متعلق آج سے 3 سال پہلے بتا چکا ہوں کہ آصف زرداری اور میاں نوازشریف کی ملاقات میں یہ طے ہوا تھا، چاہے یہ تینوں جتنی بھی کوشش کر لیں انہیں ہم��ری پارٹیاں کسی صورت قبول نہیں کریں گی، کیونکہ یہ تینوں نیازی دور میں
1/3
فیصل واوڈا ، کیوں بھونکا ؟
اس کی تکلیف کا سبب سامنے آگیا 🧐
Part 1👇
امپورٹڈ دو نمبر گاڑیوں کا مافیا کیسے آج کل درد میں مبتلاء ہے ، کیسے ہارون اختر ، اور انجینئرنگ بورڈ فیصل واوڈا مافیا کے سامنے دیوار بن کر کھڑا ہوگیا ۔
امریکہ نے متحدہ عرب امارات کی منافقت اور حرامزدگی پوری دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دی ہے، ایران اس منافق ملک کی ٹھیک چھترول کر رہا تھا۔پچھلے دنوں جب جنگ بندی ہوئی تب بھی جو میزائل حملے کیے گئے جس کی ایران نے تردید بھی کی تھی وہ اسرائیل اور امارات کی ملی بھگت تھی خود ہی میزائل حملہ کرکے الزام ایران پر لگا دیتے تھے۔سعودی عرب میں بھی بعض ڈرونز حملے ہوئے جس کی باقاعدہ ایران نے تر��ید کی اور تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔انڈیا اسرائیل امارات تینوں حرامیوں کو پاکستان سعودی دفاعی معاہدے کی ایران امریکہ امن معاہدے اور پاکستان کی ثالثی کی بہت تکلیف ہے۔اب یہ رولا بھی کلئیر ہوگیا کہ 3.5 ارب ڈالر فوراً واپسی بھی ایک بلیک میلنگ تھی جس کا جواب پاکستان اور سعودی عرب نے 3.5 ارب ڈالر منہ پر مار کر دیا تھا۔پاکستان میں اور کچھ دبئی میں بیٹھے منافقت کے قطب مینار لوگ عشق امارات میں پاکستان کو ہی نیچا دکھانے کی کوشش میں رہے، امید ہے اب سکون کریں گے۔
الحمدللہ! اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) نے 10 نشستوں پر برتری حاصل کی ہے، جبکہ متعدد آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ اگر آزاد ارکان کی حمایت حاصل ہوتی ہے تو مسلم لیگ (ن) حکومت سازی کے لیے واضح طور پر مضبوط پوزیشن میں آ سکتی ہے۔
یہ نتائج گلگت بلتستان کے عوام کے مسلم لیگ (ن) کی قیادت، ترقیاتی وژن اور عوامی خدمت پر اعتماد کا اظہار ہیں۔ تاہم حتمی تصویر مکمل نتائج اور آزاد امیدواروں کے فیصلوں کے بعد مزید واضح ہوگی۔
پارٹی پوزیشن (اب تک):
مسلم لیگ (ن): 10 نشستیں
پیپلز پارٹی: 8 نشستیں
آزاد: 4 نشستیں
استحکام پاکستان پارٹی: 1 نشست
مجلس وحدت المسلمین: 1 نشست
مسلم لیگ (ن) اس وقت سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے حکومت سازی کے لیے سب سے مضبوط امیدوار دکھائی دے رہی ہے۔
لندن کے اس کلینک کے خلاف برطانیہ میں درخواست دینی چاہیے جس سے خواجہ حارث نے جعلی کاغذات تیار کروائے اور ظاہر جعفر کو بچانے کی کوشش کی۔ خواجہ حارث جیسے وکیل وکالت کے نام پر دھبہ ہیں۔
روس کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کے بعد ابن ملا عمر نے پاکستان کو دھمکی لگائی ہے، وہ یہ بات یاد رکھیں کہ بھارت کا اس سے زیادہ بڑا معاہدہ موجود ہے، روس بھارت کو نہیں بچا سکا تو تم جیسے بھکاریوں کو کیسے بچائے گا۔ ویسے روس پہلے آپ کو بچانے کے لئے ایک دفعہ ادھر آ چکا ہے۔
بھارت نے کھربوں روپے لگا کر دھریندر جیسی فلم بنائی تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جا سکے
لیکن پاکستان کے نوجوان سستی ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال کرکے بھارت کو تاریخی جواب دے رہے ہیں!
یہ رہا دھرندر کا جواب
ڈراپ سائٹ نے سیکرٹ سائفر کی کاپی شائع کر دی، یہ وہ کاپی ہے جو خان نے کہا مجھ سے گم ہو گئی ہے، اب اسے علیمہ خان کے زریعے ڈراپ سائٹ کو بھجوایا گیا.
یہ سیکرٹ ایکٹ کی صریحاً خلاف ورزی ہے، کیونکہ یہ کاپی ڈائریکٹ وزیراعظم کو دی گئی جو حلف کے تحت اسے خفیہ رکھنے کا پابند ہے، ایک اور پھندہ تیار ہے.
نیتن یاہو کے مطابق۔۔
ہندؤں کے دیوتا وشنو کی طرح پاکستان کے کئی ہاتھ ہیں اور اس نے اپنا ہر ہاتھ الگ الگ جگہ دشمن کی دکھتی رگوں پر رکھا ہوا ہے۔
ایک ہاتھ سے وہ امریکہ اور انڈیا میں دراڑیں ڈال رہا ہے جبکہ ایک ہاتھ سے سیز فائر اور نوبل پیس پرائز والی ڈپلومیسی کامیابی سے چلا رہا
1/4
کل دو گریٹ پاورز ��ے دونوں صدور، اپنی دو طرفہ میٹنگ میں لکھی ہوئی تقریر پڑھ رہے تھے۔
کیونکہ جب آپ بطور سربراہ حکومت، کسی خارجہ محاذ پر بات کر رہے ہوتے ہیں تو لکھی ہوئی تقریر ہی پڑھتے ہیں جو خارجہ امور کے ماہرین ہر قسم کے معاملات اور خارجہ تعلقات کی حساسیت کو مدن��ر رکھ کر لکھتے ہیں۔ ایک ایک لفظ کو ناپ تول کر لکھا جاتا ہے کیونکہ کوئی ایک جملہ یا ایک لفظ تمام محنت پر پانی پھیر سکتا ہے، تعلقات بگاڑ سکتا ہے۔
جبکہ ہمارا ایک کھوتا، خارجہ محاذ پر بھی بغیر سوچے سمجھے ڈھینچوں ڈھینچوں لگا دیتا تھا اور نتیجہ یہ ہوا کہ خارجہ تعلقات تباہ کر کے رکھ دیے۔ الٹا اس کی کلٹ لڈیاں ڈالتی تھی کہ ہمارا کھوتا تو لکھی ہوئی تقریر نہیں پڑھتا وہ تو کوئی بہت بڑی توپ چیز ہے۔
جنگ چاہے دوبارہ شروع ہو یا مزاکرات لمبے چلیں،آبنائے ہرمز کا جو بھی ہو۔۔۔۔۔۔۔ہماری بلا سے
حکومت صرف یہ کام کر لے کہ 2018 کا کابینہ سے پاس ہوا فیصلہ(فریم ورک) جس میں
توانائی کے شعبہ کو CTBCM ماڈل کے تحت
"ڈی ریگولیٹ"کرنے کا فیصلہ ہوا تھا اس پر عمل درآمد کر لے۔
پھر نجی شعبہ مسابقت سے پٹرول خود ملک بھر کے پٹرول پمپس پر 200 روپے لٹر سے کم
فراہم کر دے گا۔
حکومت پٹرول پمپس سے 100 روپیہ فی لٹر لیوی وصول کرتی جائے۔
حکومت اس ریگولیٹر"اوگرا"سے جان چھڑا دے قوم کی بس۔۔
حکومت کو ڈائریکٹ امپورٹ کے ڈالرز ��ھی بچیں گے،لیوی بھی ملے گی اور
عوام کو سستی توانائی بھی مہیا ہو جائے گی۔
خدارا۔۔۔فیصلہ کیجئے۔۔آپ لوگ IMF کے ڈر سے ملک کی معیشت کا گلہ گھونٹ کر بیٹھے ہوئے ہیں
اور عوام کا بھی
(اسد آر چوہدری)
ایک سابق کئر ٹیکر وفاقی وزیر جنہوں نے اپنی فیکٹری بند کرکے پلاٹوں کی فائلیں بیچنے کا دھندہ شروع کر رکھا ہے، ان کو آئی پی پیز کے خلاف ہیضہ ہوگیا۔ بہت گرجے برسے۔ پھر کچھ دنوں بعد پتہ چلے کہ موصوف دراصل خود واردات ڈال رہے تھے اور اس واردات کا ایک کانٹا انہوں نے سولر والوں کو بھی چبھو دیا۔
اصل واردات پھڑی گئی
وزیر اعظم اپنا گھر اسکیم کے تحت اپلائی کرنے کیلئے اس لنک پر رجسٹریشن کریں اور اپنی درخواست جمع کروائیں 25 لاکھ سے 1 کروڑ روپے 20 سال کی مدت کیلئے فراہم کیے جائیں گے۔
https://t.co/IR4nwwBA50
پاکستانیو۔۔جمعے کو پھر"وجے"گی
وزیراعظم شہباز شریف نے
قوم کو بری خبر کے لیے تیار رہ��ے کے لیے ماحول بناتے بتایا کہ
جنگ سے پہلے 30 کروڑ ڈالرز کا امپورٹ بل تھا۔اب 80 کروڑ ڈالرز کا ہے۔
دنیا بھر میں ساری بری چیزیں بتا کر چاچو نے بتایا
جمعہ کے روز تیل کی قیمتوں کا پھر تعین کرنا ہے۔
(اسد آر چوہدری)
سعودیہ نے طاقت رکھتے ہوئے ایران کو جواب کیوں نہیں دیا؟؟
سعودی شہزادے عبدالرحمن بن مساعد بن عبدالعزیز آل سعود سے سوال کیا جاتا ہے کہ: “سعودی عرب ایران کو کم از کم ایک میزائل سے جواب کیوں نہیں دیتا؟”
عبد الرحمن:
میں اس سوال کا جواب اس لیے دے رہا ہوں کیونکہ یہ سوال بار بار اس
1/6
گوادر پورٹ پر ڈپلومیٹ کی اہم سٹوری
اپریل کے مہینے میں اب تک گوادر بندرگاہ پر تقریباً گیارہ ہزار کنٹیرز لائے اور بھیجے جا چُکے ہیں یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ھے کیونکہ کیونکہ سال 2025 کے پورے سال میں یہاں صرف 8300 کنٹیرز آئے تھے ماضی میں اس بندرگاہ کی حالت یہ تھی کہ سال1/4