☘️ تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اعلیٰ ہیں ☘️
کشمیری ،ورکنگ وومن،
☘️ محترمہ فاطمہ جناح،محترمہ ہےنظیر بھٹو اور محترمہ مریم نواز صاحبہ آ ئیڈیل ☘️
نومبر 2025 میں Unilever کو ای میل کی ہے آئس کریم ایکسپائر ہو گئی ہے
سلمی بٹ ۔ ای میل پیدل جاتی ہے ؟ 😂
2000 کلو آئس کریم رکھ کر یہ بھی کہتے ہوں گے حکمران چور ہیں
یقین کریں بٹ صاحبہ جہاد کر رہی ہیں 🙌🏻🙌🏻
@chsandhilaa سچ کا انتظار رہے گا ۔ امید نہیں کہ آپ اصل حقائق بتا پائیں گے اور پولیس پہ کتنا پریشر ڈالا جا رہا ہے ۔ اگر وہ غیر ملکی نہ ہوتیں تو یہ کیس کھڑے لائن لگ چکا ہوتا
@kabeerraja786 سی سی ڈی کے حوالے کرو ۔ خوف ناک حقیقت ہے کہ اوپر سے انکار اور اندر سے پلس پہ سخت پریشر ۔ ن لیگ کی سی سی ڈی صرف غریب نظر آتے ہیں ۔ لعنتی انسان پہلے پتا تو کروائو پلس نے انہیں جوائی بنا کے کیوں رکھا ہوا ہے ۔
جیو نے کیا چلایا، دیکھا نہیں، (نہ دیکھنے پر اللہ کا شکر ہے). تاہم جو سنا ہے وہ اذیت ناک ہے.
اس پر البتہ جیو نے جو معذرت کی ہے وہ میں نے دیکھی ہے. یہ معذرت نہیں رعونت اور تکبر کا اظہاریہ تھا. نیوز کاسٹر کی باڈی لینگویج اور انداز گفتگو میں دور دور تک ندامت نام کی کوئی چیز نہیں تھی. ایسے بول رہا تھا جیسے جیو نیوز نے معزرت نہیں کی، قوم اور ملت اسلامیہ پر احسان کیا ہے. یہ معذرت تھی ہی نہیں. نہ الفاظ میں نہ لہجے میں نہ باڈی لینگویج میں.
صحافتی اقدار تو نہ سیکھ سکے، معذرت کرنا کرنا تو سیکھ لو.
@Eshaal0 دوکان دار ن لیگی ہے اور پیسے والا ۔ پہنچ بھی ہے ۔ سی سی ڈی سے ملازم مروا دیا جو چار لوگ اس وقت دوکان میں موجود تھے انہیں بچا رہے ہیں ۔ کسی کو اس بچی کی چیخ و پکار نہیں سنائی دی ۔ پنجاب پولیس رج کے بے غیرت ہے ۔ اپنی بیٹی کا ریپ بھی پیسے لیے کے کسی اور پہ ڈال دیں یہ بد بخت
@MariaBalochPK درست ہے دوکان دار ن لیگی ہے اور اس کی پہنچ اوپر تک ہے ۔ پیسے اور فون کال نے سیچوایشن تبدیل کر دی ہے سی سی ڈی ایک غریب ملازم کو بلی چڑہا رہی ہے اور اصل مجرم بچا رہی ہے ۔ سب سرگودھا کو حقیقت کا پتا ہے ۔ بدمعاشی یہ کہ اہل خانہ کو پولیس دھمکا رہی ہے ۔ جو مار دیا اس پہ اکتفاء کر جائ
@MaryamNSharif پھر سرگودھا کی بچی کو انصاف کیوں نہیں مل رہا آپ کی پولیس ن لیگی دوکان دار کی کیوں ذرخرید غلام بن گئی ۔ ایک ملازم چار مالکان کے ہوتے ہوئے کیسے بچی کسے زیاتی اور قتل کر سکتا ہے ۔ سب اندھے گونگے بہرے تھے ۔ یا پولیس پر پیسے اور حکومت کا دباؤ ہے ۔
مریم بی بی کچھی آپ میری آئیڈیل تی
@CSMR786 آپ کی عقل کھاس چرنے چلی گئی یا ن لیگ کا پیار بول رہا ہے ۔ دن دہاڑے دوکان میں چار مالکان کے ہوتے ہوئے زیاتی اور قتل ملازم نے کیا بچی کی چیخ و پکار کی آواز کسی کو سنائی نہیں دی ۔
آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے وہ دوکان دار ن لیگی اور پیسے والے ہیں جنہوں نے غریب ملازم کو بلی کا بکرا بنا
@Naseem_khera پولیس میری اطلاع کے مطابق ان چار دوکان دار مالکان کو بچانے کے لیے پیسے پکڑ چکی ہے اور صرف ایک ملازم کو بلی کا بکرا بنایا گیا ہے ۔ اس
اصل ملزمان دوکان مالک اور اس کے بیٹے ہیں ۔
@miandawoodadv میاں جی یہ سی سی ڈی غریب مجرم کلر ہے ۔ امیروں پہ ہاتھ ڈالتے ہوئے ن لیگ کی سی سی ڈی کو موت پڑتی ہے تازہ سرگودھا والا واقع سب کے لیے مشل راہ ہے ۔
@s0nhri_sn0w یہ ملک اشرفیہ کا ہے ۔ ملازم کو بلی کا بکرا بنایا گیا اور مالکان پیسے دے کے نکل رہے ہیں ۔ ن لیگ کی سی سی ڈی کے ہاتھوں جو بھی مرے ہیں غریب یا نا پہنچ والے یہ سی سی ڈی کا اطلاق امیروں پہ نہیں ہوتا ۔
@saifullahawan40 محترم ذرا جاگ کر 8200 کی 100کلو کی بوری کسان سے خریدی جارہی ہے اور ایک سے ڈیڈھ کلو کاٹ بھی ۔ اس لحاظ سے 3150سے 3200کی خرید کی جارہی ہے اب بارش کے بعد والی 2800،سے 2900کی خریدی جا رہی ہے
@Mughal3_1_3 اپنی فیس بک آئی ڈی پر شیئر کریں جو کہ مقامی لوگ استعمال کرتے ہیں x پر چھوٹے گاؤں یا شہروں کے لوگ اٹیچ نہیں ۔ میانی ملکوال رکن اور میانہ گوندل کے پیجز پر شئیر کریں شکریہ
@Angrej_Official@Awaz_Punjab_Di کس جاہل نے آپ کو کہ دیا یہ پاکستانی برینڈ ہے ۔ یہ Getz group کا حصہ ہے دنیا میں اس کمپنی کا نام ہے پاکستان میں M&p کے نام سے جانی جاتی ہے مولر اینڈ فلپ
کالج حکومت ایسوسی ایٹ کالج برائے خواتین، رکن کالج، ملکوال (ضلع منڈی بہاؤالدین) کے طلباء و طالبات، احترام کے ساتھ ایک اہم معاملہ آپ کی توجہ میں لانا چاہتے ہیں۔
ایک گارڈ، جس کا نام آفتاب ہے اور جو باضابطہ طور پر سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے کے لیے مقرر ہے (C-IV اسٹاف)، باقاعدگی سے کالج میں کلرک کے فرائض انجام دے رہا ہے۔ اس کی اصل ذمہ داری صرف نگرانی اور حفاظت ہے؛ تاہم، وہ طلباء کی فیس اور جرمانے جیسے امور بھی دیکھ رہا ہے۔ مزید برآں، وہ کبھی کبھار لیکچر کے اوقات میں بھی طلباء کو اپنے دفتر بلا لیتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف تعلیمی ماحول کو متاثر کرتی ہے بلکہ طلباء میں شدید بے آرامی اور غیر محفوظ ہونے کا احساس پیدا کرتی ہے۔
اس کے علاوہ، اس کے رویے کو طلباء اور بعض خواتین عملے کے ساتھ اکثر نامناسب اور غیر پیشہ ورانہ سمجھا جاتا ہے، جس سے کالج میں اضطراب اور بے چینی کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ کالج میں پہلے ہی ایک باقاعدہ ہیڈ کلرک تعینات ہے، تاہم وہ بظاہر مؤثر انتظامی کردار ادا نہیں کر رہا۔ اس کے بجائے، کلرک کے کام ایک گارڈ (C-IV آفتاب) کو سونپے جا رہے ہیں، جو بظاہر قواعد و ضوابط کے خلاف ہے۔
مزید یہ کہ یہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مذکورہ ملازم اپنا زیادہ تر وقت پرنسپل کے دفتر میں گزارتا ہے، اور کئی مواقع پر اسے پرنسپل کی کرسی پر بیٹھتے بھی دیکھا گیا ہے، جو ادارے کے نظم و ضبط اور مناسب رویے کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔
طلباء کے مشاہدات کے مطابق، مذکورہ C-IV اسٹاف ممبر کالج کی انتظامیہ، خاص طور پر پرنسپل میڈم حفصہ ریاض کی مسلسل حمایت حاصل کر رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب بھی اس کے تبادلے کا معاملہ سامنے آتا ہے، تو بظاہر اسے روکا جاتا ہے۔
مزید برآں، کالج میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ پرنسپل خود کو انتہائی بااثر ظاہر کرتی ہیں اور سینئر افسران، خاص طور پر ڈی ڈی سی جناب آصف انصاری کے قریب تعلقات رکھنے کا دعوی کرتی ہیں، جس کی وجہ سے مذکورہ شخص کے حوالے سے کسی کارروائی یا تبادلے کو بظاہر روکا جاتا ہے۔ اس صورتحال نے طلباء میں تشویش اور بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ طلباء کا خیال ہے کہ مذکورہ C-IV اسٹاف ممبر کو پرنسپل کی مسلسل حمایت حاصل ہے۔ پہلے ہمارے ایک ہم جماعت نے متعلقہ اتھارٹی (آمبڈز مین) کے پاس C-IV اسٹاف کے خلاف درخواست دی تھی، تاہم طلباء کی سمجھ کے مطابق، یہ مسئلہ بظاہر سابقہ ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر کالجز (ڈی ڈی سی) جناب فاروق اور پرنسپل میڈم حفصہ کی مداخلت سے حل کر دیا گیا، اور کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اس سے طلباء میں اپنے خدشات کھلے طور پر ظاہر کرنے کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔
مندرجہ بالا حقائق کے پیش نظر، ہم احترام کے ساتھ درخواست کرتے ہیں کہ:
اس معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں۔
گارڈ آفتاب (C-IV اسٹاف) کو فوری طور پر ایسے کلرک کے فرائض سے سبکدوش کیا جائے جو اس کی سرکاری ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہیں۔
طلباء اور عملے کے ساتھ اس کے نامناسب رویے کے بارے میں شکایات کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔
اگر کسی قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ افراد کے خلاف مناسب قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے۔
کالج کے طلباء کے لیے محفوظ، باعزت اور تعلیمی لحاظ سے صحت مند ماحول یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
ہمیں پوری امید ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور طلباء کے خدشات کے حل کے لیے جلد از جلد مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔
یہ کہانی نہیں…
ہمارے معاشرے کے زوال کا آئینہ ہے۔
اگر سی سی ٹی وی کیمرہ نہ لگا ہوتا، تو شاید آج ایک معصوم بچہ زندہ بھی نہ ہوتا…
بھکر کے علاقے کلور کوٹ میں ایک شخص نے انسانیت کی تمام حدیں پار کر دیں۔
اپنی بیوی سے جھگڑا ہوا تو غصہ اس ننھے، معصوم سوتیلے بیٹے پر نکالا۔
اسے ہوٹل میں کھانا کھلانے کے بہانے لے
گیا…
مگر کمرے میں لے جا کر اس کے پیٹ پر پے در پے لاتیں مارتا رہا۔
وہ بچہ چیختا رہا…
تڑپتا رہا…
مگر اس سنگدل کے دل میں رحم نہ آیا۔
قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔
بچے کی چیخیں سن کر ایک ویٹر اندر آیا اور اس ننھی جان کو موت کے منہ سے کھینچ لایا۔
بچہ تو بچ گیا…
مگر اس کی پسلیاں ٹوٹ چکی ہیں،
اور اس کی روح پر لگنے والے زخم شاید کبھی نہ بھر سکیں۔
یہ درندہ سمجھ رہا تھا کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا…
مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی درندگی سی سی ٹی وی میں محفوظ ہو رہی ہے—
وہی ویڈیو آج اس معصوم کے لیے انصاف کی امید بن چکی ہے۔
یہ واقعہ ان لوگوں کے لیے بھی لمحۂ فکریہ
ہے
جو وقتی جذبات اور جھوٹے وعدوں پر اپنی زندگیاں بدل لیتے ہیں… کیونکہ کچھ لوگ رشتے نہیں نبھاتے، صرف اپنے مطلب کے لیے قریب آتے ہیں…
اور معصوم بچوں کو بوجھ سمجھتے ہیں۔
ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج ہو چکی ہے،
مگر اطلاعات ہیں کہ وہ بااثر ہے۔ اور ستم دیکھیے…
جب پولیس اسے پکڑنے گئی تو ایک حادثے میں اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔
مگر سوال یہ ہے:
کیا ایک ٹانگ ٹوٹ جانا اس ظلم کی کافی سزا ہے؟
یاد رکھیں…
بچے کی پسلیاں تو جڑ جائیں گی،
مگر اس کے دل میں بیٹھ جانے والا خوف، وہ چیخیں، وہ اذیت…
شاید پوری زندگی اس کا پیچھا نہ چھوڑیں۔
یہ صرف ایک بچے کا نہیں، ہم سب کے ضمیر کا امتحان ہے۔
آواز اٹھائیں…
اس معصوم کے لیے انصاف مانگیں…
تاکہ کل کوئی اور بچہ اس درندگی کا شکار نہ بنے۔
اگر پاکستان کا ہر ٹویٹر اکاؤنٹ ہولڈر خواجہ آصف صاحب کی ٹویٹ کو اپنے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کرنا شروع کر دے تو ایسی صورت میں اسرائیل کا پرائم منسٹر کس کس کی ٹویٹ کو ڈیلیٹ کروائے گا؟؟