ایام کالجیت میں یہ محاور�� سنا کرتے تھے کہ جو آج کسی کی لے گا وہ کل کسی اور کو دے گا اور پھر سن 2018 میں عمران خان نے خاور مانیکا سے لی اور آج 2026 میں عمران خان نے کیمرون کو دی
بس یہی دنیا کا دستور ہے اور کوشش کیجئے کہ آئندہ کسی اور کے “ چھا��ے “میں ہاتھ نہ ماریں
گھڑی والا ہاتھ جو ہلکا سا نظر آ رہا وہ شہباز شریف ہے اور سامنے پیوٹن اور طیب اردگان بیٹھے،
پیوٹن شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل تمام ممالک کی طرف سے عمران خان کی رہائی اور اسے وزیراعظم بنانے کا خط شہباز شریف کے حوالے کر رہے،
اس دوران انہوں نے طیب اردگان کو گواہ بناتے ہوئے کہا یاد رکھنا اب یہ اگر اسے رہا نا کرے تو آئندہ اس سے ��یل جول ختم...!!
یہ تھا وہ فسطائیت اور ظلم کا دور، جس کی بنیاد پاکستان کی سیاست میں عمران خان نے باجوہ ��ور فیض کے ساتھ مل کر رکھی تھی۔ جو بویا تھا، وہی آج کاٹ رہا ہے۔ ہر تھوکا ہوا آج اسی کے منہ پر آ کر گرا ہے۔
قومِ یوتھ آج بھی سمجھتی ہے کہ عمران خان پر بہت ظلم ہوا ہے۔
یہ عمران خان کا دور ہے جب انہوں نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا تھا اور ٹھیک دو دن بعد 20 اگست 2018 کو دو افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔ دونوں ملزمان کا جرم یہ تھا کہ جب میاں نواز شریف کو اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت لے جایا جارھا تھا تو ان دونوں نے نواز شریف کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے کی کوشش کی۔ یہ تھی عمران خان دور کی فسطائیت کہ وزیراعظم بننے کے فوراً بعد سیاسی مخالفین پر جبر شروع کردیا گیا تھا۔ کل پھولوں والی ایک ویڈیو گزری مگر موجودہ نظام نے کسی پر ایف آئی آر ہوئی نہ کیس اور یہ رونا روتے ہیں کہ موجودہ نظام میں ظلم کے ریکارڈ توڑ ڈالے گئے قیامت ڈھا دی گئی۔
میں عمران خان سے نفرت کسی سیاسی پارٹی کی محبت سے نہیں کرتا۔ میں پاکستان س�� محبت کرنے والا بندہ ہو۔ اُور ہر وہ ناسور جو پاکستان کو نقصان پہنچانے میں یقین رکھتا ہو اس سے نفرت کرنا میرا فرض ہے۔ عمران خان سے نفرت اب ہمارے خون میں شامل ہے۔ اس کی رہائی کا ہمیشہ افسوس رہے گا۔ اگر ہوئی۔
میں یہ نہیں کہتا کہ اسٹیبلشمنٹ کمزور ہوگئی ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس آپشن اب بہت محدود ہوُچکے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ پچھلے چار سالوں میں اپنے اتنے آپشنز استعمال کرُچکی ہے جتنے شاید ۵۰ سالوں میں نہیں کیئے۔
طاقت موجود ہے لیکن طاقت کا استعمال محدود ہوچُکا ہے۔
آنے والے دِنوں میں ہم یہ حقیقت محسوس کرنے لگینگے۔
Those substitutions were nothing short of a tactical disaster. England’s manager got it completely wrong tonight, and if accountability means anything, he should resign. Costly decisions, embarrassing management. #ENG#Football
حلفیہ لکھ رھا ھوں
ابھی کچھ دیر قبل ایک موبائل کی دکان پر گیا موبائل پر پروٹیکٹر لگوانے،وھاں موجود تین لوگوں کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا۔
جو شخص ایران امریکہ جنگ بندی کے لئے کتنا پریشان ھو کہ ایران میں بے گناہ مسلمان شہید نا ھو ،وہ سوئٹزرلینڈ میں اس شخص کے چہرے پر وہ پریشانی نظر آ رھی تھی ،جس شخص نے اپنی ساری زندگی کی سیاست صرف ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لئے قربان کردی ،جو شخص کینسر سروائیور ھوکر بھی 18 ،18 گھنٹے کام کرتا ھے اس شخص کی ملک کو درست سمت میں لانے کی نیت پر شک کرنا سوائے بغض شہباز شریف اور کچھ نہیں ھوسکتا۔
جی ڈی وینس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو عظیم سفارت کار قرار دے دیا اور کہا میرئ زندگی میں دو اہم ترین بندے ایک انڈین ایک پاکستانی ہے انڈین میری بیوی اور پاکستانی عاصم منیر ہے پچھلے تین مہینے ان سے زیادہ میرئ کسی سے بات نہی ہوئی ہے
آج تو برنول مک جانا ہے
ایمان یہ نہیں ہے کہ آپ دعا کریں
تو آپ کی دعا قبول ہو جائے... اور آپ ایمان لے آئیں
کیونکہ یہ تو ایک مشروط ایمان ہے
حقیقی ایمان یہ ہے کہ آپ دعا کریں
مگر آپ کے سامنے تمام راستے بند کر دیے جائیں
اور آپ دعا کریں مگر آپ کے ساتھی آپ سے آگے نکل جائیں
اور آپ دعا کریں مگر راستے کے کانٹے آپ کے پاؤں لہولہان کر دیں
تو آپ اس سے زیادہ کچھ نہ کہیں کہ:
"اے میرے رب! آپ کتنے مہربان ہیں، کون سی بھلائی ہے جو آپ میرے لیے چاہتے ہیں؟"
پھر بھی آپ مسلسل دعا کرتے رہیں!
________________
الإِيمَانُ لَيْسَ أَنْ تَدْعُوَ
فَيُسْتَجَابَ لَكَ ... فَتُؤْمِنَ
فَذَاكَ إِيمَانٌ مَشْرُوطٌ
الْإِيمَانُ الْحَقِيقِيُّ هُوَ أَنْ تَدْعُوَ
فَتُسَدَّ فِي وَجْهِكَ الدُّرُوبُ
وَتَدْعُوَ فَيَسْبِقَكَ الصَ��حْبُ
وَتَدْعُوَ فَتُدْمِيَ أَقْدَامُكَ أَشْوَاكَ الطَّرِيقِ
فَمَا تَزِيدَ أَنْ تَقُولَ:
رَبِّي مَا أَلْطَفَكَ أَيُّ خَيْرٍ تُرِيدُهُ بِي
ثُمَّ مَا تَنْفَكُّ تَدْعُو!
#الــــــــهـــــــــامـــــــــ
Bombing Iran in the middle of negotiations, while starving Cuba, while genociding Palestinians, while threatening to invade Greenland… the US and Israel are the single greatest threat to humanity and it’s not even close. We are all forced to live in the nightmare they create.
جب تم اپنی پڑھائی مکمل کر کے فارغ التحصیل ہو جاؤ گے اور تمہارا سامنا عملی زندگی سے ہوگا، تب تمہیں سمجھ آئے گا کہ لوگ کیوں سبزی بیچ رہے ہیں، کوئی چھوٹی سی دکان پر سودا سلف بیچ رہا ہے، کوئی ٹیکسی چلا رہا ہے، کوئی گاڑیاں دھو رہا ہے، کوئی لڑکی میک اپ کے سامان کی دکان پر بیٹھی ہے، کوئی کیفے میں ہے اور کوئی ریستوران میں کام کر رہا ہے، باوجود اس کے کہ وہ تمہاری طرح پڑھے لکھے ہیں اور ان کے پاس ڈگریا�� ہیں۔
تمہیں اندازہ ہوگا کہ یونیورسٹی کے بعد والی زندگی سے بڑھ کر کوئی چیز تمہیں عاجزی نہیں سکھا سکتی، تمہیں پتہ چلے گا کہ صرف ڈگری کافی نہیں ہوتی، اور حقیقت کبھی بھی خوابوں اور تمناؤں جیسی نہیں ہوتی، باعزت روزگار کا تعلق جگہ یا عہدے کے نام سے نہیں، بلکہ صرف محنت اور غیرت سے ہے، تم سیکھو گے کہ ضروری نہیں تم جس چیز کی دو�� دھوپ کرو وہ تمہیں مل ہی جائے، تمہیں سمجھ آئے گا کہ 'تقسیم' کسے کہتے ہیں اور 'نصیب' کیا ہوتا ہے۔
زندگی تمہیں ہر اس انسان کا احترام کرنا سکھائے گی جو جینے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، چاہے تمہاری نظر میں اس کا کام کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، اور ان سب سے اہم بات یہ کہ تم اپنے والدین کی اس محنت کی پہلے سے کہیں زیادہ قدر کرو گے جو انہوں نے تمہیں بڑا کرنے میں کی، کیونکہ تمہیں صحیح معنوں میں پتہ چلے گا کہ بخدا زندگی اتنی آسان نہیں ہے جتنا تم سوچتے تھے۔
کراچی کے ایک مصروف بازار میں ایک نشئی شخص فوت ہو گیا۔ لاش بیچ چوراہے پڑی تھی۔ لوگ جمع تھے، مگر سب کے چہروں پر ایک ہی سوال لکھا تھا:
"ذمہ داری کون لے؟"
اتنے میں ایک نہایت شاطر دماغ شخص نے کمال کی چال چلی۔ چند دکانداروں کو ساتھ ملایا، لاش کو کندھوں پر اٹھایا اور اس طرف چل پڑا جہاں پختون بھائیوں کی اکثریت تھی۔
جیسے ہی پختون بھائیوں نے میت کو آتے دیکھا، ثواب کی نیت سے دوڑ پڑے۔ کوئی کندھا دینے کو بے چین، کوئی قبر کی فکر میں۔
ادھر لاش لانے والے ایک ایک کر کے خاموشی سے غائب ہونا شروع ہو گئے۔
کسی نے آواز دی:
"بھائی! میت کہاں لے جانی ہے؟"
مگر جواب دینے والا کوئی نہ تھا۔
آخرکار پختون بھائیوں کو خود ہی وہ میت دفنانا پڑی۔ یوں وہ بوجھ جو کسی اور کا تھا، غیرت، ایمان اور سادگی کے نام پر انہی کے کندھوں پر ڈال دیا گیا۔
بالکل یہی منظر آج پاکستان کی سیاست میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
تمام قومیں آہستہ آہستہ اس سیاسی میت سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
لیکن ہمارے سادہ دل، غیرت مند اور مخلص پختون بھائی آج بھی کندھا دیے کھڑے ہیں۔
انہیں غیرت کا چورن بیچا جا رہا ہے،
انہیں جذبات کے نام پر استعمال کیا جا رہا ہے،
وہ وقت یاد ہے قوم یوتھ جب تم لوگ کہتے تھے کہ کلثوم نواز کو کوئی بیماری نہیں سب ڈرامہ ہے ؟ یاد ہے ؟ آج وہی تمھارے ساتھ ہو رہا ہے ۔ آج پٹواری تمھارے لیڈر کے بارے میں کہتے ہیں عمران خان کی انکھ کو کچھ نہیں سب ڈرامہ ہے ۔
مکافات عمل سے ڈرنا چاہیئے !