Imran Khan: “All that's left for them now is to murder me – but I'm not afraid to die”
Former Prime Minister Imran Khan writes exclusively for The Telegraph @Telegraph from the prison.
https://t.co/LcY4AU5AOm
قوم کی جانب سے انتخابات میں تاریخی مقابلے، جس کے نتیجے میں تحریک انصاف کو عام انتخابات 2024 میں بے مثال کامیابی میسرآئی،کے بعد چیئرمین عمران خان کا(مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ) فاتحانہ خطاب
جن 14 پی ٹی آئی ممبران کی وجہ سے سپریم کورٹ نے انتخابی نشان واپس لیکر پوری ایک سیاسی جماعت کو سزا دی وہ 14 سیاسی لوگ کس کس حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں ان کی کیا پوزیشن ہے ؟ کسی کو معلوم ہو تو ضرور آگاہ کریں یقینا وہ انتخابی سیاست کا حصہ تو ہوں گے کیونکہ اگر وہ انٹرا پارٹی انتخابات لڑ کر پارٹی لیڈر بن سکتے تھے تو یقینا الیکشن تو لڑ ہی رہے ہوں گے اور اگر وہ الیکشن بھی نہیں لڑ رہے نا کسی کی سپورٹ میں ہیں نا انتخابی سیاست میں ایکٹیو ہیں تو پھر یہ دھبہ طویل عرصے تک معزز سپریم کورٹ پر برقرار رہے گا
The most controversial decision in Pakistani judicial history, Former Pakistan Prime Minister Imran Khan and former Foreign Minister Shah Mahmood Qureshi were sentenced to 10 years in the "so-called cipher case". - ANN News - https://t.co/s1cP8XOS2N @PTIofficial@ImranKhanPTI
The former prime minister of Pakistan writes from prison that his party is being unfairly muzzled, in a guest essay for The Economist https://t.co/FehqasDIQ5
Former Prime Minister Imran Khan's lawyer gives out details exposing the illegal manner in which the sham cypher case trial by a Kangaroo court was conducted inside prison, making a complete mockery of law and justice in the country.
اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری دنیا نیوز سے @MannMuhammad محمد عمران کل اڈیالہ جیل میں ہنگامہ خیز سماعت کے دوران موجود تھے انہوں نے کل کی سائفر کیس کی انتہائی اہم سماعت کا آنکھوں دیکھا احوال لکھا ہے
میں نے جو جیل کمرہ عدالت میں دیکھا
تحریر : محمد عمران
27جنوری 2024 بروز ہفتہ صبح تقریباً نو بج کر 45 منٹ پر میں اڈیالہ جیل کے گیٹ پر موجود تھا،انٹری پوائنٹ پر موجود اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ جیل عمران ریاض نے مجھے دیکھتے ہی اشارہ کیا کہ جلدی آجائیں جج صاحب انتظار کررہے ہیں ،ابھی تک کوئی رپورٹر نہیں پہنچا۔
عمران خان کی بہنیں بھی کچھ وکلا کیساتھ وہیں دروازے پر اپنی گاڑی میں موجود تھیں۔
میں جلدی سے آگے بڑھا ،عمران ریاض نے میرے آفس کارڈ کی تصویر بنائی،رجسٹرڈ میں نام درج کیا اور ایک اہلکار کو میرے ساتھ بھیجا جو مجھے جیل کے اندر ڈیوڑی تک چھوڑ کر آیا،وہاں پھر رجسٹرڈ میں انٹری ہوئی ،تلاشی لی گئی اور وائرلیس پر اطلاع دی گئی جس کے بعد ڈیوڑی کا دروازہ کھلا ،ایک اہلکار نے ہاتھ پر سنٹرل جیل کی مہر لگائی وہاں پھر سے تلاشی ہوئی ،تیسری بار رجس��رڈ میں انٹری ہوئی،میری گاڑی کی چابی اور گھڑی اہلکاروں نے وہیں رکھوا لی ،جیل کے مرکزی احاطے میں داخلے کیلئے اندورنی گیٹ پر پہنچا ،وہاں چوتھی ��ار رجسٹرڈ میں انٹری ہوئی، اندرونی دروازہ کھولا گیا اور ایک اہلکار وہاں سے جیل کے کمیونٹی ہال(جہاں عدالت بیٹھتی ہے) تک چھوڑ کر آیا، جب میں کمیونٹی ہال پہنچا تو سائفر کیس کی سماعت کرنیوالے جج ابولاحسنات محمد ذوالقرنین کمرہ عدالت سے نکل کر لان کی طرف آرہے تھے انہوں نے مصافحہ کرتے ہوئے بتایا کہ دو بار کیس کی پکار ہوچکی ہے ملزمان کے وکلا نہیں پہنچے ، ہم نے سرکار کے خرچے پر ملزمان کیلئے وکیلوں کا تقرر کردیا ہے ،پندرہ کا منٹ کا وقفہ کیا ہے اگر ملزمان کے وکلا نہیں پہنچتے تو یہ سرکاری وکلا ملزمان کی نمائندگی کریں گے۔
جج صاحب ، ایف آئی اے کے وکلا اور سرکاری وکلا صفائی کیسات�� میں بھی لان میں آگیا، ،وہاں مجھے ملک عبد الرحمن ایڈووکیٹ نے بتایا کہ انہیں عمران خان کی نمائندگی کیلئے سرکاری ڈیفینس کونسل مقرر کیا گیا ہے جبکہ ایڈووکیٹ حضرت یونس شاہ محمود قریشی کی نمائندگی کریں گے۔ میں نے عمران خان کے بارے میں پوچھا کہ وہ ابھی تک نہیں آئے تو بتایا گیا کہ وہ ناشتہ کررہے ہیں اور فیملی کے افراد بھی ابھی نہیں آئے تو شاید اس لئے عمران خان ابھی تک نہیں پہنچے، وہیں لان میں ایف آئی اے پراسکیوٹر ذوالفقار نقوی سے مختلف کیسز اور قانونی نکات پر بات چیت ہوتی رہی ،اسی دوران شاہ محمود قریشی کو ایک گاڑی میں کمرہ عدالت لایا گیا ، شاہ صاحب گاڑی سے اترے تو ان کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا، چند منٹ کے وقفے سے عمران خان کو بھی لے آیا گیا ،عمران خان کیساتھ چند پولیس اہلکار بھی تھے، عمران خان نے بلیک ٹراوز کیساتھ ہلکے نیلے رنگ کا سوئٹر اور بلیک لیدر جیکٹ زیب تن کر رکھی تھی اور سر پر چترالی ٹوپی لئے ہوئے تھے۔۔۔
پھر ہم سب بھی کمرہ عدالت میں پہنچے تو اس وقت جی این این کے رپورٹر فیض بھی آگئے ،ہم دونوں رپورٹرز کو میڈیا باکس میں بیٹھا کر باہر س�� تالہ لگا دیا گیا، عمران خان اور شاہ محمود قریشی نے اونچی آواز میں پوچھا کہ باقی میڈیا والے کہاں ہیں تو ہم نے بتایا کہ تھوڑی دیر میں پہنچ جائیں گے، عمران خان نے کہا کہ آپ پچھلے باکس میں کیوں چلے گئے ہیں وہاں تو آواز بھی نہیں آئے گی ،میں نے کہا کہ آواز تو واقعی نہیں آرہی لیکن چونکہ جیل حکام نے یہاں بٹھایا ہے تو ہم کچھ نہیں کرسکتے آپ جج سے بات کرلیجیۓ گا تاکہ وہ ہمیں آگے بلالیں۔۔
جج صاحب آگئے ،سماعت شروع ہوئی تو عمران خان اور شاہ محمود قریشی بھی روسٹرم پر آگئے ،سرکاری وکلا صفائی اور ایف آئی اے پراسکیوشن بھی روسٹرم پر موجود تھی، عمران خان نے جج کو مخاطب کرکے کہا کہ جج صاحب آپ ہم سے یہ کیا مذاق کررہے ہیں ،میں تین ماہ سے کہہ رہا ہوں کہ جس دن کیس کی سماعت ہوتی ہے تو پہلے مجھے مشاورت کیلئے وکلا سے بات کرنے دی جائے لیکن میری ملاقات نہیں کرائی جاتی، میرے اوپر اتنے زیادہ کیسز بنا دئیے گئے ہیں کہ مجھے پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کس کس کیس کی سماعت ہونا ہے، اس دوران عمران خان کی آواز ک��ھ اونچی ہوگئی تو جج صاحب نے بھی اونچی آواز اور سخت لہجے میں جواب دیا کہ جتنا ریلیف آپ کو دے سکتا تھا آپ کو دیا،75مختلف درخواستیں ریکارڈ کا حصہ ہے جو میں نے منظور کی ہیں ، آپ کو سائیکل فراہم کرایا ،بہنوں سے ملاقات کرائی اور بھی جو ہوسکتا تھا کیا، جج صاحب مزید سخت لہجے میں بولے کے اب آپ جائیں اپنی نشست پر بیٹھ جائیں ،آپ کے وکلا آتے نہیں ہیں آپ کو سرکاری وکیل فراہم کردئیے گئے ہیں یہ آپ کی نمائندگی کریں گے آپ جائیں اپنی نشست پر بیٹھ جائیں ... جاری ہے 1/4