ابھی تو پھر بھی پاکستان مشکل پوزیشن میں ہے 2017 میں تو کہیں بہترین پوزیشن میں تھا مگر تب بھی یہ کہا گیا تھا کہ عمران خان کو لاؤ ملک بہت ترقی کرے گا اور پھر جب عمران خان کو 2022 میں ہٹایا گیا تو 2017 کے نمبرز اور 2022 کے نمبرز چیک کرلیں ملک کی تباہی پھیر دی تھی اس خان نے ۔ پھر اب جب حکومت میں نہیں ہے تو اس کے پرنسپلز نے ملک کی تباہی پھیر دی دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف کمپینز کو فنانس کرکے۔
اب ایسے عمران خان کو راستہ دینے کا مطلب ہے کہ وہ واپس آکر کہے کہ ملک تباہ ہوچکا ہے اس لیے ہم اپنی نیوکلئر طاقت سے دستبردار ہورہے ہیں اور ریاست کا نظام طالبان کے حوالے کررہے ہیں۔
اس حکومت میں ایک ہزار برائیاں ہوسکتی ہیں مگر آج بھی یہ ملک کے لیے عمران خان سے بہتر ہیں ، خیبر پختونخواہ کی تباہی گواہ ہے۔۔
شہباز شریف کو چاہئے کہ آخری وقت ترکی، سعودی پاکستان معاہدے میں شق شامل کروا لیں کہ بیرونی حملے کے علاوہ فوج کے ہاتھوں ایک جگہ حکومت گرے گی تو باقی دو جگہ بھی حکومت گرانا پڑے گی۔
یعنی غفار خان کی مچھ سے میانوالی تک 30 سال جی ایم سید 20 سال کمیونسٹ جام ساقی 16 سال حسن ناصر سے رزاق جھرنا تک تشدد اور پھانسیوں سےاموات
ولی خان بے نظیر بھٹو رسول بخش پلیجوکی تاریخ، زبان کاٹنا اور اٹک قلعہ؟ یعنی"دیوانہ وار جذباتیت"کے سامنے تمام تاریخ اورحقائق عنقا ہو جاتے ہیں
بطور لوکل مائیکرو کدّو مرشد میری رائے میں جو بھی عمران خان فیصلہ کرے وہ قوم کے بہترین مفاد میں ہوگا میاں صاحب کی طرح پچاس روپے دے کر وہ بھاگا نہیں سیاستدان کو حق حاصل ہے وہ راستے تلاش کرے دانشوروں کو خوش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کتابی باتیں صرف کتابوں میں غزہ کے بعد اصول۔۔
@KeepsamM یہ پالتو ہیں انہیں مالک جیسی ہڈی ڈالے ویسے بھونکنے لگ جاتے ہیں
ن لیگ منجھی تھلے ڈانگ پھیر لے ابھی بھی وقت ہے ورنہ تو عمران نیازی کی طرح جیل میں بیٹھ کر کچھ نہیں ہو گا
ہر چیز وقت پر ہی اچھی لگتی ہے
عامر بھائی نے محسن نقوی صاحب کے بارے کافی اچھی گفتگو فرمائی ہے امید ہے محسن صاحب اس کا جواب ضرور دیں گے کیونکہ وہ ہی واحد شخص ہیں جو اس سسٹم میں فٹ ہونے والے انتہائی ان فٹ شخص ہیں ۔۔۔۔
صرف اور صرف 3 وزارتوں کی تبدیلی اور ان وزارتوں پر اپنے قابل ترین بندوں کی تعیناتی ن لیگ کی مردہ ہوتی سیاست کو دوبارہ سے زندہ کرنے کی گارنٹی ۔
1۔۔۔وزرات داخلہ ۔2 ۔۔وزارت بجلی ۔۔3 وزارت خزانہ ۔۔
مظہر عباس نے ارشاد بھٹی کا بغض نواز شریف ٹھیک مارا ہے کہتے ہیں نئے صوبے بننے سے کیا یہ پارٹی ختم ہو جائے گئی؟ کیا جو بیوروکریسی میں کرپشن ہے وہ ختم ہو جائے گئی ؟ اصل مسلہ ہے جن کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں وہ سیاست چھوڑ دیں ورنہ پچاس صوبے بھی بنا لیں مسائل حل نہیں ہوں گئے؟
@aleshk6@AzazSyed یہ اسلئے بیرکوں میں نہیں جاتے کیونکہ عوام کا ایک حصہ انکو اپنی باجی پیش کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہتا ہے، جبکہ سیاستدان انکی ننگی گود پر بیٹھنے کیلئے۔۔۔
@luvvpak@AzazSyed جو "ایماندار " صحافی ہیں، صدیق جان صابر شاکر عمران ریاض وغیرہ، وہ سوال کریں نا، اپنے ویںلاگ میں یا پوڈ کاسٹ میں کرلیں۔۔۔ان کو کس نے روکا ہے؟
سب سے زیادہ مزہ پی ٹی آئی کے قلمی کمیوں کو دیکھ کر آتا ہے جو پاور پلیئرز میں سے کسی کے بھی بیان کو لیکر پرجوش ہو جاتے ہیں اور امید لگا لیتے ہیں دو تین دن بعد کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں تو پہلے ہی پتہ تھا کہ یہ نورا کشتی ہے
انتظامی سہولت کیلئے نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں
لیکن نکھد لوگوں کی محرومیاں دور نہیں ہونگی
صوبے جتنے مرضی چھوٹے کردیں اُچکزئی اور مینگل قسم کے لوگ روتے ہی رہیں گے
جس نے کام نہیں کرنا ویہلے رہ کر رنڈی رونا ڈالنا ہے اسکے شہر کو بھی صوبہ بنا دیں اسکا رنڈی رونا ختم نہیں ہوگا
اک ملازمت میں تھا تو 2008 کے الیکشنز کے بعد پی پی کے میک پر ریسرچ کی تھی۔ امتیاز گل صاحب کے ہاں، سینیٹر انور بیگ مرحوم سے پی پی کے میک پر سینگ بھی پھنسا لیے تھے پھر فیکٹس اینڈ فگرز سے انہیں بتایا کہ یہ جماعت اپنی طرح و طرز میں جاگیرداری مزاج رکھتی ہے اور جدت کے تقاضوں اور اس کی پیچیدگیوں سے عمومی محروم ہے۔ سینیٹر صاحب، مشرف کے وقت سے ہی دوست تھے اور ان کے آفس جا کر تہذیب کا پیزا کھایا کرتا تھا۔ وہ مان گئے کہ وہ بھی اصل میں مخدوم امین فہیم کے دوست تھے جن کی مسز نے بعد از زرداری صاحب کی منت کر کے، امین فہم صاحب کو پارٹی سے نکالے جانے سے بچایا کہ وہ پارٹی چئیرمین کی حیثیت سے وزیراعظم بننے کے خواب دو تین مرتبہ دیکھ چکے تھے۔ پھر 2008 سے 2013 تک قوم نے بجلی کی ترقی بھگتی۔ یہ کسی دوسری جماعت کا دفاع نہیں، مگر پی پی کا پاور سٹرکچر میں ہولڈ بہت ظالمانہ ہے۔ اس ظالمانہ کا مشاہدہ آپ مرتضی وہاب کے الیکشن میں کر سکتے ہیں اور دیہاتی سندھ کے دورے شورے کر کے بھی۔ گو کہ اسلام آباد میں انگریزی بولنے اور آئین وغیرہ کی گردان کرنے کو شیری رحمٰن، چوہدری منظور، قمر زمان کائرہ وغیرہ کافی آگے ہوتے ہیں۔ یہ ظالمانہ ہولڈ قائم رہے گا کیونکہ یہ ان کےسروائیول کا مسئلہ ہے اور ریاست کی سیاسی مجبوری بھی۔ مختصرا: کراچی یدھا جاتا رہے گا۔
کرکٹ کا ستیاناس “ بلوچستان کا ستیاناس “ کشمیر کا ستیاناس “ اسلام آباد کا ستیاناس “ خیبرپختونخوا کا ستیاناس وزیر داخلہ نے کر دیا ہے
بلوچستان میں لاشیں گر رہی تھی موصوف نیویارک میں وزیر خارجہ بن کر گھوم رہے تھے منہ نہ کھلوائیں تو بہتر ہے استعفی دو گھر جاو