This is Quetta, Balochistan Not Punjab 🇵🇰
Thousands gathered in Quetta for an Independence Day rally, proudly waving Pakistani & Kashmiri flags. The streets filled with patriotism & unity, proving once again that the people of Balochistan stand firmly with Pakistan.
🇵🇰 بلوچستان میں 14 اگست کی تیاریاں عروج پر ہیں! ہر طرف سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں۔ گھروں، بازاروں اور گاڑیوں پر قومی پرچم سجا کر بلوچ قبائل وطنِ عزیز پاکستان سے اپنی محبت اور وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں۔ 💚🇵🇰
جس سریاب میں دہشتگرد تنظیم بی ایل اے اور بی وائی سی نے بی ایل اے کا جھنڈا لہراتی تھی آج اسی سریاب کو پاکستان کے جھنڈے سے سجا دیا گیا ہے ۔
پاکستان زندہ آباد 🇵🇰✌️
#Balochistan
سنجاوی بلوچستان 🇵🇰
دشمن کچھ بھی کر لیں، جتنا بھی خوف پھیلائے۔
بلوچستان کی عوام پاکستان کے ساتھ یے اور رہے گی۔ اور اسی سرزمین پر پاکستان کا جھنڈا بلند کرتے رہے گے ۔
#محفوظ_و_خوشحال_بلوچستان#14AugustInBalochistan
خضدار بلوچستان میں جشن آزادی 🇵🇰
کہی دھمکیوں کے باجود ہمارے ان بلوچ نے پاکستان کے نام کا سٹال لگا کر ایک واضح پیغام دیا ہے ۔
بے شک بلوچستان میں اس وقت ان جیسے بہادر بلوچ نوجوانوں کی وجہ سے پاکستان کا جھنڈا بلند ہے ۔
#Balochistan#محفوظ_و_خوشحال_بلوچستان
#14AugustInBalochistan
آج میرے والدِ ،شہیدنوابزادہ سراج خان رئیسانی کی آٹھویں برسی ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچستان کو پاکستان کے ساتھ مضبوط، متحد اور پُرامن مستقبل کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ فتنۂ الہندوستان اور علیحدگی پسند بیانیے کے سامنے کبھی نہیں جھکے اور اپنی جان کا نذرانہ دے کر ثابت کیا کہ وطن سے وفاداری صرف دعووں سے نہیں، ��لکہ کردار، استقامت اور قربانی سے نبھائی جاتی ہے۔
“میں سراج رئیسانی ہوں، اور میں پاکستانی ہی مروں گا!”
یہ صرف ایک جملہ ��ہیں، بلکہ ایک عہد، ایک نظریہ اور پاکستان سے غیرمتزلزل وفاداری کا اعلان ہے, وہ پیغام جسے میرے والدِ شہید نے اپنی زندگی، اپنی جدوجہد اور اپنے لہو سے ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
آج بطورِ بیٹا، میں اپنی قوم سے یہ عہد دہراتا ہوں کہ میرے والدِ شہید کے لہو سے روشن کیا گیا یہ چراغ بلوچستان کی سرزمین پر کبھی بجھنے نہیں دوں گا۔ اُن کا نظریہ، اُن کا مشن اور مملکتِ پاکستان سے اُن کی لازوال وابستگی میری آخری سانس تک میری پہچان، میری ذمہ داری اور میری وفاداری رہے گی۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد! 🇵🇰
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
بلوچستان میں پاکستان سے محبت کے جرم میں شہید ہونے والے میرے بھائی سراج رئیسانی کی آج آٹھویں برسی ہے۔ آپ سب سے دعاؤں کی التماس ہے۔
نسلی بلوچ، محبِ وطن بلوچ بھائی نے بی ایل اے فتنہ الہند کے جھنڈے کو نذرِ آتش کر کے فتنہ الہند کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والی ہر آنکھ کا یہی حال ہوگا،،
بگٹی صاحب ہمیں مذمت نہیں مرمت چاہیے ورنہ پھر پنجاب سے ری ایکشن آیا تو سب کے ہوش ٹھکانے آجائیں گے ۔
کب تک مذمت کرتے رہیں گے ۔ بطور وزیراعلیٰ ہنگامی اقدامات کریں اور سیکیورٹی اداروں کو آپریشن کیلئے فری ہینڈ دیں ۔ اس کچرے کو صاف کرنا اب ضروری ہوگیا ہے اور ان کی انڈر کوو بہنوں کو بھی جیلوں میں ڈالنا ہوگا
💔 یہ صرف پانچ نام نہیں... پانچ اجڑے ہوئے گھر ہیں۔
محمد حسن، محمد بلال ،محمد قدیر، محسن اور بلال
یہ کوئی مسلح افراد نہیں تھے۔
یہ کوئی جنگ لڑنے نہیں آئے تھے۔
یہ چھوٹے دکاندار، حجام، مستری اور محنت کش مزدور تھے، جو اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے بلوچستان آئے تھے۔
یہ بلوچستان کی معدنیات لوٹنے نہیں آئے تھے، بلکہ اپنے ہاتھوں کی محنت سے رزق کما رہے تھے۔
آج ان کے بچے یتیم ہو گئے، مائیں اپنے بیٹوں کی راہ تکتی رہ گئیں، اور بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے۔
اب سوال ��ے:
کہاں ہیں انسانی حقوق کے دعوے دار؟
کہاں ہے اختر مینگل کی آواز؟
کہاں ہیں وہ لوگ جو ہر واقعے پر فوری بیانات اور احتجاج کرتے ہیں؟
کیا ان پانچ بے گناہ پاکستانیوں کا خون کم قیمتی تھا؟
اگر انسانی حقوق واقعی سب کے لیے ہیں، تو مشکیل میں شہید ہونے والے ان معصوم محنت کشوں کے لیے بھی وہی آواز اٹھنی چاہیے، وہی درد محس��س ہونا چاہیے، اور وہی انصاف مانگا جانا چاہیے۔
دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں۔
بے گناہ انسان کو صرف اس کی شناخت یا نسل کی بنیاد پر قتل کرنا انسانیت کے خلاف جرم ہے، اور اس کی مذمت بلاامتیاز ہونی چاہیے۔
🇵🇰 یہ پانچ محنت کش اپنے خاندانوں کے لیے روزی کمانے آئے تھے... افسوس کہ واپس اپنے گھروں کو صرف ان کے جنازے لوٹیں گے۔
#Balochistan #humanrights
جو کہتے تھے کہ بی ایل اے تو موجود ہے لیکن سیکیورٹی فورسز نہیں ہے،ان کو کھلی آنکھوں کیساتھ یہ فوٹیج ضرور دیکھنی چاہیے۔
دیکھیں کیسے سیکیورٹی اہلکار بزدلوں کے خفیہ ٹھکانوں میں داخل ہورہے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کے جوان پہاڑوں میں چھپے دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر پہنچے تو وہ فرار ہوچکے تھے،کسی میں سامنے کھڑے ہوکر مقابلہ کرنے کی جرات نہیں تھی۔
اپنا سلیپنگ بیگ،��رتن،سازوسامان،اسلحہ،سواریاں سب چھوڑ کر فرار ہوگئے،پاک فوج کی ایک للکار کے سامنے کھڑے ہونے کی سکت نہیں ہے۔
یہ صرف سوشل میڈیا پر مواد سازی کرسکتے ہیں،پروپیگنڈہ کرسکتے ہیں۔اب تک سیکیورٹی فورسز نے 109 دہشتگردوں کو ماردیا ہے،آپریشن شعبان تاحال جاری ہے،ایک ایک دہشتگرد کا تعاقب کیا جارہا ہے