جینا علی کو پیسے یا مالی سپورٹ نہیں چاہیے ۔ہارورڈ یونیورسٹی اسے پاکستان کی نمائندگی کے لیے بلا رہی ہے۔ وہ دنیا کے بارہ ذہین ترین طالب علموں میں واحد پاکستانی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔ اس کا المیہ دیکھیں
میرا نام جینا علی ہے اور میں آئی سی ایس پارٹ 1 کی طالب علم ہوں۔ میں نے ہارورڈ، USA میں بین الاقوامی ریسرچ اولمپیاڈ (IRO) فائنل کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔
یہ باوقار اور مسابقتی سائنس اور تحقیقی اولمپیاڈ تھا جس میں دنیا بھر سے ہزاروں طلباء نے حصہ لیا۔
ان ہزاروں طلباء میں سے صرف 293 طلباء ہی کوارٹر فائنل میں پہنچنے اور سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ میں بھی ان میں شامل تھی۔
پھر دنیا بھر کے ان 293 طلباء میں سے صرف 12 طلباء کو فائنلسٹ نامزد کیا گیا۔ ان 12 طلباء میں سے میں واحد پاکستانی طالبہ ہوں جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کروں گی۔ ممکن ہے میں پہلے نمبر پر آوں لیکن پاکستانی طالبہ ہونے کی وجہ سے شاید میں جا ہی نہ سکوں اور میرے خواب ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں
مجھے اس کے لیے رقم نہیں چاہیے ۔ میں پنجاب کالج کی سٹوڈنٹ ہوں ۔ مجھے میرے کالج نے سپانسر کر دیا ہے کہ میری ٹکٹ اور ویزہ کے اخراجات کالج کی طرف سے ہوں گے ۔ مڈل کلاس ہونے کے باوجود کچھ اخراجات میرے والدین کر لیں گے ۔ میرا مسئلہ پیسے نہیں ہیں بلکہ اس مقابلے میں شریک ہونا ہے ۔
مجھے ویزہ انٹرویو کے لیے اگلے سال کی تاریخ دی گئی ہے جبکہ یہ مقابلہ اگلے مہینے 19 سے 21 جون کو ہے ۔ میرے پاس ہارورڈ کا لیٹر ہے ۔ اپنے کالج کا لیٹر بھی ہے ۔ میری ٹکٹ کا مسئلہ بھی حل ہو چکا ہے لیکن اگر ویزہ کے لیے انٹرویو ہی اگلے سال ہو گا تو میں اگلے مہینے کیسے جا سکوں گی ؟؟
مجھے حکومت سے صرف اتنی سپورٹ چاہیے کہ مجھے بروقت ویزہ اور ٹکٹ مل جائے ۔ میں اس عالمی سطح کے مقابلے میں پاکستان کی واحد سٹوڈنٹ کے طور پر شرکت کر سکوں اور میری اتنی محنت ضائع نہ ہو ۔ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا چاہتی ہوں ۔ میں اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہوں ۔
نوٹ :
اس بچی اور اس کے والدین نے مجھ سے رابطہ کیا۔ لوگ سمجھتے ہیں میرے بہت تعلقات ہیں اور میری وجہ سے ان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ اللہ نے بھرم رکھا ہوا ہے ورنہ سچ یہ ہے کہ خود مجھے بھی نہیں علم کہ یہ کام کون کر سکتا ہے اور جو کر سکتے ہیں وہ غالبا میرے مہربان نہیں ہیں ۔۔ میں حقیقتا اس بچی کے لیے پریشان ہوں ۔ میں اس سے کبھی نہیں ملا لیکن یہ جانتا ہوں کہ ہمارا ٹیلنٹ اسی طرح ضائع ہوتا ہے ۔ آپ کچھ کر سکتے ہیں تو اس کے لیے لازمی کریں ۔ نہیں کر سکتے تو اس پوسٹ کو اتنا شیئر کر دیں کہ یہ ان تک پہنچ جائے جو اس ذہین بچی کا مسئلہ حل کر دیں (سید بدر سعید )
@MohsinnaqviC42@TararAttaullah
@zaighamkhan@SaudSami Same is with Rawalpindi traffic police center, GT Road. And tbh it hits different. Too good to be true.
They should get the appreciation where they deserve it. 👏 👏
@mkw72@kkabbasi Along with that, she is extremely professional when it comes to work, and delightfully supportive to co-workers, juniors, and young talent.
اگر آپ کو یہ پتہ چلے کہ پاکستان کے کسی ادارے نے برطانیہ کے کسی شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے مشورے دیے ہیں تو یہ یقیناً آپ کے لیے حیران کُن ہو گا۔
https://t.co/nk6peW3f1D
"اپنے بچوں کو مہمان نوازی کے آداب سکھائیں"
اپنے بیٹے کو سکھائیں کہ اگر اسے کسی کے گھر دعوت پر بلایا جائے:
1. وہ خالی ہاتھ نہ جائے، اور اپنے ساتھ کسی غیر مدعو شخص کو نہ لے جائے۔
2. وقت پر پہنچے، نہ بہت جلدی اور نہ بہت دیر سے۔
3. اچھے کپڑے پہنے اور اس کی خوشبو اچھی ہو تاکہ میزبان کو احساس ہو کہ وہ اس کی عزت اور قدر کرتا ہے۔
4. گھر میں جوتے یا چپل پہن کر داخل نہ ہو، چاہے میزبان نے اجازت دی ہو۔
5. گھر میں داخل ہوتے وقت دروازے کے سامنے نہ کھڑا ہو، بلکہ دائیں یا بائیں جانب ہو جائے تاکہ میزبانوں کو تکلیف نہ ہو۔
6. جو موجود ہو اسے کھائے، اور کوئی خاص ڈش نہ مانگے، چاہے اچار ہی کیوں نہ ہو۔
7. کھانا کھاتے وقت شور نہ مچائے، اور چبانے کے دوران منہ بند رکھے۔
8. جب کوئی کھانا سرو کرتا ہے تو سر جھکائے موبائل میں مصروف رہتے ہیں۔ یا ویسے ہی توجہ نہیں کرتے ۔ کھانا لگانے والے کو یہ اچھا نہیں لگتا اس لیے کوشش کریں کہ اس کی طرف متوجہ ہوں اور کوئی ہلکی پھلکی بات چیت کریں تاکہ اسے ریسپیکٹ محسوس ہو.
9. بیٹھنے کی جگہ خود منتخب نہ کرے، بلکہ میزبان جہاں بٹھائے وہیں مہذب انداز میں بیٹھے، کیونکہ ہر کوئی اپنی جگہ کی خصوصی ضروریات جانتا ہے۔ اور بیٹھ کر فوری غیر ضروری، بے وجہ وائی فائی کا پاسورڈ ہر گز نہ مانگے.
10. بغیر کسی جھجک کے آرام سے کھانا کھائے، اور اگر کسی چیز میں دلچسپی نہ ہو تو خاموشی سے اسے نہ کھائے اور صرف پسندیدہ چیزیں کھائے۔
11. میزبان کا شکریہ ادا کرے اور اس کے لیے مزید نعمتوں کی دعا کرے، اور باورچی (ماں یا بیوی) کو بھی شکریہ کہے اور بتائے کہ کھانا کتنا مزیدار تھا۔
12. بغیر اجازت کے ہاتھ دھونے نہ جائے، اور اگر میزبان اجازت دے تو یقینی بنائے کہ اس نے سنک صاف کر دی ہے اور کوئی کھانے کے باقیات نہ چھوڑے، اور تولیہ استعمال کرنے کے بعد اسے اچھی طرح پھیلائے۔
13. چپکے سے نکلے اور گھر کی تفصیلات پر نظر نہ ڈالے۔
14. اگر کسی اور کے ساتھ گیا ہو اور وہ ہاتھ دھونے اٹھے تو اس کی جگہ نہ بیٹھے کیونکہ یہ کسی اور کا حق ہے۔
15. اگر گھر میں نماز پڑھنی ہو تو امامت نہ کرے جب تک کہ میزبان درخواست نہ کرے۔
16. اگر داخل ہوتے وقت لوگ کسی موضوع پر بات کر رہے ہوں تو ان کی گفتگو کو اچانک نہ بدل دے، اور نہ ہی کسی کی بات کاٹ کر خود بولنا شروع کرے، کیونکہ یہ اس کی عزت کو کم کرتا ہے۔
17. روانگی سے پہلے اجازت لے، اور اگر میزبان اسے رکنے کی تاکید کرے تو کچھ وقت اور رکے اور میزبان کی خواہش کا احترام کرے۔
18. جب باہر نکلے تو بلند آواز میں اعلان کرے تاکہ میزبان روانگی کے لیے تیار ہو سکیں۔
19. گھر سے نکلتے وقت میزبان کے لیے برکت اور کشادگی کی دعا کرے۔
20. اگر ماں یا بیوی سے ملاقات ہو تو ان کا شکریہ ادا کرے اور ان کے کھانے اور مہمان نوازی کی تعریف کرے۔
تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے پیاروں کے ساتھ شیئر کیجئے ہو سکتا ہے آپ کی تھوڑی سی محنت یا کوشش کسی کی زندگی بدلنے کا ذریعہ بن جائے۔۔
منقول
اگر مرد کو اپنے والدین، گھر بار، بہن بھائیوں،
یا بیوی بچوں کی زندگی کے معیار کو بلند کرنے کی کڑی ذمہ داری نہ دی جاۓ
تو یہ تمہیں کہیں جنگلوں اور پہاڑوں میں
مچھلیاں پکڑتا، گیت گاتا، ہنستا مسکراتا ملے۔