حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو ایک ایسے احاطے میں رکھا گیا ہے جس میں سات کمرے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ سات کمرے کس مقصد کے لیے ہیں؟
یہ سات کمرے انہیں جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنے کے لیے ہیں۔
یعنی بنیادی طور پر ان کے اردگرد خالی کمروں کا ایک حصار بنا دیا گیا ہے تاکہ وہ جیل کے اندر کسی دوسرے شخص سے رابطہ نہ کر سکیں۔
وہ خود صرف ایک کمرے میں رہ رہے ہیں، جس کا سائز آٹھ فٹ ضرب دس فٹ ہے، اور ان کے پاس بس یہی جگہ ہے۔
اب انہوں نے سلمان صفدر اور ان لوگوں کو، جنہوں نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی ہے، بتایا ہے کہ ان کی قید کے حالات مزید خراب کر دیے گئے ہیں۔
18 اگست 2026 کے بعد بہنوں کے ساتھ ہونے والی تین ملاقاتوں کے دوران بھی یہی بات سامنے آئی۔
جیل میں ایک قیدی کو عام طور پر طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک اپنی کوٹھڑی سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے،عمران خان کو یہ اجازت نہیں دی جاتی۔
انہیں جیل کے احاطے میں چلنے پھرنے کا وہ معمول کا حق بھی نہیں دیا جاتا جو ایک قیدی کو حاصل ہوتا ہے۔
لہٰذا انہیں ان سات کمروں تک محدود کر دیا گیا ہے، اور یہ سات کمرے درحقیقت ان کے لیے ایک بڑی کوٹھڑی کا کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد انہیں اڈیالہ جیل کے دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھنا ہے۔
اس سے ان کی تنہائی مزید گہری ہو جاتی ہے۔یہ انہیں دی جانے والی کوئی سہولت نہیں ہے۔حقیقت میں یہ ان پر عائد کی جانے والی ایک مزید غیر قانونی سزا ہے۔
سلمان اکرم راجہ
الحمداللہ۔
عمران خان صاحب اور بشری بیگم صاحبہ کی قید تنہائی کا فیصلہ جاری۔
عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان کو اپنے بچوں سے آڈیو، ویڈیو اور واٹس ایپ کالز کے ذریعے رابطے کی سہولت فراہم کی جائے گی، تاہم اگر ان کالز کو سیاسی مقاصد یا کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تو یہ سہولت معطل کی جا سکتی ہے۔
عمران خان صاحب کو فیملی اور اپنی اہلیہ سے ملاقات جیل قوانین اور فیملی میٹنگ کے قواعد کے مطابق کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہیں روزانہ ایک گھنٹے ایسی واک کی اجازت ہوگی، جس کے دوران باقاعدہ انسانی میل جول کا انتظام کیا جائے گا اور جن افراد سے ملاقات یا میل جول ہوگا، ان کا ریکارڈ بھی مرتب کیا جائے گا۔
عدالت نے عمران خان کو تاریخ کی کتابوں سمیت تمام قابلِ اجازت مطالعے کا مواد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے، البتہ ممنوعہ کتب اس میں شامل نہیں ہوں گی۔
یہی سہولیات بشریٰ عمران خان کو بھی فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور انہیں اپنے خاندان سے ملاقات کی سہولت بھی قانون کے مطابق حاصل ہوگی۔
عدالت نے واضح کیا کہ جیل میں موجود تمام افراد کو آئین، قانون اور جیل قوانین کے تحت حاصل حقوق و سہولیات فراہم کی جائیں۔
عدالتی حکم پر عملدرآمد کے حوالے سے جیل حکام کو 15 روز کے اندر عملدرآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فیصلے کا اہم ترین پہلو یہ ہے کہ اگر جیل حکام عمران خان کو قانون، آئین یا عدالتی حکم کے تحت حاصل کسی سہولت یا ریلیف سے محروم کرتے ہیں تو انہیں اس محرومی کی وجوہات تحریری طور پر فراہم کرنا ہوں گی۔
خالد یوسف چوہدری
لیگل کونسل سابق وزیراعظم عمران خان
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
A court in Pakistan directed prison authorities to allow former Prime Minister Imran Khan to meet his jailed wife and other family members and speak to his sons by phone, according to a statement from his party https://t.co/XpbA7t1gAF
The sons of former Pakistan PM Imran Khan have spoken to Al Jazeera about their father’s worsening health in prison. Kasim and Suleiman Khan are demanding authorities allow access to independent medical treatment.
@mango_peepel ان سب کاروائیوں کے پیچھے بیرونی طاقتوں کا ہاتھ ہے جو کہ حکومت کو بھی معلوم ہیں اور ان ہدف گوادر پورٹ کو نہ چلنے دینا سوچیں کس کا مفاد ہو سکتا ہے ؟