احتجاج ہوا، نہ گھروں پر چھاپے پڑے، نہ چادر چار دیواری کا تقدس پامال ہوا، نہ پرچے ہوئے، نہ شناختی کارڈ بلاک، نہ کوئی مسنگ ہوا، حکومت کو عوام کی رائے کے آگے سر جھکانا پڑا، وزیر مستعفی ہوگئے۔
چلو اس خطے میں کسی میں تو غیرت ہے کہ نوجوانوں کی جانب سے بری طرح سے رد کیے جانے پر اسعفٰی دے دیا۔
یہاں تو ایسے بھی ہیں کہ جتنا رد کیے جاتے ہیں، جتنا ذلیل ہوتے ہیں، اتنا ہی زیادہ اقتدار سے چمٹ کر عوام کی زندگی عذاب بناتے ہیں۔
وفاقی حکومت کے پاس تیس ہزار سرکاری گاڑیاں ہیں آڈیٹر جنرل رپورٹ کے مطابق۔
تیس ہزار گاڑیوں میں ماہانہ تقریبا 60 لاکھ لیٹر تیل فری پھوکا جاتا ہے جسکی قیمت 1.98 ارب ماہانہ اور سالانہ 23 ارب روپے۔
لیکن اس فرعون حکومت نے نوچنا تو بس غریب مزدور دیہاڑی دار 20/30 ہزار ماہانہ والے کو😢💔
جس مُلک میں دوکاندار کے پاس عام شہری بچوں کے لیے آدھی ڈبل روٹی خریدنے کے بعد ایپل جام کا ریٹ پوچھ کر کہتا ہے چھڈو پیسے بھول آیا ہوں اُس مُلک کی بیوروکریسی جو پہلے ہی گھر گاڑی پیٹرول بجلی گیس پانی مفت لیتی ہے اُنہیں چپکے سے 1.8 ارب روپے اس لئے دے دئیے جاتے ہیں کہ باقی صوبوں میں بیوروکریسی والا بھڑوا زیادہ مراعات لے رہا ہے اس لئے بلکل ویسی مراعات ہمیں بھی دی جائے تو مراعات بلکل برابر کر دی جاتی ہے یہاں تک کی بکواس میں نے لکھی ہے
باقی نصرت صاحب کی زبانی سُن لیں کہ وفاق کیسے پیٹرول قیمت بڑھانے کے بعد زخموں پر نمک چھڑکتا ہے
پہلی خبر:پاکستان نے سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کا تیل مانگ لیا
دوسری خبر:پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر مانگ لئے۔
تیسری خبر:پاکستان نے اعلیٰ بیوروکریسی کےلئے 2 ارب روپے کا پیکیج منظور کرلیا۔
چوتھی خبر:پاکستان کی ترقی دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی۔
https://t.co/vU55OqyPJZ
دنیا کے تمام ماہرین براۓ تیل اور متعلقہ امور نے یہ اہم سوال اٹھا دیا ہے کہ ایران امریکہ جنگ سے صرف پاکستان میں تیل کی قیمت کیوں خطرناک حد تک بڑھائی جا رہی ہے؟
جبکہ کہ دیگر ممالک جیسا کہ بھارت نیپال اور بنگلہ دیش وغیرہ میں ایسا کوئی طوفان نہیں آیا۔
نالائقی اور کرپشن کی انتہا۔
دوستو
اگر حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین روزانہ کرنے سے مطمئن نہ ہو تو دن میں 5 مرتبہ ہر نماز کے بعد مساجد سے اعلان کروا دیا کریں۔ یہ طریقہ سب سے اچھا ہے۔ حکومت بھی خوش اور عوام بھی خوش
9 مئی کی مقدمے میں سزائیں ثبوت دیکھنے کے بعد ہوئی ہیں، آمنہ شیخ
کونسے ثبوت؟ وہ ثبوت جس میں پولیس والا چھٹی پر ہوتا ہے اور زمان پارک پردے کے پیچھے چھپ کر ساری باتیں سنتا ہے، اس سے زیادہ ثبوت تو نواز شریف کی کرپشن کے تھے، بیرسٹر سعد رسول
ملیے ریحا آہیر سے۔
ممبئی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک بہادر نوجوان خاتون پولیس وین کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئی۔ اسے یقین تھا کہ پولیس احتجاج کرنے والے پر گاڑی نہیں چڑھائے گی۔
لیکن ہمارے ہاں منظر مختلف رہا۔ ڈی چوک میں سینیٹر مشتاق احمد کی قیادت میں غزہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہونے والے پُرامن دھرنے کے دوران ایک گاڑی مظاہرین پر چڑھ گئی، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے پر ذمہ دار شخص کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی
گزشتہ چار روزکے دوران ڈیزل کی قیمت میں 44روپے اضافہ کیا گیا۔ایک ساتھ اتنا اضافہ ہوتا تو خبر بنتی لیکن اس اضافے پر زیادہ بات نہیں ہوئی۔ آپ بھی دیکھیں کیسے موجودہ حکمرانوں کو اپوزیشن میں 150کا پٹرول، چینی ، آٹا،مہنگا لگتا تھا،قیمتوں میں دو سےتین گناہ اضافہ ہوچکاہے،اب خاموشی کیوں؟
جنگ کے بعد عالمی منڈی میں قیمتیں گریں تو پاکستان میں مطالبہ کیا گیا کہ تیل سستا کریں تو حکومت کی دلیل تھی تیل خریداری کے معاہدے پہلے کیے جاتے ہیں اور وہ تیل دو سے تین ہفتوں میں پاکستان پہنچتا ہے تو فورا سستا نہیں ہو سکتا ۔
اب ماشااللہ سے روز تیل معاہدے ہوتے روز خریدا ہوا تیل فوراپاکستان پہنچ جاتا اور پھر روز ہی مہنگا ہوجاتا ۔
یہ ہوتا ہے تجربہ !
پاکستان کو اگلے تین سال تک ہر سال پرانے قرض اتارنے کیلیے 19 ارب ڈالر درکار ہیں۔ تجارتی خسارہ اس کے سوا ہے۔ یعنی ہر سال کم سے کم 25 ارب ڈالر مزید بیرونی قرض لینا پڑے گا۔ یہ ہے وہ ترقی جو ہمارے حکمرانوں نے گزشتہ پچاس پچپن برسوں میں کی اور عوام کو بے وقوف بنایا۔
26 نومبر کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا، پی ٹی آئی کے کارکنوں کی لاشیں گری تھیں، لوگ عمران خان اور پی ٹی آئی کی خاطر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلے، خون خرابہ ہوا کئی نوجوان اپنے گھروں کو واپس نہیں گئے وہ ان کی زندگی کا آخری دن تھا، اور جب پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو 26 نومبر کے حوالے سے یاد کرواتے تھے کہ بیان تو جاکر ریکارڈ کروائیں استغاثہ دائر کیا ہوا ہے تو یہ کہتے تھے کہ مجھے میرے وکیل جب کہیں گے، اور ان کے وکیل لطیف خان کھوسہ تھے۔ مطیع اللہ جان
آبنائے ہرمز بند ہے باب المندب کی بھی دھمکی ہے ایک بحران ایک عذاب سر پر کھڑا ہے لیکن مستیاں رکنی نہیں چائیے
وفاقی کابینہ نے اعلیٰ بیوروکریسی کے لیے ایک اور خصوصی الاؤنس کی منظوری دی ہے کابینہ نے 1.8 بلین روپے کے بجٹ کی منظوری دی ہے
ابھی یہ کفایت شعاری والی ٹوپی بھی بیچتے ہیں
جب عمران حکومت نے غیر معمولی شرح سود والے چینی پراجیکٹس پر نظرثانی شروع کی تھی تو پٹواری آٹھ آٹھ آنسو بہا کر کہا کرتے تھے کہ عمران نے سی پیک رول بیک کر دیا ہے جبکہ چینی وزارت خارجہ نے متعدد مرتبہ کہا کہ سی پیک جاری ہے۔
اور اب جبکہ مبینہ طور پر ریلوے کا ایم ایل ون پروجیکٹ کھڈے لائن لگ چکا ہے، بندرگاہوں کے منصوبے ٹھپ ہو چکے ہیں، انڈسٹریل زونز خواب ہو چکے ہیں، چینی قرضے میچور ہو چکے ہیں اور ان کی واپسی کے لیے ہم سعودی عرب اور امریکا سے پیکیج لینے کی فکر میں ہیں تو سی پیک پوری رفتار سے دوڑ رہا ہے ۔۔۔۔ یہ ہوتا ہے ویژن اور یہ ہوتی ہے تجربہ کار ٹیم کی حکومت۔ جین سارترے
فلک جاوید خان صاحبہ سے عدالت کے باہر سوال کیا کہ آپ لوگوں کو اینٹی نیشنل کہا جاتا ہے کیا آپ نورین خان نیازی کے بیان کی مذمت کرتی ہیں
جس پہ فلک جاوید کا جواب
1971 میں جس نے پاکستان کو دولخت کیا انہی غداروں کو پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفنایا جاتا ہے میں نواز شریف کے اس بیان کی مذمت کرتی ہوں
مریم نواز نے اپنے جلسوں میں یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے کے نعرے لگوائے میں اس کی مذمت کرتی ہوں
فوج ہماری ہڈیوں میں سے گوشت نکال کر کھا گئی ہے خواجہ آصف کے اس بیان کی میں مذمت کرتی ہوں
کارگل کی جنگ میں ہماری فوج نے چھرا گھونپا میں اس بیان کی مذمت کرتی ہوں
میں ڈان لیکس اور میمو گیٹ کی بھی مذمت کرتی ہوں
پہلے حکومت ایک ساتھ 55 روپے بڑھاتی تھی ، اب 6 دن میں روزانہ کی بنیاد پر کچھ کچھ بڑھا کر اتنے ہی بڑھا دیے تاکہ عوام کو محسوس نہ ہو 😂
ایک ہزار روپے لیٹر بھی کردیں تو ہم نے بیشرمی اور بیغرتی سے چپ کرکے پیٹرول اور ڈیزل ڈلوانا ہے ، ہمارا علاج ہی یہی ہے کہ یہ حکومت ہمیں لوٹے،نوچے اور برباد کردے
ٹرمپ کے سامنے لیمین یامال کا اپنے رب کے سامنے سجدا 🥰
تقریباً ڈیڑھ لاکھ تماشائیوں کے سامنے فائنل جیتنے کے بعد لیمین یامال کا اللہ تعالیٰ کو سجدا کیا اور شکر ادا کیا
یہ منظر صرف ایک جشن نہیں بلکہ اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے خوبصورت مثال تھا ، ❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️🙌
شاہ رخ ارجمند نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران اور بشری بیگم کو سزا سنائی اور سرکار کی طرف سے پراسیکیوٹر عمیر مجید ملک پیش ہوتے رہے یعنی سزا سنانے والے اور سزا دلوانے والے دونوں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بن گئے کوئی رہ تو نہیں گیا......