ہم کو قوم پرست لوگ پسند ہے اور اپ نے بہت مضبوط اور دلیرانہ بات کی میں خود پشتون قوم دوست وطن پرست ہوں احمد شاہ ابدالی میرویس کے اولاد ہیں جیسے پنجابی اپنے اباو اجداد رنجیت سنگھ پر فخر کرتے ہیں
پاکستان اشرافیہ کی ایسی چراہگاہ بن چکا ہے جس میں عوام بیگار کاٹ رہے ہیں،وہ سارا دن ہل جوتتے، پانی لگاتے اور پنیری لگاتے ہیں،اور اشرافیہ کے اسوار اس چراہگاہ میں پہنچ کر سارا سبزہ چر جاتے ہیں اور گھاس پھونس بچ جاتا ہے۔
آپ کو چند مثالوں سے واضح کرتا ہوں، یہ شوگر ملز کے مالکان کون ہیں؟ یہ ہر سال حکومت سے سبسڈی کیسے لیتے ہیں؟ہر کابینہ ان کے حق میں قانون سازی کیسے کرتی ہے؟ ہر سال سرپلس پروڈکشن کیسے ہوتی ہے؟پھر وہ پروڈکشن غائب کیسے ہوتی ہے؟ پھر عوام کی جیب سے پیسہ چوری ہو کر کن کی جیبوں میں جاتا ہے؟
سیمنٹ کا نرخ کس طرح سے صرف ایک دو روپے کے فرق سے ملتا جلتا ہی کیوں ہوتا ہے؟جب کہ لاگت تو سب کی ایک سی نہیں ہوسکتی؟ بیس سال تک ہنڈا ایٹلس، ٹویوٹا پاکستان اور سوزوکی ایک ہی دن نرخ کیسے بڑھا لیتے ہیں؟ اور ان کا قیمت فروخت میں اضافہ ایک جتنا ہی کیوں ہوتا ہے؟
پاکستان کی تمام لارج سکیل انڈسٹری چند مخصوص ہاتھوں میں ہی کیوں ہے؟
کھاد کا کام کون کرتا ہے؟کھاد کے نرخ کون کنٹرول کرتا ہے؟کسانوں کے جیب سے پیسہ چوری کرکے کن کی جیبوں میں جاتا ہے؟
یہ کوئی ایسا معمہ نہیں ہے جو کسی بھی معاملہ فہم انسان سے چھپا ہوا ہو۔
ایسا کیوں ہے کہ الیکشن کی لاگت بیس کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے؟ یعنی اس کلب میں عوام کا کوئی بندہ شامل ہو ہی نہیں سکتا۔
اسمبلیوں میں آپ ایک درجن مڈل کلاس کے بندوں کی مثال دے سکتے ہیں؟
یہ جو لوگ پالیسی بناتے ہیں ان کا عوام کے مسائل سے کیا لینا دینا ہے؟ احسن اقبال، اسد عمر، خسرو بختیار، نوید قمر،اورنگزیب رمدے یا شوکت ترین کو کبھی زندگی میں ایک بار بھی معاشی تنگی محسوس ہوئی ہوگی؟
آپ کو کیا لگتا ہے کہ آنے والا بجٹ آپ کے لئے کوئی ریلیف لا سکتا ہے؟ آپ کی زندگیوں کو آسان بنائے گا یا آپ کے جہنم میں ایندھن کا اضافہ کرنے کی کوشش ہی ہوگا؟پچھلے دس سال میں آپ کسی ایسی قانون سازی کا بتا سکتے ہیں جس کا عوام کو براہ راست کوئی فائدہ ہوا ہو؟
آپ کو لگتا ہے کہ الیکشن کو سستا کرنا قانون ساز اسمبلی کے لئے مشکل کام ہے؟ ملک کی تینوں بڑی جماعتیں ایسے بلدیاتی نظام کے خلاف کیوں ہوں جس میں مالی اختیارات نیچے چلے جائیں؟ اور عام آدمی سٹیک ہولڈر بن جائے؟
ابھی چند ذہنی غلام آ کر آپ کو بتائیں گے کہ اگر عمران خان کو نہ ہٹایا جاتا تو سب ٹھیک ہوجاتا، کچھ کہیں گے کہ تیرہ سے اٹھارہ تک ملک اوپر اٹھ رہا تھا اور کچھ احمق ترین لوگ آپ کو بتائیں گے کہ صرف جاگیرداروں کی ایک جماعت کو ہی علم ہے کہ معیشت اوپر کسیے جانی ہے۔
یہ سب رانگ نمبرز ہیں،جھوٹے ہیں، فراڈ ہیں۔
کامران طفیل
محسن بیگ🚨وزیر خزانہ کے بارے دھماکہ خیز انکشاف
"وہ تو شام کو ہوش میں نہیں ہوتا بلکہ سارا دن دفتر میں بھی پی رہا ہوتا ہے"
اس سے جان چھڑوا لیں یہ آئی ایم ایف کے سامنے لیٹا ہوا ہے یہ باہر سے آیا ہوا بینک کا ایک ملازم ہے یہ کیا خاک پاکستان کا بھلا کرے اسکو آن ائیر جانے دیں
صوفی کے نزدیک خدا تک پہنچنے کا راستہ انسان سے ہو کر گزرتا ہے,
وہ رب کی رضا کو صرف عبادت کی ظاہری شکلوں میں نہیں بلکہ اُس کے بندوں کے دُکھ بانٹنے، ٹوٹے دل جوڑنے، بھوکے کو کھانا دینے اور مخلوق کے زخموں پر مرہم رکھنے میں تلاش کرتا ہے.
اُس کے نزدیک اگر کسی انسان کے چہرے پر آسانی، اُمید یا محبت لوٹ آئے تو یہی عبادت کی معراج ہے,
اسی لئے صوفیا کہتے ہیں کہ دل جیتنا، خدا کو پانے کا سب سے قریب راستہ ہے,
جینا علی کو پیسے یا مالی سپورٹ نہیں چاہیے ۔ہارورڈ یونیورسٹی اسے پاکستان کی نمائندگی کے لیے بلا رہی ہے۔ وہ دنیا کے بارہ ذہین ترین طالب علموں میں واحد پاکستانی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔ اس کا المیہ دیکھیں
میرا نام جینا علی ہے اور میں آئی سی ایس پارٹ 1 کی طالب علم ہوں۔ میں نے ہارورڈ، USA میں بین الاقوامی ریسرچ اولمپیاڈ (IRO) فائنل کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔
یہ باوقار اور مسابقتی سائنس اور تحقیقی اولمپیاڈ تھا جس میں دنیا بھر سے ہزاروں طلباء نے حصہ لیا۔
ان ہزاروں طلباء میں سے صرف 293 طلباء ہی کوارٹر فائنل میں پہنچنے اور سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ میں بھی ان میں شامل تھی۔
پھر دنیا بھر کے ان 293 طلباء میں سے صرف 12 طلباء کو فائنلسٹ نامزد کیا گیا۔ ان 12 طلباء میں سے میں واحد پاکستانی طالبہ ہوں جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کروں گی۔ ممکن ہے میں پہلے نمبر پر آوں لیکن پاکستانی طالبہ ہونے کی وجہ سے شاید میں جا ہی نہ سکوں اور میرے خواب ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں
مجھے اس کے لیے رقم نہیں چاہیے ۔ میں پنجاب کالج کی سٹوڈنٹ ہوں ۔ مجھے میرے کالج نے سپانسر کر دیا ہے کہ میری ٹکٹ اور ویزہ کے اخراجات کالج کی طرف سے ہوں گے ۔ مڈل کلاس ہونے کے باوجود کچھ اخراجات میرے والدین کر لیں گے ۔ میرا مسئلہ پیسے نہیں ہیں بلکہ اس مقابلے میں شریک ہونا ہے ۔
مجھے ویزہ انٹرویو کے لیے اگلے سال کی تاریخ دی گئی ہے جبکہ یہ مقابلہ اگلے مہینے 19 سے 21 جون کو ہے ۔ میرے پاس ہارورڈ کا لیٹر ہے ۔ اپنے کالج کا لیٹر بھی ہے ۔ میری ٹکٹ کا مسئلہ بھی حل ہو چکا ہے لیکن اگر ویزہ کے لیے انٹرویو ہی اگلے سال ہو گا تو میں اگلے مہینے کیسے جا سکوں گی ؟؟
مجھے حکومت سے صرف اتنی سپورٹ چاہیے کہ مجھے بروقت ویزہ اور ٹکٹ مل جائے ۔ میں اس عالمی سطح کے مقابلے میں پاکستان کی واحد سٹوڈنٹ کے طور پر شرکت کر سکوں اور میری اتنی محنت ضائع نہ ہو ۔ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا چاہتی ہوں ۔ میں اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہوں ۔
نوٹ :
اس بچی اور اس کے والدین نے مجھ سے رابطہ کیا۔ لوگ سمجھتے ہیں میرے بہت تعلقات ہیں اور میری وجہ سے ان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ اللہ نے بھرم رکھا ہوا ہے ورنہ سچ یہ ہے کہ خود مجھے بھی نہیں علم کہ یہ کام کون کر سکتا ہے اور جو کر سکتے ہیں وہ غالبا میرے مہربان نہیں ہیں ۔۔ میں حقیقتا اس بچی کے لیے پریشان ہوں ۔ میں اس سے کبھی نہیں ملا لیکن یہ جانتا ہوں کہ ہمارا ٹیلنٹ اسی طرح ضائع ہوتا ہے ۔ آپ کچھ کر سکتے ہیں تو اس کے لیے لازمی کریں ۔ نہیں کر سکتے تو اس پوسٹ کو اتنا شیئر کر دیں کہ یہ ان تک پہنچ جائے جو اس ذہین بچی کا مسئلہ حل کر دیں (سید بدر سعید )
@MohsinnaqviC42@TararAttaullah
پاکستان کی یہ 'ننھی پری' اور طوطوں کی دوستی نے سب کے دل جیت لیے! 🥰🦜
پاکستان کی ایک چھوٹی بچی، جسے پیار سے 'ننھی پری' کہا جا رہا ہے، طوطوں کے ساتھ اپنے خوبصورت اور معصومانہ لگاؤ کی وجہ سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔
فوڈ پانڈا رائیڈر کا چالان مت کیا کریں انکے ڈیلیوری چارجز زیادہ سے زیادہ سو روپے اور کم سے کم 50 روپے لگے ہوتے ہیں۔ دو ہزار کا چالان کہاں سے پورا کریں۔
کچھ خدا کا خوف کریں۔اللہ کو منہ نہیں دیکھانا کیا۔ کیوں غریبوں کی زندگی اجیرن کرتے ہو۔۔۔
تین کیسز جناب عاصم منیر اور شہباز شریف کیلئے ٹیسٹ کیس ہیں:
1۔ فضیلہ عباسی
2۔ ہوٹل کانسٹی ٹیوشن ون
3۔ کراچی ڈرگ کوئین
اگر ان کیسز پر قانون کے مطابق کاروائی نہیں ہوتی تو ہارڈ سٹیٹ، غرباء پر نئے ٹیکسز، بےمعنی جملے ہونگے۔
اگر متفق ہیں تق آرٹی کر کے ارباب اختیار تک آواز پہنچائیں
تمغے بٹ رہے ہیں ، انٹرنیشنل بزنس ایونٹ منعقد ہو رہے ہیں پاکستان دنیا بھر میں ایران امریکہ ثالث کے طور پر نام اور عزت کما رہا ہے ۔ لیکن عوام بجلی پیٹرول اور مہنگائی سے ریلیف کا انتظار کر رہی ہے ۔ ہر ایک مہینے بعد عوام پر پٹرول بم گرا کر اپنے فرائض سے سبکدوش ہو کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ کوشش ہی نہیں کرتے کہ کسی طرح عوام کی جیب نہ کاٹیں طرز حکومت بیوروکریسی ٹھیک کریں ۔ نا اہل حکمران ۔
ٹیکس چور تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لائے بغیر ہماری معیشت پٹری پر نہیں آ سکتی. بھارت کو ہم نے ہرا دیا ہے اب ٹیکس چوروں کیخلاف بھی "معرکہ حق" لڑنے کی ضرورت ہے.
حافظ صاحب... توانائی مصنوعات کی قیمتیں کم ہوں اور ٹیکس چوروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے پھر ہی ہماری معیشت ٹریک پر آ سکتی ہے.
جب سپیکر کی چیئرمین سینٹ کی تنخواہ ڈھائی لاکھ سے چوبیس لاکھ کر دی تو شور مچ گیا وزیراعظم نے نوٹس لے لیا اس دوران ان کو کروڑوں کی پچھلی ادائیگی بھی کر دی اور آج تک نوٹس جاری ہے
ایسا ہی نوٹس کانسٹی ٹیوشن ون کے الیٹ کے اپارٹمنٹ بلڈنگ پر لیا ہے اس کے بعد وہ سب وہیں رہے گا
آپ میری بات نوٹ کر لیں وہ وقت دور نہیں جب ن۔لیگ خود بتائے گی کہ تیل پر کمر توڑ ٹیکس کے پیسے کون کھاتا رہا؟ کس نے ہم سے گن پوائنٹ پر چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیم کروائی؟ کس نے ہماری سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دفن کیا؟ لیکن شاید اس گھڑی بہت دیر ہو چکی ہو گی، اگلے الیکشن میں شاید فارم 47 والی کہانی نہ چل سکے، اب یہ عوام میں نہیں جا سکتے اور نہ ہی ان سے معیشت ٹھیک ہو سکتی ہے، اب بہت دیر ہو چکی ہے، چیزیں بہت زیادہ بگڑ چکی ہیں، اللہ کی قسم گلی، محلے، سیکٹر، مارکیٹوں میں لوگ انہیں جھولیاں اٹھا اٹھا کے بددعائیں دے رہے ہیں
ویلڈن آصف مگسی
اسے بولتے ہیں پیور ٹیلنٹ۔۔ بغیر کسی کوچ بغیر کسی ٹریننگ کے لڑکا کمال کر رہا ھے۔ اگر اسے پراپر ٹریننگ اور سہولتیں مل جائے تو یقیناً پاکستان کا نام روشن کرے گا۔
61.5 % increase in petrol prices in less than six months is atrocious , it’s a confession of inefficiency in fact failure . Shameless people at the helm of affairs , they can neither tax the rich nor change their lifestyle all they can do is squeeze the vulnerable … one wonders for how long can this last …