تاریخ یادرکھیےگا
جس دن پشتون وبلوچ پولیس والوں کی لاشیں پڑی تھیں اُس دن اخترمینگل چیک اُٹھاکراسلام آبادپھرتاتھاایک لفظ شہادتوں پوبولنانصیب نہ ہواایسی بھی کیاسفاکی بلوچوں پشتونوں سے
خضدار: پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما میر شفیق الرحمان مینگل نے اپنی خضدار میں واقع رہائش گاہ پر ہونے والے حملے کے بعد برطانوی نشریاتی ادارے BBC بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اور ان کے ساتھیوں کو بلوچستان میں “نظریۂ پاکستان کا سب سے بڑا علمبردار” سمجھ کر مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
میر شفیق الرحمان مینگل کے مطابق حملہ بدھ کی دوپہر تقریباً ڈھائی بجے کیا گیا، جب بارود سے بھری ایک گاڑی ان کی رہائش گاہ کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے فوراً بعد متعدد مسلح حملہ آور گھر میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم ان کے محافظوں، رشتہ داروں اور ساتھیوں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے ساتھیوں نے تقریباً ڈھائی گھنٹے تک حملہ آوروں کا مقابلہ کیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران وہ حملہ آور مارے گئے جو گھر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے بقول، “اگر ہمارے ساتھی بہادری کا مظاہرہ نہ کرتے تو جانی نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔”
میر شفیق الرحمان مینگل نے الزام عائد کیا کہ بیرونی ممالک کی ایما پر کام کرنے والے “کرائے کے قاتلوں” نے ان کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کے نتیجے میں ان کے 17 ساتھی جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے محافظوں کی مؤثر جوابی کارروائی میں متعدد حملہ آور مارے گئے، جبکہ کچھ زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کے مطابق انہیں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق چھ حملہ آور مارے گئے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر ابھی تک کوئی تصدیق یا اعداد و شمار جاری نہیں کیے گئے۔
بی بی سی سے گفتگو میں میر شفیق الرحمان مینگل نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے انہیں سکیورٹی فراہم کی گئی تھی اور حملے میں جاں بحق ہونے والوں میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ اہلکار پہلے لیویز فورس کا حصہ تھے، بعد ازاں پولیس میں ضم ہوئے اور ان میں سے اکثر ان کے رشتہ دار اور علاقے کے رہائشی تھے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس حملے کا اصل ہدف وہ خود تھے، لیکن ان کے ساتھیوں کی جرأت، مزاحمت اور بروقت کارروائی کی وجہ سے حملہ آور اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
کالعدم تنظیموں کی جانب سے مسلسل نشانہ بنائے جانے سے متعلق سوال پر میر شفیق الرحمان مینگل نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی ہمیشہ نظریۂ پاکستان کے حامی رہے ہیں، اسی وجہ سے انہیں مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حملے ان کے نظریات اور مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال بھی ان کے بڑے بھائی میر عطاالرحمان مینگل کو ایک حملے میں شہید کر دیا گیا تھا، جبکہ اس سے قبل بھی ان کے رشتہ داروں اور ساتھیوں پر کئی حملے ہو چکے ہیں۔ ان کے بقول، مسلسل قربانیوں اور جانی نقصانات کے باوجود وہ اپنے مؤقف اور جدوجہد سے پیچھے ہٹنے والے نہیں نظریات پرقائم رہینگے
اگرچہ محسن نقوی کوجب حکومتی عہدہ دیاگیاتومیں نےبھی شدیدتنقیدکی وجہ یہ تھی کہ کوئی جرنلسٹ آج تک اچھامنتظم ثابت نہیں ہواسومیراخدشہ تھاکہ یہ خرابی کاسبب بنےگالیکن وزیراعظم شہبازشریف کی ٹیم 50سےزائدلوگوں پرمشتمل ہےجن میں وزیرمشیرایڈوایزرمعاونین وغیرہ وغیرہ ہیں پوچھنایہ تھا پیارےبھائی ابصارعالم @AbsarAlamHaider سےکہ کیاآپکوپچاس ساٹھ بندوں کےنام بھی یادہیں کسی ایک کاکوئی ایک قابل ذکرکام ہی بتادیں پوری کابینہ میں سےکیا محسن نقوی اکیلاناکام ہےکہ ساراسیٹ اپ ہی ناکام ہوگیا ۰۰۰۰؟
مطلب ایویں وسوسےسےآرہےہیں
آپ کیافرماتےہیں ؟؟؟؟احباب
چارسالہ سٹیٹس کو ٹوٹ گیا
کمشنر راولپنڈی عامر خٹک
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو راولپنڈی کیپٹن ریٹائرڈ شہریار شیرازی
🚨 سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی
تبدیل
کیپٹن ریٹائرڈ طیب سمیع خان کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو راولپنڈی تعینات کردیا گیا