🚨نواز شریف اتنا طاقتور نہیں تھا کہ دھماکوں کا فیصلہ کر سکتا۔
عمران خان
🚨نواز شریف اتنا طاقتور تھا کہ اس کے حکم سے کارگل سے فوج واپس آ گئی۔
عمران خان
🚨میں بے بس تھا ۔ میرے اختیار میں کچھ نہ تھا ۔ جنرل باجوہ سپر وزیراعظم تھا ۔
عمران خان
🚨میں اتنا طاقتور وزیراعظم تھا کہ میں نے اڈوں کے مسئلے پر امریکہ کو ایبسولیوٹلی ناٹ کہہ دیا ۔
عمران خان
#سرمایہ_زیست
گنگناتے ہوئے آنچل کی ہوا دے مجھ کو
انگلیاں پھیر کے بالوں میں سلا دے مجھ کو
جس طرح فالتو گلدان پڑے رہتے ہیں
اپنے گھر کے کسی کونے سے لگا دے مجھ کو
یاد کر کے مجھے تکلیف ہی ہوتی ہوگی
ایک قصہ ہوں پرانا سا بھلا دے مجھ کو
#سرمایہ_زیست#لبیک_پرموشن
1/1
عورت کِتنی خُوبصُورت ہے، یہ اس کی صورت طے نہیں کرتی، یہ اس کی زندگی میں شامل ہونے والے مرد کی پسند اور خواہش طے کرتی ہے۔
میں نے گُلاب چہرہ عورتوں کو رُلتے اور عام شکل و صُورت والی کو راج کرتے دیکھا ہے!
لعنتی کا بچہ ساری دنیا کو انڈین عوام کی طرح بیوقوف سمجھتاہے۔ اپنی الیکشن کمپین کےدنوں میں اپنے ہی لوگوں کو مروائے جارہا ہے۔ انکا سارا میڈیا اس وقت سندور ٹو شروع کرنےکے بین ڈال رہا۔ ہمیشہ الزام پاکستان پر لگا دیتے۔ اگر اب کوئی پنگا لیا تو اس فالس آپریشن کا پاکستانی جواب 0-20 ہوگا۔
دکھ تو انکا بھی ہوتا جن سے آپ نے امید چھوڑ دی ہو
مگر انکا غم تو دیمک کی طرح کھا جاتا
جن پر آپکو خود سے بڑھ کر یقین ہو،مان ہو
بھرم ہو
سب مایا ھے بس
،،،،،🖤
کچھ لوگ "مدد چاہیے" نہیں کہتے
وہ بس خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔
وہ "میرے ساتھ بیٹھو" نہیں کہتے
بس دیر تک آنکھوں میں دیکھتے ہیں
شاید یہ جاننے کے لیے کہ آپ ابھی بھی موجود ہیں۔
وہ "مجھے تنہا مت چھوڑو" نہیں کہتے
بس اپنی آواز مدھم کر لیتے ہیں
شاید اس امید میں کہ کوئی خاموشی کو سن لے۔
کبھی وہ "مجھے تمہاری ضرورت ہے" نہیں کہتے
بس بے وجہ پرانی تصویریں دیکھتے ہیں
شاید ماضی میں وہ کچھ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں جو آج کھو گیا ہے۔
لہٰذا جب وہ آخر کار کہتے ہیں "خیال رکھنا"
تو سمجھ جائیے، یہ ایک دعا ہے
جو لبوں سے نہیں، دل سے نکلتی ہے۔
احساسات ہمیشہ الفاظ میں قید نہیں کیے جا سکتے،
کبھی کبھی
خاموشی سب سے بلند چیخ ہوتی ہے۔
بس... سننے کے لیے دل چاہیے۔❤️🩹👉
🔴 ترک صدر رجب طیب ایردوان کا ہندوستان پاکستان تناؤ پر مکمل بیان اردو ترجمہ کے ساتھ
▪️"چاہے وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والا افسوسناک دہشت گرد حملہ ہو یا پاکستان پر میزائل حملے، ہم نے بہت واضح مؤقف اختیار کیا"۔
▪️ "ہم نے برادر پاکستانی عوام کے لیے اپنی حمایت کھل کر اظہار کیا"-
▪️ "میں پاکستانی بھائیوں کو ان کے صبر، بردباری اور متوازن رویے پر ایک بار پھر مبارکباد پیش کرتا ہوں"-
▪️ "ترکیے کی حیثیت سے، ان شاء اللہ، ہم اچھے اور برے وقت میں بھائیوں کی طرح پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔"
بعد کے لیے کچھ مت چھوڑیں، بعد میں چائے ٹھنڈی ہو جاتی ہے، بعد میں چیزوں میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے، بعد میں دن رات میں بدل جاتے ہیں ، بعد میں لوگ بڑے ہوجاتے ہیں، بعد میں ذہن میچور ہوجاتا ہے اور آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ میچورٹی بورنگ ہوتی ہے ۔
بعد میں لوگ بوڑھے ہو جاتے ہیں، بعد میں زندگی گزر جاتی ہے، بعد میں جب آپ کو موقع ملے گا تو آپ کی دلچسپی اور توانائی وہ نہیں ہوں گے جو کبھی تھے، بعد میں تو آپ کو کچھ نہ کرنے پر افسوس رہے گا۔
موبائل فون آپ کی نیند اور دماغی صحت کا دشمن بن رہا ہے.
**
آپ کو پتہ ہے، نیند کا وقت وہ واحد وقت ہوتا ہے جب ہم اپنے فونز کو آرام کرنے دیتے ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے فون ہمیں آرام کرنے نہیں دیتے! جی ہاں، رات کو موبائل فون کا استعمال آپ کی نیند کو خراب کر سکتا ہے اور یہ آپ کے دماغ کے لیے بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیسے، تو ایک کرسی لے لیں، کیونکہ جو آپ پڑھنے جا رہے ہیں وہ آپ کو حیران کر دے گا!
**خلاء میں خلا باز اور نیند کی جنگ!
**اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ نیند اور موبائل فون کا کیا تعلق ہے؟ تو جناب، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) میں ہونے والی ایک حیرت انگیز تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مصنوعی روشنی ہمارے جسمانی نظام یعنی سرکاڈین ردم (circadian rhythm) کو تباہ کر رہی ہے۔ خلا بازوں کو تو دن میں 16 بار سورج کے طلوع و غروب کا سامنا ہوتا ہے، کیا آپ سوچ سکتے ہیں؟ 16 بار! ہائے بیچارے!
آپ اور میں شاید دن میں ایک بار ہی غروب آفتاب دیکھتے ہیں، اور وہ بھی اکثر فون کی اسکرین کے بیچ میں سے۔ لیکن خلاء میں، 16 بار طلوع و غروب دیکھنا، یہ خلاء بازوں کے لیے روزمرہ کی عیاشی نہیں بلکہ ایک بڑی مشکل ہے۔ یہ ان کی نیند کا شیڈول بلکل بگاڑ دیتا ہے۔
**روشنی کا جادو
**خلاء بازوں نے اس مسئلے سے کیسے نمٹا؟ جناب، انہوں نے تو نیند کے لیے ایک چالاک روشنی کا نظام ایجاد کر لیا! رات کو یہ روشنی سرخ ہو جاتی ہے، بالکل جیسے غروب آفتاب، اور صبح کے وقت یہ نیلی ہو جاتی ہے، جیسے طلوع آفتاب ہو رہا ہو۔ کیسا کمال ہے، نہ؟
مگر سنیں، یہ خلاء بازوں کی کہانی صرف انہیں کے لیے سبق نہیں، بلکہ ہمارے لیے بھی ایک بڑا پیغام ہے۔ آپ اور میں زمین پر بیٹھے ہوئے، اپنے کمروں میں رات کو موبائل فون کی چمکتی اسکرینوں سے نکلنے والی نیلی روشنی کا سامنا کرتے ہیں۔ اور جناب، یہ روشنی تو ہماری نیند کا سکون لوٹ لیتی ہے.
**نیلی روشنی اور نیند کا دشمن
**یہ نیلی روشنی دن کی روشنی کی طرح ہوتی ہے، اور ہمارے دماغ کو ایسا لگتا ہے کہ "اوہ! ابھی تو دن ہے، ابھی سونا نہیں!" نتیجہ؟ ہماری نیند کا ہارمون، میلاٹونن، جو ہمیں آرام سے سونے میں مدد کرتا ہے، بس خاموش ہو جاتا ہے۔ اور پھر آپ کروٹیں بدلتے رہتے ہیں اور سوچتے رہتے ہیں، "یہ نیند کیوں نہیں آ رہی؟"
لیکن جناب، حل بھی ہے! آپ اپنے فون کے "نائٹ موڈ" کا استعمال کریں یا بلیو لائٹ فلٹر آن کریں، تاکہ آپ کی نیلی روشنی تھوڑی سی سرخ ہو جائے اور آپ کا دماغ یہ نہ سمجھے کہ ابھی دوپہر کا وقت ہے۔
**مزید مزے کی باتیں
**اگر آپ سونے سے پہلے موبائل فون دیکھنا نہیں چھوڑ سکتے، تو کم از کم یہ کام کر لیں کہ سونے سے ایک گھنٹہ پہلے فون کو خود سے دور رکھ دیں۔ ہاں، میں جانتا ہوں کہ یہ ایک مشکل چیلنج ہے، لیکن کیا پتا، نیند اتنی زبردست ہو کہ آپ کا فون بھی حسد کرنے لگے!
تو، اگر آپ اپنی نیند اور دماغی صحت کو بچانا چاہتے ہیں، تو یہ چند آسان ٹپس آزمائیں۔ خلاء بازوں کی طرح بنیں، رات کو اپنی روشنی سرخ کریں، اور صبح نیلے آسمان کا استقبال کریں — وہ بھی بغیر فون کی نیلی روشنی کے.
>غزہ میں ایک چھوٹا بچہ، اپنی ماں کے لیے بار بار رو رہا تھا، اس کی آواز دل کے درد سے بھری ہوئی تھی، جب کہ ایک اور بچہ اُس کے ناقابل برداشت غم کو کم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
>مجھے امید ہے کہ آپ اس دکھ کی گہرائی کو سمجھ سکیں گے۔ #غزہ