سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ایک سازشی منصوبے کے تحت سندھ کے مستقل باشندوں سندھیوں اور مہاجروں کے درمیان نفرتیں پھیلانے کی کوششیں کررہی ہے، اس کے لئےکچھ مخصوص صحافیوں اور یوٹیوبرز میں ایک خطیررقم تقسیم کی گئی ہے اوران سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے وی لاگز اور پوڈکاسٹ میں الطاف حسین، مہاجروں اور ایم کیوایم کے خلاف جتنازہراگل سکتے ہو، جتنے الزامات لگا سکتے ہو لگاؤ، نفرت پھیلاؤ تاکہ سندھیوں اورمہاجروں کے درمیان دوبارہ سے نفرتیں پھیلائی جاسکیں، ان کے درمیان نفرتیں اوراشتعال پھیلایا جائےتاکہ انہیں آپس میں لڑایاجائے، سندھ میں پھر سے کشت وخون کرایا جائے۔ یہ وہی عمل ہے جو پیپلزپارٹی نے اپنی سابقہ حکومتوں کے دور میں کیا، جو19جون 1992ء میں ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کے دورمیں MQM کوختم کرنے کے لئے کیا گیا تھا، جس کا سلسلہ پیپلزپارٹی کی بینظیربھٹوحکومت نے جاری رکھا اورایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیاگیا، ہزاروں کارکنوں کو گرفتارکرکے جیلوں میں قید کیا گیا، سینکڑوں کولاپتہ کیا گیا، آبادیوں کے محاصرے کرکے ظلم وستم کے پہاڑتوڑے گئے، پیپلزپارٹی کی موجودہ حکومت بھی وہی ظلم کررہی ہے، ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں کی گرفتاریاں کررہی ہے، ان کے خلاف جھوٹے مقدمات بنارہی ہے، شہری عوام کوان کے حقوق دینے کے بجائے ان کے خلاف نفرت وتعصب کے اقدامات کررہی ہے۔ جب ہم اس ظلم کے خلاف آوازاٹھاتے ہیں تو پیپلزپارٹی کی حکومت اسے نفرت اورتقسیم کی سیاست قراردیتی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی اپنی تاریخ سندھ کے شہری علاقوں کے عوام کے ساتھ نفرت، تعصب اورحق تلفیوں اور ظلم وبربریت سے بھری پڑی ہے۔ پیپلزپارٹی کی زیادتیوں سے اندرون سندھ کے عوام بھی بے زار آچکے ہیں لیکن پیپلزپارٹی عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ایک بارپھر سندھ کارڈ کھیل رہی ہے لیکن اب سندھ کے باشعور عوام اس کے پروپیگنڈوں میں نہیں آئیں گے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست سے خطاب
جو یہاں پیو تو حلال ہے
جو وہاں پیو تو حرام ہے
کراچی،حیدرآباد اور دیگر شہروں میں MQM کے کارکنوں اور بزرگوں کو گرفتار کرنا، ان پر حراست میں تشدد کرنا،ماورائے عدالت قتل کرنا،دہشت گردی کےجھوٹے مقدمات قائم کرنا جائز اور حلال ہے
مگر
کشمیر میں اپنےایک کارکن پر مقدمہ قائم حرام ہے،کیسے کرلیتے ہیں یہ
@BBhuttoZardari
2/2
یعنی مغربی پاکستان کاوزیراعظم الگ اورمشرقی پاکستان کاوزیراعظم الگ، اس طرح بھٹونے ملک کوبنگالی اورنان بنگالی میں تقسیم کردیا۔ فوج اوربھٹونے شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کو اقتدار دینے کے بجائے مشرقی پاکستان میں بنگالی عوام کے خلاف فوجی آپریشن کردیا، بالآخر 16دسمبر 1971ء کو پاکستان ٹوٹ گیااورایک لاکھ پاکستانی فوجیوں نے انڈین فوج کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ پاکستان ٹوٹنے کے بعدجنرل یحییٰ خان نے اقتدارذوالفقارعلی بھٹو کے حوالے کردیا اور بھٹو پاکستان کی تاریخ کاپہلا سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور صدرکے عہدے پر فائز ہوا۔
جومتعصب اورشاؤنسٹ لوگ عوام کو گمراہ کرنے کے لئے یہ بہتان لگاتے ہیں کہ ایم کیوایم جنرل ضیا الحق نے بنائی، وہ یہ بتائیں کہ پیپلزپارٹی کس نے بنائی؟ بھٹوکواقتدارمیں کون لایا؟جنرل ایوب خان کو ڈیڈی الطاف حسین کہتا تھا یابھٹو؟
فوج نے سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر الطاف حسین کوبنایاتھا یابھٹوکو؟
جومتعصب لوگ الطاف حسین پر سندھ میں تقسیم اورنفرت کابہتان لگاتے ہیں، وہ بتائیں کہ” اِدھرہم، اُدھر تم“ کانعرہ الطاف حسین نے لگایاتھایاسندھ کے وڈیرے ذوالفقارعلی بھٹو نے لگایاتھا؟
پاکستان میں بنگالی اورنان بنگالی کی تقسیم الطاف حسین نے کی یابھٹو نے؟
سندھ میں کوٹہ سسٹم کے ذریعے دیہی اورشہری کی تقسیم کی بنیاد الطاف حسین نے رکھی یا بھٹو نے؟
سندھی مہاجر کی تفریق کی بنیاد الطاف حسین نےرکھی یا ذوالفقارعلی بھٹو نے؟
پاکستان کوتوڑنے میں جہاں فوج کاہاتھ ہے وہاں بھٹواوران کی پیپلزپارٹی کابھی برابرکاہاتھ ہے۔
پیپلزپارٹی آج پھر ایک سازش کے ذریعے سندھ میں نفرت اورتقسیم کی آگ بھڑکانے کی کوشش کررہی ہے۔
میں سندھیوں اورمہاجروں کوکہتاہوں کہ ہم سندھ کے مستقل باشندے ہیں، ہمیں سندھ میں مل کررہنا ہے اورجوعناصر ان کے درمیان نفرت کی آگ بھڑکانے کی سازشیں کررہے ہیں ہمیں انہیں ناکام بنانا ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 432 ویں فکری نشست سے خطاب
18جولائی 2026ء
https://t.co/JUMb8z1vjG
تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہے کہ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو میدان سیاست میں فوج کے جرنیلوں کی پیداوار تھے، ان کےوالد سرشاہنواز بھٹو ایک بڑے جاگیردارتھے،وہ تقسیم ہند سے پہلے ریاست جونا گڑھ کے منشی تھے اور سلطنت برطانیہ کےفرمانبردار اور اطاعت گزار تھےجس کےصلے میں انگریزوں سے انہیں ”سر“ کا خطاب اورہزاروں ایکڑ زمینیں انعام کےطور پر ملی تھیں۔جوشاؤنسٹ اور متعصب عناصر سرسید احمدخان کو سرکاخطاب ملنے پر انہیں انگریزوں کاایجنٹ قراردیتے ہیں وہ بھٹو کے والد شاہنواز بھٹو کوانگریزوں کی اطاعت وفرمانبرداری پرسرکاخطاب ملنے پر کیاکہیں گے؟ بھٹوکے والد سر شاہنواز بھٹوکی زمینوں پر سلطنت برطانیہ انگریز اورامریکی شکار کھیلنے آتے تھے، ذوالفقارعلی بھٹو بھی اپنے والدکے ساتھ انگریزوں اور امریکیوں کی خدمت گزاری میں شریک ہوتے۔ایک مرتبہ پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ہوریک ہلڈریتھ (Horace Hildreth) شاہنواز بھٹو کی زمینوں پرشکاررکھیلنے آئے تووہ بھٹوکی خدمت گزاری سے بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے اسکندرمرزا اور جنرل ایوب خان سےکہاوہ بھٹو کواپنی حکومت میں جگہ دیں جس پر انہیں فوجی حکومت میں شامل کیاگیا۔ بھٹو جنرل ایوب خان کی فوجی حکومت میں وزیر خارجہ اور مختلف وزارتوں پرفائزرہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی جنرل ایوب خان سے اتنی قربت تھی کہ وہ جنرل ایوب خان کو”ڈیدی “ یعنی اپناباپ کہتے تھے۔جب 1966ء میں جنرل ایوب خان کے خلاف محض چینی کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے توذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب خان کی کابینہ سے الگ ہوگئےاور 1967ء میں اپنی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کے قائم کر نے کااعلان کردیا۔ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کےبانی ارکان میں جے اے رحیم، ڈاکٹر مبشرحسن، معراج محمدخان، حفیظ پیرزادہ، کمال اظفر، حیات شیرپاؤ اور دیگر شخصیات شامل تھیں۔اس وقت ملک میں عوام مہنگائی کے خلاف شدید احتجاج کررہے تھے اور ان دنوں سوشلزم کی ہواچل رہی تھی لہٰذا بھٹو نے اپنی جماعت کامنشور”اسلام ہمارا دین، سوشلزم ہماری معیشت اورطاقت کا سرچشمہ عوام“ رکھا اورعوام کو”روٹی کپڑا اورمکان“ کانعرہ دیا لیکن انہیں پس پردہ فوج کے جرنیلوں کی حمایت اور سرپرستی حاصل تھی۔
جنرل ایوب خان کے اقتدار سے استعفیٰ دینے کے بعد 25مارچ 1969ء کو جنرل یحییٰ خان نے ملک میں دوسرامارشل لاء نافذ کردیا۔ بھٹو جنرل یحییٰ خان کی حکومت کے ساتھ رہے اوران کے وزیرخارجہ کے فرائض بھی انجام دیے۔ جنرل یحییٰ خان نے 1970ء میں ملک میں عام انتخابات کرائے توان انتخابات میں مشرقی پاکستان سے جنم لینے والی شیخ مجیب الرحمن کی جماعت عوامی لیگ نے 160نشستیں حاصل کیں جبکہ ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی محض 81 نشستیں حاصل کرسکی۔ شیخ مجیب مسلسل مطالبہ کرتے رہےکہ حکومت سازی کےلئےفی الفورقومی اسمبلی کااجلاس بلایا جائے لیکن جنرل یحییٰ خان کی فوجی حکومت نے قومی اسمبلی کااجلاس نہیں بلایاکیونکہ فوجی حکومت عوامی لیگ کو اقتدارحوالے کرنا نہیں چاہتی تھی اوربھٹو بھی یہی چاہتا تھاکہ عوامی لیگ برسراقتدار نہ آئے۔ مجبورہوکرشیخ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان کے دارالحکومت ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کااجلاس بلالیا۔ جس پر فوجی جرنیلوں کے ہاتھوں پرورش پانے والے ذوالفقارعلی بھٹو نے لاہور میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے یہ دھمکی آمیز اعلان کیا کہ مغربی پاکستان سے جو بھی منتخب رکن اگرقومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کےلئےڈھاکہ جائے گا توواپسی پر اس کی ٹانگیں توڑدی جائیں گی،مغربی پاکستان سے واحد رکن اسمبلی احمدرضاقصوری اجلاس میں شرکت کے لئے ڈھاکہ گئے تھے، جب وہ واپس آئے توبھٹوحکومت میں ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیاجس میں احمدرضا قصوری بچ گئے لیکن ان کے والد نواب محمداحمدخان قصوری جاں بحق ہوگئے۔جب جنرل ضیاء الحق نے 1977ء میں بھٹو حکومت کا تختہ الٹااورملک میں مارشل لاء نافذ کیاتو احمد رضا قصوری کے والد نواب محمداحمدخان قصوری کے قتل کے الزام میں ہی بھٹوکو پھانسی دی گئی تھی۔
دنیا کے مسلمہ قانون کے تحت 1970ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے پر شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کواقتدارحوالے کرناچاہیے تھا لیکن فوج نے کہاکہ ملک پر ایک بنگالی وزیراعظم کسی بھی صورت میں نہیں ہوسکتا، دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ شیخ مجیب الرحمن ایک غریب کابیٹاتھا جبکہ ذوالفقارعلی بھٹو ایک بہت بڑے جاگیردار سرشاہنوازبھٹو کابیٹا تھا۔
شیخ مجیب الرحمن نے باقاعدہ آپریشن سے پہلے علیحدگی کااعلان نہیں کیاتھا بلکہ وہ صرف یہ کہہ رہاتھاکہ بنگالیوں کوان کے حقوق دو اوران کے میڈیٹ کو تسلیم کرو لیکن فوج نے بنگالیوں کو تسلیم نہیں کیا، بھٹو بھی کسی قیمت پر بنگالیوں کواقتداردینے کاحامی نہیں تھا لہٰذا بھٹونے لاہورمیں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ”اِدھرہم، اُدھر تم“ کانعرہ لگایا۔
1/2
بروز ہفتہ 18 جولائی 2026 کو ایم کیوایم کے سینئر وفاپرست کارکن سعید گدی بھائی کے ماورائے عدالت قتل اور جبری لاپتہ کارکنان و ہمدردوں کی گمشدگیوں کے خلاف لندن میں ایک پر امن مظاہرہ کیا گیا
رابطہ کمیٹی کے کنوینئر مصطفے عزیزآبادی نے مظاہرے میں خطاب کیا
@AltafHussain_90
211 دن کی غیر قانونی قید!🚨
ضمیر کے قیدی نثار پنہور اور محسن پہنور۔🤲
ظلم کی رات ہے آخر تو سحر ہوگی۔✊
نثار احمد پنہور اور محسن پنہور کو جلد از جلد باحفاظت، بخیریت اور باعزت رہا کیا جائے۔
ان پر اگر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، ورنہ ان کی غیر قانونی قید فوراً ختم کی جائے۔⚖️
#ReleaseNisarAndMohsinPanhwar
#PoliticalNews
#humanrights
#karachi
#SpeakUp
#releasenisarandmohsinpanhwar
قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی نے ہمیشہ متوسط اور غریب طبقے کی حقیقی نمائندگی کو فروغ دیا، اشرافیہ کے بجائے عوام کے نمائندوں کو اسمبلیوں میں بھیجا
پارلیمنٹ میں انہی لوگوں کی نمائندگی ہونی چاہیے جو عوام کے دکھ، مسائل اور محرومیوں کو خود بھگتتے ہیں، اے پی ایم ایس او
لندن — 19 جولائی 2026:
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) کا کہنا ہے کہ قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی نے اپنی پوری سیاسی جدوجہد کے دوران ہمیشہ متوسط اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو قومی و صوبائی اسمبلیوں تک پہنچایا، کیونکہ انہی طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ عوام کے حقیقی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں اور ان کے مؤثر حل کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اے پی ایم ایس او کے مطابق اگر پاکستان واقعی تمام پاکستانیوں کا ملک ہے تو پارلیمنٹ میں صرف سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور بااثر اشرافیہ کی نہیں بلکہ مزدوروں، محنت کشوں، اساتذہ، طلبہ، سرکاری ملازمین، چھوٹے کاروباری افراد اور ان طبقات کی نمائندگی بھی ہونی چاہیے جو روزمرہ زندگی میں عوام کو درپیش مشکلات کا خود سامنا کرتے ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ جب اشرافیہ کے گھروں میں گیس بند ہوتی ہے تو ان کے لیے سلنڈر اور متبادل وسائل فوری دستیاب ہوتے ہیں، جب پانی کی قلت ہوتی ہے تو وہ ٹینکر خرید لیتے ہیں، اور جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات بھی ان پر محدود رہتے ہیں۔ مگر غریب اور متوسط طبقہ انہی بنیادی ضروریات کے لیے روزانہ مشکلات، قطاروں اور محرومیوں کا سامنا کرتا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کے مسائل کی حقیقی آواز صرف وہی افراد بن سکتے ہیں جو خود ان مسائل سے گزرے ہوں۔
اے پی ایم ایس او نے مزید کہا کہ ملک کے انتظامی اداروں اور اعلیٰ سرکاری عہدوں تک رسائی کے نظام میں بھی مساوی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں، تاکہ باصلاحیت مگر معاشی طور پر کمزور نوجوان بھی اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر آگے بڑھ سکیں اور ریاستی اداروں میں عوام کے ہر طبقے کی مؤثر نمائندگی یقینی بنائی جا سکے۔
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او)
#کیا_مہاجر_یہودی_ہیں؟
شہزاد غیاث شیخ دو تین ناموں کا مرکب یادوتین لوگوں کا مرکب
کو ہاشم اعظم بھائی رکن سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی متحدہ قومی موومنٹ کا کرارا جواب
👇👇👇
#کیا_مہاجر_یہودی_ہیں؟
شہزاد غیاث شیخ تم نے جو بہتان تراشی کی ہے اس پر اپنے الفاظ واپس لو معافی مانگو اور یوٹیوب سے اپنے پروگرام کو آف کرو
معین خان بھائی
آرگنائزر
ایم کیوایم برطانیہ
👇👇👇