مکہ مکرمہ بیت اللہ جس سمت جانب پوری دنیا کے مسلمان سجدہ کرتے ہیں مدینہ منورہ مسجد نبوی صل اللہ علیہ وسلم جہاں پوری دنیا کے مسلمان درود شریف پڑھ کر نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں حوثی دہشتگرد انہی مقامات پر حملے کررہے ہیں
حوثیوں اور انکے ہینڈلرز پر بے شمار لعنت
ایک بار ایک انٹرویو میں نصیر الدین شاہ نے کہا تھا کہ امیتابھ بچن کا معیاری سنیما میں کوئی خاص کردار نہیں ہے کیونکہ وہ خالصتاً کمرشل اداکار ہیں۔
اس کے بعد ایک صحافی نے امیتابھ بچن کو اس بیان کے بارے میں بتایا اور ان کا ردعمل چاہا۔
بچن نے کہا، "جب نصیر الدین شاہ جیسا بین الاقوامی سطح پر مانا ہوا اداکار کوئی بات کہے تو انسان کو ردعمل دینے کے بجائے اپنے اندر جھانکنا چاہیے۔"
کچھ عرصہ پہلے، ایک صحافی نے دلیپ کمار کو بتایا کہ راج کپور نے ان کے بارے میں کوئی بیان دیا ہے اور پوچھا کہ دلیپ کمار اس پر کیا کہنا چاہیں گے۔
دلیپ کمار نے کہا کہ راج ان کے بہت عزیز دوست ہیں اور وہ دلیپ کمار کے بارے میں کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔
ایک بار کسی نے گلزار صاحب سے ان کے پانچ پسندیدہ نغمہ نگاروں کے نام پوچھے تو گلزار صاحب نے پانچ نغمہ نگاروں کے نام لیے اور ان میں جاوید اختر کا نام شامل نہیں تھا۔
اس کے بعد کیا ہوا؟ ایک صحافی نے جاوید اختر کو یہ بات بتائی اور ان کا ردعمل پوچھا۔
جاوید اختر نے کہا، "اس معاملے میں میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ گلزار صاحب کی فہرست میں جگہ بنانے کے لیے مجھے ابھی اور محنت کرنے کی ضرورت ہے۔"
بولنا اور ردعمل دینا لازمی ہے، لیکن ضبط اور شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔
برداشت اسی کا نام ہے۔
بینک بھی قابل اعتماد نہیں رہے۔ ایسے واقعات آج کل بہت ہو رہے ہیں۔
ملتان : خاتون 80 تولہ سونے سے ہاتھ دھو بیٹھی ۔۔۔
بوسن روڈ پر نجی بنک میں ماریہ ظفر نامی اس خاتون نے اپنا 80 تولے کروڑوں روپے کا مالیتی سونا لاکر میں محفوظ کررکھا تھا ،
خاتون کا خیال تھا کہ گھر سے چور ڈاکو نقصان کر سکتے ہیں لیکن بنک لاکر میں سونا محٖفوظ رہے گا
مگر افسوس خاتون بنک لاکر کے چارجز ادا کرتی رہی جبکہ اسے معلوم ہی نہ ہوا کب کون اسکا سونا لے اڑا ،
چند روز قبل خاتون 2 سال بعد بنک آئی کہ اسے اپنے کچھ زیورات کی ضرورت تھے ، خاتون نے اپنے لاکر کو چابی لگائی تو چابی نہ لگی جسکے بعد خاتون نے بنک مینیجر کو مطلع کیا تو اس نے تحریری درخواست لینے کے بعد خاتون کو چند روز بعد دوبارہ بنک آنے کو کہا ،
بنک سے فون آنے پر خاتون دوبارہ بنک پہنچی اور لاکر کو زبردستی کھولا گیا تو پتہ چلا لاکر کے اندر کچھ نہیں تھا ۔
حیران کن بات یہ کہ بنک میں کسی افسر نے بھی اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی جبکہ بنک مینجر موقع سے فرار ہو گیا ۔
خاتون کو اب سمجھ نہیں آرہی کہ اسکے ساتھ ہوئی لوٹ مار کا ذمہ دار کون ہے ؟ کیا اسکا نقصان پورا کیا جائے گا ؟
ابتدائی طور پر خاتون کو پولیس اور ایف آئی اے کو درخواست دینے کو کہا گیا ہے ،
دیکھنا اب یہ ہے کہ اس خاتون کا نقصان کب اور کون پورا کرتا ہے ؟
دوستو: آپ کے خیال میں بنک کے اندر محفوظ ترین جگہ پر بنے لاکرز سے اس خاتون کا سونا کون چوری کر سکتا ہے ؟
کمنٹس میں ضرور بتائیں
جس شہر کے ہسپتال میں چودہ بچے زندہ جل گئے ہو اور کوئی زمہ داری لے کر مستعفی نا ہوا ہو وہاں آپ کو لگتا ہے کہ ایک معصوم طلبہ کی جھولتی لاش سے کوئی فرق پڑے گا کچھ نہیں ہوگا
میں نے یہ ویڈیو دیکھی اور سچ کہوں تو ڈاکٹر دعا اظہر کی باتیں سن کر میرے ہوش اڑ گئے۔ وہ بتا رہی ہیں کہ بل گیٹس اور پاکستان کے وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں جو ملاقات ہوئی ہے، اس کا اصل مقصد پاکستان میں زراعت اور بیجوں کے نظام پر قبضہ کرنا ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے دیسی بیجوں کی بجائے زبردستی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ یعنی جی ایم او (GMO) بیج لائے جا رہے ہیں، جنہیں اگانے کے لیے ایک خطرناک کیمیکل گلائفوسیٹ کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ کینسر کی بہت بڑی وجہ ہے اور سبزیوں یا پھلوں کو دھونے سے بھی نہیں نکلتا۔
ویڈیو میں یہ بات سن کر واقعی ڈر لگتا ہے کہ ان بیجوں سے پیدا ہونے والے پھل اور سبزیاں سیڈلیس یعنی بغیر بیج کے ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے کسان خود اگلی فصل کے لیے بیج محفوظ نہیں کر پائیں گے۔ انہیں ہر بار یہ مہنگے بیج باہر کی کمپنیوں سے ہی خریدنے پڑیں گے، اور سارا کنٹرول انہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ دعا اظہر یہ بھی پوچھ رہی ہیں کہ اگر یہ سب اتنا ہی اچھا ہے تو سعودی عرب اور یورپ نے اس پر پابندی کیوں لگائی ہے؟ ان کا یہ کہنا بالکل خوفناک ہے کہ اگر ہم ان جی ایم او بیجوں کے عادی ہو گئے اور کل کو کسی جنگ یا اختلاف کی وجہ سے ہمیں بیج دینے سے انکار کر دیا گیا، تو صرف چھ مہینے میں ہمارے ملک میں قحط آ سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ یہ مشورہ دے رہی ہیں کہ ابھی سے اپنے پاس دیسی بیج محفوظ کرنا شروع کر دو اور جہاں بھی تھوڑی بہت زمین ملے، اپنی سبزی اور گندم خود اگاؤ۔
اس سب کے بعد جب میں نے دیکھا کہ ہمارے شوبز ستارے اس پر کیا ردعمل دے رہے ہیں، تو عمران عباس نے تو ڈاکٹر دعا کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے اس اہم مسئلے پر آواز اٹھائی، اور ماریہ بی نے بھی ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بل گیٹس کے اس گیم کو سمجھنے کے لیے واقعی عقل کی ضرورت ہے۔
اور جب میں نے تحقیق کی اور مختلف آرٹیکل پڑھے تو یہ بات سامنے آئی کہ گلائفوسیٹ (Glyphosate) کے استعمال اور جی ایم او بیجوں کے حوالے سے دنیا بھر میں پہلے ہی کافی بحث اور مخالفت موجود ہے۔ بہت سی سائنسی رپورٹس میں اس کیمیکل کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ کسانوں کے حقوق اور بڑی کارپوریشنز کے اجارہ دارانہ معاہدوں (جیسے کہ بیجوں کاپی رائٹ اور بار بار خریدنے کی پابندی) پر بھی بین الاقوامی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو فوڈ سیکیورٹی اور خود انحصاری کے حوالے سے اٹھائے جانے والے یہ خدکات مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہیں۔
#BillGates #GMOSeeds
گاڑی خراب ہو تو مالک ذمہ دار!
گاڑی فٹنس میں فیل جرمانہ مالک کا!
لیکن سڑک ٹوٹی ہو، حادثہ ہو یا گاڑی تباہ ہو جائے تو ذمہ داری کس کی؟
عوام صرف ٹیکس دینے کے لیے شہری ہیں یا محفوظ سہولتیں حاصل کرنے کے لیے بھی؟
حکومت سے مطالبہ ہے کہ گاڑیوں کی فٹنس کے ساتھ سڑکوں کی فٹنس سرٹیفکیٹ بھی دے
ہنڈائی کی نئی گاڑی آ گئی، میری سانٹا فے کا مسئلہ آج بھی حل طلب!
ہنڈائی اسلام آباد نے اپنی نئی لگژری Palisade Hybrid Calligraphy شوروم کی زینت بنا دی ہے۔ جدید فیچرز، نفیس ڈیزائن اور نئے خریداروں کے لیے ایک نئی کشش!
مگر یہ چمکتی گاڑی دیکھ کر میرے ذہن میں ایک سوال پھر تازہ ہو گیا-
کیا نئے خریداروں کو متوجہ کرنا ہی کافی ہے، یا پرانے صارفین کا اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے؟
میں نے بھی اپنی فیملی کے آرام اور تحفظ کے لیے ہنڈائی Santa Fe Hybrid خریدی تھی- پہلے ہیڈلائٹ میں پانی آیا، پھر بارش کے دوران بند کھڑی گاڑی کے اندر پانی داخل ہو گیا۔)- نقصان کا اتنا بھاری اسٹیمیٹ کہ ایک عام خریدار کے لیے برداشت کرنا آسان نہیں-
کمپنی سے رابطہ کیا، وارنٹی کا حوالہ دیا، مگر مکمل اور مسلسل خاموشی۔ آخرکار قانونی راستہ اختیار کرنا پڑا-
آج میری سانٹا فے ہنڈائی ڈیلرشپ کے پاس کھڑی ہے اور وارنٹی کا مقدمہ اسلام آباد کی صارف عدالت میں زیرِ سماعت ہے-
ایک عام آدمی جب اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے اتنی مہنگی گاڑی خریدتا ہے تو وہ صرف انجن، ڈیزائن اور فیچرز نہیں خریدتا، بلکہ کمپنی کے نام، معیار اور وارنٹی پر اعتماد بھی کرتا ہے-
نئے خریداروں کا اعتماد جیتنے کے ساتھ پرانے خریداروں کا اعتماد برقرار رکھنا بھی ضروری ہے-
کیونکہ نئی گاڑی کی خوبصورتی خریدار کو شوروم تک تو لے آتی ہے، مگر فروخت کے بعد کمپنی کا رویہ طے کرتا ہے کہ وہ دوبارہ اسی برانڈ پر اعتماد کرے گا یا نہیں-
آپ بتائیے، اگر آپ کی کروڑوں روپے کی گاڑی میں کوئی بڑا مسئلہ پیدا ہو اور وارنٹی کے تنازع پر عدالت جانا پڑے، تو کیا آپ دوبارہ اسی کمپنی پر اعتماد کر سکیں گے؟
تحریر: ڈاکٹر محمد عثمان خان @drusmanbaloch
Attention:
@HyundaiPakistan@PakistanHyundai@hyundai_kor@Hyundai_Global@Hyundai_SK
اندھیرے میں رہنے کی عادت پڑی ہے تم کو، غلامی کرنے کی عادت پڑی ہے، پہلے راجائوں مہاراجوں کی غلامی کی، پھر انگریزوں کی، اب چند غدار نیتائوں (سیاستدانوں) کی، سب کیڑے بن گئے ہو، رینگتے رہو، سڑتے رہو اور مرو، آنجہانی نانا پاٹیکر کا یادگار ڈائیلاگ۔۔!!
#NanaPatekar
پاکستان کے سارے پہاڑ سونے کے بن جائیں اور دریاؤں میں پانی کی جگہ پیٹرول بہنے لگے۔ تب بھی یہ ملک مقروض ہی رہے گا۔ کیونکہ اوپر چور ڈا کو جو مسلط ہیں۔ خالد انعم
#pakistan@khaledanam1
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
آپ شاید یقین نہ کریں، ہمارے ملک میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو بکرے کا گوشت صرف عیدالاضحیٰ پر کھاتے ہیں۔
یہ محض گوشت کی بات نہیں، ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کی ایک خاموش تصویر بھی ہے 💔
یوٹیوبرز سے ویوز کی بنیاد پر ٹیکس وصول کرنے والی حکومت کو چاہئے کہ مصروف شاہراہوں پر آیف بی آر کے عملے کو لگا کر ہر فقیر کی کمائی میں سے بھی اپنا حصہ وصول کیا کرے😜
تیل سستا ہوا ہے مگر حکومت پھر بھی سستا کرنے پر تیار نہی ہے اور ایسے میں تحریک انصاف کا مارچ حکومت کے کام آ رہا سب میڈیا سوشل میڈیا کی توجہ اس طرف لگی اور کوئی پیٹرول کی طرف توجہ نہی دے رہا اگر تحریک انصاف عوامی اشو کو بنیاد بناتی تو حکومت پر بھی کوئی پریشر بنتا مگر وہ تو الٹا طالبان سہولت کار بنے دہشت گردوں کے مفاد کی جنگ لڑ رہے
پاکستان کی عوام کے تو سب دشمن ہیں
ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ نے پاکستان کی معیشت کی بد ترین کمزوریاں دوبارہ اجاگر کر دیں:
• خطے کے 48% انتہائی غریب پاکستان میں رہتے ہیں
• غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ
• مہنگائی درمیانی 2026 تک تقریباً 11% تک پہنچ گئی
• پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 40% سے زائد اضافہ
• نمو صرف 3.7% — جو غربت کم کرنے کے لیے ناکافی ہے