موبائل کمپنیوں کے پیکجز کی قیمت پورے ملک میں ایک جیسی ہے لیکن سروس کا معیار چیک کریں۔ ویب براؤزر پر اوکلا سپیڈ تیسٹ کرنے میں دو منٹ کا وقت لگا جس میں سپیڈ 0.17Mbpsآئی اور پنگ ٹائمنگ 53MS ہے۔
پیکج کی قیمت -/5500 روپے ماہانہ۔
@Zongers@PTAofficialpk@ShazaFK
Please take notice
ایسے حقیقت پسند افغانی بھائیوں سے ہمیں محبت ہے، کاش ایسی سوچ رکھنے والے حکمران افغانستان آئیں اور ان نمک حرام طالبان کا خاتمہ ہو۔
ڈاکٹر برمک ہمدرد کا یہ ٹویٹ لازمی پڑھیں!
اردو ترجمہ
"ہم کب تک پاکستان میں مداخلت کرتے رہیں گے؟
داؤد خان نے طورخم پر حملہ کیا۔
نجیب نے اسلام آباد پر بمباری کی۔
کرزئی اور غنی نے ٹی ٹی پی (TTP) کی پشت پناہی کی۔
آج، طالبان بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں۔
20 سال تک ہماری سابقہ جمہوریہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بناتی رہی، جبکہ قبائلی سیاست اور اندرونی ناکامیوں نے ہمارے نظام کو تباہ کیا۔ اب طالبان ایک بالکل مختلف نظام کے تحت حکومت کر رہے ہیں، پھر بھی وہی روش جاری ہے: سرحد کو تسلیم نہ کرنا، پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا، اور سرحد کے پار کارروائیاں کرنے والے عسکریت پسندوں کی حمایت کرنا۔
حکومتیں بدل جاتی ہیں۔ سیاست وہی رہتی ہے۔"
میرا مالکِ مکان پٹھان، میں جہاں سے کچن گروسری کرتی وہ پٹھان، میں جہاں سے چکن اور گوشت لیتی وہ پٹھان، میں جس سے سبزی لیتی وہ پٹھان، میری بیٹی کی فیورٹ فزکس ٹیچر پٹھان، میرے بیٹے کا باس پٹھان اور یہاں بہت سے لوگ جن سے ہم ہر روز ملتے ہیں اور اچھا تعلق رکھتے ہیں وہ پٹھان ہیں👇🏼
آپ اس بات پر غور کیجئے کہ کل کوہاٹ میں مسجد پر خودکش حملہ ہوا حملہ آور پاکستان مقیم ایک افغان شہری تھا بھجوانے والا گروپ افغانستان میں بیٹھا ہے اس کے بعد خیبر پختونخوا ہ کی حکمران جماعت وہاں کی قوم پرست جماعتوں سمیت سب نے فوج پر بھی انگلی اٹھائی پنجاب پر بھی الزام دھرا مریم کو اس میں گھسیٹا غرض ہر کام کیا مگر کسی ایک نے بھی افغانستان ، طالبان اور اصل دہشت گردوں کا نا تو نام لیا نا ہی مزمت کی اسی کو سہولت کاری کہتے ہیں
دہشت گردی پشتون صوبے میں اس لیے ہی پھیل رہی
خان صاحب نے قوم کو پھدو بنایا کہ ان کے چاہنے والے پڑھے لکھے ہیں ، دو دن کا سہیل آفریدی کا پنجاب میں تھیٹر اور آج بنک کلیئرنگ سٹیمپ پر ان جاہلوں کے تبصرے دیکھ کر اندازہ ہوا خان صاب اپنی بات کیا کرتے تھے
ایک تو پڑھے لکھے نہیں اتوں یہ پین یکس کوشش بھی نہیں کرتے
@lawliga یہ کنزیومر کورٹ کی زیادتی ہے۔ کھاڈی کو اپیل کے لیے جانا چاہیے۔ کورٹ کسی بھی بزنس کو روک نہی سکتی کوئی پراڈکٹ بیچنے سے، اگر غیرقانونی پراڈکٹ نہی ہے تو۔
انقلاب ایران سے اسرائیل مضبوط ہو گیا
یہ جو کہا جاتا کہ اسرائیل پر کسی عرب ملک نے کبھی حملہ نہی کیا یہ سو فیصد جھوٹ ہے 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے 1979تک عرب ممالک اسرائیل سے کئی جنگیں کر چکے مصر ، اردن شام عراق لبنان نے گو اسرائیل سے براہ راست جنگیں کی ہیں جبکہ عراق، اردن، سعودی عرب، الجزائر، مراکش، کویت، لیبیا، تیونس وغیرہ نے فوجی یونٹ یا دیگر مدد بھی بھیجی ہے پھر انقلاب ایران آ گیا اور جس جس عرب ملک نے اسرائیل سے جنگ کی تھی وہاں ایرانی پراکسیز آ گئیں اس کے بعد عرب ممالک آپس میں لڑنے لگ گے یا ان کے اندر خانہ جنگی شروع ہو گئ یوں دن بدن عرب دنیا کمزور ہو گی آج بھی دیکھ لیں اسرائیل محفوظ جبکہ ایرانی پراکسی پاکستان سمیت ہر جگہ سے سعودیہ کی شامت لا رہے ہیں یہ ایران کا مڈل ایسٹ میں اسرائیل کے لئے رول ہے
علیمہ خان نے اس دورد پڑھ کر جھوٹ بولنے والے علی محمد کو ڈائس سے ہٹا دیا ہے اور اسی طرح روز دیکھتے ہیں کہ PTI نے ہر پارٹی لیڈر کو ISI کا ایجنٹ قرار دیا ھوا ہے تو اسکا مطلب ہے کہ عمران خان اتنا نااہل اور ڈفر انسان ہے کہ اس نے پارٹی میں سارے فوج اور ISI کے ایجنٹ بھرتی کئے ھوئے ہیں
جی میں نے بغیر میڈیسن شوگر کنٹرول کر لی۔
واک، ورک آؤٹ اور اچھا کھانا۔
سوفٹ ڈرنک ڈیلی سے پندرہ دن میں ایک بار کی۔
ڈائریکٹ شوگر کا استعمال ترک کر دیا۔
باقی کوئی پرہیز نہیں کیا کوئی میڈیسن نہیں استعمال کی۔
تقریباً ڈھائی سال پہلے شوگر کی تشخیص ھوئی اور Hb1ac 11.8 تھی اور دوستوں نے ہزاروں مفید مشورے دئیے لیکن اُن مفید مشوروں کی بجائے صرف ڈاکٹر کی تجویز کردہ میڈیسن لی، Processed Food اور Sugar drinks چھوڑ دئیے، اسکے علاوہ ہر چیز کھاتا اور پیتا رہا۔ اور آخرکار شوگر Reverse کرنے میں کامیاب ھوگیا ھوں اور Hb1ac 5.7 پر آگئی ہے اور ڈاکٹر نے میڈیسن کم کرتے کرتے اب مکمل بند کردی ہے لہذا ذاتی تجربے کی بنا پر کہنا ہے کہ انسانوں کی طرح اچھا کھائیں اور حکیموں اور نیم حکیموں کے مشوروں سے دور رہیں
سہیل آفریدی پرائیویٹ چارٹر طیارے پر سندھ گیا لیکن ایک تحریک انصاف والے نے اعتراض نہیں کیا کیونکہ درباری ہیں۔
مریم نواز لندن گئیں تو سب سے زیادہ شور مسلم لیگ نواز کے کارکنوں نے مچایا اور پنجاب کی انفارمیشن منسٹر کو بیان دینا پڑا۔
اس سے پتہ چل جاتا ہے کہ کون ذہنی غلام ہے!
شکریہ جناب @akleghari صاحب۔
سوا آٹھ بجے بجلی گئی تھی سوا نو پر بجلی آئی تھی۔
نو چالیس پر بجلی پھرچلی گئی ہے۔
لوئرمڈل کلاس اورغریب آدمی جو یو پی ایس افورڈنہیں کرسکتا ان کے لئے آج کل زندگی عذاب ہے کیونکہ رات کو سو نہیں سکتے جس کی وجہ سےدن میں کام نہیں کر سکتے۔
خیر شکریہ سردار جی۔
بطوروزیر بجلی @RPAPPP کےبعدیہ اعزاز@akleghari کوحاصل ہواہےکہ گرمیوں میں لوئرمڈل کلاس اور غریب آدمی کی رات کی نیندچھین لی انہوں نے۔
سردارجی اللّٰہ جزائےخیردےگا آپکو اس کیلئے۔
آٹھ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ میں بھی راتکو چھ گھنٹے بجلی آتی تھی۔ اب آٹھ گھنٹوں کی رات میں تین گھنٹےبند ہوتی ہے۔
بطوروزیر بجلی @RPAPPP کےبعدیہ اعزاز@akleghari کوحاصل ہواہےکہ گرمیوں میں لوئرمڈل کلاس اور غریب آدمی کی رات کی نیندچھین لی انہوں نے۔
سردارجی اللّٰہ جزائےخیردےگا آپکو اس کیلئے۔
آٹھ گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ میں بھی راتکو چھ گھنٹے بجلی آتی تھی۔ اب آٹھ گھنٹوں کی رات میں تین گھنٹےبند ہوتی ہے۔
ثناء اللہ بلوچ صاحب، رقبے اور جغرافیائی لاگت (Cost of Distance) کے اعداد و شمار پیش کر کے اصل سوال سے توجہ ہٹانا قوم پرست سیاست کا پرانا طریقہ ہے۔ NFC فارمولے میں رقبے کو 10 فیصد وزن اسی لیے دیا گیا تھا تاکہ بلوچستان کی جغرافیائی وسعت کا خیال رکھا جائے، اور اسی کی بدولت بلوچستان کو آبادی کے تناسب سے 1.5 گنا زیادہ فی کس وسائل مل رہے ہیں۔ اگر ہر کلومیٹر کے حساب سے فنڈز کا موازنہ پنجاب سے کیا جائے تو پھر یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پنجاب میں فی مربع کلومیٹر آبادی کی کثافت، صنعتی سرگرمیاں اور ٹیکس دینے والے شہریوں کی تعداد بھی بلوچستان سے کئی گنا زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں عمومی مالیاتی تقسیم کا بنیادی محور انسان اور شہری ہوتے ہیں، محض غیر آباد زمین نہیں۔
اگر بالفرض ہم جغرافیائی وسعت کی بھاری لاگت کے اس دلیل کو مان بھی لیں، تب بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وفاق سے سالانہ ایک ہزار ارب روپے سے زائد منتقل ہونے کے باوجود پچھلے 15 سالوں میں یہ اربوں روپے صوبے کے اندرونی حکمرانی کے نظام، تعلیم، صحت اور مقامی انفراسٹرکچر پر درست طریقے سے کیوں نہیں خرچ ہوئے؟ 18ویں ترمیم کے بعد اسکول، ہسپتال، پینے کا پانی اور مقامی سڑکیں بنانا مکمل طور پر صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔
وفاق کا کام بڑی شاہراہیں، اعلیٰ تعلیم اور قومی نوعیت کے منصوبے دینا ہے۔ وفاق نے صرف گوادر اور CPEC کے تحت پورٹ، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ایسٹ بے ایکسپریس وے، ڈی سیلینیشن پلانٹ، پاک چائنا اسپتال اور فری زون جیسے اربوں ڈالر کے بنیادی ڈھانچے ہی نہیں بنائے، بلکہ بلوچستان بھر میں وفاقی مالی اعانت سے یونیورسٹی آف بلوچستان، یونیورسٹی آف تربت، لورالائی یونیورسٹی، اور یونیورسٹی آف گوادر کے قیام اور کیمپسز کو ممکن بنایا، جبکہ بولان میڈیکل کالج، لورالائی، خضدار اور پنجگور میڈیکل کالجز، سبی و مکران کے کیڈٹ کالجز، اور نیول انکلیو اسکولز سمیت دانش اسکولز کا جال پھیلایا تاکہ نوجوانوں کو معیاری تعلیم مل سکے۔
دوسری طرف معاشی پیداوار اور ریاستی نظام میں شراکت کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی کل ٹیکس وصولی (FBR Collection) میں بلوچستان کا براہِ راست حصہ 1 فیصد سے بھی کم ہے، قومی برآمدات میں رجسٹرڈ حصہ 1 فیصد سے کم ہے، اور بیرونی ترسیلاتِ زر میں بھی صوبے کا حصہ 1 فیصد سے کم ہے۔ اس کے باوجود وفاق ہر سال بغیر کسی رکاوٹ کے 1,000 ارب روپے سے زائد کا مالیاتی حجم صوبے کے حوالے کرتا ہے۔ مزید برآں، جہاں ایک طرف ریاست اور قوم نے اپنے وسائل نچھاور کیے، وہاں بدلے میں آئے روز سیکیورٹی اہلکاروں، محنت کشوں اور بے گناہ شہریوں کی لاشیں اٹھانی پڑتی ہیں اور ریاستی سالمیت کو چیلنج کیا جاتا ہے۔
آپ فی مربع کلومیٹر کا حساب تو وفاق سے مانگتے ہیں لیکن صوبائی خزانوں میں آنے والی ایک ہزار ارب کی بھاری رقم اور ان تمام تعلیمی و ترقیاتی اداروں کے ہوتے ہوئے مقامی سطح پر کارکردگی اور امن و امان کا حساب اپنے عوام کو نہیں دیتے،
آپ تو برا مان گئے۔۔
تارگٹ کلر وہاں ہو یہاں ہو لعنت۔
آپ نے اس وقت تک سرکاری پرائیویٹ نوکری نہیں لینی جب تک امریکہ کا ایک بھئ اصلی باشندہ بے روگار ہے۔
امریکیوں کے ٹیکس کے پیسے سے نہ علاج کروانا ہے نہ کوئی اور سہولت لینی ہے۔
آپ کو کوئی امریکی گالیاں دے تو کہنا بھائی تیرا حق ہے میں پناہ گیر ہوں۔
اپنے بتائے سنہری اصولوں پر چلنا ہے۔
یہاں ہم اپنے ساتھ رہنے والے سندھی بھائیوں سے معاملات خوش اسلوبی سے حل کرلیں گی۔
آپ اپنا دیکھیں۔
کتنے پاکستانی امریکہ میں پھٹے ہیں؟ کتنے پاکستانیوں نے امریکہ میں دھشتگردی کی ہے؟ کتنے پاکستانیوں نے امریکہ میں امریکہ مردہ باد کے نعرے وغیرہ لگائے ہیں؟ کتنے پاکستانیوں نے کتنے امریکیوں کے سر کاٹے ہیں؟ کتنے پاکستانیوں نے امریکی فوجیوں پر حملے کیے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ برطانوی ڈیپ سٹیٹ کے ماؤتھ پیس کی کنسٹرکشن بہت پرلطف ہے اور پرانی ہے۔ اس ماؤتھ پیس کا ویسا ہی میڈیائی جواب تخلیق نہ کر پانا اک بدقسمتی ہے۔
لوڑے۔
لیاقت علی خان کو قتل کرنے والا افغانستان سے آیا ۔
سمیع الحق کا لونڈا بھی پشتون تھا۔ بھٹو کو پھانسی دینے والے ضیاء کے سجے کھبے پشتون جنرل تھے جنرل اختر عبدلارحمن ۔
ہزاروں دہشتگردی کے واقعات میں سے تجھے یہ دو واقعات نظر آئے۔
عمران شفقت صاحب آپ سے اختلاف کرونگی یہاں۔ مجھے یہ بتائیں جب کوئی مائک اور کیمرہ پر بیٹھا اپنی طرف سے الف لیلہ کی کہانیاں گھڑ رہا ہوتا ہے۔ ڈس انفارمیشن پھیلا رہا ہوتا ہے جو آج کی دنیا کا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے حکومتوں کے لئے تو اسکی روک تھام کس طرح کی جائے ۔ دنیا بھر میں اب ڈس انفارمیشن کیخلاف قانون بن رہے ہیں ۔ ہاں صحافی کا کام ایک تاریخ دان طرح ہوتا ہے۔ وہ موجودہ سیاسی حالات کو ریکارڈ پر من و عن لاتا ہے ساتھ اپنا ذاتی موئقف بھی دیتا وہ ذاتی موئف دینا ہر انسان کا حق ہے اور وہی آزادای اظہار رائے کہلاتی ہے ۔ لیکن اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ گھڑ کر مرچ مصالحہ لگا کر کلک بیٹ کے لئے تھمب نیل پر سنسنی خیز مقابلے کی دوڑ کا حصہ بننے، بے لگام ڈس انفارمیشن پھیلانے پر قانون ضررو حرکت میں آنا چاہیے ۔ اب یہ قانون کا استعمال فوجی ، سیاسی یا کوئی بھی مشہور شخصیات کر سکتی ہیں اگر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہو۔ آپ چھپر پھاڑ کر غلط بیانات کھلے عام دیتے جائیں پھر آپ قانون کے تحت جوابدہ ہونے پر آزاد اظہار رائے پر قدغن کا مصنوعی ماتم کریں یہ مناسب رویہ نہیں ۔ یہاں وزیر داخلہ بالکل ٹھیکہ کہہ رہے ہیں
ابھی بھی غریب پر دحم حکومت کرے۔
غریب خود پر رحم کرنے جو فیار نہیں اس ملک میں۔
یہ بھٹو کے لگائی تباہی ہے جس کی آبیاری اسلام فروش ضیاء الحق نے نے بھرپور طریقے سے کی اور پھر جعلی سیکولر مشرف نے اسے تنآور درخت بنا دیا جا کی جڑیں کئی نسلوں بعد کھوکھلی ہوں گی۔
پاکستان میں تاجر مہنگی قیمت لیتے مگر مال گھٹیا دیتے ہیں یہاں ایک ڈینش جوتوں کا برانڈ ہے ایکو مہنگا ہے مگر پندرہ سال پرانے جوتے بالکل ویسے ہی ہیں جب پاکستان گیا تو سروس والوں کے جوتے گرمیوں کے لئے لایا اچھے خاصے مہنگے سینڈل اور چپل تھے یہاں ایک آدھ دفعہ پہنے ان کے حصے اتر کر گرنے لگے مہنگے برانڈ سے بچوں کے پاکستانی سٹائل کپڑے لائے جب یہاں کھولے ان پر ہاتھوں کے کالے دھبوں کے نشان تھے بارہ کلو مصالحہ تھے دیکھائے کچھ پیک جو زیرہ کیا اس میں سونف اور مٹی ملی تھئ حالانکہ وہ ہمارے پرانے جاننے والے دو دفعہ ورکر کو انکل نے کہا ان کو ٹھیک مال دینا مگر ورکر نے پھر ہاتھ لگا دیا بے ایمانی کو ہم پاکستانی غلط نہی سمجھتے ہیں جہاں دا لگے لگا لیتے مگر حکمران ہمیں فرشتے چاہیں
سرکارہی غریب پررحم کرےغریب خودپر رحم نہ کرے۔
ہر رکشےوالا غریب،
نناوے فیصد رکشے والے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کےساتھ لوگوں کو ہراساں کرتے ہیں۔
کچھ کہہ دو تو فوراً غریب کارڈ باہر۔
ہر ریڑھی بان غریب،
نناوے فیصد ریڑھی بان سڑکوں کر درمیان کھڑے ہیں کچھ کہہ تو غریب کارڈ باہر۔
اسلام آباد جیسا چھوٹے سائز کا شہرعملی طور پر ایک صوبہ ہی ہے۔ یہاں کے حالات دیکھ کر خود اندازہ لگا لیں چھوٹے صوبے بنانے سےگورننس کتنی بہتر ہوجائے گی۔
یہی اشرافیہ چھوٹے صوبوں میں بھی ایسی ہی گورننس کرے گی کیونکہ توجہ ان کی سوچ اور پڑھائے جانے والے سلیبس بدلنے کی بجائے جغرافیائی باؤنڈریز پر ہے تاکہ مزید اشرافیہ سرکاری پروٹوکول اور وسائل استعمال کر سکے۔
حکمرانی کرنے والے لوگوں کی ذہنیت بدلیں تب ہی کولیپسڈ سسٹم تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس اشرافیہ کو دُنیا کا بہترین سسٹم دے دیں، کارکردگی ایسی ہی رہے گی۔
It’s not the gun but man behind the gun