مریم نواز شریف پہلی بار حکومت میں آئی ہیں اور سیاست کی پیچیدگیوں سے نابلد ہیں۔ ان کے دائیں بائیں مریم اورنگزیب اور اعضمی بخآری ہیں اور باقی ٹیم میں طلائع آزما سیاستدان ہیں جن کا کام ہی مال بنانا یا بے وقوف بنانا ہے۔ انھوں نے ایسے کام پر لگا دیا ہے جس میں مال بنے اور فوٹو بنے۔
🚨مریم صاحبہ پنجاب کے لئے کچھ کرنا چاہتی تو یہ کریں ایک منصوبہ ایک حل 👇
کل راولپنڈی میں ایک بیس سال کے نوجوان نے بجلی کے بل کی وجہ سے خودکشی کی پنجاب میں غربت بڑھ رہی معاشی بوجھ ہے بجلی بل پیٹرول گیس اور لوکل ٹیکسوں جرمانوں نے کمر توڑ دی ہے
مریم نواز اگر واقعی پنجاب کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہیں تو صرف سڑکوں، فٹ پاتھوں اور تزئین و آرائش سے آگے بڑھیں بیروکریسی نے آپ کو غلط سمت لگا دیا ہے پنجاب کو اس وقت ایک صنعتی انقلاب کی ضرورت ہےآپ ایک صنعتکار گھرانے سے یہ کام آپ کریں
حقیقت یہ ہے کہ پنجاب میں صنعت کا بنیادی ڈھانچہ موجود اس کو جدید کرنا ہے پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات تقریباً 13.6 ارب ڈالر (Jul-Mar FY26) رہیں، مگر رفتار سست پڑ رہی ہے سیالکوٹ دنیا کے تقریباً 70٪ فٹبال بناتا ہے اور سالانہ کروڑوں بال برآمد کرتا ہے۔سرجیکل انسٹرومنٹس کی برآمدات 400 ملین ڈالر ہیں اور یہ صنعت مسائل کا شکار ہیں گروتھ سلو ہے ماڈرنائزیشن نہی ہے بجلی گیس کے مسائل ہیں لاگت کا اشو ہے
پنجاب کا اصل ماڈل اس طرح بن سکتا ہے :
فیصل آباد میں ٹیکسٹائل اور گارمنٹس پر فوکس
سیالکوٹ میں سرجیکل اور اسپورٹس
گوجرانوالہ میں انجینئرنگ اور فاؤنڈری
وہاڑی/خانیوال میں ایگرو پروسیسنگ
رحیم یار خان میں فوڈ ایکسپورٹس
راولپنڈی میں آئی ٹی اور دفاعی سپلائی چین
ہر ضلع میں ایک اسپیشل اکنامک زون بنا دیں اور ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ ہو سکل ٹرینگ ہو ایکسپورٹ سپورٹ سینٹر بنا دیں ایریا وائز فوکس ہو اس پر لوکل منتحب قیادت کو ذمہ دارئ دیں ۔
اگر چین کم مارجن صنعتوں سے نکل رہا ہے تو پنجاب کو وہ جگہ لینی چاہیے چین سے دوستی کب کام آئے گی ؟
10 لاکھ نوجوانوں کو روزگار دینے کا راستہ یہی ہے، صرف فیس لفٹنگ سے یہ کام نہی ہو گا لوگوں کو معاشی لفٹ دیں خوشحال کریں خواتین کو آگے لائیں ان کو صنعتیں کھول کر دیں
پنجاب کا نعرہ یہ بنا دیں
ہر ضلع، ایک صنعت اور ہر گھر، ایک روزگار۔
@miandawoodadv@khalidmabbasi یوں لگتا ہے کہ سپریم کورٹ سے نسلہ ٹاور کا فیصلہ اس لئے دلوایا گیا ہے کہ کل جب اسلام آباد والے ٹاورز کا کیس آئے تو اسے ریگولرائز کرنے کا جواز اور راہ ہموار ہو جائے۔
لبنان میں اسرائیل کی جانب سے ہونے والی بربریت پر شاہزیب خانزادہ کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں!!!
اے دنیا کے منصفو!
ظلم رہے اور امن بھی ہو !
کیا ممکن ہے تم ہی کہو!
https://t.co/UgJczVc7GQ
@KhSaad_Rafique@KhawajaMAsif غالباً تخت لاہور پر جب سیاسی کارکنان پر موروثیت کو ترجیح دی گئی اور کھوسہ صاحب کو نظر انداز کیا گیا تو انھوں نے مسلم لیگ سے اپنی راہیں جدا کر لیں تھیں۔ یہی وجہ جناب جاوید ہاشمی، زعیم قادری شاہد خاقان اور چوہدری نثار کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے۔
District Administration Islamabad has issued new timings for commercial activities in light of ongoing austerity measures.
All shops, markets, and shopping malls will close at 8:00 PM, while restaurants, food outlets, and marriage halls will close by 10:00 PM. Essential services including pharmacies, petrol pumps, and food essentials will remain operational.
Citizens are requested to cooperate and ensure compliance, thank you
سو روپے کما کر ہزار روپے خرچ کرنے والی حکومت سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ اگر حکمران اشرافیہ کو یہ بات سمجھ آ جائے کہ اپنی چادر کے مطابق پائوں پھیلانے ہیں ورنہ کسی بہتری کی توقع کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ حکمران کفائت شعاری اپنا لیں تو قوم ان کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی۔
اس بحران سے جو دباؤ ہم پر آئے گا، اس کا حل صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم پاکستان کی پیداواری صلاحیت بڑھائیں۔ ہمیں اپنی زرعی پیداوار کو فروغ دینا ہوگا، درآمدات میں کمی لانی ہوگی، اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے حُد حُد کوشش کرنی ہوگی۔ حکومت آئندہ دنوں میں بزنس کمیونٹی کے ساتھ مل کر اس پر جامع حکمت عملی ترتیب دے گی، تاکہ زیادہ سے زیادہ زرعی اور صنعتی پیداوار حاصل کی جا سکے۔
ہماری معیشت خلیجی ممالک سے بھی جڑی ہوئی ہے، اور تقریباً 40 ارب ڈالر کی ریمٹنسز ہماری معیشت کا اہم حصہ ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنی اندرونی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہوگا، توانائی اور وسائل کے ضیاع کو کم کرنا ہوگا، اور محنت اور لگن کے ساتھ اپنی صنعت، زراعت اور ایکسپورٹس کو فروغ دینا ہوگا۔
یہی وہ راستہ ہے جو ایک ذمہ دار قوم بحران کے دوران اپناتی ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ پاکستان کے ہر نوجوان، ہر شہری اور ہر بزرگ اس قومی مشن کا حصہ بنے گا۔ اگر ہم سب متحد ہو کر کام کریں تو نہ صرف اس چیلنج پر قابو پائیں گے بلکہ ایک مضبوط، خودمختار اور خوشحال پاکستان تعمیر کریں گے۔
یاد رکھیں، محنت اور اتحاد ہی وہ طاقت ہیں جو کسی بھی بحران کو موقع میں بدل سکتی ہیں—پاکستان زندہ باد!
@Shabanashaukat4 اسے کہتے ہیں کہ سو جوتے بھی کھانے ہیں اور سو پیاز بھی! اس سے بہتر ہوتا کہ کچھ لیوی ٹیکس مزید کم کردیا جاتا۔ اب جو طریقہ کار اپنایا ہے اس سے وسائل بھی ضائع ہونگے اور غریب کو کوئی خاطر خواہ فایدہ بھی نہ ہو گا۔ رہا سہا تشہیری مہمات میں لگا دیں گے اور رزلٹ زیرو!!!
@ArifRetd خبر یہ ہے کہ کسی دوسرے دوست ملک کی منت سماجت کر کے اس سے قرض لیکر یو اے ای کا قرض ادا کر رہے ہیں۔ کشکول ابھی پھینکا نہیں ہے اور نہ ہی اپنی عیاشیوں کو کم کرنے کے لئے تیار ہیں کتنے شرم کی بات ہے ۔
@KhSaad_Rafique@ashfaq0620 حکومتی اشرافیہ اپنے اللے تللے چھوڑنے پر کیوں تیار نہیں ہے؟ اپنی چادر کے مطابق پائوں پھیلائیں، شاہ خرچیاں کم کریں، سادگی اختیار کریں اور اپنے وسائل کے اندر رہ کر جینا سیکھیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ آخر کب تک قرضے لیکر عیاشیوں اور شاہ خرچیوں پر قومی وسائل ضائع کریں گے۔
سب سے پہلے حکومتی اداروں پر مالی ایمرجنسی نافذ کی جائے اور تمام غیر ضروری اخراجات کو کم کیا جائے تاکہ عوام کے اعتماد میں اضافہ ہو۔ افسر شاہی کے اللے تللے ختم کیے جائیں تو شاید تیل کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کرنے کی نوبت ہی نہ آئے۔
عالمی حالات کی وجہ سے ابھی پیٹرولیم مصنوعات میں شاید 150 روپے تک اضافہ ہونا ہے۔ عوام یہ اضافہ قبول کر لے گی لیکن حکومت پورے ملک میں درج ذیل یکساں پالیسی لاگو کر دے۔
پہلی:- ججز سے لیکر ہر طرح کے سرکاری ملازم و افسر کیلئے مفت پیٹرول اور بجلی کی سہولت ختم
دوسری:- محلے کی دکانوں بشمول بیکری، میڈیکل سٹورز وغیرہ غروب آفتاب کے بعد اگر کوئی کمرشل دکان یا مرکز کھلا پایا گیا تو 1 ہفتے کیلئے سیل بمعہ جرمانہ
آئندہ ایک برس کیلئے اراکین اسمبلی، سرکاری افسروں، ججز وغیرہ کیلئے ہر طرح کی نئی گاڑیوں کی خریداری بند۔۔۔
آئندہ ایک برس کیلئے تمام صوبوں اور وفاقی کی اشتہاری مہم بشمول سوشل میڈیا اخراجات مکمل بند
ایسی سخت ایمرجنسی ریاست اور حکومت خود پر لاگو کرنے کے بعد پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے جتنی مرضی ٹیکس جیسے مرضی لاگو کرے، عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونگے، ورنہ ابھی تو سوشل میڈیا پر گالیاں پڑ رہی ہیں، آئندہ چند ہفتے بعد گلی محلوں میں بھی حکمران، سرکاری افسران اور ججز نکلنے کے قابل نہیں رہیں گے۔