The worst feeling in life is being left hanging in self-doubt, wondering what you possibly did wrong to deserve such a cold attitude. Sometimes it completely eats me up. If people ask me what I'm good at... I guess I'm good at making enemies without any reason AT ALL... ISTG💔
رکھی تھی تصویر تمہاری آنکھوں میں
ہم نے ساری رات گزاری آنکھوں میں
رات ہوئی تو سارے بدن میں پھیل گئی
دن بھر جتنی آگ اتاری آنکھوں میں
ساری ساری رات تماشہ چلتا ہے
آئے جب ترا خواب ہماری آنکھوں میں
جیتے جی دھندلا جائے نا ممکن ہے
جینے کی امید ہماری آنکھوں میں
جاذلؔ ہر منظر سے حیرت چن چن کر
ڈال رہا ہوں باری باری آنکھوں میں
#ستمبر27_مارچ_ہو_کر_رہے_گا
میں نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس معاشرے سے استاد کی اہمیت ختم ہو رہی ہے، استاد کا احترام ختم ہو رہا ہے، لیکن میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ استاد کی عزت ختم نہیں ہو رہی، بلکہ ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے ناسور ضرور پیدا ہو گئے ہیں جو استاد کا روپ دھار کر اس مقدس پیشے کی عزت
استاد تو روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے، اور باپ کا سایہ بھی تحفظ اور شفقت کی علامت ہوتا ہے۔
استاد آج بھی معاشرے میں موجود ہیں، لیکن ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ایک استاد کی وجہ سے پورے اساتذہ کے اصل فرائض انجام دینے والوں پر سوال اٹھا دیتے ہیں۔
زندگی ایک نوٹ بک
قسط دوم
از قلم ایلاف رائٹس
@Elaf_Writes
"خالی صفحات"
کچھ عمر تک انسان کو لگتا ہے کہ زندگی ایک ایسی کتاب ہے جس کے صفحات کوئی اور پلٹ رہا ہے۔
بچپن میں فیصلے ہمارے لیے کیے جاتے ہیں
کیا پہننا ہے، کہاں جانا ہے، کس وقت واپس آنا ہے، کس سے بات کرنی ہے، کس سے نہیں۔
ہمیں صرف جینا ہوتا ہے، سوچنا نہیں۔
پھر ایک عمر آتی ہے۔۔۔
جب اچانک زندگی ہمارے سامنے ایک خالی صفحہ رکھ دیتی ہے۔
نہ اس پر کوئی جملہ لکھا ہوتا ہے
نہ کوئی سمت نشان زد ہوتی ہے
نہ یہ بتایا جاتا ہے کہ اگلی سطر کہاں سے شروع کرنی ہے۔
بس ایک خاموش سوال ہوتا ہے
اب تم کیا ��کھو گے؟
شاید یہی وہ عمر ہے جہاں انسان پہلی بار اپنے وجود کی ذمہ داری محسوس کرتا ہے۔
اس سے پہلے تک جو کچھ تھا، وہ بہت حد تک دوسروں کے فیصلوں کا حصہ تھا
پھر آہستہ آہستہ انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اب اس کے انتخاب ہی اس کی شناخت بنیں گے۔
کس خواب کے پیچھے جانا ہے
کس راستے سے واپس آنا ہے
کس شخص کو اپنی کہانی میں جگہ دینی ہے
کس تعلق کو صرف ایک سبق سمجھ کر چھوڑ دینا ہے
کس درد کو اپنے اندر زہر بننے دینا ہے اور کس درد کو حکمت۔
خالی صفحہ خوبصورت بھی ہوتا ہے اور خوفناک بھی۔
خوبصورت اس لیے کہ اس پر ابھی کچھ خراب نہیں لکھا گیا۔
اور خوفناک اس لیے کہ اب غلطی کا الزام کسی اور پر نہیں ڈالا جا سکتا۔
ہم اکثر زندگی میں اس مقام پر کھڑے ہو کر ڈر جاتے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کوئی ہمیں بتا دے کہ صحیح کیا ہے۔
کوئی پہلے سے لکھا ہوا نقشہ ہمارے ہاتھ میں تھما دے۔
کوئی کہہ دے کہ یہ راستہ خوشی تک جاتا ہے۔
یہ شخص تمہیں کبھی نہیں چھوڑے گا
یہ خواب ضرور پورا ہوگا
یہ فیصلہ کبھی غلط ثابت نہیں ہوگا۔
مگر زندگی ایسی ضمانتیں نہیں دیتی۔
وہ صرف صفحات دیتی ہے۔
اور قلم ہمارے ہاتھ میں رکھ دیتی ہے۔
پھر ہم لکھتے ہیں۔
کبھی جلدی میں
کبھی جذبات میں
کبھی دوسروں کو خوش کرنے کے لیے
کبھی خود کو ثابت کرنے کے لیے۔
کبھی ایک ایسا فیصلہ کر بیٹھتے ہیں جسے برسوں بعد پڑھ کر سوچتے ہیں
"کاش میں نے یہ سطر نہ لکھی ہوتی"
مگر وقت کی کتاب میں "کاش" کے لیے الگ صفحہ نہیں ہوتا۔
جو لکھ دیا، وہ لکھ دیا۔
البتہ ایک چیز ہمیشہ باقی رہتی ہے
"اگلا صفحہ"
شاید زندگی کا سب سے بڑا رحم یہی ہے کہ انسان کو ہر غلطی کے بعد ایک نیا صفحہ ملتا ہے۔
ہم اپنے ایک غلط ب��ب کو پوری کتاب سمجھ لیتے ہیں۔
ایک ناکامی ہوتی ہے اور ہم خود کو ناکام سمجھ لیتے ہیں۔
ایک رشتہ ختم ہوتا ہے اور ہمیں لگتا ہے محبت ختم ہوگئی۔
ایک خواب بکھرتا ہے اور ہمیں لگتا ہے ہمارے اندر خواب دیکھنے کی صلاحیت بھی مر گئی۔
ایک دعا پوری نہیں ہوتی اور ہم سمجھتے ہیں شاید ہماری دعا کی کوئی قدر نہیں۔
حالانکہ وہ صرف ایک صفحہ تھا۔
پوری کتاب نہیں۔
زندگی کے خالی صفحات ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ہر چیز پہلے سے لکھی ہوئی محسوس ہونے کے باوجود ہمارے پاس ��نتخاب باقی رہتا ہے۔
ہم حالات کا انتخاب ہمیشہ نہیں کر سکتے
مگر اپنے ردِعمل کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
ہم یہ طے نہیں کر سکتے کہ کون ہمارے ساتھ رہے گا،
مگر یہ طے کر سکتے ہیں کہ کسی کے چلے جانے کے بعد ہم اپنے اندر کیا باقی رکھیں گے۔
ہم یہ نہیں طے کر سکتے کہ کون سا خواب ٹوٹے گا،
مگر یہ ضرور طے کر سکتے ہیں کہ ٹوٹے ہوئے خواب کے ملبے پر بیٹھے رہنا ہے یا اسی سے کوئی نئی بنیاد بنانی ہے۔
اور شاید یہی بلوغت ہے۔
زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق لکھنا نہیں
بلکہ جو صفحہ ملے، اسے سمجھ داری سے مکمل کرنا۔
کبھی کبھی خالی صفحات ہمیں تنہائی دیتے ہیں۔
وہ وقت جب انسان کے پاس نہ کوئی واضح منزل ہوتی ہے، نہ کوئی ایسا شخص جس سے اپنے سارے سوال پوچھ سکے۔
وہ راتیں جب انسان اپنے ہی خیالات کے ساتھ بیٹھا رہتا ہے۔
اپنے مستقبل کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے
میں آخر بنوں گا کیا؟
میری زندگی کا مطلب کیا ہے؟
میں جو کر رہا ہوں، کیا واقعی یہی میرا راستہ ہے؟
شاید ہمیں ان سوالوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔
کیونکہ ہر خالی صفحہ فوراً جواب مانگنے کے لیے نہیں ہوتا۔
کچھ صفحات صرف سوچنے کے لیے ہوتے ہیں۔
کچھ خاموشیاں انسان کو اپنے اندر کی آواز سنانے کے لیے آتی ہیں۔
اور کبھی کبھی جب دنیا کے سارے شور خاموش ہو جاتے ہیں، تب انسان پہلی بار اپنے رب کی طرف متوجہ ہو کر پوچھتا ہے
یا اللّٰه ! میں اپنی زندگی میں کیا لکھوں؟
شاید یہ سوال خود ایک دعا ہے۔
کیونکہ جب انسان اپنی مرضی کی کہانی لکھنے سے آگے بڑھ کر اپنے رب سے سمت مانگتا ہے، تو خالی صفحہ اتنا خوفناک نہیں رہتا۔
پھر اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر سطر کا نتیجہ جاننا ضروری نہیں
ضروری یہ ہے کہ نیت درست ہو، قدم درست سمت میں ہو، اور دل اپنے رب سے جڑا رہے۔
ہم اکثر اپنی زندگی کا بہترین صفحہ لکھنے کے چکر میں رہتے ہیں۔
مگر شاید زندگی ہم سے بہترین صفحہ نہیں مانگتی۔
وہ صرف سچا صفحہ مانگتی ہے۔
ایسا صفحہ جس پر ہماری اپنی خوشی ہو، ہماری اپنی غلطی ہو، ہماری اپنی توبہ ہو، ہماری اپنی کوشش ہو۔
ایسا صفحہ جسے پڑھتے ہوئے ہمیں یہ نہ کہنا پڑے
یہ زندگی تو میں نے دوسروں کی خواہش پر گزاری تھی۔
کیونکہ سب سے بڑا افسوس شاید ناکام ہونے کا نہیں ہوگا
سب سے بڑا افسوس یہ ہوگا کہ
ہمیں صفحات تو اپنے ملے تھے، مگر ہم نے پوری کتاب دوسروں کے ہاتھ میں دے دی۔
اس لیے اگر آج زندگی کا کوئی صفحہ خالی ہے تو اسے دیکھ کر پریشان مت ہوں۔
خالی ہونا ہمیشہ ادھورا ہونا نہیں ہوتا۔
کبھی خالی صفحہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ
کہانی ابھی باقی ہے۔
ا��ھی ایک خواب لکھا جا سکتا ہے۔
ابھی ایک معافی لکھی جا سکتی ہے۔
ابھی ایک دعا لکھی جا سکتی ہے۔
ابھی ایک نئی ابتدا ممکن ہے۔
اور شاید سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ
کل کے صفحات جیسے بھی تھے
آج کا صفحہ ابھی آپ کے سامنے ہے۔
قلم اٹھائیے.....
مگر اس بار جلدی نہ کیجیے.....
سوچ کر لکھیے.....
کیونکہ زندگی کی نوٹ بک میں ہر صفحہ دوبارہ نہیں ملتا۔
اور شاید خالی صفحات ہمیں اس لیے نہیں دیے گئے کہ ہم اپنی مرضی کی زندگی لکھیں
بلکہ اس لیے کہ ہم اپنے اختیار کو پہچان سکیں۔
زندگی کا کمال یہ نہیں کہ ہم نے کتنے خوبصورت صفحات لکھے
بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے حصے کے اندھیروں میں بھی کیا لکھا۔
آخرکار کتاب بند ہو جائے گی
صفحات پلٹنا رک جائیں گے
اور ہمارے ہاتھ سے قلم بھی چھوٹ جائے گا۔
اس لیے جو صفحہ آج ہمارے سامنے ہے
اسے اتنا سچا لکھیں کہ کل اسے پڑھتے ہوئے
ہمیں اپنے آپ سے نظریں نہ چرانا پڑیں۔
جاری ہے...
مشکلوں سے جو ڈر گئے ہوتے
زندہ کب رہتے مر گئے ہوتے
وہ نہ کرتے جو رہبری اپنی
ہم نہ جانے کدھر گئے ہوتے
گھر ہمارا اگر نہیں ہوتا
حادثے کس کے گھر گئے ہوتے
شہر کی زندگی سے بہتر تھا
گاؤں میں اپنے مر گئے ہوتے
کاش ہم بھی کسی کی راہوں میں
خاک بن کر بکھر گئے ہوتے
زندگی میں کبھی نعیمؔ آنسو
دو گھڑی تو ٹھہر گئے ہوتے
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
قریب موت کھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
قضا سے آنکھ لڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
تھکی تھکی سی فضائیں بجھے بجھے تارے
بڑی اداس گھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
نہیں امید کہ ہم آج کی سحر دیکھیں
یہ رات ہم پہ کڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
ابھی نہ جاؤ کہ تاروں کا دل دھڑکتا ہے
تمام رات پڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
پھر اس کے بعد کبھی ہم نہ تم کو روکیں گے
لبوں پہ سانس اڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
دم فراق میں جی بھر کے تم کو دیکھ تو لوں
یہ فیصلے کی گھڑی ہے ذرا ٹھہر جاؤ
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
روزنِ قرطاس | 21 ستمبر 2026
ایک لفظ، سو کہانیاں
کب��ی کبھی ایک لفظ
پورا قصہ اپنے اندر چھپا لیتا ہے۔
ایسا ہی ایک لفظ ہے:
"واپسی"
کسی کے لیئے یہ انتظار ہے،
کسی کے لیئے پچھتاوا،
کسی کے لیئے ایک نیا آغاز...
اور شاید کسی کے لیئے ناممکن خواب ہے۔
آپ کے لیئے "واپسی" کیا ہے؟
🖋️ صرف دو سطریں لکھیئے،
مگر لفظ "واپسی" استعمال نہیں کرنا۔
مل کر دیکھتے ہیں کہ یہ ایک لفظ
کتنی کہانیاں کو جنم دیتا ہے۔
قرطاس! الفاظ سے احساس تک
نیند کے روشن باب کی اب بھی گنجائش ہے
آنکھوں میں اک خواب کی اب بھی گنجائش ہے
گاؤں نما گھر شہر میں لاکھ بنایا لیکن
آنگن در محراب کی اب بھی گنجائش ہے
مجھ کو دکھ دینے والوں مایوس نہ ہونا
آنکھوں میں سیلاب کی اب بھی گنجائش ہے
رات کے دامن میں روشن ہیں کتنے جگنو
لیکن اک مہتاب کی اب بھی گنجائش ہے
ساحل پر آ کر بھی ایسا کیوں لگتا ہے
جیسے اک گرداب کی اب بھی گنجائش ہے
نیا زمانہ ہم کو بھی تسلیم ہے لیکن
ان پچھلے آداب کی اب بھی گنجائش ہے
چیخ رہی ہے زیست کے دریا کی خاموشی
اک موج بیتاب کی اب بھی گنجائش ہے
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
#ہماری_منزل_آزادی
قصیدہ فتح کا دشمن کی تلواروں پہ لکھا ہے
جو ہم نے نعرۂ تکبیر یلغاروں پہ لکھا ہے
شناسائی بھی تیرے شہر میں جب اجنبی ٹھہری
تو اپنا نام ہم نے گھر کی دیواروں پہ لکھا ہے
شب غم آسماں کو تاکتا رہتا ہوں پہروں یوں
کہ جیسے گردش قسمت کا حل تاروں پہ لکھا ہے
عمل سے دوستو دنیا ہے جنت بھی جہنم بھی
نصاب زندگی انساں کے کرداروں پہ لکھا ہے
اسے پوجے ہے مضطرؔ اگتا سورج جان کر دنیا
کہ جس نے نام اپنا وقت کے دھاروں پہ لکھا ہے
#ستمبر27_فیصلہ_کن_مارچ
میں نعرۂ مستانہ میں شوخئ رندانہ
میں تشنہ کہاں جاؤں پی کر بھ�� کہاں جانا
میں طائر لاہوتی میں جوہر ملکوتی
ناسوتی نے کب مجھ کو اس حال میں پہچانا
میں سوز محبت ہوں میں ایک ��یامت ہوں
میں اشک ندامت ہوں میں گوہر یک دانہ
کس یاد کا صحرا ہوں کس چشم کا دریا ہوں
خود طور کا جلوہ ہوں ہے شکل کلیمانہ
بازگشت🖋️
ازقلم : سیدہ اّم ہانی
@_SUM_786_
میں اور قرطاس📃
زندگی کے اوراق بھی عجب مزاج رکھتے ہیں کچھ نام وقت کی گرد میں گم ہو جاتے ہیں، اور کچھ ملاقاتیں پوری داستان کا رخ بدل دیتی ہیں کچھ لوگ اس کے صفحات پر چند سطریں لکھ کر گزر جاتے ہیں کچھ حاشیوں میں اپنے نشان چھوڑ جاتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے رویّوں سے انسان کو اپنی ہی ذات کے کسی باب سے بےدخل کر دیتے ہیں۔
میں نے بھی زندگی کے اس سفر میں لوگوں کو آتے دیکھا، جاتے دیکھا کہیں الفاظ کی قدر نہ ہوئی، کہیں خلوص کو کم مائیگی سمجھا گیا، کہیں اپنائیت کے پردے میں منافقت کے چہرے دکھائی دیے۔ رفتہ رفتہ دل پر ایسی پژمردگی طاری ہوئی کہ جن چیزوں سے کبھی اُنس تھا، اُنہی سے کنارہ کشی اختیار کرنے لگی۔
لکھنا بھی انہی چیزوں میں سے ایک تھا۔
قلم میرے لیے فقط اظہارِ خیال کا وسیلہ نہ تھا میرا بہترین رفیق تھا۔ الفاظ آتے تھے تو میں انہیں کاغذ پر اتار دیتی تھی احساس جاگتا تھا تو اسے تحریر کا پیرہن عطا کر دیتی تھی۔ مگر پھر ایک ایسا وقت آیا جب لوگوں کے رویّوں نے مجھے اپنے ہی ہنر کے بارے میں متذبذب کر دیا۔ لوگوں کے رویّوں نے میرے اندر یہ گمان اتار دیا کہ شاید میرے الفاظ اب وہ تاثیر نہیں رکھتے جو کسی دل کی دہلیز تک پہنچ سکیں؛ شاید میری تحریر کے بین السطور چھپا احساس کسی کی نگاہِ فہم سے گزرنے کے قابل نہیں رہا۔ شاید میرے الفاظ اتنے معتبر نہیں۔ شاید میری تحریر میں وہ تاثیر نہیں جس کا میں گمان کیے بیٹھی ہوں۔
اور انسان جب بارہا اپنے ہونے پر سوال سنتا ہے تو ایک وقت آتا ہے جب وہ خود بھی اپنے آپ سے سوال کرنے لگتا ہے۔
سو میں نے قلم رکھ دیا۔
الفاظ مرے نہیں تھے، بس اُنہیں آواز دینے والا حوصلہ کہیں تہِ دل میں دب گیا تھا۔
پھر ایک روز، جانے کس ساعتِ قبول میں، میرے خاموش الفاظ کو قرطاس کا پتا مل گیا اور یہی وہ آشنائی تھی جس نے مجھے پھر سے میرے اندر چھپے ہوئے لکھاری سے ملا دیا۔ وقت نے ایک ایسا ورق پلٹا، جس کے دوسری جانب میرا سامنا قرطاس سے تھا اور مجھے کیا خ��ر تھی کہ یہ محض ایک ملاقات نہیں میرے بچھڑے ہوئے الفاظ سے میری دوبارہ شناسائی کا آغاز ہے۔
نہ معلوم یہ محض ایک اتفاق تھا یا میرے بکھرے ہوئے الفاظ کی کوئی دیرینہ دعا کہ قرطاس کے دروازے سے گزرتے ہی مجھے پہلی بار "جنگ" کے موضوع پر لکھنے کا موقع ملا۔
میں نے لکھا۔
شاید مجھے خود بھی خبر نہ تھی کہ اس ایک لفظ کے پردے میں میرے اندر کتنے برسوں سے جمع ایک جہانِ معنی سانس لے رہا ہے۔ میں نے وہ تحریر قرطاس کے حوالے کی اور پھر شاید پہلی بار مدتوں بعد کسی نے میرے الفاظ کو محض پڑھا نہیں، سمجھا۔
میری تحریر کی پذیرائی ہوئی۔
مجھے سراہا گیا۔
اور یہ محض چند تعریفی الفاظ نہ تھے یہ میرے لیے اُس یقین کی واپسی تھی جسے میں لوگوں کے رویّوں کے ہاتھوں کہیں کھو بیٹھی تھی۔
قرطاس نے مجھے باور کرایا کہ میرے اندر وہی قلم ابھی زندہ ہے جسے میں مدت سے خاموش سمجھ بیٹھی تھی۔ اس نے میرے الفاظ میں وہ صلاحیت دیکھی جسے میں خود لوگوں کی باتوں کے زیرِ اثر بھلا چکی تھی۔
پھر مجھے میری تحریر پر سندِ امتیاز ملی۔
میں اوّل آئی۔
یہ کامیابی صرف ایک پوزیشن نہ تھی میرے لیے یہ اُس خاموش سوال ک�� جواب تھی جو مدت سے میرے اندر گونج رہا تھا کہ کیا میرے الفاظ کی تاثیر اب کسی دل کی دہلیز تک پہنچنے سے قاصر تھی؟
پھر قرطاس نے میرے الفاظ کو یوں تھاما کہ مدتوں سے سویا ہوا یقین پھر سے جاگ اٹھا۔
اور پھر میں لکھتی چلی گئی۔
ایک موضوع سے دوسرے موضوع تک، ایک لفظ سے دوسرے لفظ تک، میں اپنے ہی اندر کے اُن دریچوں کو کھولتی چلی گئی جن پر مدتوں سے خاموشی کی تہہ جمی تھی۔ ہر تحریر کے ساتھ قلم میں اعتماد بڑھتا گیا، الفاظ میں پختگی اترتی گئی اور مجھے اپنے اُس ہنر کا ادراک ہونے لگا جسے میں نے دوسروں کی بےقدری کے سبب اپنے ہی وجود سے منقطع کر دیا تھا۔
قرطاس نے میرے اندر کے لکھاری کو محض ��ریافت نہیں کیا،
اسے نکھارا، سنوارا اور اظہار کا قرینہ عطا کیا۔
اور شاید کسی پلیٹ فارم کی سب سے بڑی عطا یہی ہوتی ہے کہ وہ آپ کو وہ دکھا دے جو دنیا کی نگاہوں سے اوجھل رہ گیا ہو۔
وقت گزرتا گیا۔
وہی قلم جسے میں نے کبھی خاموشی کے سپرد کر دیا تھا، قرطاس پر پھر سے رواں ہوا۔ تحریریں سفر کرتی رہیں، لفظ اپنا راستہ بناتے رہے، اور میں انجانے میں اُس راستے پر آگے بڑھتی گئی جہاں ایک دن مجھے احساس ہوا کہ میں محض ��رطاس پر لکھنے والی نہیں رہی
میں قرطاس کا حصہ بن چکی ہوں۔
آج جب ماضی کے ان اوراق کو پلٹتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ بعض ملاقاتیں محض ملاقاتیں نہیں ہوتیں؛
وہ انسان کی سمت بدل دیتی ہیں۔
کچھ لوگ ہمیں ہمارے ہونے پر شک میں مبتلا کر جاتے ہیں،
اور کچھ ایسے مل جاتے ہیں جو ہمیں ہمارے ہی وجود کا وہ روشن پہلو دکھا دیتے ہیں جس سے ہم بےخبر ہو چکے ہوتے ہیں۔
میرے لیے قرطاس بھی شاید ایسی ہی ایک ملاقات ہے۔
اس نے مجھے کوئی نیا ہنر نہیں دیا؛
اس نے تو بس میرے اندر چھپے اُس ہنر پر سے غفلت کی گرد جھاڑ دی۔
اس نے میرے ہاتھ میں قلم نہیں تھمایا،
مجھے میرے قلم کا یقین واپس دیا۔
اور شاید اسی لیے قرطاس سے میری وابستگی کسی ادارے، کسی پلیٹ فارم یا کسی پینل کا حصہ بن جانے تک محدود نہیں۔
یہ اُس سفر کی وابستگی ہے
جس میں میں نے دوسروں کی دی ہوئی خاموشیوں سے نکل کر
اپنے الفاظ کی آواز دوبارہ سنی۔
یہ اُس یقین کی وابستگی ہے
جو کبھی لوگوں کے رویّوں میں کہیں گم ہوگیا تھا۔
اور یہ اُس قرطاس کی وابستگی ہے
🫶🏻🫀🤌🏻
قرطاس اپنے قارئین کی خدمت میں "ادھورے خواب" کے عنوان سے "نیناں حسن" @Salenophile786 کی قسط وار ک��انی پیش کر چکا ہے۔ آج سے اسی سلسلے کی نئی کڑی "زندگی ایک نوٹ بک" از قلم "ایلاف رائٹس" @Elaf_Writes کا آغاز کیا جائے گا۔
ہمارے قارئین میں سے کوئی بھی اپنی کہانی قرطاس کے پلیٹ فارم سے پوسٹ کروانا چاہے تو ہمیں ڈی ایم کیجیئے @QirtasWrites پر اور موقع دیجیئے کہ ہم آپ کے خوبصورت الفاظ قرطاس کی زینت بنا سکیں۔
کیونکہ قرطاس لفظوں سے بڑھ کر خیالات کے سفر میں آپ کا شریکِ سفر بنے کا ہمیشہ متمنی رہے گا۔