پاکستانی میڈیا کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ حامد میر نے نے اسامہ بن لادن کا جعلی انٹرویو کرکے کیا تھا کہیں سے اسامہ کی چند تصویریں حاصل کی اور دعوی کیا کہ میں نے افغانستان جاکر انٹرویو کیا ہے اور اس میں اپنی طرف سے ہی اسامہ بن لادن کے پاس ایٹم بم ہونے کا شوشہ بھی چھوڑدیا تھا۔
کمپنی کی مسلط کردہ جعلی حکومت نے عوام پر دوہرا ظلم کیا ہے :
ایک تو بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا کر غریب آدمی کا جینا مشکل کر دیا
اور دوسرا مزدور طبقے کے روزی روٹی کے وسائل بھی کہیں محدود اور کہیں ختم کر دئیے ہیں
سینکڑوں ٹیکسٹائل ملیں بند ہو گئیں ، لاکھوں لوگ بیروزگا ہو گئے، سڑکوں کے کنارے ، چوکوں چوراہوں پہ ٹھیلے اور ریڑھیاں لگانے والوں پر پیرا فورس بنا کر چھوڑ دی
رکشہ ، پک اپ وغیرہ میں کچھ کھانے وغیرہ بنا کر بیچنے والوں کو ٹریفک پولیس اور پیرا فورس دونوں کو کہیں ٹکنے نہیں دیتے،
مزدرو طبقہ اور بائیکیا وغیرہ چلانے والوں کو بھاری چالان کھا گئے
کئی بار عرض کیا کہ اگر لوگ جان جانے کے خوف سے گھروں سے نہیں نکلیں گے تو گھر بیٹھے بیٹھے ہی بھوک اور مہنگائی سے مار دئیے جائیں گے
#گورنر_راج_نامنظور
عمر ڈار کا پولیس کو آفر !!
ہمارے گھر اور دفتر کو پولیس سٹیشن ڈیکلیئر کردیا جائے!!
خواجہ آصف ڈرپوک انسان, دیکھ لو تم کتنے ڈرپوک ہو, پہلے ایک بزرگ خاتون سے سیٹ خوری کرکے اس سیٹ پر بیٹھ گئے, اور اب 24 گھنٹے پولیس بھی انکے گھر کے آگے کھڑی کردی ہے!!
مہنگائی سے تنگ عوام
سابق ن لیگی ایم پی اے عبدالرزاق ڈھلوں سے شہری کی تلخ کلامی آپ لوگوں کو استعمال کرتے ہو مجھے اندر کروا دو پہلے ہی غربت سے تنگ ہیں ۔سابق ایم پی اے کا غصہ آپکے سامنے
اسٹیبلشمنٹ اگلے الیکشن سے پہلے پاکستان تحریک انصاف کو بہت کمزور کرنا چاہتی ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ کے پاس اس وقت ن لیگ اور پیپلز پارٹی آپشن نہیں ہیں کیونکہ عوامی طاقت عمران خان کے پاس ہے اس لئے پرسنل لڑائی ختم کرنی چاہیے کسی کو جا کر عمران خان کو منانا ہو گا
نجم سیٹھی
اپنوں نے ہی سیٹنگ کے تحت گرفتار کیا اور سیٹنگ کے تحت رکھا ہوا ہے۔پر ایسے کرنے سے مقبولیت بڑھے گی تو نہیں۔پبلک اب بڑی سیانی ہے سب سمجھتی ہے۔
نوٹ: یہ سب سہیل آفریدی کے حوالے سے نہیں ہے 😉
آپ اس سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ لوگ غمران خان سے کتنے خوفزدہ ہیں۔۔
چھانگلہ گلی گلیات پارک میں لگی غمران خان صاحب کی یہ تصویر بھی ان کے اعصاب پر سوار تھی جس کو آج ہٹا دیا گیا
اللّٰہ پاک کسی کو دشمن بھی دے تو ظرف والا دے غمران احمد خان نیازی کا خوف ہے اور یہ ہمیشہ ہوگا انشاءاللہ
فیصل آباد: چناب چوک کی مسجد والی گلی میں ٹریفک وارڈنز کی چھپ کر موٹر سائیکل سواروں کو پکڑنے اور چالان کرنے کی مہم کا ایک اور خطرناک واقعہ سامنے آ گیا۔
مبینہ طور پر وارڈنز کی طرف سے اچانک موٹر سائیکل کو روکنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل سوار کا توازن بگڑ گیا اور وہ سڑک پر گر کر ساتھ کھڑی ایک گاڑی سے جا ٹکرایا ۔ اس حادثے کے بعد موٹر سائیکل کا انجن آئل بھی لیک ہو گیا۔
خوش قسمتی سے شہری محفوظ رہا لیکن غصے میں آ کر اس نے موقع پر ہی وارڈن کو پکڑ لیا۔ اس دوران وہاں موجود دوسرے وارڈن کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ "میں آپ کا نقصان پورا کرتا ہوں
شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گلیوں میں چھپ کر چالان کرنے کی اس غیر قانونی روش اور وارڈنز کی اس غیر ذمہ دارانہ حرکت کا فوری نوٹس لیا جائے۔
*ملک میں دو کانیں ہیں، ایک بند ہو گئی ہے*
پہلی کان ریکوڈک ہے، جس میں 80 ارب ڈالر کا سونا ہے۔ وہ زمین میں ہے، تالا لگا ہے، چابی بیرک گولڈ کے پاس ہے، اور وہ کہہ رہے ہیں 2028 میں کھولیں گے۔
اور اس 80 ارب کو ہم 8 ٹریلین بنا کر بیچ رہے ہیں، جیسے قربانی کا بکرا 2 من کا ہو اور بیوپاری 20 من بتا کر بیچے۔
دوسری کان مڈل کلاس تھی۔ وہ زمین پر تھی، روز کھلتی تھی، روز سونا دیتی تھی۔ دکان کھلتی تھی، فیکٹری چلتی تھی، ٹیکس آتا تھا، بچہ سکول جاتا تھا۔
وہ کان ہم نے خود بند کر دی۔ بجلی کا بل، اسکول کی فیس، اور سود نے اس کو کھا لیا۔ اب اس کی جیب میں مہینے کے آخر میں 3 ہزار بچتے ہیں، اور دل میں صرف ایک دعا - کہ اللہ خیر کرے۔
اب تماشا دیکھیں
قرضہ ہے 83 ٹریلین، جو 80 ارب سے اتارنا ہے
بھوک ہے 2026 کی، جو 2028 کے سونے سے مٹانی ہے
دکان ہے بند، اور ہم کان کا اشتہار لگا رہے ہیں
بھائیو، کان ماں زمین نے کہیں نہیں جانا، وہ وہیں پڑی ہے۔ دکان چلی گئی تو واپس نہیں آتی۔
پہلے دکان بچاؤ، پھر کان بیچنا۔ ورنہ ایسا نہ ہو کہ 2028 میں کان کھلے اور خریدنے والا کوئی نہ ہو، کیونکہ سارے گاہک تو 2026 میں ہی بھوکے مر گئے
ساڑھے چار کروڑ عوام کے صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا ساتویں روز بھی کچھ پتہ نہیں
کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے کا وزیراعلیٰ ہی یوں اچانک لاپتہ ہو جائے - ارشاد بھٹی
اس ہفتے کی تین خبریں۔
1- خطے میں پاکستان غربت میں سب سے آگے۔
2- بھوک غذائی قلت میں بھی پاکستان بھارت ، بنگلہ دیش سرلنکا سے آگے۔
3۔ پاکستان مقروض ممالک کے گروپ کا سربراہ مقرر۔
تفصیل کلپ میں۔
فرعون کا دریائے نیل میں ڈوبنے کا کوئی پروگرام نہیں تھا،مگر وہ ڈوب گیا۔ شدّاد اپنی جنت میں صدیوں عیش کرنے چلا تھا، مگر دروازے پر پہنچ کر مر گیا۔ نمرود صدیوں حکومت کرنے کے خواب دیکھتا رہا، مگر ایک مچھر نے اُس کا غرور خاک میں ملا دیا۔ یزید نے حضرت امام حسینؓ کو شہید کرکے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کا خیال کیا، مگر اُس کی بادشاہت بھی چند برسوں سے آگے نہ چل سکی۔
تاریخ کا یہ سبق آج کے اربابِ اقتدار کے لیے بھی ہے کسی عہدے کی طوالت، طاقت کے بے دریغ استعمال یا مخالفین کو پابندِ سلاسل کرنے سے اقتدار کے دائمی ہونے کی ضمانت نہیں مل جاتی۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی، اور جو آج خود کو ناقابلِ شکست سمجھتے ہیں، وہی کل تاریخ کے کٹہرے میں کھڑے ہو سکتے ہیں۔
یاد رکھیے، عوام کو ہمیشہ دبایا نہیں جا سکتا، اختلافِ رائے کو ہمیشہ قید نہیں رکھا جا سکتا اور اقتدار کو ہمیشہ کے لیے مٹھی میں نہیں بھینچا جا سکتا۔ اللہ کی پکڑ کا وقت کوئی نہیں جانتا، مگر تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ غرور میں کیے گئے فیصلے بالآخر حکمرانوں کے لیے عبرت بن جاتے ہیں
ہمارا دل بالکل اداس تھا کہ یہ چیز نہ ہو ہمیں بالکل خوشی نہیں ہے لیکن ہم مجبور تھے کیونکہ ہم کراچی سے پشاور جنازوں میں پہنچ جاتے تھے صوبائی حکومت کا ایک بندہ نہیں ہوتا تھا ! نقوی ۔۔
یہ انسانی تاریخ کی پہلی حکومت ہے جو جنازوں میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے ختم کی گئی ۔۔
بلوچستان سے کمشنر رخشان ڈیویژن اسداللہ کاکڑ اغواء۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلےبھی بلوچستان سےحالیہ مہینوں میں متعددسرکاری اہلکار، پولیس، اےسی، ڈی سی اغواءہوتےرہےہیں۔ کیاایسےواقعات پختونخواءمیں ہوئے؟ کیافائدہ آپکی تابعداربلوچستان حکومت کا؟کیااس سےنافرمان پختونخواء حکومت اچھی ناتھی؟