میں آہستہ آہستہ خود کو یہ سکھا رہا ہوں کہ کسی اور کی ہنگامی صورتحال میری ہنگامی صورتحال نہیں ہے۔
میں اُن لوگوں کے لیے میلوں دوڑتا رہا، جو میرے لیے ایک قدم بھی اٹھانے کو تیار نہیں تھے۔
وہ گم نہیں ہوتے ، آگے بڑھ جاتے ہیں ۔۔۔
They outgrow...
اس لیے وہ کبھی دوبارہ ملیں بھی جائیں تو وہ version جو ہم سے شناسائی رکھتا ہے وہ ماضی کا حصہ ہوتا ہے ۔
۔۔۔بہت قدیم فراق تھا جس میں
ایک مقرر حد سے آگے
سوچ نہ سکتا تھا دل میرا
ایسی صورت میں پھر دل کو
دھیان آتا کس خواب میں تیرا
راز جو حد سے باہر میں تھا
اپنا آپ دکھاتا کیسے
سپنے کی بھی حد تھی آخر
سپنا آگے جاتا کیسے۔۔۔
منیر نیازی
ہمارے آج کے خدشات؛
بلوچستان اور کے پی میں مارا ماری چل رہی ہے۔ آزاد کشمیر میں صورتحال مخدوش ہے۔ ہم اس بات پر غور کر رہے ہیں اتنی انسانی جانوں کے جانے کا حتمی نتیجہ کیا ممکن ہے؟ کیا پاکستان اسی طرح مارا ماری کو کچل دے گا جس طرح سری لنکا نے تاملوں کو کچل دیا تھا یا انڈیا نے سکھوں کو کچل دیا تھا؟
اگر بلوچستان یا کوئی اور علاقہ پاکستان کے کنٹرول سے نکل جاتا ہے تو کیا وہاں پر امن ہوگا یا ہر طرف سے ہمسایہ ممالک اپنی اپنی پراکسیز بنا کر محنت جاری رکھیں گے؟
ریاست پاکستان کتنا جانی یا معاشی نقصان برداشت کرسکتی ہے؟ پاکستان کی موجودہ ریاست کے اندر حالات بہتر ہوسکتے ہیں؟
کیا محض خاکی اور ایٹمی نسخوں ملک مستقل طور پر چلایا جاسکتا ہے؟ اگر ریاستی ڈھانچہ بیٹھ گیا تو عوام کا کیا بنے گا؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ خاکی اور ایٹمی کا کیا بنے گا؟
ثنا اللہ گوندل
گئےدنوں کی بات کرلو
ہوسکےتویادکرلو
بہارخوشبوبارش دھنک رنگ
تم پھرسےویساپیارکرلو
خیال میں سب ممکن نہیں ہے
کےرفتہ رفتہ اوجھل ہواہوں
ہاں پھرسےپڑھ لوتم ہاتھ میرا
پھرسےکچھ کچھ اختیارکرلو
کروتم مجھ سےوہی سب وعدے
کےتوڑےجاتےنہی ارادے
ہاں چھوڑےجانےکی ریت سےپہلے
پھرخودکوویسابیزارکرلو
#فانی
بینکوں کا موقف یہ ہے کہ وہ اسٹیٹ بینک کے قواعد کے تحت یہ تمام دستاویزات حاصل کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بینک اپنی ویب سائٹ پر ایک ہی مرتبہ کیوں نہیں لکھ دیتے کہ کیا کیا درکار ہے؟ اور یہ غلط بیانی کیوں کی جا رہی ہے کہ بینک اس کے چارجز وصول نہیں کر رہے؟ اور تیسری بات، جب آپ نے صارف کا پلاٹ ہی رہن رکھ لیا اور اس کی اصل رجسٹری رکھ کر اس سے لکھوا لیا کہ نادہندہ ہونے کی صورت میں بینک جائیداد کا مالک ہو گا، تو اس کے بعد اس دھماچوکڑی کی کیا تُک ہے؟
اصل میں مسئلہ کچھ اور ہے۔ ان عیاش بینکوں کو عادت پڑ چکی ہے کہ وہ لوگوں کا پیسہ ڈپازٹ کی صورت میں جمع کریں اور اسے بغیر کسی محنت کے حکومت کو مہنگے قرضوں (T-Bills) کی شکل میں دے کر اربوں روپے کا مفت منافع کمائیں۔
ممکن ہے کچھ لوگ کہیں کہ بینک ایک کروڑ دے رہا ہے تو اپنی تسلی تو کرے گا۔ جی بالکل، تسلی کرے، مگر ذلیل نہ کرے۔ جس قسم کی دستاویزات مانگی جا رہی ہیں، ان میں سے آدھی غیر ضروری ہیں، جن کا مقصد صارف کو تھکانے اور وزیرِ اعظم کی اسکیم کا جنازہ نکالنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ جس کو یقین نہیں آتا، وہ خود سرکار کے ہی بینک میں قرض کی درخواست جمع کروا کے دیکھ لے۔
تاہم اب بھی دیر نہیں ہوئی، بشرطیکہ اس ضمن میں کچھ کام کر لیے جائیں۔ سب سے پہلے تو غیر ضروری دستاویزات ختم کی جائیں۔ جو کاغذات بینکوں نے ویب سائٹ پر مانگے ہیں، وہ کافی ہیں۔
اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو پابند کر رکھا ہے کہ وہ مقررہ وقت میں قرضے کی درخواست نمٹائیں، مگر اس پر عمل نہیں ہو رہا۔ لہٰذا یقینی بنایا جائے کہ مکمل درخواست وصول کرنے کے بعد بینک زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں قرضہ جاری کرے گا۔ ہر قسم کی پراسیسنگ فیس ختم کی جائے۔ بینک مارک اپ انہی کاموں کے لیے لیتا ہے، لہٰذا اس کے لیے الگ سے پیسے اینٹھنے کی ضرورت نہیں۔ مسترد کی جانے والی درخواستوں کے لیے ایک علیحدہ اپیل کا نظام بنایا جائے۔
وزیرِ اعظم کی اپنا گھر ایک نیک نیتی سے بنائی گئی اسکیم ہے۔ 3.2 کھرب روپے کا اعلان، پانچ فیصد مارک اپ، بیس سال کی مہلت، ایک غریب ملک میں یہ کسی کرشمے سے کم نہیں۔ ضرورت صرف بینکوں کو صراطِ مستقیم پر لانے کی ہے، اور یہ کوئی مشکل کام نہیں۔
اپنا گھر اسکیم اور بینکوں کی کاہلی
ایک شریف آدمی نے بینک میں قرضے کی درخواست دی۔ بینک افسر نے کاغذات دیکھے اور بولا، “آپ کا کریڈٹ اسکور بہت کم ہے، ہم آپ کو قرضہ نہیں دے سکتے۔”
آدمی نے کہا، “خدارا، کوئی طریقہ نکالیے۔”
بینک افسر نے سرگوشی کی، “میری ایک آنکھ شیشے کی ہے، اگر تم بتا دو کہ کون سی ہے تو میں تمہارا قرضہ منظور کر دوں گا۔”
آدمی نے افسر کی آنکھوں میں دیکھا اور بولا، “آپ کی بائیں آنکھ اصلی ہے۔”
بینک والا دنگ رہ گیا۔ “کمال ہے! تمہیں کیسے پتا چلا؟”
آدمی نے اطمینان سے جواب دیا، “کیونکہ صرف اسی آنکھ میں انسانی ہمدردی کی کچھ چمک نظر آ رہی تھی۔”
بچپن میں جب ہم اس قسم کے لطیفے پڑھتے تھے تو انہیں مبالغہ آرائی پر محمول کرتے تھے، لیکن اب بینکوں کا چلن دیکھ کر ان پر یقین آ گیا ہے۔ بظاہر پاکستان کا بینکنگ نظام بہت عمدہ ہے، آج تک یہاں کوئی بینک نہیں ڈوبا، ڈیجیٹل بینکنگ میں بھی ہم دنیا سے پیچھے نہیں، لچھے دار گفتگو کوئی ہم سے سیکھے۔
پاکستانی بینک یہ سب کچھ کرتے ہیں مگر اپنا اصل کام نہیں کرتے، یعنی صارفین کو قرض دینا۔ تازہ ترین ثبوت اس کا وزیرِ اعظم کی اپنا گھر اسکیم ہے۔ اگر آپ کی کوئی مستقل آمدنی ہے، اپنا کام ہے یا کہیں ملازمت کرتے ہیں، اور اس کا ثبوت پیش کر سکتے ہیں تو اپنا گھر بنانے کے لیے ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ آپ کو فقط پانچ فیصد مارک اپ پر مل سکتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں عوام کے لیے اس سے عمدہ اسکیم پیش کرنا ممکن نہیں تھا۔
اس وقت اسٹیٹ بینک کا اعلان کردہ پالیسی ریٹ ساڑھے گیارہ فیصد ہے، جس کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ اگر آپ بینک سے عام صارف کے طور پر قرضہ لیں گے تو آپ کو کم از کم ساڑھے سولہ فیصد سود پر قرض ملے گا، جبکہ وزیرِ اعظم کی اسکیم کے تحت آپ نے صرف پانچ فیصد دینا ہے۔ باقی کا مارک اپ حکومت اپنی جیب سے بینک کو ادا کرے گی، اور اس مد میں تین سو ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
یعنی اگر متوسط طبقے کا کوئی شخص ساٹھ، ستر ہزار روپے ماہانہ کرائے پر رہ رہا ہے تو وہ تین یا پانچ مرلے کا گھر بنا کر باآسانی اتنی ہی رقم قرضے کی قسط کی صورت میں ادا کر سکتا ہے اور کرایہ دار سے مالکِ مکان بن سکتا ہے۔ اس اسکیم میں کوئی خرابی نہیں ہے، خرابی صرف بینکوں میں ہے، جنہوں نے اس اسکیم کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے۔
آپ کسی بھی بینک کی ویب سائٹ پر چلے جائیں، ہر بینک نے وزیرِ اعظم کی اپنا گھر اسکیم سے متعلق معلومات فراہم کر رکھی ہیں، جن میں لکھا ہے کہ کون یہ قرضہ لے سکتا ہے اور اس کی کیا شرائط ہیں۔ درخواست فارم، شناختی کارڈ، ایک تصویر، حلفیہ بیان کہ آپ کے نام کوئی گھر نہیں، اس پلاٹ کے کاغذات جس پر آپ گھر تعمیر کرنا چاہتے ہیں، ملازمت کا ثبوت، سیلری سلپ، ساٹھ دن کی بینک اسٹیٹمنٹ، اور بس۔
لیکن معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ جب آپ یہ کاغذات جمع کروانے بینک جاتے ہیں تو آپ کے ہاتھ میں ایک نئی فہرست تھما دی جاتی ہے کہ یہ دستاویزات بھی لے کر آئیں۔
اس میں تین حلفیہ بیانات ہیں، جن میں ایک ہی بات مختلف انداز میں لکھی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ہاؤسنگ سوسائٹی سے دو قسم کے این او سی، متعلقہ دفتر سے گھر کا منظور شدہ نقشہ، دو لوگوں کے حوالے جو آپ کو جانتے ہوں، ان کے شناختی کارڈ وغیرہ، پلاٹ کی رجسٹری مع ملکیتی خط۔
ساتھ یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ بینک اس قرضے کو منظور کرنے کی کوئی فیس نہیں لے گا، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب آپ دو ماہ بعد تمام کاغذات پورے کر کے بینک جاتے ہیں تو آپ سے دستاویزات کے پلندوں پر دستخط کروائے جاتے ہیں، جن میں یہ تک پوچھا جاتا ہے کہ جہاں آپ رہتے ہیں، اس کے دائیں جانب کون قیام پذیر ہے، اوپر کون رہتا ہے، نیچے کون رہتا ہے، آپ کے مکان کا رنگ کیا ہے۔
جن دو لوگوں کا آپ نے حوالہ دیا تھا، ان کے علاوہ اپنے دفتر میں کام کرنے والوں کا حوالہ بھی دیں۔ اور سنیے، بینک نے کچھ کمپنیاں ہائر کر رکھی ہیں، جن کا کام آپ کے پلاٹ کی قیمت کا تخمینہ لگانا ہے۔ اس کے چوبیس ہزار روپے آپ نے ادا کرنے ہیں۔ اس کے بعد ایک شخص آپ کی آمدن کا حساب لگائے گا، اس کی فیس کے پندرہ ہزار روپے بھی آپ نے دینے ہیں۔ پھر ایک دن آپ نے اصل رجسٹری لے کر کچہری جانا ہے، جہاں آپ کا پلاٹ رہن رکھا جائے گا، وہ سارا خرچ بھی آپ نے کرنا ہے۔
https://t.co/pGXAvmYk1o