موت: ارتقا کی ضرورت یا زندگی کی آخری رکاوٹ؟
شاید موت زندگی کی دشمن نہیں تھی؛ شاید وہ ارتقا کا وہ ذریعہ تھی جس نے زندگی کو انسان تک پہنچایا۔ اور شاید اب وقت آ گیا ہے کہ انسان اس ارتقائی سفر کا اگلا مرحلہ خود طے کرے۔
کائنات میں زندگی کا آغاز ہوا تو اس کے پاس نہ شعور تھا، نہ کوئی منصوبہ، نہ مستقبل کا تصور۔ صرف ایک بنیادی اصول تھا: زندہ رہنا اور اپنی نسل کو آگے منتقل کرنا۔
لاکھوں کروڑوں سال کے دوران جینیاتی تغیرات، قدرتی انتخاب اور نسل در نسل تبدیلیوں نے زندگی کو سادہ جانداروں سے پیچیدہ حیاتیاتی نظاموں تک پہنچایا۔ اس طویل سفر میں موت نے ایک غیر معمولی کردار ادا کیا۔
موت نے پرانی نسلوں کے لیے جگہ بنائی تاکہ نئی نسلیں وجود میں آ سکیں۔ ہر نئی نسل میں جینیاتی تبدیلیوں کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ جو خصوصیات ماحول کے لیے زیادہ موزوں تھیں، وہ آگے بڑھتی گئیں، جبکہ کم موزوں خصوصیات وقت کے ساتھ ختم ہوتی گئیں۔
اس لحاظ سے موت صرف اختتام نہیں تھی؛ وہ انتخاب کا ایک ذریعہ بھی تھی۔
اگر تمام جاندار ہمیشہ زندہ رہتے، تو نسلوں کی تبدیلی انتہائی سست ہو سکتی تھی۔ آبادی بڑھتی، وسائل محدود ہوتے، اور ماحول میں تبدیلی آنے کی صورت میں ایک پوری نسل اپنی پرانی حیاتیاتی خصوصیات کے ساتھ پھنس سکتی تھی۔
موت نے زندگی کو ایک ایسی لچک دی جس نے اسے بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ مسلسل مطابقت پیدا کرنے کا موقع دیا۔
لیکن پھر ایک حیرت انگیز موڑ آیا۔
ارتقا نے ایسی مخلوق پیدا کی جو صرف ماحول کے ساتھ مطابقت پیدا نہیں کرتی تھی، بلکہ اپنے ماحول کو تبدیل کرنے لگی۔
وہ مخلوق انسان تھی۔
انسان نے آگ پر قابو پایا، زراعت ایجاد کی، شہروں کو جنم دیا، طب کو ترقی دی، بیماریوں کا مقابلہ کیا، جینیاتی کوڈ کو سمجھا اور اب مصنوعی ذہانت، جینیاتی انجینئرنگ اور regenerative medicine جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے حیاتیاتی زندگی کی حدود کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہاں ایک بنیادی فلسفیانہ سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر ارتقا نے انسان کو اتنی ذہانت دے دی ہے کہ وہ قدرت کے قوانین کو سمجھ اور تبدیل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، تو کیا موت بھی ایک دن انسان کے لیے قابلِ شکست مسئلہ بن سکتی ہے؟
شاید مستقبل میں انسان موت کو مکمل طور پر ختم نہ کر سکے، لیکن بڑھاپے، بیماری اور جسمانی زوال کو بہت حد تک روکنے یا مؤخر کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
یہاں ایک اہم فرق بھی سمجھنا ضروری ہے۔
ارتقا نے ہمیں موت سے لڑنے کی خواہش دی، لیکن ٹیکنالوجی ہمیں اس لڑائی کے اوزار دے رہی ہے۔
تاہم اگر انسان بہت طویل عمر حاصل کر بھی لے تو ایک نیا مسئلہ سامنے آئے گا۔
وسائل کیسے تقسیم ہوں گے؟
آبادی کیسے متوازن رہے گی؟
نئی نسلوں کے لیے جگہ کیسے بنے گی؟
اور اگر موت بہت کم ہو جائے تو کیا معاشرہ جمود کا شکار ہو جائے گا؟
ممکن ہے کہ مستقبل کی انسانیت کو موت کے بجائے زندگی کے شعوری انتظام کا کوئی نیا نظام تشکیل دینا پڑے۔ شاید عمر، تولید، وسائل اور نسلوں کی تبدیلی کے بارے میں آج سے بالکل مختلف تصورات پیدا ہوں۔
اس لیے شاید اصل سوال یہ نہیں کہ:
“کیا انسان موت کو شکست دے گا؟”
بلکہ اصل سوال یہ ہے:
“اگر انسان موت کو شکست دینے کے قابل ہو گیا، تو کیا وہ ہمیشہ زندہ رہنے والی دنیا کو سنبھالنے کے قابل بھی ہوگا؟”
موت نے شاید زندگی کو ارتقا کا موقع دیا۔
ارتقا نے انسان کو شعور دیا۔
شعور نے انسان کو سائنس دی۔
اور سائنس شاید ایک دن انسان کو موت کی حدود کو تبدیل کرنے کی صلاحیت دے دے۔
لیکن اگر وہ دن آیا تو انسان کو صرف لمبی زندگی نہیں چاہیے ہوگی۔
اسے ایک بہتر زندگی، ایک متوازن معاشرہ، اور ایک ایسا مستقبل بھی بنانا ہوگا جس میں زندگی کی طوالت خود انسانیت کے لیے بوجھ نہ بن جائے۔
شاید موت ارتقا کی آخری منزل نہیں تھی۔
شاید وہ صرف ایک مرحلہ تھا۔
اور شاید انسانیت اب ارتقا کے اس مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں زندگی پہلی مرتبہ اپنے ہی ارتقائی مستقبل کو شعوری طور پر تشکیل دینے کی کوشش کرے گی۔
موت نے زندگی کو آگے بڑھایا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ زندگی موت کی حدود کو کہاں تک پیچھے دھکیل سکتی ہے؟
شہباز شریف کی رخصتی تو طے ہے۔ اگر آئینی ترمیم کر لیتے ہیں تو چھ ماہ بعد رخصتی ہوگی، اور اگر آئینی ترمیم نہیں کرتے تو دو ماہ بعد رخصتی ہو جائے گی۔ ٹیکنوکریٹ سیٹ اَپ آ رہا ہے۔ ممکنہ وزیراعظم کے طور پر محسن نقوی یا اٹارنی جنرل منصور اعوان کے نام زیرِ غور ہیں۔
@pmlndefene انسان جب احتسا کی بات کرتا ہے تو سب سے پہلے آپنے گریبان میں جھانکے اور اپنا احتساب کرے محسن نقوی صاحب کس حیثیت کرکٹ کے چیئرمین بنے ہوئے اور جب سے یہ آئے ہیں کرکٹ کا بیڑا غرق ہوا پڑا ہے -
@saleemspeaks2 ثانیہ مرزہ بالکل پرفیکٹ تھی مگر طلاق کی وجہ عزت و نفس تھی جو بھری محفل میں ملک صاحب کا مزاق اڑایا گیا مرزہ کی سہیلیوں کی طرف سے جسکو مرزہ نیں یہ کہ کر ٹال دیا اتنا تو ہوتا ہی اور اس محفل سے دراڑیں سٹارٹ ہوئیں بات طلاق تک چلی مگر مرزہ نہیں سہیلیوں کو غلط نہ کہا-
یہ کلپ ہزاروں تولہ سونے سے بھی قیمتی ہے
اس کو سمجھیں اور سیریس ہوجائیں
ورنہ ہمارے بچے قیامت کے دن ہمیں جہنم کی طرف دھکیلنےکا سبب بن جائیں گے
بلکہ اس راستہ پے بہت آگے نکل چکے ہیں۔
خاکپائے صحابہ و اہلبیت