فیلڈ مارشل مجھے تاحیات بنا دو، آرمی چیف بھی تاحیات بنا دو، سارا ملک بھی میرے اشاروں پر چلے-
لیکن مجھے کبھی کوئی یہ نہ پوچھ سکے کہ تم نے جو ذمہ داریاں اٹھائیں انھیں پورا بھی کیا یا نہیں؟
واہ تیری استثنیٰ کی خواہشات!
#آئینی_ترامیم_اداروں_کی_تباہی#راستہ_ایک_آزادی_یا_موت
وردی کے خلاف نعرے لگوانے والی وزیراعلیٰ بن سکتی ہے،جلسے میں فوج کو بغاوت پر اکسانے والا ایم این اے بن سکتا ہے،ڈان لیکس کے کردار اقتدار کا حصہ بن سکتے ہیں، روگ آرمی کے اشتہار چلوانے والے اور سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والے حکومت بنا سکتے ہیں تو سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کیوں نہیں بن سکتا ؟؟؟؟؟
سہیل آفریدی کونسلر بنا تو ٹھیک تھا،وہ ایم پی اے بنا تو تب بھی ٹھیک تھا مگر جونہی اسے عمران خان نے وزیراعلیٰ نامزد کیا تو وہ دہشت گرد بن گیا،یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟؟ کیا اب سیاست بھی سرکاری نوکروں کی مرضی سے چلے گی،کیا ملک کی تقدیر کے فیصلے سرکاری نوکر کریں گے ؟
بالکل درست ہے کہ کوئی فرد ریاست سے بالا تر نہیں ہوسکتا،بالکل ٹھیک ہے اسی لئے ہم محب وطن کہتے ہیں کہ کوئی ایک فرد ملکی مفادات کے سودے نہ کرے کیونکہ کوئی ایک فرد ملک سے بالا تو نہیں ہوسکتاخواہ وہ سرکاری نوکر ہی کیوں نہ ہو
ملک ہم سب کا ہے،ہمیں اپنی جان سے عزیز ہے،پاکستان کے اقتدار پر براجمان لوگوں کے لباس سے پاکستان کی شناخت نظر آنی چاہیئے ، موجودہ اقتداری پارٹی کے لوگ پینٹ کوٹ اور ٹائی کا استعمال ایسے کرتے ہیں جیسے وہ پیدا ہی لندن میں ہوئے ہوں،انہیں پاکستانی لباس پہننا چاہیئے تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ یہ پاکستانی وزرا ہیں،صدر یا وزیر اعظم کا تعلق پاکستان سے ہے۔
بھارت ہمارا دشمن ہے مگر نہرو بھی دھوتی کرتا پہنتا تھا،اندرا ساڑھی پہنتی تھی،راجیو،واجپائی،من موہن سنگھ،نرسیماراؤ اور مودی کے لباس سے یہی پتہ چلا کہ وہ بھارت کے سربراہ ہیں مگر جب بھی آصف زرداری اور شہباز شریف یا پھر شہباز شریف کے وزرا کو دیکھا تو ایک لمحے کو بھی احساس نہ ہوسکا کہ یہ پاکستانی ہیں،غلامی لباس تک اتر آئی ہے،یہ ذہنی غلامی ہے اور یاد رکھئیے کہ غلام کبھی آزادانہ فیصلے نہیں کرسکتے بلکہ موجودہ حکمران تو ایسے ہی ہیں جیسے پولیس تھانے نے کچھ سولیین ایجنٹوں کو رکھا ہوتا ہے جو نوکروں کے بھی نوکر ہوتے ہیں
With Commonwealth election observer report officially out, what exact legal or moral authority does the regime in Pakistan has to rule a minute longer?
Not only is the regime illigitimate, but all its appointments, decisions, national awards, and foreign deals are also illigitimate by default.
Unless this elephant in the room is not addressed first, no other issue or analysis, be it economic stability, terrorism, or peace deal with Gaza are worth even debating!
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس، عدالت میں تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ چند ہفتے قبل اس کیس کے مرکزی سرکاری گواہ کو عدالت میں جھوٹا ثابت کر دیا گیا تھا، اسکے بعد کیس بوگس ثابت ہو چکا، اس کے بعد میرے سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر احمد اور ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کرنل ریحان نے بھی تصدیق کی کہ قوائد کے عین مطابق تحفے کی دستاویزات مکمل تھیں۔ تمام وکلاء کی رائے بھی یہی تھی کہ یہ کیس جج کی طرف سے اسی وقت خارج کر دیا جانا چاہیے تھا، اس سب کے باوجود بدنیتی پر مشتمل یہ کیس ابھی تک چلایا جا رہا ہے۔
اسی طرح میرے خلاف دوسرا جھوٹا مقدمہ سائفر کیس، جو کہ پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین کیس ہے، اور جس پر قومی خزانے سے عوام کے کروڑوں خرچ کیے گئے، ہائی کورٹ میں اتنا کمزور ثابت ہوا کہ بنیادی طور پر یہ ٹرائل کورٹ میں ہی قائم نہیں رہنا چاہیے تھا۔
تیسرا بڑا مقدمہ القادر یونیورسٹی کے خلاف بنایا گیا۔ القادر ایک فلاحی تعلیمی ادارہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو بیک وقت سائنسی و مذہبی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ سپریم کورٹ میں فنڈز آنے سے ایک سال قبل قائم کیا گیا تھا- ایک فلاحی ادارے پر بھونڈے سوالات اٹھا کر بے بنیاد کیس قائم کیا گیا جو کہ ٹرائل کورٹ میں ہی ختم ہو چکا تھا۔ اس کیس کے حوالے سے ہم جنوری سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاریخ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس ڈوگر نے 10 ماہ بعد 16 اکتوبر کو اس کی سماعت مقرر کی ہے۔
توشہ خانہ 2 میں جج ارجمند کی جلد بازی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا دے دی جائے تاکہ اس کے بعد القادر کیس میں ضمانت ہو بھی جائے تو بھی میری رہائی ممکن نہ ہوسکے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ بارہ سالوں میں توشہ خانہ سے متعلق تین کیسز اسی جج کے پاس رہے ہیں۔ قانوناً توشہ خانہ سے گاڑیاں گھر نہیں لی جائی ج سکتیں، مگر نواز شریف نے خلافِ قانون توشہ خانہ سے بلٹ پروف مرسڈیز نکلوائی، آصف زرداری نے توشہ خانہ سے ناجائز طور پر 3 گاڑیاں نکلوائیں اور مریم نواز نے توشہ خانہ سے گاڑی نکلوانے کے بعد اسے ٹیکس ریٹرن میں دکھایا اور نہ کہیں ڈیکلیئر کیا۔ یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے اور ان تینوں کیسز کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں مگر ان تینوں کے کیسز لگائے ہی نہیں جارہے جبکہ شفاف طریقے سے حاصل کئے گئے تحائف کے خلاف سیلیکٹو ٹرائل ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔
القادر ٹرسٹ کے کیس میں چونکہ زلفی بخاری نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دینے سے مسلسل انکار کیا، اس لئے انتقام کی سیاست کے تحت پاکستان میں موجود ان کی جائیداد کو نیلام کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ یہی لاقانونیت عاصم لاء ہے۔ اس وقت ملک میں عاصم لاء فیصلوں کی بنیاد ہے کہ اسکے حق میں یا خلاف گئے تو آپ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔
جب آپ عاصم لاء کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ پر کرامات ہوتی ہیں، آپ کا گندم کا اتنا بڑا اسکینڈل بھی ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، آپ توشہ خانہ سے گاڑیاں بھی لے نکلتے ہیں، تو بھی آپ پر کوئی کیس نہیں بنتا۔ شوگر مافیا ہو یا لینڈ مافیا، عاصم لاء کی چھتری تلے ہیں تو آپ کسی قانون کی پکڑ میں نہیں آتے لیکن اگر آپ عاصم لاء کے خلاف جاتے ہیں تو آپ پر بےبنیاد من گھڑت کیس بنائے جاتے ہیں، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، آپ اور آپ کے خاندان پر ہر وہ ظلم کیا جاتا ہے جو اس ملک کی تاریخ میں کسی کے ساتھ نہیں ہوا۔
میں اپنے پاکستانیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بنیادی اخلاقی اور عدالتی اقدار کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ اگر آپ آج اپنے حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے نہیں اٹھیں گے تو آنے والا وقت تباہ کن ہوگا۔ ناانصافی اور فسطائیت کے باعث معیشت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ پچھلے تین سالوں میں تیس لاکھ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ موجودہ نااہل اور جعلی حکومت کی پالیسیوں نے معیشت کو آگے ہی شدید نقصان پہنچایا ہے، ٹیکسٹائل ملیں اپنی برآمدات بند کر رہی ہیں اور غریب عوام تیزی سے غربت کی لکیر کے نیچے جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کا پیغام دیتا ہوں کہ "تیاری پکڑیں"۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (یکم اکتوبر، ۲۰۲۵)
“میں “لا الہ الا اللہ” کا ماننے والا ہوں۔ یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کے خوف اور غلامی سے آزادی دیتا ہے- میری زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے عاصم منیر کے ہاتھ میں نہیں۔ ہمارا ایمان ہی ہماری ”حقیقی آزادی“ کا ضامن ہے، کیونکہ یہ کلمہ انسان کو خوف کی زنجیریں توڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے۔
مجھے توڑنے کی کوشش میں مجھے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، ایک سال سے میرے ذاتی ڈاکٹر کو معائنے کی اجازت نہیں دی گئی، کئی کئی ہفتے تک اخبارات اور ٹی وی بند کر دئیے جاتے ہیں، فیملی ممبران اور وکلا تک کو ملنے سے روکا جاتا ہے- ڈیڑھ سال سے سیاسی رفقأ سے ملاقات نہیں ہونے دی گئی- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر افغانستان کی موجودہ حکومت کی مخالف لابی کو خوش کرنے کی کوشش میں کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے دور میں خطے میں قائم ہونے والے امن کو تباہ کر رہا ہے۔ جہاں ہمارے بہترین تعلقات ہونے چاہییں وہاں جان بوجھ کر حالات خراب کیے جا رہے ہیں- میرا دل اس پر بھی بہت رنجیدہ ہے کہ ہم نے کئی دہائیوں کی مہمان نوازی کے باوجود موجودہ دور میں اپنے افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے باہر نکالا ہے۔ حالانکہ وہاں زلزلہ بھی آیا ہے اور ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیئے-
علی امین گنڈاپور کو خصوصی ہدایت کرتا ہوں کہ افغانستان جائیں اور ان کے ساتھ جا کر بیٹھیں اور باہمی مسائل اورامن و امان کے حوالے سے بات کریں تاکہ حالات کو مزید بگاڑ سے بچایا جا سکے۔ جعلی وفاقی حکومت کو اس بات کا جواب دینا چاہیے، مریم نواز جاپان اور تھائی لینڈ جا سکتی ہے تو خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ اپنے صوبے میں امن کے لیے افغانستان کیوں نہیں جا سکتا؟
خیبر پختونخوا میں اپنے ہی لوگوں کے خلاف ملٹری آپریشن، ڈرون حملوں اور علاقوں سے بے دخلی کروانے کا عمل دراصل تحریک انصاف کی عوامی مینڈیٹ سے بننے والی حکومت کو غیر مقبول کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ علی امین گنڈا پور کو اس آپریشن کے خلاف بھر پور مزاحمت کرنی چاہیئے۔ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب سے تباہ حال ہے۔ اگر وہاں ڈرون حملے اور آپریشن نہ رکا تو یہ بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ ہمارے کتنے پولیس اہلکار بھی جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ یہ آپریشن جب تک بند نہیں ہو گا، لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا اور دہشتگردی مزید بڑھے گی۔
اس وقت پورا ملک سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سیلاب کی وجہ سے لوگوں کا بہت نقصان ہوا ہے۔ پوری قوم کو یکجا ہو کر اس صورتحال کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ میں اگر جیل سے باہر ہوتا تو ضرور فنڈ ریزنگ اور ٹیلی تھون کرتا مگر اب اپنی قوم سے کہتا ہوں کہ وہ بڑھ چڑھ کر اور دل کھول کر ریلیف کے کاموں اور سیلاب متاثرین کی امداد میں حصہ لیں۔
بلوچستان میں سیاسی جلسے پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج میں پوری تحریک انصاف کو شرکت کرنی چاہیے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں گفتگو
(8 ستمبر 2025)
“لوگوں کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے خوف میں مبتلا ہیں۔ اسی خوف کے باعث ہم پر ظلم بڑھایا جا رہا ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ہمیں صرف اس امید کے ساتھ ذہنی اذیت دی جا رہی ہے کہ میں ٹوٹ جاؤں اور اپنے نظرئیے سے پیچھے ہٹ جاؤں۔ مجھے توڑنے کی کوشش کا مقصد عوام کی آواز دبانا ہے۔
یہ وہی طرز عمل ہے جو سقوط ڈھاکہ کے وقت یحیٰی خان کا تھا۔ اس نے بھی صرف اپنے اقتدار کی طوالت کی کوشش میں اندھا ہو کر عوامی آواز کو دبانے کے لیے ہر قسم کی فسطائیت بپا کی اور بالآخر ملک کو توڑ دیا۔ یہ ساری تفصیلات حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں موجود ہیں۔ عاصم منیر بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ملک میں ظلم کر رہا ہے اور ملک کو کمزور کر رہا ہے۔
1971 اور موجودہ دور میں بہرحال فرق صرف یہ ہے کہ آج عوام باشعور ہے۔ سوشل میڈیا نے تمام حقائق عوام پر واضح کر دئیے ہیں اور عوام ظلم کے خلاف اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا سیکھ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے یہ ظلم کا نظام جلد ختم ہو کر رہے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ عوام کی آواز سنی جائے۔
ملک میں سیلاب کی وجہ سے ہر جانب تباہی ہے۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی تباہ حال ہے اب سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی فصلیں، مال مویشی سب ڈوب گئے ہیں۔ جس سے زرعی معیشت مکمل تباہ ہو گئی ہے اور اس کا اثر پورے ملک پر پڑے گا۔ ایسے میں اہم ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں کی امداد کے لیے بلا تفریق سب اپنا کردار ادا کریں۔ اگر میں جیل سے باہر ہوتا تو اس مقصد کے لیے ضرور ٹیلی تھون اور فنڈ ریزنگ کرتا۔ محض حکومتی ادارے اتنی بڑی آفت کا مقابلہ نہیں کر سکتے بلکہ ہر ایک شخص کو اپنا حصہ ڈال کر من حیث القوم اس کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاری سے بچنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر زیادہ سے زیادہ شجر کاری کرنا ہو گی۔
بلوچستان میں اختر مینگل کے والد کی برسی پر حملے کی شدید مذمت اور اختر مینگل سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ بلوچستان کے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ وہاں پر عوامی نمائندگان کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ 8 ستمبر کو محمود اچکزئی کی ہڑتال کی کال پر تحریک انصاف بھر پور شرکت کرے۔ بلوچستان کی عوام کو دہشتگردی اور ہائبرڈ ماحول سے نجات ملنی چاہیے۔
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے وہاں آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے جسے خیبرپختونخوا حکومت کو فوری طور پر بند کروانا ہو گا۔ علی امین گنڈا پور کو خصوصی ہدایت کرتا ہوں کہ صوبے کی عوام پہلے ہی سیلاب کی وجہ سے متاثر ہیں لہٰذا اس آپریشن کے خلاف بھرپور مزاحمت کر کے اسے رکوائیں۔ قبائلی اضلاع میں ہونے والے ڈرون حملے بند کروانا خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔
افغانستان میں زلزلے پر میرا دل بہت رنجیدہ ہے اور مجھے دکھ ہے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو زبردستی ملک سے باہر نکال رہے ہیں جبکہ مشکل کی اس گھڑی میں ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔ خیبرپختونخواہ حکومت کو بھی اپنے افغان بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے-“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ اور وکلأ سے گفتگو (5 ستمبر، 2025)
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
It takes decades, if not a century to produce a leadership sequence that becomes Imran Khan.
What an inspiration for the world, and for me personally; but the idiots chose to go after him!
صرف اس وجہ سے کہ میں پاکستان تحریک انصاف کو اور عمران خان کو سپورٹ کرتی ہوں پچھلے دو ماہ سے میرے گھر کہ بجلی کے میٹرز اس فاشسٹ حکومت نے اتروا لیے گۓ اور اتنی شدید گرمی میں ہم بجلی کے بغیر رہنے پر مجبور ہیں
@MarioNawfal@ryangrim@PTIofficial@BBCUrdu@hrw@amnesty@CNN
To the Duffer, Captain Emaan Durrani,
First off, you made the right call joining the Pakistani military. With interpersonal skills as stiff as a cardboard cutout and soft skills that barely qualify as human, you wouldn’t last a week in the real world, unless you were preaching and entertaining workers at a cigarette factory.
Your hand gestures are weird. Unnatural. Are you overdosing on Bollywood trash again? That last staged YouTube interview <https://t.co/6GiX6Ns5rH> where you read from a paper like a fifth grader in a spelling bee, absolutely pathetic. You were responding to scripted questions with scripted lines, and still managed to make it look like a struggle. You likely used free version of ChatGPT to generate those dialogues, and now here you are, copy/pasting that nonsense again. Expecting you to grow brain cells in a year is clearly asking too much.
Now let’s talk about your latest masterpiece - Did you seriously say there’s accountability in the Pakistan Army? Are you out of your damn mind? Where was the accountability in 1971, when 92,000 Pakistani soldiers dropped their weapons, and their pants, before India and surrendered half the country? Where’s the accountability for losing six strategic territories in Skardu at the same time? Or when your military repeatedly violated the Constitution and its oath by staging martial laws, robing public mandate, again and again, including the ongoing undeclared martial law choking this country for the past three years and counting?
Where’s the accountability for rigging the February 2024 elections, bulldozing the Constitution with your rubber-stamp parliament, and handing out lifetime extensions to power-hungry military dictators?
Who the fuck are you, or your treasonous institution, the Pakistani army, to dictate what’s in the public interest? That decision belongs to the people. The people choose their representatives and decide for themselves and their country. Your job is to defend the borders, not deliver TED Talks to impressionable students with a smug grin and a lousy script.
And by the way, stop pretending the military doesn’t crave validation. If it didn’t, we wouldn’t have clueless, low-IQ puppets like you parading around pretending to be thought leaders. Also, no, joker, the people don’t ask what the country has done for them. The people are the country. What they do for Pakistan is what Pakistan does for them. That’s basic logic. Try absorbing it before you go spewing more recycled slogans. If you're so desperate to talk about what the Pakistan Army has done, how about this:
- Never won a single war.
- Operates like a real estate cartel.
- Manufactures cornflakes, fertilizers, biscuits, and toilet paper.
- Lost half the country to India, the only army in contemporary history to suffer such a defeat.
- Turned Pakistan into a terror nursery while fighting someone else’s war for dollars.
- Sold out Pakistani citizens, mothers, fathers, sons, and daughters, to U.S. for dollars.
- And recently, stole elections and crashed a growing economy.
- Unleashed the worst kind of fascism against its own people.
The list goes on, but I have real work to do.
Cleaning up mess created by unconstitutional adventures of establishment is the real issue here which u have been doing excellently after regime change. Justifying abductions, election rigging and suspension of fundamental rights.
شرمناک
بیغرتی کی انتہا دیکھیں
وردی میں آ کر زبردستی ایک بے ضرر انسان کا دین پر بیان روک دینا بہادری یا اعتماد نہیں بلکہ بزدلی، خوف اور اندرونی طور پہ کھوکھلا ہونے کا واضح ثبوت ہے۔
Justice Aminuddin Khan!
"International human rights law generally prohibits military tribunals from trying civilians, and this principle is affirmed by international bodies like the UN."
Yet 'Respected' Justice Amin thinks otherwise.
@UNHumanRights#militarycourts #HumanRights
A crisis is an opportunity but its outcomes are dependent upon how we respond. We can use them as opportunities to unite or pursue short- term gains. Today's Supreme court verdict allowing the trial of civilians in military courts does not just violate constitutional guarantees but also points to a deeper malaise, Pakistan is caught in an ego battle, we are choosing shortsighted gains over long term nation building.
Quite simple. RELEASE IMRAN KHAN FROM ILLEGAL IMPRISONMENT. People voted for Imran Khan, therefore he is the only one they will trust with decisions concerning the security of Pakistan. How can a government with only 17 seats expect people to stand behind it to decide their fate?
نریندر مودی پاکستانی معیشت کو برباد کرنا چاہتا ہے۔
عاصم منیر پاکستانی معیشت کو برباد کرچکا ہے۔
نریندر مودی پاکستان کو عالمی دنیا میں تنہاء کرنا چاہتا ہے۔
عاصم منیر پاکستان کو دنیا میں تنہاء کرچکا ہے۔
نریندر مودی پاکستانی دریاوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
عاصم منیر دریاوں پر عسکری نہروں کی منظوری دے چکا ہے۔
نریندر مودی پاکستانیوں کے بنیادی انسانی حقوق چھیننا چاہتا ہے۔
عاصم منیر پاکستانیوں کے بنیادی انسانی حقوق چھین چکا ہے۔
بھارت آزاد کشمیر پر عوامی رائے کے خلاف قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
عاصم منیرپورے پاکستان پر عوامی رائے کے خلاف قبضہ جما چکا ہے۔
بھارتی فوج معصوم نہتے پاکستانیوں کی زندگی کی پرواہ نہیں کرے گی
پاکستانی فوج نے چھبیس نومبر کو نہتے پاکستانیوں کی زندگی کی پرواہ نہیں کی۔
نریندر مودی پاکستان کو مقبوضہ کشمیر بنانا چاہتا ہے۔
عاصم منیر پاکستان کو مقبوضہ کشمیر بنا چکا ہے۔