#بریکنگ_نیوز
آج فلسطین کے الضفة الغربية کے جنین علاقے میں یہودی فوج کے وحشیانہ فائرنگ - کئی فلسطینی مسلمان بچے جن کی عمریں 10 سے 12 سال کے درمیان تھیں شہید اور زخمی کردیے گئے - ان ویڈیو میں غاصب صہیونیوں کی درندگی دیکھی جاسکتی ہے
پوری دنیا میں حماس کے نام پر پراپیگنڈا کرنے والا اسرائیل کیسے بچوں کو شہید کررہا ہے یہ ثبوت کافی ہیں - غزہ کے 10 ہزار سے زائد بچوں کا قتل عام بھی پوری دنیا دیکھ چکی ہے -
افسوس امت مسلمہ کے بعض ممالک اب بھی یہودیوں کے ساتھ یارانے بڑ��انے میں مصروف ہیں
@GNMadani
آف وائٹ سکارف،خاکی ڈریس،سفید جاگرزمیں ملبوس ڈاکٹرعافیہ چھوٹےسے کمرے میں پارٹیشن کرکےشیشہ لگاکرٹیلیفون پر3 گھنٹے ملاقات/گفتگو،جو مکمل ریکارڈ ہورہی تھی،عافیہ کی صحت کمزور،بارباران کےآنکھوں میں آنسو،جیل اذیت سےدکھی اور خوفزدہ تھی،سامنے کےاوپرکے4 دانت ٹوٹے ہوئے تھے،ان کے سر پرچوٹ کی وجہ سےسماعت میں مشکل پیش آرہی ہے،وہ بار بار کہہ رہی تھی مجھے اس جہنم سےنکالو،3گھنٹے ملاقات میں ڈاکٹرفوزیہ اوروکیل کلائیوسمتھ بھی موجود،ملاقات کے اختتام پرزنجیروں میں لےجایا گیا،ان کا دھیان بدلنے،ان کو جیل میں کتابوں میں مصروف رکھنے کی خاطرمیں انکو ادب،شعروشاعری کے موضوعات پر لاتی توغالب،اقبال اورحفیظ جالندھری اورفلسفیانہ،علمی گفتگوپرغیرمعمولی قادرالکلامی کامظاہرہ کرتی لیکن اچانک بچے،امی،اور جیل۔کی اذیت اور جیل کی یہ خوفناک مستقبل یاد آتی تو اداس ہوکرکہتی مجھے اس جہنم سےنکالو۔
حکمرانوں،مظلوم ڈاکٹر عافیہ رہا کراو۔
ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی چابی واشنگٹن نہیں اسلام آبادمیں پڑی ہے۔
زنجیروں کےجھنکار میں،جہنم کےگڑھے سےموسوم جیل میں صبرواستقامت کی کوہ ہمالیہ ڈاکٹرعافیہ صدیقی سےجیل میں3گھنٹےطویل ملاقات!ڈاکٹرفوزیہ،وکیل کلائیوسمتھ ساتھ۔
امت کی اس معصوم بیٹی عافیہ نےعوام،سیاستدانوں،حکمرانوں کےنامنکیا پیغام دیا؟
علی اور آسیہ اور حمیرا کیلئے کیا پیغام دیا؟
اپنے بچوں، والدین کاکسطرح تذکرہ کرتی رہی؟
سورہ مریم کاتذکرہ وتلاوت،ڈاکٹرمشتاق کی ارسال کردہ دعاکاڈاکٹرعافیہ نےاپنا مشاہدہ کیا بتایا؟جیل میں کس بدترین سلوک اوراذیت سےگزرتی ہے؟
سب کچھ قوم سےشبیرکرونگالیکن صبر،کہ گزشتہ چنددن زندگی کےمشکل ترین ہیں۔
فی الحال اتناکہ حکمران کم ازکم جیل کےموجودہ بدترین اذیت والےیونٹ سےان کونکال کرکسی دوسرےکم اذیت والےیونٹ میں منتقل کرے اورعوام ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کی جدوجہد تیزکرے۔
سویڈن حکومت کی سرپرستی میں ق��آن کریم کی بےحرمتی اور نسخوں کا جلایا جانا شدید طور پر قابل مذمت اور پونے دو ارب مسلمانوں کے دل دکھانے کے مترادف ہے۔ پاکستان سمیت مسلم حکومتوں کی خاموشی افسوسناک ہے۔ مغرب آزادی اظہار کے نام پر شعائر و مقدسات اسلام کی توہین کا سلسلہ بند کرے۔
نجم ولی خان ایک غیر جانبدار اور نڈر صحافی ہے اور بطور صحافی اساتذہ کمیونٹی کی ایک آواز ہے۔ ہم اساتذہ نجم ولی خان کی اساتذہ خدمات کو سراہتے ہیں اور اساتذہ کا لبادہ اوڑھے چند ایک افراد کی طرف سے غیر مناسب الفاظ کی مذمت کرتے ہیں۔
@najamwalikhan#NajamWaliKhan