تحریک ازادی کشمیر کے عظیم مجاہد کمانڈر سردار محمد فاروق خان جو چند روز قبل راولاکوٹ دھرنے کے دوران فائرنگ سے شدید زخمی ہو گئے تھے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
ایک کا تعلق بلوچستان سے اور دوسرے کا تعلق کشمیر سے اکبر بگٹی اور کمانڈر فاروق حقوق کی بات کرتے تھے دونوں کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔ دونوں کی عمریں 80 سال سے زائد توانا آواز جو ریاست کی سماعتوں پر گراں گزرتی انھیں مار دیا گیا۔ یاد رہےکہ طاقت کا استعمال نفرت پیدا کرتی ہے نفرت کے بطن سے بغاوت جنم لیتی ہے اور بغاوت پھر طاقت کو کچل دیتی ہے۔ مگر طاقت کے نشے بدمست لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔
عوام اتنی سادہ نہیں کہ چند ٹک ٹاکرز یا یوٹیوبرز کی ویڈیو دیکھ کر سڑکوں پر نکل آئے یا احتجاج شروع کر دے۔ اگر لوگ اپنے حقوق کے لیے باہر نکلے ہیں تو اس کی وجہ ان کی محرومیاں ہیں، کسی برطانوی کمپنی کے پاؤنڈز نہیں۔
برطانیہ سے ایک PR کمپنی نے پاکستانی انفلوئنسرز سے رابطہ کیا اور ان کو اچھے خاصے پاؤنڈ دئے گئے کہ AJK پر بات کرو ۔ ساتھ ہی ٹیگ لائن دی کہ تم نے یہ بولنا ہے کہ اس ویڈیو کے بعد پتا نہیں میرے ساتھ کیا ہو میں زندہ بھی رہوں یا نہ رہوں یا غائب کردیا جاؤں ۔
اب یہ لائن سب نے اپنے اپنے الفاظ میں بولنی تھی لیکن چونکہ پاکستانی انفلوئنسرز ہیں تو چونا لگابیٹھے اور سب نے سیم ٹو سیم ویڈیو کے آغاز میں بول دیا اور یوں پکڑے گئے ۔
@AdvSahibaRana جو لوگ آج "پی آر ایجنسی" اور "غیر ملکی فنڈنگ" کا واویلا مچا رہے ہیں، وہ خود ہر روز سرکاری اور عوامی وسائل سے اربوں روپے کے ٹول کٹ، ففتھ جنریشن وارفیئر کے ڈرامے اور پیڈ ہیش ٹیگز چلاتے ہیں۔ جو خود دن رات سرکاری بیانیہ خریدتے اور بیچتے ہیں
جنرل باجوہ نے چار سال پہلے عمران خان کی حکومت یہ کہہ کر گرائی کہ “تجربہ کار لوگ” آ رہے ہیں ۔ پھر ڈی جی آئی ایس پی آر نے قوم کو خوشخبری سنائی کہ “جس دن نئی حکومت آئی اس دن اسٹاک مارکیٹ اوپر گئی۔”
آج چار سال بعد فیلڈ مارشل کا سالا محسن نقوی قوم کو بتا رہا ہے کہ”آپ مانے یا نہ مانے یہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے۔”
تو کوئی عاصم منیر کے سالے سے پوچھے، یہ وہی “تجربہ کار” لوگ نہیں تھے؟ یہی تو اسٹیبلشمنٹ کا پسندیدہ نظام تھا، جسے بچانے اور مسلط رکھنے کے لیے چار سال تک ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا راستہ روکا گیا، قانون بدلے گئے، آئینی تبدیلیاں کی گئیں، عدالتیں مینج کی گئیں تاکہ عوامی انتخاب کا راستہ روکا جا سکے۔
اب چار سال بعد معلوم ہوا کہ سسٹم تباہ ہو گیا؟ یعنی یہ سسٹم “نظام” مسلط بھی خود کیا، چلایا بھی خود، اور اب اس کی تباہی کا رونا بھی خود ہی رو رہے ہیں۔
یہ تو عمیری والا سین لگتا ہے؛ پہلے فوج اور حکومت نشے میں دھت ہو کر غلط کاری کرتے رہے ، اب جب نیفے میں پستول چلنے کا ڈر ہے تو توبہ سوجھ رہی ہے😝
میرے دوست اسامہ جمیل کا جنازہ شاہد منگ کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک تھا۔اور خاص بات یہ ہے کہ انکے اپنے نعروں کی گونج میں جنازہ بازار سے گزر رہا ہے✊
اللہ جنتوں کا مہمان بناۓ💔
@ReadinWakil سچے اور نظریاتی لوگ دلوں پر حکومت کرتے ہیں اور تاریخ میں عزت پاتے ہیں۔ جبکہ بیساکھیوں پر ٹیک لگا کر مسلط ہونے والے، مراعات پر پلنے والے اور عوام کے جذبات کا سودا کرنے والے بالآخر ذلت، رسوائی اور شدید عوامی نفرت کا نشانہ بنتے ہیں۔
The AJK situation is a top example of mishandling and mismanagement. The PPP-N fighting it out politically is a sad side show at best and at worst a stupid attempt to create temporary distraction from the real issue. Media and information blackout has compounded the crisis. Never thought we would witness such a sorry state of affairs. Terrible.
@_TaNoLii جس دن مظلوموں کا حساب شروع ہوگا، اس دن نہ تمہاری یہ پرائیویٹ سرپرستی کام آئے گی اور نہ ہی یہ گھٹیا طنز۔ تم تاریخ کے اس سیاہ باب میں درج ہو چکے ہو جہاں صرف ذلت اور رسوائی تمہار مقدر ہے۔
@_TaNoLii خمینی کی طرح چھ ماہ بعد دفنائیں گے" جیسا گھٹیا طنز کرنا ان مظلوم خاندانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جن کے پیارے اپنے جائز حقوق کی جنگ میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اپنے ہی ہم وطنوں کی لاشوں پر ایسا مذاق صرف وہی بنا سکتا ہے جس کے سینے میں دل کی جگہ پتھر ہو۔