نہیں کر رہا ہوں، یہ جانور اور چرواہا لے جا، چناچہ اس نے لے لیا اور چلا گیا اس لئے اگر تو جانتا ہے کہ یہ میں نے صرف تیری رضا کی خاطر کیا ہے تو باقی حصہ بھی دور کردے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی سرکا دیا۔
صیح بخاری
حدیث نمبر:[5974]
#عشق_مُحمد ♥️
مویشی ہوگئے اور اس کے لئے ایک چرواہا بھی رکھ لیا) وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ اللہ سے ڈرو اور مجھ پہ ظلم نہ کرو اور مجھے میرا حق دے دو ، دو ، میں نے کہا ان مویشیوں اور چرواہے کے پاس جا (اور ان سب کو لے جا) اس نے کہا اللہ سے ڈر اور میرے ساتھ مذاق نہ کر، میں نے کہا میں تجھ سے مذاق👇
نے ایک فرق چاول پر ایک مزدور کام پر لگایا، جب وہ کام پورا کرچکا تو اس نے کہا کہ میرا حق دے دو ، میں نے اس کی مزدوری دے دی�� لیکن اس نے اپنی مزدوری چھوڑ دی اور لینے سے انکار کردیا، میں نے اس کو مسلسل کاشت کیا یہاں تک کہ میں نے مویشی اور چرواہا اکٹھا کیا (یعنی بڑھتے بڑھتے بہت سے👇
درمیان بیٹھا تو اس نے کہا کہ اے اللہ کے بندے اللہ سے ڈر اور مہر (سیل) کو نہ کھول، یہ سن کر میں کھڑا ہوگیا، یا اللہ اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تیری خوشی کی خاطر کیا ہے، تو ہم سے اس چٹان کو ہٹادے، تو اللہ تعالیٰ نے اس چٹان کو تھوڑا سا سرکا دیا، تیسرے آدمی نے کہا یا اللہ میں👇
مرد عورتوں سے محبت کرتے ہیں، میں نے اس کی جان اس سے طلب کی، (یعنی وہ اپنے آپ کو میرے حوالے کردے) لیکن اس نے انکار کیا، یہاں تک کہ میں اس کے پاس سو دینار لے کر آؤں، چناچہ میں نے محنت کی یہاں تک کہ سو دینار ہوگئے، تو میں انہیں لے کر اس کے پاس آیا، جب میں اس کی دونوں ٹانگوں کے👇
حال رہا، اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تیری رضا کی خاطر کیا ہے تو یہ چٹان تھوڑی سے ہٹادے، تاکہ آسمان نظر آسکے، تو اللہ تعالیٰ نے اس چٹان کو تھوڑا سا ہٹا دیا، یہاں تک کہ آسمان نظر آنے لگا اور دوسرے آدمی نے کہا یا اللہ میری ایک چچا زاد بہن تھی، میں اسے بہت چاہتا تھا، جتنا کہ👇
سوچکے تھے، میں نے حسب دستور جانوروں کو دوہا اور دودھ لے کر آیا اور ان کے سرہانے کھڑا ہوگیا، میں نے ناپسند سمجھا کہ انہیں نیند سے بیدا کروں اور یہ بھی برا معلوم ہوا کہ میں پہلے اپنے بچوں کو دوں، حالانکہ بچے میرے قدموں کے پاس آکر چیخ رہے تھے، طلوع فجر تک میرا اور میرے بچوں کا یہی👇
بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے، میں ان کے لئے جانور چراتا تھا، جب شام کو واپس آتا تو ان جانوروں کو دوہتا اور اپنے بچوں سے پہلے اپنے والدین کو پینے کو دیتا، ایک دن جنگل میں دورتک چرانے کو لے گیا، واپسی میں شام ہوگئی، جب آیا تو وہ دونوں 👇
کے دہانے پر ایک چٹان آ گری، جس سے اس کا منہ بند ہوگیا، تو وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ تم لوگ اپنے اپنے نیک کاموں پر غور کرو جو تم نے اللہ کے لئے کئے ہوں اور اس کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، امید ہے کہ اللہ اس چٹان کو ہٹادے گا، ان میں سے ایک نے کہا یا اللہ میرے ماں باپ👇
{اس کی دُعا قبول ہونے کا بیان جو اپنے والدین سے حسن سلوک کرے}♥️🌹
سعید بن ابی مریم، اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ، نافع، ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی چلے جا رہے تھے کہ ان کو بارش نے آگھیرا، تو وہ پہاڑ کے ایک غار میں پناہ کے لئے گئے، ان کی غار 👇