13 اکتوبر 2026 مکمل ہوگیا
ایک سال کا عرصہ بیت گیا مگر ابھی تک رضوی برادران کا کچھ اتا پتہ نہیں ہے نہ ہی کسی عدالت میں پیش کیاگیا نہ گرفتاری بتائی گئی۔۔۔
تیس لاکھ سے زائد ووٹ لینے والی جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ غائب ہے مگر کوئی ٹھوس آواز اٹھنے کو تیار نہیں ۔۔۔
حد یہ ہے کہ کسی سیاسی پارٹی نے بھی آواز اٹھانے کی کوشش نہیں کی ۔۔۔۔۔۔
نہ عدالتیں رات بارہ بجے کھلیں نہ ہی حکومت کی دوڑیں لگیں۔۔۔۔
ایک سال مکمل ہوگیا لیکن سیاسی منظرنامے پرایسا تاثر دکھتا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو
جب یکم مئی 2025 کی کال کو مؤخر کیا گیا تو طلال چوہدری اور آئی جی اسلام آباد علی ناصر نے تحریک لب یک پاکستان کےساتھ مذاکرات کیے تھےاور معاہدہ کیا تھا
توسوال یہ ہےکہ 13 اکتوبر 2025 کو مذاکرات کیوں نہیں کیےگئے؟
مریدکے میں ظلم وجبر کیوں کیا گیا؟
ہزاروں مسلمانوں کاخون کیوں بہایا گیا؟
🚨 امیر تحریک لبیک کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ایک دن کے لیے مزید ملتوی کردی گئی۔
جبری گمشدگی کیس کی سماعت اب کل کی بجائے، 16 اکتوبر 2026 بروز جمعہ کو ہوگی‼️
اللہ پاک اپنا خاص فضل و کرم فرمائے، آمین ثم آمین🤲🏻
لاہور ہائیکورٹ: رضوی برادران کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 50 روزہ تعطل کے بعد 16 اکتوبر 2026 بروز جمعہ کو ہوگی
سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس رضوی کے جبری گمشدگی کیس کی سماعت جسٹس جواد ظفر کریں گے
13 اکتوبر 2026 کو سانحہ مریدکے کی پہلی برسی پر رضوی برادران کی جبری گمشدگی کا ایک سال مکمل ہو چکا ہے
گزشتہ سماعت پر جسٹس جواد ظفر نے اپنی تعطیلات کو وجہ قرار دیتے ہوئے سماعت کو 15 اکتوبر 2026 تک ملتوی کیا تھا
ٹی ایل پی وکلاء نے گزشتہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ دونوں قائدین کی زندگیاں خطرے میں ہیں تاہم معاملے کی سنگینی کو نظر انداز کیا گیا
رضوی برادران کے جبری گمشدگی کیس میں اب تک 6 مرتبہ جج تبدیل ہو چکے ہیں اور کیس مسلسل غیر معمولی التواء کا شکار ہے
رضوی برادران کی غائب ہوئے ایک سال کا عرصہ بیت گیا، ایک سال میں عدالت سے کوئی پیش رفت نہ ہوسکی، 16 اکتوبر کو لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس جواد ظفر دونوں بھائیوں کی گمشدگی کی درخواست پر سماعت کریں گے۔
لاہور ہائیکورٹ: رضوی برادران کی جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت 50 روزہ تعطل کے بعد 16 اکتوبر 2026 بروز جمعہ کو ہوگی
سربراہ ٹی ایل پی حافظ سعد حسین رضوی اور حافظ انس رضوی کے جبری گمشدگی کیس کی سماعت جسٹس جواد ظفر کریں گے
13 اکتوبر 2026 کو سانحہ مریدکے کی پہلی برسی پر رضوی برادران کی جبری گمشدگی کا ایک سال مکمل ہو چکا ہے
گزشتہ سماعت پر جسٹس جواد ظفر نے اپنی تعطیلات کو وجہ قرار دیتے ہوئے سماعت کو 15 اکتوبر 2026 تک ملتوی کیا تھا
ٹی ایل پی وکلاء نے گزشتہ سماعت پر عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ دونوں قائدین کی زندگیاں خطرے میں ہیں تاہم معاملے کی سنگینی کو نظر انداز کیا گیا
رضوی برادران کے جبری گمشدگی کیس میں اب تک 6 مرتبہ جج تبدیل ہو چکے ہیں اور کیس مسلسل غیر معمولی التواء کا شکار ہے