@Dexlogic اگر مناسب طریقے سے صرف محمد بلال اور عمران علی بھی بن جائیں تب بھی معاملات سدھر سکتے ہیں۔
لیکن مسئلہ قادری ،رضوی ،حسینی ، چشتی وغیرہ لگنے کے بعد شروع ہوتا ہے ۔
@PakStudies2025 @fawadchaudhry اگر تو جی ٹی روڈ سے کھائی ہے تھی وہ میجر کی ہو گی ، بہت لذیذ ہوتی ہے وہ۔ اور اگر آپ نے اندرون جہلم میں کھائی ہے تو ممکن ہے وہ گاما چاٹ کی ہو اس کا اپنا منفرد ذائقہ ہے
سائرہ بانو 🔥🔥🔥
فیٹف کے حوالے سے ان لوگوں نے واک آؤٹ کیا تھا، جس وقت او آئی سی کا اجلاس بلوایا تھا اس وقت بھی ان لوگوں کے بیانات جو تھے کیا وہ پاکستان کے حق میں تھے؟ 12 اکتوبر بھول گئے کیا؟ ایک چیف آف آرمی سٹاف حاضر سروس کا جہاز اترنے نہیں دے رہے تھے، عدالتوں پہ حملہ کہ جسٹس سید سجاد علی شاہ کو کال کرکے اپنے لیے مدد منگوانی پڑی، یہاں پر پاک افواج پر انگلیاں اٹھائی گئیں، وہ ساری چیزیں ہم بھول جائیں؟ یہ دودھ کے دھلے ہیں؟ آج اگر وہ کسی تسموں کے ساتھ لٹکے ہوئے ہیں تو کیا ہم انکی بات مان لیں؟:
یادش بخیر:
پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن ایک ممتاز ماہرِ ابلاغیات، ترقی پسند دانشور اور انسانی حقوق کے پُرعزم علمبردار تھے، جنہوں نے پاکستان میں تقریباً پچاس برس تک تدریس، صحافت اور فکری و سماجی تجزیے کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔
وہ 23 فروری 2022 کو 85 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی علمی اور فکری میراث آج بھی زندہ ہے۔
میں 40سے تجاوز کر چکا ہوں اور 50 کی طرف جا رہا ہوں اپنے اندر کس قسم کی تبدیلیاں محسوس کر رہا ہوں؟
1. اپنے والدین، اپنے بہن بھائیوں، اپنی شریک حیات، اپنے بچوں اور اپنے دوستوں سے محبت کرنے کے بعد اب میں نے خود سے محبت کرنا شروع کر دی ہے۔
اپنا کھانے پینے سونے جاگنے کا خیال رکھنا شروع کر چکا ہوں۔
2. میں نے محسوس کیا ہے کہ میں "اٹلس" نہیں ہوں۔ دنیا میرے کندھوں پر نہیں ٹھہرتی۔
میں نے دنیا کی ہر ذمہ داری اٹھانا چھوڑ دی ہے
جو کام اسانی سے کر سکتا ہوں ضرور کر دیتا ہوں۔
ہر کام ہونے والا نہیں ہوتا اور نا ہر ہونے والے کام کو کرنے سے انکار کرتا ہوں۔
دوستوں سے بھی کہتا ہوں اپ امیر کامیاب اور
خوبصورت ہو کر اخیر ایک دن مر جائیں گے۔
اگر ہمیشہ زندہ رہنا چاہتے ہو تو دوسروں کی یادوں میں ضرور رہو
3. میں نے سبزی اور پھل فروشوں کے ساتھ سودا کرنا چھوڑ دیا ہے۔ مزید چند روپے مجھے غریب نہیں کریں گے، لیکن اس سے غریب ساتھی کو اس کی بیٹی کی اسکول کی فیس بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
4. میں ویٹر/مکینک کو لازما کچھ رقم زیادہ دیتا ہوں۔ اضافی رقم اس کے چہرے پر مسکراہٹ لا سکتی ہے۔ وہ زندگی گزارنے کے لیے مجھ سے کہیں زیادہ محنت کر رہا ہے۔
سوچتا ہوں یہ ویٹر مکینک یا مزدور میں بھی ہو سکتا تھا۔
5. میں نے والد صاحب کو یہ بتانا چھوڑ دیا کہ وہ اپنی کہی باتوں کو کئی بار سنا چکے ہیں۔ یہ باتیں انہیں یادداشت کے راستے پر چلنے اور اپنے ماضی کو زندہ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
ماضی میں انکو یہ یاد دلانے پر اب شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔
6. میں نے لوگوں کو درست نہ کرنا سیکھا ہے یہاں تک کہ جب میں جانتا ہوں کہ وہ غلط ہیں۔ سب کو کامل بنانے کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے۔۔ہر چیز کے ٹھیک ہونے میں ٹائم لگتا یے
امن کمال سے زیادہ قیمتی ہے
7. میں آزادانہ اور دل کھول کر تعریفیں دیتا ہوں۔ تعریفیں نہ صرف وصول کنندہ کے لیے بلکہ میرے لیے بھی موڈ بڑھانے والی ہیں۔ اور تعریف کے وصول کنندہ کے لیے ایک چھوٹی سی ٹپ، کبھی بھی، اسے کبھی ٹھکرا نہ دیں، بس "شکریہ" کہیں۔
8. میں نے اپنی قمیض پر کریز یا جگہ کے بارے میں پریشان نہ ہونا سیکھا ہے۔ شخصیت ظاہری شکل سے زیادہ بلند آواز میں بولتی ہے۔
پرسنیلٹی میں اچھے کپڑوں اور حلیے سے زیادہ اپکا گفتار اور کردار جھلکتا یے
9. میں ان لوگوں سے دور رہتا ہوں جو میری کسی حسد جلن دشمنی تعصب کی وجہ سے قدر نہیں کرتے یا وہ شاید میری قدر نہیں جانتے، لیکن میں اپنی ویلیو جانتا ہوں۔
جو مجھ سے دور جانا چاہیں انکو بھی موقع دیتا ہوں اور جو قریب انا چاہیں انکے لیے بھی دل دماغ اور بازو کھلے رکھتا ہوں۔
10. جب کوئی مجھے کامیابی کی دوڑ میں پیچھے چھوڑنے کے لیے گندی سیاست کرتا ہے تو میں ٹھنڈا رہتا ہوں۔ میں چوہا نہیں ہوں اور نہ ہی میں کسی ایسی نسل سے ہوں۔
11. میں اپنے جذبات سے شرمندہ نہ ہونا سیکھ رہا ہوں۔ یہ میرے جذبات ہیں جو مجھے انسان بناتے ہیں۔
مجھے کسی سے محبت ہو سکتی ہے۔ اور محبت جزباتی رومانوی طور پر اپکی زندگی گزارنے کا فیول ہے۔
جس سے محبت ہو اس سے اس بارے ضرور بات کریں چاہے وہ اپکا رب ہو کوئی متبرک ہستی یا صنف مخالف۔
12. میں نے سیکھا ہے کہ رشتہ توڑنے سے بہتر ہے کہ انا چھوڑ دیں۔ میری انا مجھے دور رکھے گی، جب کہ رشتوں کے ساتھ، میں کبھی تنہا نہیں رہوں گا۔
اگر کوئی میری طرف ایک قدم بڑھائے گا تو یقینا میں اسکی طرف دو قدم بڑھا کر ملنا چاہوں گا۔
13. میں نے ہر دن کو اس طرح جینا سیکھنا ہے جیسے یہ آخری دن ہو۔ سب کے بعد، یہ آخری ہو سکتا ہے.
14. میں وہی کر رہا ہوں جو مجھے خوش کرتا ہے۔ میں اپنی خوشی کا ذمہ دار ہوں، اور میں خود اس کا مقروض ہوں۔ خوشی ایک انتخاب ہے۔ آپ کسی بھی وقت خوش ہو سکتے ہیں، بس بننے کا انتخاب کریں!
15.دنیا کے ڈر سے اپنی خواہشات کا گلہ نا گھوٹیں ہم نے اس دنیا میں دوبارہ نہیں انا۔ یہ ون ٹائم ٹریول یے۔
لیکن خواہشات کو بے لگام گھوڑا مت بننے دیں کہ یہ اپکو گرا دیں۔
16.زندگی میں جو ملا یہ اپکا مقدر تھا جو خواہش کے ساتھ بھی حاصل نا ہو سکا اس پر
رونا دھونا بیکار ہے
آپ سب کی خوشیوں صحت اور کامیابی کے لیے دعا گو
منقول
فلسطین کے بچوں کی قبریں دیکھ کر جن کی زبانیں گنگ رہیں، آج اسرائیل کی ایک صبح کی ویڈیو پر جھوٹے آنسو بہا رہے ہیں۔ یہ وہ لنڈے کے لبرل ہیں جن کی انسانیت صرف مغرب کے اشارے پر جاگتی ہے۔ ظلم اگر اسرائیل کرے تو یہ تجزیہ نگار بن جاتے ہیں، اور اگر جواب ملے تو انہیں انسانیت یاد آتی ہے۔