احسن عزیزکا بھی البدر سے تعلق رہا،البدر امریکہ کیخلاف مزاحمت میں بھی شامل رہی جبکہ پاکستان میں حملوں سےیہ تنظیم ہمیشہ دور رہی اسکےکئی اراکین تعلیم کےشعبےسے بھی منسلک ہوئےجن میں خالد رضا اور حمزہ برھان کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی گئی، البدر خود میدان بدر بنگال کی البدر کا تسلسل بتاتی ہے
سے خاتمہ ہوگیا البدر لشکر طیبہ حرکت المجاھدین حرکت الجہاد الاسلامی اور جیش محمد کیساتھ بڑی پاکستانی جہادی تنظیم مانی جاتی تھی 9/11 کے بعد البدر بھی پابندیوں کی زد میں آئی اسکے بعض اراکین مرکزی القاعدہ کا حصہ بنے جن میں خرم کیانی المعروف کمانڈر قاسم ، ذاکر،سعید اللہ شامل ہیں جبکہ
لگے البدر کشمیر میں حزب المجاھدین کے ماتحت تھی 98 میں البدر کے جماعت اسلامی سے اختلافات بڑھنے پہ بخت زمین نے علیحدگی کا اعلان کیا انہی دنوں کارگل کا معرکہ گرم تھا بخت زمین ساتھیوں سمیت وہاں متحرک رہے 90 البدر کا افغانستان نیپال ہندوستان اور پاکستان میں نیٹ ورک تھا جب طالبان نے
سویت یونین کی آمد کے بعد دیر کے بخت زمین خان نے افغانستان کا رخ کیا وہ جماعت اسلامی سے منسلک تھے لہذا افغانستان کی انکی قربت گلبدین حکمتیار کیساتھ رہی 80 کے دوسری وسط میں جلال آباد و خوست میں البدر قرار گاہ بنائی گئی جہاں پاکستانیوں کیساتھ بعض عرب اور بعد میں کشمیری تربیت پانے
Im surprised. The details coming out of this case is as hilariously painful as it can be. I met Saad for the first time in Lahore and since then followed his work. He is as anti Al Qaeda as it gets.
He has soft spot for Syrians and also remained in touch with journalists from the middle east. But that's the case with most of the online activists or academics who are working on these subjects. You can have a difference with ideological perspectives, but how can you pin something of such an obnoxious claim over some person? And that with an identification card of an globally designated terrorist organisation. Fit hugya Bhai.
Tempering with his X account and finding an old tweet when Saad was perhaps in his late teens and pinning it at the top proves nothing but exposing the elements in system who can do anything to just save their mess up.
Saad is now under trail. I'm sure the case won't hold long. But it may leave a scar on his personality. I hope he and his family may recover from this incident.
As for the Political Cult and their followers who are trying to find old tweets of Saad that somehow Karma hit him - sit down - your cult followers were agent of chaos, apprehended red handed, who were busy in spreading chaos on social media and on ground. You have no comparison with this case. You can do raise your screams elsewhere. Like you always do. Particularly at your current darbar e aaliya, Adiyala Shareef.
Did these people think they’d get table-side seats to discussions to end a war? I flew 21 hours to be here & knew exactly what I was getting into — there’s no news until there’s news; that’s how these things work. This is unfair to Pakistan, which has been a gracious host.
مختار مسعود بیوروکریٹ تھے اور مصنف بھی ، وہ دو ہزار سترہ میں انتقال کر گئے لیکن دو ہزار دو میں انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی اکٹھی کی جو کہ دس کروڑ روپیہ بنی اور اُسے آزاد کشمیر کی ایک فاؤنڈیشن کے حوالے کر دیا اور انہیں سکول بنانے کا کہا ، فاؤنڈیشن نے سکول بنا دیا اور مختار مسعود صاحب کو افتتاح کی دعوت دے دی ، مختار مسعود صاحب نے یہ دعوت تین شرائط کے ساتھ قبول کی ۔
ایک کہ افتتاح کی کوئی تقریب نہیں ہو گی ۔
دو کہ افتتاح چھٹی والے دن ہو گا ۔
تین کہ ڈونیشن کی کوئی تشہیر نہیں کی جائے گی ۔
یوں مختار مسعود صاحب ایک اتوار کو سکول کے افتتاح کے لئے چلے گئے ، وہ خالی کلاس روم میں گئے ، بلیک بورڈ پر “ بسم اللہ الرحمن الرحیم “ لکھا اور واپس آ گئے ۔
جب کسی نے مختار مسعود صاحب سے پوچھا کہ آپ نے یہ سکول کھولنے کے لئے چوکی ( گاؤں ) کا انتحاب کیوں کیا تو مختار مسعود صاحب نے جواب دیا “ میرے دادا کشمیر سے چوکی کے راستے پنجاب میں داخل ہوئے تھے ، وہ رات چوکی میں رکے تھے اور چوکی گاؤں کے لوگوں نے اُن کی بہت خدمت کی تھی ، اُن کے دادا ساری عمر چوکی کے لوگوں کی تعریف کرتے رہے اور میں اس گاؤں میں سکول بنا کر یہ احسان اتارنا چاہتا ہوں“
یہ واقعہ دو حصوں پر مشتمل ہے ، پہلا حصہ ڈونیشن ، سادگی اور تشہیر پر مشتمل ہے ، اُس بندے نے اپنی زندگی کی ساری جمع پونجی ڈونیٹ کر دی اور کسی کے سامنے نام تک لینا گوارا نہیں کیا جبکہ دوسرا حصہ پہلے حصے کو بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے ، بڑے لوگ ایسے ہی بڑے نہیں ہوتے ، اُن کے دادا نے ایک رات گاؤں میں گزاری اور ساری عمر اُس گاؤں کی مہمان نوازی کی تعریف میں گزار دئیے جبکہ پوتے نے دادا کی وہ بات پلے باندھ لی اور ساری عمر کی جمع پونجی اُس گاؤں پہ لگا دی ۔ اللہ اللہ
آج ہم کسی غریب کو کچھ دیں بھی تو اُس کی تشہیر چاہتے ہیں ، فوٹو لگتی ہے ، بینر لگتے ہیں ، دوسروں کو واقعات سناتے اُس کا ذکر ہوتا ہے اور ایک وہ تھے کسی کو کان و کان خبر نا ہونے دی ۔
بات کردار کی ہوتی ہے جناب
ورنہ قد میں سائے بھی لمبے ہوتے
#آگہی
#شعور
#تکریم
Allahu Akbar, wa lillahil hamd!
Thousands gathered in reverence, at the Ijtama e Aam, standing before their Lord as Sheikh Dr. Mohiuddin Al-Qaradaghi, President of the International Union of Muslim Scholars, delivered the Khutbah Jummah and led the blessed prayer.
#اجتماع_عام_مینار_پاکستان
سلامتی کونسل میں ایسی قرارداد کی حمایت کرنا جو فلسطینیوں کے مطالبات اور حقوق کے منافی ہے ناقابل قبول ہے، یہ پاکستان کی فلسطین پالیسی سے انحراف ہے، کوئی شک نہیں کہ ایسا صرف ڈونلڈ ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ قرارداد غزہ کی پٹی پر بین الاقوامی سرپرستی کا وہ نظام مسلط کررہی ہے جو اسرائیل دو سالہ ظالمانہ جنگ اور نسل کشی کے بعد بھی حاصل نہ کرسکا۔ پاکستان کی جانب سے اس کے حق میں ووٹ کی مذمت کرتے ہیں ہے۔ مخالفت تو درکنار آپ سے تو abstain بھی نہ ہوسکا۔ اتنا بھی کیا خوف؟ غزہ صرف فلسطینی عوام کا ہے، کسی اور کو اس پر قبضے کا حق کیسے دیا جاسکتا ہے
پاکستان کو کسی صورت بھی اپنی فوج غزہ نہیں بھیجنی چاہیئے کیونکہ اسرائیل ہماری فوج کو فلسطینیوں کے ساتھ الجھانے کی سازش کر سکتا ہے ، دو ریاستی فارمولا قائداعظم کے نظریات کی خلاف ورزی ہے ہمیں صرف ایک فلسطینی ریاست کی حمایت کرنی چاہیئے، حافظ نعیم الرحمان
What a match it was. There was a myth at the time that whenever Tendulkar gets out in 90s, India wins the match. Tendulkar made 97 that day & India set a huge target of 322 for Pakistan. But green shirts did the impossible! What a win it was
صالح شہیدؒ کی وصیت
ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کی گئی صالح الجعفراویؒ کی یہ وصیت ان کی شہادت کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس میں صالح کا کہنا ہے:
"جب آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہوں گے، تب تک شاید میں اس دنیا میں نہ رہوں، شاید میری آواز خاموش ہوچکی ہو، مگر میرا پیغام ابھی باقی ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ میں نے اپنی پوری طاقت، اپنے ہر لفظ، ہر تصویر، ہر سانس کو اپنے مظلوم عوام کے لیے وقف کیا۔ میں نے اپنی قوم کا ساتھ دینے، ان کے دکھ سنانے اور ان کی چیخیں دنیا تک پہنچانے کے لیے کوشش کی، جدوجہد کی اور ہمت نہیں ہاری۔ میں تم سب سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں: لفظ کبھی نہیں گرتا، تصویر کبھی نہیں مرتی۔ لفظ ایک امانت ہے اور تصویر ایک پیغام۔ اگر میرا جسم مٹ بھی جائے، تو میری آواز ان گلیوں میں گونجتی رہے، جہاں بچے شہید ہوئے، جہاں مائیں اپنے بیٹوں کو لحد میں اتارتی ہیں، جہاں سورج خون میں نہاتا ہے مگر امید زندہ رہتی ہے۔"
"میں صالح الجعفراوی ہوں، غزہ کی مٹی کا بیٹا اور آج اپنی قوم کی سچائی تمہارے حوالے کر رہا ہوں۔ اسے زندہ رکھنا... کیونکہ سچ کی موت نہیں ہوتی۔"
(اللہ تعالیٰ شہزادے کو قرب کے اعلیٰ ترین مراتب سے نوازے۔ آمین)
His name is now etched upon the conscience of the Ummah and upon the pages of Islam’s living memory. Until the Day of Judgement, his story will remain — eternal in spirit, just as he was in life — his ancestry, his childhood, his coming of age, his spirit, his defiance, and the glorious end — with all the melancholy, tragedy, and promised triumph.
ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم و اموالہم بان لہم الجنۃ یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون و یقتلون وعدا علیہ حقا فی التورىۃ و الانجیل و القران و من اوفی بعہدہ من اللہ فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم بہ و ذلک ہو الفوز العظیم
He was not merely a man of his time — he was of that timeless command that God breathes into His chosen servants across the ages. From the sons of Adam to the companions of the trench, from Judah Maccabeus to the defenders of Al-Quds in all crusades, to the chosen of this Ummah who upheld the covenant of Prophet ﷺ — he was of that spirit that does not perish, for it is the command of Allah among the righteous of every age.
He was the echo of that divine decree that summons the faithful to stand when others fall. The Command of Allah — blessed, eternal, and unyielding — flowed through him.
ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله امواتا بل احياء عند ربهم يرزقون فرحين بما اتاهم الله من فضله
And beyond the delights of Paradise awaits the reward no eye has seen, no ear has heard — the unveiling of His Majesty, the redemption of the soul, the fulfilment of the covenant, and the home of the Shuhada.
This tale is etched in the eternal consciousness of the Ummah — until the Trumpet is blown, when he shall rise among the leaders — the boy and the priest, the martyr and the guardian — among those who bore the covenant and never broke it and to whom Allah SWT will say:
هذا يوم ينفع الصادقين صدقهم لهم جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها ابدا رضي الله عنهم و رضوا عنه ذلك الفوز العظيم
He was the echo of that timeless spirit — from Adam to the final dawn.
He was the command that walked upon the earth.
And he shall remain eternal until commanded to enter Paradise, as promised.
رسالة إلى المرشد الأعلى للجمهورية الإسلامية الإيرانية
بسم الله الرحمن الرحيم
سماحة السيد/ علي خامنئي المرشد الأعلى للجمهورية الإسلامية الإيرانية
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
باسمي وباسم جماعة الإخوان المسلمين أود التأكيد على دعمنا الكامل للجمهورية الإسلامية في إيران في مواجهة العدوان الإسرائيلي الغاشم، كما أتقدم بخالص العزاء في كافة الشهداء من القادة والعلماء والمواطنين الإيرانيين الأبرياء.
إن العدوان الإسرائيلي على إيران هو مرحلة جديدة من العدوان على فلسطين، حيث تحرك حكومة الاحتلال دوافع الانتقام جراء الدعم الذي تقدمه الجمهورية الإسلامية للمقاومة الفلسطينية، بالإضافة إلى الدوافع الاستراتيجية الأخرى التي تتمثل في سعي كيان الاحتلال إلى فرض هيمنته على المنطقة من خلال إضعاف مراكز القوة فيها، مستغلا الدعم الواسع الذي تقدمه له الولايات المتحدة الأمريكية ودول غربية أخرى هالتها الهزيمة التي تلقتها دولة الاحتلال في السابع من أكتوبر 2023، ومن ثَم أطلقت يد حكومة نتنياهو المتطرفة لاستعادة الأمن المفقود، بغض النظر عن مستوى التوحش اللازم لتحقيق ذلك.
سماحة المرشد الأعلى للجمهورية الإسلامية الإيرانية
إننا أمة واحدة، بالمعنى الديني والروحي والحضاري والجيوسياسي على حدٍّ سواء. فنيران الاحتلال وداعميه لا تفرق بين أعراقنا ولا بين مذاهبنا، وهي إذ تسعى بصورة حثيثة للقضاء على المقاومة الفلسطينية الباسلة؛ فإنها تدرك أن هذا الهدف الخبيث غير ممكن مالم يتوسع العدوان ليشمل حاضنة المقاومة، سواء كانت هذه الحاضنة دولة مركزية مثل الجمهورية الإسلامية، أو الحركة الإسلامية وفي القلب منها الإخوان المسلمون.
ولهذا، فإن الإخوان المسلمين ليس لديهم شك في أن عدوَّنا واحد، وهو الكيان الصهيوني، وأن سلاحنا الأول الذي يجب أن نتمسك به هو وحدة الأمة الإسلامية، والعمل على جمع إرادة قواها الحية والفاعلة وتوحيد جهودها في رؤية استراتيجية شاملة تضبط بوصلة الأمة نحو عدوها الحقيقي، وتتجاوز آثار وأخطاء السنوات الماضية التي نالت من وحدة الأمة وصرفت بعض جهودها لصراعات داخلية، كان -دائما- المستفيد الرئيسي منها هم أعداء الأمة.
إن التضحيات العزيزة التي تقدمها الأمة اليوم في فلسطين، ولبنان، واليمن، وإيران؛ تضع علينا مسؤولية كبرى في أن نبذل كل جهد من أجل وحدة الصف، ونبذ الخلافات، وتكامل الجهود.
سماحة... السيد/ علي خامنئي
إننا نؤمن أن الأمة الإسلامية حقيقة لا وهم، تتجسد في رسالة خاتمة، ووحي خالد، وحضارة ناصعة بنتها الشعوب المسلمة التي تنوعت أعراقها لكن وحَّدت الرسالة والوحي بين قلوبها وغايتها. وإن الإخوان المسلمين اليوم متمسكون بدعوة الإمام الشهيد حسن البنا؛ حيث حدد نهجنا تجاه كافة الهيئات والجهات الإسلامية قائلا: إننا "نحاول جاهدين أن نقرب بين وجهات النظر ونوفق بين مختلف الفكر توفيقاً ينتصر به الحق في ظل التعاون والحب. ولا يباعد بيننا وبينها رأي فقهي أو خلاف مذهبي، فدين الله يسر، ولن يشاد الدين أحد إلا غلبه ... ونعتقد أنه سيأتي اليوم الذي تزول فيه الأسماء والألقاب والفوارق الشكلية والحواجز النظرية، وتحل محلها وحدة عملية تجمع صفوف الكتيبة المحمدية، حيث لا يكون هناك إلا إخوة مسلمون، للدين عاملون، وفي سبيل الله مجاهدون: ﴿وَمَنْ يَتَوَلَّ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا فَإِنَّ حِزْبَ اللهِ هُمُ الْغَالِبُونَ﴾ [المائدة:56].
الدكتور صلاح عبد الحق
القائم بأعمال فضيلة المرشد العام لجماعة “الإخوان المسلمون”
الأربعاء 22 من ذي الحجة 1446هـ؛ 18 يونيو 2025 م
It is sad that there are people who are worried about linguistic niceties when a genocide is taking place under the watch of “civilised world”, 1000s of children are being butchered non stop.
This is not a sit down dinner where one should mind the language and manners. Pahlavi stands with Netanyahu a genocidal maniac, all he deserves is contempt and nothing else.