عین ممکن ہے میں کہانی میں فنا ہو جاؤں
شمع محفل سے ایک قصہ پارینہ بن جاؤں
عین ممکن ہے تو اپنے ہاتھوں سے کھو دے مجھے
میری پارسائی کا بت ٹوٹنے لگا ہے
دور ویرانوں کا مکیں ہو جاؤں
شہر خاموشاں کے عہد کا امیں ہو جاؤں
اجنبی زمیں کی آغوش میں سو جاؤں
دنیا کی رنگینیوں سے جی اٹھنے لگا ہے
اس نااہل شخص کو پکچرز بھیجنے والے نے بھی ایک ذرا ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔
خشک میٹیریل پہ سارا دن کمپیکٹر چلاتے رہیں، بےسُود ہے۔ اتنی اڑتی دھول سے بھی شرم نہیں آئی۔
پانی کی ریشو نہ ہونے کے برابر ہے، کس گدھے نے FDT پاس کردی؟
یوتھیوں سے گزارش ہے، فوکس سارا عمران کے علاج اور رہائی پہ رکھیں۔
بجٹ وغیرہ پہ پٹواریوں کی اپنی چیخیں نکل گئی ہیں۔ اور ان شاءاللہ مزید نکلیں گے، آپ انجوائے کریں انکی چیخیں۔
ہم تو بجٹ پہ تب چیخیں کہ بجٹ خلافِ توقع ہو، یا حکومت ہماری نمائندہ ہو، منتخب کردہ ہو۔
ہم سب اتنے بے شرم ہیں کہ ایک سال میں پاکستان کے غریب ترین عوام سے بھی بدمعاشی کے ذریعے ٹیکس وصول کر کے ایک برس میں 8.7 ارب ڈالر کی سبسڈی اشرافیہ اور مافیا کو دینے کے عمل پر کہہ رہے ہیں کہ وفاقی حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا۔
ہم سب سے بڑا بے شرم بھی شاید ہی کبھی پیدا ہوا ہو۔۔