@KashmiriWaheeda سرکار کی ہٹ دھرمی نفرت اور بداعتمادی کی خلیج وسیع کر رہی ہے۔ یاد رکھیے، طاقت آواز دبا سکتی ہے، احساسِ محرومی نہیں؛ راستے بند کر سکتی ہے، دلوں کے فاصلے نہیں۔
#RightsMovementAJK
@R__Pulse یہ لوگ زبردستی مسلط کی گئی کٹھ پُتلیاں ہیں۔ مفادات کی منڈی میں یہ لوگ رشتے، وعدے اور وفاداریاں سب تول کر بیچتے ہیں۔ کم بختوں کی سرشت ہی کچھ ایسی ہے کہ جیب بھر جائے تو ضمیر خالی ہونے کی فکر نہیں رہتی۔
شہداء کی قربانیاں ہم پر قرض ہیں؛ ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کے ساتھ ان کے مقصد سے وفا بھی ضروری ہے۔ عوام نے اپنے جائز حقوق کے لیے بڑی قیمت ادا کی ہے، اب حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ طے شدہ مطالبات اور معاہدوں پر مکمل اور عملی عملدرآمد یقینی بنائیں۔ عوام پُرامن جدوجہد سے اپنے حقوق کے حصول تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
#RightsMovementAJK
آزاد کشمیر میں مذاکرات — مگر ضمانت کون دے گا؟
کیا پاکستان میں کوئی ایسی بااختیار سیاسی یا ریاستی قوت موجود ہے جس پر آزاد کشمیر کے عوام اعتماد کر سکیں؟ جن لوگوں نے پہلے معاہدہ کیا اور جنہوں نے اس پر عملدرآمد کی ضمانت دی، اگر وہ بھی اسے یقینی نہ بنا سکے تو اب ان سے بڑی ضمانت کون دے گا؟
اصل سوال مذاکرات کا نہیں، اختیار، اعتماد اور عملدرآمد کی ضمانت کا ہے۔ اگر نیا معاہدہ بھی محض وعدوں اور یقین دہانیوں پر قائم ہونا ہے تو عوام آخر اس پر اعتماد کیوں کریں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمارے لیے معاملہ محض سیاست یا اختلافِ رائے کا نہیں رہتا۔ ہمارے درمیان ہمارے شہداء کے جنازے کھڑے ہیں۔ ہم ان لوگوں کو کیسے بھول جائیں جنہیں ہم نے اپنے کندھوں پر اٹھایا؟ ہم ان ماؤں کی آنکھیں کیسے بھول جائیں جن کے بیٹے واپس نہیں آئے؟ ہم ان بچوں کے سوال کیسے بھول جائیں جن کے باپ گھر نہیں لوٹے؟ اور ہم ان لوگوں کے کردار کو کیسے بھول جائیں جو اس سب کے باوجود کبھی گولی چلانے والوں کے لیے دلیلیں تراشتے رہے، کبھی شہادتوں سے توجہ ہٹاتے رہے اور کبھی گھما پھرا کر مرنے والوں ہی کی تحریک کو ان کی موت کا ذمہ دار ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے؟
وقت گزر سکتا ہے، سیاسی حالات بدل سکتے ہیں، حکومتیں بدل سکتی ہیں، عہدے ختم ہو سکتے ہیں، وردیاں اتر سکتی ہیں اور پروپیگنڈا اپنی شکل اور زبان بدل سکتا ہے، مگر قبریں اپنی جگہ رہتی ہیں اور اجتماعی حافظہ آسانی سے نہیں مرتا۔ ان قبروں سے یہ سوال اٹھتا رہے گا کہ ہمیں کیوں مارا گیا؟ ہمارے شہداء کے وارثوں کو اس سوال کا جواب اور انصاف چاہیے۔ ہر ہلاکت کی آزاد تحقیقات ہونی چاہئیں، ذمہ داری متعین ہونی چاہیے اور اگر تحقیقات میں کسی شخص کے خلاف غیرقانونی قتل، غیرضروری مہلک طاقت کے استعمال یا اس کے حکم کی ذمہ داری ثابت ہوتی ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔
جب تک شہداء کے وارث انصاف نہیں پاتے، عوامی محاسبہ جاری رہے گا۔ ہمیں تعداد کے ہیر پھیر میں الجھانے سے یہ سوال ختم نہیں ہوگا۔ آپ سو نہیں مانتے تو اپنے تسلیم کردہ تیس یا چالیس کا حساب دے دیجیے؛ اور اگر وہ بھی چھوڑ دیں تو صرف ایک انسان کا حساب دے دیجیے۔ بتائیے پہلی گولی کیوں چلائی گئی، پہلی جان کیوں لی گئی اور حقوق مانگنے والے ایک انسان کو زندہ رہنے کا حق کیوں نہیں دیا گیا؟
کیونکہ سوال صرف سو شہادتوں کا نہیں، پہلی گولی کا بھی ہے؛ سوال محض تعداد کا نہیں، انسانی جان کی حرمت کا ہے، اور ہر ناحق بہنے والا خون انصاف اور جواب دہی کا تقاضا کرتا ہے۔
#فیصلہ_عوامی_طاقت_سے_ہوگا
#جوائنٹ_عوامی_ایکشن_کمیٹی
#RightsMovementAJK
سوال سو شہادتوں کا نہیں—پہلی گولی کا ہے
یہ ہمارا دعویٰ نہیں، ہماری آنکھوں کے سامنے گزری ہوئی حقیقت ہے کہ سو سے زائد انسان فورسز کی بے رحم گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہو چکے ہیں۔ ہمیں کوئی یہ نہ بتائے کہ ہمارے شہداء حقیقت ہیں یا کہانی۔ ہم اس حقیقت کے گواہ ہیں۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے شہداء کے جنازے اٹھائے ہیں، ان کی میتیں دیکھی ہیں، ان کے گھروں میں ماتم دیکھا ہے، ماؤں کو اپنے بیٹوں پر روتے، بچوں کو اپنے باپوں کے لیے تڑپتے اور خاندانوں کو اجڑتے دیکھا ہے۔ اس لیے جب کوئی ہمارے شہداء کی قربانیوں سے انکار کرتا ہے، ان کی تعداد کو مذاق بناتا ہے یا ان شہادتوں کو ایک ’’کہانی‘‘ قرار دینے کی کوشش کرتا ہے تو یہ ہمارے لیے محض سیاسی اختلاف نہیں رہتا، یہ ہمارے زخموں کی توہین ہے، ہمارے اٹھائے ہوئے جنازوں کی توہین ہے اور ہمارے شہداء کے خون کی توہین ہے۔
پھر ہمیں دلیل دی جاتی ہے کہ حکومت نے سو سے زائد شہادتوں کو تسلیم نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ جس حکومت اور ریاستی طاقت کو ہم ان ہلاکتوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، کیا ہم اسی سے توقع کریں کہ وہ خود اپنے خلاف فردِ جرم لکھے گی؟ جس قوت پر گولی چلانے کا الزام ہے، اسی کے انکار کو آخری سچ کیسے مان لیا جائے؟ اگر حکومت اپنے آپ کو بے قصور سمجھتی ہے تو راستہ بہت سیدھا ہے: ہر ہلاکت کی آزاد، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات ہونے دے، شہداء کے نام سامنے آنے دے، تاریخ، مقام، طبی شواہد، عینی گواہ، تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے دے اور یہ بھی معلوم ہونے دے کہ گولی کس نے چلائی، کس کے حکم پر چلائی اور نہتے شہریوں کے خلاف مہلک طاقت استعمال کرنے کا جواز کیا تھا۔
مگر اس ساری بحث سے پہلے ایک ایسا بنیادی سوال موجود ہے جسے تعداد کی بحث میں گم نہیں ہونے دینا چاہیے: گولی چلائی ہی کیوں گئی؟ ایک لمحے کے لیے سو سے زائد شہداء کو چھوڑ دیجیے، صرف ایک انسان کا جواب دے دیجیے۔ ایک نہتے انسان کی جان کیوں لی گئی؟ کیا اپنے حقوق مانگنا جرم تھا؟ کیا احتجاج کرنا جرم تھا؟ کیا حکمرانوں کے سامنے اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا اتنا سنگین جرم بن چکا تھا کہ اس کی سزا موت تھی؟ اگر کسی شخص نے قانون توڑا تھا تو اسے گرفتار کیا جاتا، اس پر مقدمہ قائم کیا جاتا اور اسے عدالت میں پیش کیا جاتا، مگر اس پر گولی کیوں چلائی گئی؟ اس سے اس کا حقِ زندگی کیوں چھینا گیا؟
اور اگر سرکار تیس یا چالیس شہادتوں کا اقرار کرتی ہے تو چلیے، بحث کی خاطر ایک لمحے کے لیے اسی کے اعداد مان لیتے ہیں۔ سو نہیں، چالیس سہی؛ چالیس نہیں، تیس سہی۔ اب ان تیس کا حساب دے دیجیے۔ وہ تیس انسان کیوں مارے گئے؟ کیا تیس انسان، انسان نہیں تھے؟ کیا چالیس جانوں کی کوئی قیمت نہیں تھی؟ کیا انسانی جان کی حرمت کا آغاز ہندسہ ’’سو‘‘ سے ہوتا ہے؟ کیا تیس گھروں میں بچھنے والی صفِ ماتم معمولی بات ہے؟ کیا تیس ماؤں کے بیٹے اس لیے کم قیمتی ہوگئے کہ مرنے والوں کی تعداد سو تک نہیں پہنچی؟ کتنی بے حسی اور ڈھٹائی ہے کہ درجنوں انسانی جانوں کے ضیاع کا اقرار بھی اس انداز میں کیا جائے جیسے چند اعداد بیان کیے جا رہے ہوں، جیسے ان اعداد کے پیچھے انسان نہ ہوں، خاندان نہ ہوں، مائیں نہ ہوں، بچے نہ ہوں اور زندگیاں نہ ہوں۔
ایک بے گناہ انسان کا ناحق خون بھی اتنا ہی مقدس ہے جتنا سو انسانوں کا، اور سو انسانوں کا اتنا ہی جتنا ایک ہزار کا۔ ایک انسان کی جان چھیننے پر بھی وہی بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے جو سو انسانوں کی جانیں چھیننے پر ہوتا ہے: کس اختیار کے تحت ایک انسان سے اس کا حقِ زندگی چھینا گیا؟ اسی لیے ہمیں ’’سو یا چالیس‘‘ کی بحث میں مت الجھائیے۔ ہم سو سے زائد شہداء کے جنازوں اور ان کے خاندانوں کے دکھ کے گواہ ہیں اور ان کی یاد ہمارے اجتماعی حافظے کا حصہ ہے۔ لیکن اگر آپ اس تعداد سے انکار کرتے ہیں تو اپنے تسلیم کردہ تیس یا چالیس انسانوں ہی کا حساب دے دیجیے۔ اور اگر تیس کا حساب دینا بھی مشکل ہے تو صرف ایک کا حساب دے دیجیے۔
بتائیے، پہلی گولی کیوں چلی؟ پہلی جان کیوں لی گئی؟ کس نے حکم دیا؟ کس نے گولی چلائی؟ کس اختیار اور کس قانون کے تحت حقوق مانگتے ایک انسان سے اس کا حقِ زندگی چھین لیا گیا؟ ان سوالوں کا جواب جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی حکمتِ عملی پر بحث چھیڑ کر نہیں دیا جا سکتا۔ کمیٹی کی حکمتِ عملی پر اختلاف کیجیے، اس کے فیصلوں پر تنقید کیجیے، اس کی قیادت سے اختلاف رکھیے، مگر کسی تحریک کی حکمتِ عملی پر اختلاف نہتے لوگوں پر گولی چلانے کا جواز نہیں بن سکتا۔ یہ کہنا کہ احتجاج نہ ہوتا تو لوگ نہ مرتے، دراصل سوال کو مظلوم کے سر پلٹ دینے کے مترادف ہے۔ احتجاج کیوں ہوا، اس پر سیاسی بحث ہوسکتی ہے؛ لیکن احتجاج کرنے والے انسانوں پر گولی کیوں چلی، یہ جواب دہی کا سوال ہے۔
جاری ہے
نقیبِ عزمِ نو
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے نام
جہانگیر احمد لون
حق کی خاطر جو اٹھی، بانگِ رسا تم ہی تو ہو
بے نواؤں کے لبوں کی التجا تم ہی تو ہو
بستی بستی تم سے جاگا حق شناسی کا شعور
شب زدہ اس سرزمیں کی اب ضیا تم ہی تو ہو
جبر کے ایواں لرزتے ہیں تمہارے عزم سے
ظلم کے طوفاں میں عزمِ بے خطا تم ہی تو ہو
خونِ یاراں نے لکھی جو داستاں اس خاک پر
اس شہادت کی امانت، وہ وفا تم ہی تو ہو
قید و بند و جبر بھی عزمِ سفر توڑ نہ سکے
راہِ حق میں استقامت کی بنا تم ہی تو ہو
اپنی دھرتی پر فقط مانگا ہے جینے کا حق
حق طلب لوگوں کی زندہ ندا تم ہی تو ہو
خونِ مظلوماں نہ رائیگاں جائے گا کبھی
کاروانِ حق کی راہِ وفا تم ہی تو ہو
پیر و جواں، سب تمہارے ہم قدم
اتحادِ اہلِ کشمیر کی صدا تم ہی تو ہو
#RightsMovementAJK
وہ نوسر باز کہاں گئے جو کہتے تھے ریاست اپنی رٹ قائم کرے گی کشمیر میں اس وقت عوام کی رٹ قائم ہے عوامی ایکشن کمیٹی کی رٹ قائم ہے عوام کی ریاست ہوتی ہے اور عوام کی رٹ کو ہی ریاست کی رٹ کہتے ہیں۔
9 ستمبر
پلمنڈا بازار میرپور مکمل بند🚩✊
کسی ظالم، جابر، منافق ، مکار کے آگے سرنگوں نہیں ہو سکتے- باوقار ذندگی اور شہادت کی موت کو ترجیح دیں گے مگر ظالم کے ہاتھ پر بیعت نہیں کریں گے- عوام ثابت قدم رہے فتح قریب ہے انشاء اللہ