ایسی کہانیوں پے حیرانگی ہوتی ہے یہ سب کیسے کر لیتے ہیں ۔۔
11 اکتوبر سے ایک ہفتے پہلے اور 11 اکتوبر سے اب تک حکومت وقت کے وزرا گورنر لیڈر شپ سب نے یک زبان ہو کر پوری دنیا کو بتایا ہے ٹی وی چینلز پر پریس کانفرنسز چلیں ہیں کہ خیبرپختونخواہ میں اتنی دہشتگردی ہے اتنی دہشتگردی ہے کہ منتخب حکومت اس پر قابو پانے میں ناکام ہو گئی ہے اس لئے ہمیں مجبوری میں ایمرجنسی و گورنر راج کا اختیار استعمال کرنا پڑا
اتنے تمغے خیبرپختونخواہ کے چہرے پر سجانے کے بعد آج گورنر کے پی دعوت دے رہے ہیں کہ غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کار ، خیبرپختونخواہ میں سرمایہ کاری کریں
اب بندہ پوچھے پہلے تو سرمایہ کاری کی بات تب آئی جب یہ نظام آچکا پیلے تو بتایا گیا تھا دہشتگردی کے خاتمے کے لئے ہم آرہے ہیں
دوسری بات یہ کہ جب آپ نے خود یہ بیانیہ پھیلایا کہ کے پی دہشتگردی زدہ ہے تو اس صورت میں کیسے سرمایہ کار آئے گا ؟؟
تیسرا یا پھر چھ دنوں میں کیا دہشتگردی ختم ہو گئی ہے جو سرمایہ کار کو بلا رہے ہیں ؟؟؟
خان کی بیماری کا کیس تین قیدی اور شاہراہ دستور پر موجود بڑی عدالتیں : اڈیالہ جیل کے 3 میں سے 2 قیدیوں کی اپیلوں میں بیماری کی urgency کی وجہ سے وفاقی آئینی عدالت نے دو دن لگاتار 14 اور 15 ستمبر کیس سنا تھا اگر چہ اس وقت ابھی چھٹیاں تھیں
اس دوران سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کا نکتہ آئینی عدالت کے سامنے اٹارنی جنرل کی جانب سے اتھا کہ یہ اس قسم کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر عمل درآمد کے کیسز سپریم کورٹ سن سکتی ہے یا صرف وفاقی آئینی عدالت کا ہی اختیار ہے
وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ سے عمران خان شفا منتقلی والی فائل اپنے پاس منگوا لی
فائل آئی نہیں آئی وہ سوال الگ ہے
سوال یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے وفاقی آئینی عدالت کی اس حرکت کی وجہ سے سماعت 16 ستمبر کو بغیر کاروائی آگے بڑھانے تین ہفتوں کے لئے ملتوی کر دی تین ہفتے گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ میں کیس نہیں لگا کیونکہ وفاقی آئینی عدالت درمیان میں ہے
وفاقی آئینی عدالت جس نے بیمار قیدیوں کی اپیلوں میں urgency کی وجہ سے دو دن یعنی 24 گھنٹے میں ایکشن کیا تھا 15 ستمبر سے 10 اکتوبر تک وہ بھول ہی گئی کہ کیس دوبارہ بھی لگانا تھا کیونکہ پہلی بار قیدیوں کی بیماری کی urgency کی وجہ سے کیس لگا تھا کیا دوسری بار وہ ختم ہو گئی ؟؟؟
تین قیدی جو اس وقت ستمںر میں جلدی میں تھے ان کی جانب سے بھی اب کوئی جلدی نہیں جلد سماعت کی کوئی درخواست 15 ستمبر سے 10 اکتوبر تک دائر نہیں ہوئی
یوں نظام انصاف پھل پھول رہا ہے
بس جی نکل گئی اکڑ ؟؟
حوثیوں کا وزیر خارجہ جمال عامر ایک ہفتہ پہلے بڑی فخر سے بیان دے رہا تھا کہ پاکستان ہم سے دور رھے اور اگر پاکستان اس جنگ میں شامل ہوا تو ہم اسے عبرت کا نشان بنا دیں گے، ہم یمنی فوج کیساتھ ساتھ پاکستان کو بھی ماریں گے۔
اور ساتھ بڑے فخریہ انداز میں ترکیہ کو
1/4
کیا واقعی بلاول اور آصف علی زرداری صاحب سیاست کے فیصلے خود ہی کرتے ہیں؟ کیا عمران خان کے خلاف سندھ ہاؤس استعمال نہیں ہوا تھا؟ کیا واقعی پاکستان توڑنے میں بلاول کے نانا کا ہاتھ نہیں تھا؟
سہیل بچے،
بلاول اور آپ ہم عمر ہیں لیکن بلاول علم، تجربے، سیاسی سوجھ بوجھ میں آپ سے ھزار گنا آگے ہے۔
بلاول نے جب آپ سے کہا کہ آپ فتح کا اعلان کر کے واپس جاکر بقیہ وقت میں صوبے کے عوام کی خدمت کریں تو دراصل انہوں نے آپ کی طرف ایک سیاسی رسی پھینکی تھی تا کہ آپ سیاسی گڑھے سے باہر نکل آئیں۔ آپ اس رسی کو گڑھے سے باہر نکلنے کی بجائے اسے اپنے گلے میں پھندہ لگا کر سیاسی خودکشی کرنے کیلیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ویسے بچے، ہو سکتا ہے کہ آپ کی عادت بلاول کی طرح لکھنے پڑھنے کی نہ ہو، لیکن اگر آپ حادثاتی طور پر چار کروڑ عوام کے صوبے کے وزیر اعلیٰ بن ہی گئے ہیں تو تاریخ کا مطالعہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ بلاول کے نانا نے آخری وقت تک پاکستان کو متحد رکھنے کی کوشش کی تھی -
جب پاکستان ٹوٹ گیا تو بلاول کے نانا نے ہی بچے کھچے پاکستان کو متحد کیا اور نئے پاکستان کا نعرہ بھی انہوں نے ہی آج سے 55 سال پہلے لگایا تھا۔ آج کے پاکستان کی آئینی، معاشی، معاشرتی اور دفاعی عمارت کی بنیاد بلاول کے نانا نے ہی رکھی تھی۔
رہی بات بلاول کے والد کی تو محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد جب پورے ملک میں آگ لگی ہوئی تھی تو اس وقت بلاول کے والد ہی تھے جنہوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگا کر وہ آگ بجھائی تھی، ملک کو پارلیمانی نظام اور حقیقی صوبائی خودمختاری دی تھی، جس پر آپ آجکل چھلانگیں لگا رہے ہیں۔
بلاول اور ان کے والد نے ہی ایک بار پھر آپکے لیے مذاکرات کا دروازہ کھولا ہے جسے آپ نے ٹھُڈے مار کر بار بار بند کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی لیڈرشپ کا اندازہ لگائیں مزاکرات کا عمل اتوار صبح 3 بجے ختم ہو گیا تھا اس میں عمران خان کی صحت متعلق ایک ایسی بات حکومتی ٹیم نے ان کے ساتھ پہلے بارکی جو اس سے قبل پبلک میں اس طرح تسلیم نہیں کی گئی تھی اس کے بعد اتوار دن بارہ بجے سے آج تقریبا تین بجے تک ہی ٹی آئی مزاکراتی ٹیم میں سے کسی نے وہ پبلک میں نہیں کی سلمان اکرم راجہ ، اسد قیصر ، حلیم عادل شیخ ، عامر ڈوگر نے گزشتہ روز ٹویٹس کیں اس کا ذکر اس میں نہیں تھا آج بھی سلمان اکرم راجہ نے ایک سوال کے جواب میں یہ بات کی
حیران کن ہے کہ جہاں حکومت عمران خان کی صحت متعلق ایک بات کو چھپا رہی تھی وہیں پی ٹی آئی نے بھی معلوم ہونے کے باوجود 30 گھنٹے تک اس کا ذکر تک نہیں کیا ۔۔۔۔ حالانکہ اگر وہ سمجھتے تو پورے مذاکراتی عمل میں سب سے تشویشناک بات یہ تھی
بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے حکومتی وزرا کا مذاکرات ناکام ہونے کا پراپیگنڈا بے نقاب کر دیا ۔ مذاکرات ناکامی کی اصل وجہ بنی عمران خان سے کسی صورت ملاقات نہ کرانے کی ضد ۔۔ !!!
سلمان اکرم کہتے ہیں کہ 2 بج کر 40 منٹ پر ہمیں کہا گیا کہ ملاقات نہیں کرائی جائے گی ، منگل کے روز شیڈول کے تحت ہی ملاقات کرائی جا سکتی ہے وہ بھی صرف غیر سیاسی لوگوں کی۔۔ اس کے بعد پھر مذاکرات جاری رکھنے کا جواز ہی نہیں بنتا تھا ۔ دہشتگردی کو حکومت نے بعد میں جواز بنایا
@salmanAraja
یہ بنوں کے آج کے مناظر ہیں، مجھے کچھ بڑا ہوتا نظر آ رہا ہے، وفاقی حکومت کی اس قدر دھمکیوں کے باوجود، کل کی کور کمانڈر کانفرنس کے اعلامیے کے باوجود، ابھی محسن نقوی صاحب کی دھمکیوں بھرینپریس کانفرنس کے باوجود عوام خیبرپختونخوا کے ہر قصبے اور ہر شہر سے نکل رہے ہیں، کچھ تو ہے
مذاکرات سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہونا
جو نتیجہ برآمد ہونا تھا وہ ابھی ہو چکاہے
اور وہ یہ کہ
پی ٹی آئی میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ ایک غیر معروف نوجوان کو ٹکٹ دیکر اسے قومی سطح کا ایک لیڈر بنا دے اور ایسا لیڈر جس کی ایک سیاسی تحریک کی صرف دھمکی پہ ہی دہائیوں پرانی سیاسی جماعتوں اور جی ایچ کیو کے تگڈم کی حکومت دارلحکومت کو قرون وسطیٰ کا قلعہ بنانے کے بعد بھی مذاکرات پہ مجبور ہو جائے۔
اس وقت وطن عزیز کی صرف دو سیاسی حقیقتیں ہیں ،
ایک پی ٹی آئی جو نہتی عوامی اور دوسری فوج جو مسلح سیاسی جماعت ہے ،
باقی جو بھی ہے وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کا ہی حصہ ہے
رہے مذاکرات
تو یہ پھر ہونگے ، پھر ہونگے اور دوبارہ پھر ہونگے
کیونکہ بنیادی سیاسی بحران ان مذاکرات میں سرے سے زیربحث لایا ہی نہ جائے گا ، اور وہ کیا ہے ؟
کیا نو اپریل سن 2022 کی عدم اعتماد کی اصل وجہ غیر ملکی حکم نامہ سائفر کی صورت میں نہ تھا؟ ورنہ تو پی ٹی آئی کی طرف سے نئے انتخابات کی دعوت تسلیم ہوجاتی ؟ عوام نے اس پہ اپنا فیصلہ مارچ 2024 کے انتخابات پہ سنا دیا ، تو پھر فوج نے عوام سے زبردستی اس کا مینڈیٹ چھین کر عوام کے فیصلہ کا انکار کیوں کیا۔
دوسری طرف سے ہر بار بات گھوم کے نو مئی پہ ہی آئے گی اور اسے دلیل بنایا جائے گا کیونکہ یہ جنرل عاصم منیر کا اوریجنل گناہ تھا ، فوج کی جان تب چھوٹتی ہے جب جنرل عاصم منیر کو گناہگار مانے اور آگے چلے جو جنرل ہونے نہ دے گا۔
جنرل عاصم منیر اپنے بعد والے ذیلی جرائم کی پناہ نو مئی میں ڈھونڈتا ہے لہذا وہ تو اپنا یہ جرم تسلیم ہرگز نہ کرے
جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جنرل عاصم اپنی کھال بچانے کے لیے فوج کو قربانی کا بکرا بناتا رہے گا۔ زیادہ سے زیادہ فوجی مرتے رہیں گے، ابھی بغیر کسی جنگ کے وہ کسی بھی جنگ میں مرنے والے فوجیوں سے زیادہ فوجی مروا چکا ہے اور پاکستان کی معیشت بھی ریکارڈ طور پہ تباہ کر چکا ہے۔
جنرل عاصم منیر زیادہ سے زیادہ یہ کرسکتا ہے کہ باقی ماندہ پاکستان کو بھی بلوچستان کی طرح خانہ جنگی کا شکار کرا دے ، معیشت مزید تباہ ہو، فوج کے بجٹ کے تو لالے پڑ ہی گئے۔ بلوچستان میں مرنے والے فوجیوں کی لاشوں کو چھپایا جارہا ہے آگے مرنے والے افسروں کی لاشوں کو بھی چھپایا جائے گا، خانہ جنگیاں اسی طرح ہی ہوا کرتی ہیں ان میں یہی کچھ ہوا کرتا ہے۔
مرگ انبوہ جشن دارد
کیا اسلام آباد میں شہید والے ہونے سویلین کی لاشوں پہ جشن نہ ہوا تھا ؟ کیا انکا مذاق نہ اڑایا گیا تھا کہ کہاں ہیں لاشیں ؟ اسی کام کا آغاز اب خود فوجی اپنی ہی لاشوں کے ساتھ بلوچستان میں کر رہے ہیں، کہاں ہیں فوجیوں کی لاشیں ؟ جبکہ دوسری طرف سڑک کنارے بے یار و مددگار فوجیوں کی لاشوں کی ویڈیوز جاری ہوتی ہیں۔ سو جسے نارمل کردیا گیا وہ اب نارمل ہی ہے۔
بالکل یہ عین ممکن ہے کہ جنرل عاصم منیر اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے باقی ماندہ پاکستان کو توڑ دے مشرقی پاکستان کی طرح ، کیا اسلامی تاریخ میں روز سلطنتیں تتر بتر ہوکر تباہ نہ ہوتی رہیں ؟ کیا انکے فوجی بعد میں بھیک مانگنے پہ مجبور نہ ہوتے رہے ؟ سپین کا فاتح موسیٰ بن نصیر کیا بعد میں مراکش کی مسجد کے سامنے بھیک نہ مانگا کرتا تھا ؟
اسی طرز کا طرز حکمرانی بالکل وہی نتائج لائے گا یہ سوچنا ہی حماقت ہے کہ قرون وسطیٰ کی ذہنیت اور طرز عمل کا مظاہرہ کرکے مختلف نتائج کی توقع رکھی جائے۔
کیا قرون وسطیٰ تو دور کی بات کل انگریز کی آمد سے قبل یہ نہ ہورہا تھا کہ نوابین و بادشاہ اپنی عیاشیوں پہ خزانہ خالی کرنے کے بعد فوج کی تنخواہ دینے کے قابل نہ رہا کرتے تھے اور انکو عوام پہ کھلی چھوٹ دے دیا کرتے تھے کہ انکی لوٹ مار کرکے اپنی تنخواہ پوری کرو۔ اور نتیجہ یہ نکلا کہ جب انگریز نے قبضہ کیا تو عوام چپ کر کے بیٹھے رہے آج بھی یہی ہو رہا ہے ، آج بھی یہی ہو رہا ہے تو نتیجہ مختلف کس طرح نکل سکتا ہے ؟
آپ ختم کردیں کے پی میں بھی عوام کی حکومت ، کرش کر دیں پی ٹی آئی کو ،جو اب تک قانون اور آئین کی بات کرتی ہے تب وہی انجام ہوگا جو بلوچستان میڻ آئین و قانون کی پناہ لینے والی ماہ رنگ کو قید کرنے کے بعد ہوا۔
زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا ؟
کل ایسی تانا شاہی کی وجہ سے انگریز قابض ہو گئے تھے اور تب ہندوستانی عوام نے بلکہ انکا ساتھ دیا تھا یہ مت بھولیں اور آج چینی قابض ہوجائیں گے۔ اللہ اللہ خیر سلا
باتیں بظاہر سخت ہیں لیکن حقیقت ہے ہی یہی جو ہمیشہ کڑوی ہوتی ہے گزشتہ کل بھی کڑوی تھی اور آئندہ کل کے لئے بھی کڑوی لگ رہی ہے لیکن جس راستہ پہ چلا جا رہا ہے اس کی منزل یا انجام تو یہی ہے آج نہیں تو کل !
عمیر فاروق
بہاولپور ضمنی الیکشن میں آج کی جیت پر یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ مسلم لیگ (ن) کے حامیوں اور سیاسی حلقوں کے مطابق، بہاولپور کے حلقہ NA168 کو نون لیگ کے لیے ایک مشکل معرکہ سمجھا جا رہا تھا، تاہم وہاں سے مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک منیر اقبال چنڑ کی 35 ہزار سے زائد ووٹوں کی نمایاں
1/5
حیرت ہے شریف خاندان کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا نا ہی کسی کنیز خاص نے پریس کانفرنس کی ہے معروف وکیل میاں داوُد کے الزام پر شریف خاندان کے خاموشی قابل حیرت ہے ۔