مجھے نہیں پتہ یہ ویڈیو انڈیا کی ہے یا پاکستان کی 🧐
پاکستان میں ایسا ہو رہا تو یہی کچھ انڈیا میں بھی بہت سے علاقوں میں آج بھی ہوتا نظر آئے گا ۔
اگر انڈیا کی ویڈیو ہے تو میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں پاکستان میں آج بھی کچھ علاقوں میں یہ کچھ ہوتا نظر آئے گا 🤐
😕😓
یہ صرف ایک بچی کی چیخیں نہیں ہیں ، یہ پورے معاشرے کے ضمیر پر سوال ہے😟
یہاں باپ غربت یا روایت کا سہارا لے کر اپنی اولاد کی معصومیت قربان کرتا ہے، اور سماج خاموش رہ کر اس جرم میں شریک ہو جاتا ہے۔ یہ شادی نہیں، یہ اعتماد کا قتل ہے؛ یہ رسم نہیں، یہ ظلم کی مہر ہے۔ اگر آج ہم نے اس چیخ کو نہ سنا تو کل یہی خاموشی ہماری انسانیت کے جنازے کی گواہی بنے گی۔😓
National Commission on the Rights of Child @NCRC_Pakistan Pakistan organized a consultation in collaboration with Centre for Social Justice @csjpak on a draft bill on regularizing faith conversion.
Life for Guardian’s Foundation published a book "The Female Factor" describing life stories of 11 Christian women for their leadership role in the community I am grateful that my story is also covered describing my abilities, skills, aspirations & struggle for a better Pakistan
Dear President, 5 months on, the National Commission for Minorities Bill still awaits enactment. Urgent action is needed to protect minorities & uphold Pakistan’s constitutional and human rights commitments. @AzamNazeerTarar@PresOfPakistan@AAliZardari
Five months after Parliament passed the National Commission for Minorities Bill, it still awaits enactment. Immediate action is needed to protect Pakistan’s religious minorities and uphold constitutional & human rights commitments. #HRCP@AzamNazeerTarar@AAliZardari
بھوک سے لے کر گریجویشن تک..😍
آج، اس کے سر پر گریجویشن کی ٹوپی اور ہاتھ میں ڈگری ایک نئی کہانی سنا رہے ہیں
میں اس پیج پر زیادہ تر گلگت بلتستان کے ٹورزم کے بارے میں لکھتا ہوں، لیکن کبھی کبھار معاشرتی اور اخلاقی پہلوؤں پر بھی بات کرتا ہوں۔
آج میں اسی موضوع کو آپ لوگوں کے سامنے پیش کر رہا ہوں_👇
بھوک سے لے کر گریجویشن تک: کبھی ایک نازک سا بچہ سڑکوں پر بھٹک رہا تھا، کسی نے اس پر رحم کیا، سہارا دیا — اور آج وہی بچہ ڈگری پہن کر اسٹیج پر فخر سے چل رہا ہے۔ آج، اس کے سر پر گریجویشن کی ٹوپی اور ہاتھ میں ڈگری ایک نئی کہانی سنا رہے ہیں۔
یہ کہانیاں یاد دلاتی ہیں کہ ایک چھوٹا سا عمل، کسی کی پوری زندگی کا سب سے بڑا باب بن سکتا ہے۔
اور میرے خیال میں، یہی انسانیت کرنے والے ہی جنت کے اصل حق دار ہیں۔ 🌸
چوہنگ کا 27 سالہ نوجوان حامد بن اسلم کئی دنوں سے الخدمت کے فلڈ ریلیف کیمپ میں کام کر رہا تھا۔ ایک متاثرہ علاقے میں کھانا تقسیم کرنے کے دوران اسے پاگل کتے نے کاٹ لیا ، کچھ دن پہلے اس میں (Rabies) کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں تو میو ہاسپٹل میں ایڈمٹ کرایا گیا ، سوشل میڈیا پر یہ کیس ہائی لائٹ ہوا ۔ بتایا گیا کہ پرسوں حالت کچھ بہتر ہوئی، وہ کھانے پینے اور بات چیت کرنے لگا۔ خوشی ہوئی کہ حامد اب ٹھیک ہو رہا ہے ۔ لیکن آج اس کی طبیعت پہلے سے بھی بگڑ گئی ہے ۔اور اسے زنجیروں سے باندھنا پڑا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ربیز میں وقتی بہتری دھوکہ ہوتا ہے، ربیز دنیا کی سب سے جان لیوا بیماریوں میں سے ایک ہے۔ یہ وائرس جیسے ہی یہ دماغ پر حملہ کرتا ہے، اس کے بعد دنیا کی کوئی جڑی بوٹی، کوئی ٹوٹکا، کوئی دوا، کوئی ڈاکٹر، کوئی ہسپتال، کوئی ویکسین کام نہیں آتی۔ربیز کی علامات ظاہر ہو جائیں تو مریض کے زندہ بچنے کے امکانات تقریباً صفر (0–1%) رہ جاتے ہیں۔ دنیا بھر میں اب تک صرف 4,5 ہی کیسز ایسے ہیں جہاں مریض بچ پایا، اور وہ بھی نایاب مثالیں ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے سے ہر سال کئی لوگ ربیز کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ، اول تو چھوٹے ہسپتالوں میں ربیز کی ویکسین ہی میسر نہیں ہوتی ، ہو بھی تو لوگ لگوانے میں اتنی دیر کردیتے ہیں کہ یہ وائرس اعصاب اور دماغ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ، پھر دنیا کا کوئی علاج ۔۔۔ اس کو ٹھیک نہیں کرسکتا ۔ پاگل کتے کے کاٹنے کے بعد علاج میں سستی ، جھاڑ پھونک، دیسی علاج یا انتظار کرنا ۔۔۔ سیدھا سیدھا موت کو آواز دینا ہے ۔
کل ایک سرکاری ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے کہ اگر کاٹنے کی جگہ چہرے، گردن یا انگلیوں پر ہو، یا زخم بہت گہرا ہو تو ویکسین کے ساتھ ساتھ Rabies Immunoglobulin (RIG) لگانا بھی لازمی ہوتا ہے۔ یہ وائرس کو فوراً زخم پر ہی بے اثر کرتا ہے۔ لیکن ہمارے ہسپتالوں میں (RIG) انجیکشن بروقت دستیاب نہیں ہوتا۔ مریض کو کہا جاتا ہے کل آنا ، ویکسین شارٹ ہے۔ ۔ جبکہ صرف اینٹی ریبیز ویکسین اس صورت میں ناکافی ہوتی ہے
حامد کی زندگی اور صحت کے لیے ہم سب دعا گو ہیں۔ اللہ تعالی ہی کوئی معجزہ کردے ، اس اسٹیج پر میڈیکل سائنس تو بےبس ہے ۔ لیکن کتے کے کاٹنے کے بعد ، چاہے وہ باؤلا نہ بھی ہو ، 24 گھنٹے کے اندر ویکسین لگوائیں ۔ اور حکومت سے بھی درخواست ہے جگہ جگہ آوارہ کتے پھر رہے ہیں ، کوئی گلی ، کوئی محلہ محفوظ نہیں ، ان کا بندوست کریں ، نہیں ہوسکتا تو ہسپتالوں میں (RIG) ویکسین کا تو بندوبست کرکے رکھیں ۔۔۔تاکہ کسی کا جان کا ٹکڑا ، کسی کا حامد یوں ہسپتال میں نہ تڑپے ۔۔!!
آصفہ عنبرین قاضی