جنرل صاحب ! اگر اپنی کسی ماں بہن بیٹی کی شلوار اتار کر اسے بلوچی قمیض پہنا کر اسے بی ایل اے سے منسوب کرنے کی نوبت آگئی ہے تو یہی اتاری ہوئی شلوار خود پہن لیں۔ آپ سے نہیں ہوپائے گا۔
نوٹ ؛ یہ اللہ کی فوج کی حرکتیں ہیں۔ یہ مکہ کے محافظوں کی حرکتیں ہیں۔
ان کا پاکستانی معاشرے میں کون سا مثبت کردار ہے جو ان کو ایوارڈ دیے گئے انہوں نے غریب عوام کے لیے کوئی کام کیا ہے؟
انہوں نے لوگوں کے لیے کوئی مثبت پوزیٹو ایکٹیوٹی کا انعقاد کیا ہے ؟
انہوں نے عورتوں کے حقوق کے لیے کوئی کام کیا ہے انہوں نے غریب بچوں کی پڑھائی کے سلسلے میں کچھ کیا ہے ؟
ناگہانی آفت کے ٹائم پر یا کوئی بھی کریمنل ایکٹیوٹی پر بھی یہ اپنی آواز بلند نہیں کرتی کس بات کا ایوارڈ ؟
ناچ گانے ننگے پن بیہودگی پھیلانے کا ایوارڈ ملا ہو گا پھر
🌹 یومُ الجمعہ مبارک ❤️
کثرت سے درودِ پاک پڑھنے اور سورۃ الکہف کی تلاوت کا اہتمام کیجیے۔
خاص عنوان
حضور خاتم الانبیاء ﷺ کی ولادتِ باسعادت قبل و بعد کے ایمان افروز حالات و واقعات اور ظہورِ نبوت کی عظیم برکات
📍 جامع مسجد اظہر ٹاؤن، لدھڑ چوک، ایمن آباد روڈ، نزد یونیورسٹی، سیالکوٹ
پہرہ جاری رہے گا ان شاءاللہ
✍️ مفتی ابو محمد عفی عنہ
حضور ﷺ کی ایک رضاعی بہن کا ذکر آتا ھــے جو آپ کو لوریاں دیتی تھیں اس کا نام سیدہ شیؓما تھا ۔
شام کے وقت جب خواتین کھانا پکانے میں مصروف ہو جاتیں، تو بہنیں اپنے بھائی اٹھا کر باہر لے جاتیں اور ہر بہن کا خیال یہ ہوتا کہ میرے بھائی سے زمانے میں زیادہ خوب صورت کوئی نہیں۔ کہتے ہیں خوب صورتی دیکھنے والے کی آنکھ میں ہوتی ھــے تو جس کے بھائی کا رنگ حسین ہوتا تو وہ کہتی رنگ نہیں تو دیکھو ۔
اب بنوسعد کے محلے میں بچیاں اپنے بھائی اٹھاتیں ایک کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں اور دوسری کہتی میرے بھائی جیسا کوئی نہیں
اتنے میں سیدہ شیمؓا اپنا بھائی سیدنا محمد ﷺ اٹھا کے لے آتیں اور دور سے کہتی میرا بھائی بھی آ گیا ھــے تو سب کے سر جھک جاتے اور کہتیں نہیں نہیں تیرے بھائی کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا ہم تو آپس کی بات کر رہے ہیں آپ سے مقابلے کی بات تو نہیں کر رہے اور پھر جب کسی بہن کے بھائی کو سب متفقہ طور پر کہتیں کہ تیرا بھائی خوبصورت ہے تو اس کا فخر بھی تو دیدنی ہوگا اور اس کا ذوق آسمان کو چھونے لگتا
ابن ہشام سیرت کی سب سے پہلی کتاب ھــے اسی میں یہ واقعہ لکھا ھــے کہ سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کو اپنی گود میں لے کے سمیٹتیں اور پھر جھومتیں اور پھر وہ لوری دیتیں اور لوری کے الفاظ بھی لکھ دئے ہیں جن کا ترجمہ ھــے
اے ہمارے رب میرے بھائی محمد ﷺ کو سلامت رکھنا آج یہ پالنے میں بچوں کا سردار ھے کل وہ لمبے ہوئے جوانوں کا بھی سردار ہوگا اور پھر جھوم جاتیں ۔
ہوتے ہوتے وہ زمانہ بھی آیا کہ حضور ﷺ مکے چلے گئے اور سیدہ شیمؓا بھی جوان ہوئی جن کی شادی بھی کسی قبیلے میں ہوگئی حضور ﷺ نے اعلان نبوت کیا تیرہ سال کا وقت بھی گزر گیا اور آپ ﷺ مدینہ شریف چلے گئے ۔
جب غزوات کا سلسلہ شروع ہوا تو جس قبیلے میں سیدہ شیمؓا کی شادی ہوئی تھی اس قبیلے کے ساتھ مسلمانوں کا ٹکراؤ آ گیا الله رَبُّ العِزَّت نے مسلمانوں کو فتح عطا کر دی تو اس قبیلے کے چند لوگ صحابہ کرام رض کے ہاتھوں گرفتار ہوکر قید کر دئے گئے تو یہ لوگ اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لئے فدیہ جمع کرنے لگے اور قبیلے کے سردار ایک ایک گھر سے رقم جمع کر رہے ہیں ۔
چلتے چلتے یہ سیدہ شیمؓا کے گھر پہنچ گئے جو کہ اپنی عمر کا ایک خاص حصہ گزار چکی تھیں اس سے کہنے لگے کہ اتنا حصہ آپکا بھی آتا ھــے ۔
سیدہ شیمؓا نے کہا
کس لئے ؟
سردار اور ساتھ والے لوگوں نے کہا جو لڑائی ہوئی ھــے اور اس میں ہمارے آدمی گرفتار ہوچکے ہیں باتیں کرتے کرتے کسی کے لبوں پر محمد ﷺ کا نام بھی آ گیا تو سیدہ شیؓما سن کر کہنے لگی اچھا انہوں نے تمہارے لوگ پکڑے ہیں کہا ہاں
سیدہ شیمؓا نے کہا کہ تم رقم اکٹھی کرنا چھوڑ دو مجھے ساتھ لےچلو ۔
سردار نے کہا آپ کو ساتھ لے چلیں ؟
سیدہ شیؓما کہنے لگیں ہاں تم نہیں جانتے وہ میرا بھائی لگتا ھے ۔
قوم کے سرداروں کے ساتھ سیدہ شیؓما حضور ﷺ کے خیموں کی طرف جا رہی ہیں اور صحابہ کرامؓ ننگی تلواروں سے پہرہ دے رہے ہیں، یہ مکی دور تو تھا نہیں مدنی دور تھا ۔
اور سیدہ شیمؓا قوم کے سرداروں کے آگے جب بڑھنے لگیں تو صحابہ نے تلواريں سونتیں اور پکارا
او دیہاتی عورت رک جا دیکھتی نہیں آگے کوچہء رسول ﷺ ھــے آگے بغیر اذن کے جبریلؑ بھی نہیں جا سکتے تم کون ہو
تو سیدہ شیمؓا نے جواب میں جو الفاظ کہے ان کا اردو ترجمہ یہ ھے ۔
میری راہیں چھوڑ دو تم جانتے نہیں میں تمہارے نبی ﷺ کی بہن لگتی ہوں ۔
تلواریں جھک گئیں آنکھوں پر پلکوں کی چلمنیں آ گئیں راستہ چھوڑ دیا گیا سیدہ شیمؓا حضور ﷺ کے خیمہء اقدس میں داخل ہو گئیں تو حضور ﷺ نے دیکھا اور پہچان گئے ۔ فورا اٹھ کھڑے ہوئے فرمایا بہن کیسے آنا ہوا ؟
کہا آپ ﷺ کے لوگوں نے ہمارے کچھ بندے پکڑ لئے ہیں ان کو چھڑانے آئی ہوں ۔
حضور ﷺ نے فرمایا بہن تم نے زحمت گوارا کیوں کی۔
پیغام بھیج دیتیں میں چھوڑ دیتا لیکن تم آ گئیں اچھا ہوا ملاقات ہو گئی ۔
پھر حضور ﷺ نے قیدیوں کو چھوڑنے کا اعلان کیا کچھ گھوڑے اور چند جوڑے سیدہ شیؓما کو تحفے میں دیدیں کیونکہ بھائیوں کے دروازے پر جب بہنیں آتی ہیں تو بھائی خالی ہاتھ تو بہنوں کو نہیں مڑا کرتے ۔
حضور ﷺ نے بہت کچھ عطا کیا اور رخصت کرنے خیمے سے باہر تشریف لے آئے تو صحابہ کی جماعت منتظر تھی
فرمایا اے صحابہ ! آپ جانتے ہیں کہ جب بھی میں قیدی چھوڑا کرتا ہوں تو میری یہ عادت ھے کہ آپ سے مشاورت کرتا ہوں لیکن آج ایسا موقع آیا کہ میں نے آپ سے مشاورت نہیں کی اور قیدی بھی چھوڑ دئے
آپ جو چاہیں کریں صحابہ نے عرض کیا کہ حضور ﷺ مشاورت کیوں نہیں کی ارشاد تو فرمائیں فرمایا میرے دروازے پر میری بہن آئی تھیں ۔
یہ ھے بہن کی قدر اور آج میں ، آپ اور سب کیا سلوک کر رہے ہیں بہنوں کے ساتھ تھوڑا نہیں پورا سوچئیے جزاک الله الخير
#آفاق_سومرو
خلیفہ عبدالملک بن مروان بیت اللّٰه کا طواف کر رہا تھا اس کی نظر ایک نوجوان پر پڑی جس کا چہرہ بہت پُر وقار تھا مگر وہ لباس سےمسکین لگ رہا تھا- خلیفہ عبدالملک نے پوچھا یہ نوجوان کون ھے تو اسے بتایا گیا کہ اس نوجوان کا نام سالم ھے اور یہ سیدنا عبداللّٰه بن عمر رضی اللّٰه عنہ کا بیٹا
استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی
"سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی"
یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے
چند لمحوں کے لیے کلا س میں خاموشی چھاگئی ،ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھا
1/7
#نمود_عشق#موناسکندر
مائیكل ہارٹ نے اپنى كتاب’’ سو عظيم شخصيات‘‘ كو لكھنے ميں 28 سال كا عرصہ لگايا، اور جب اپنى تاليف كو مكمل كيا تو لندن ميں ايك تقريب رونمائى منعقد كى جس ميں اس نے اعلان كرنا تھا كہ تاريخ كى سب سے ’’عظيم شخصيت‘‘ كون ہے؟
وہ ڈائس پر آيا اور کہنا شروع کیا
" ايك آدمى چھوٹى سى
1👇
*براۓ مہربانی اس تحریر کو ایک بار ضرور پڑھیں*
*ایک مشہور مصنف نے اپنے مطالعے کے کمرےمیں قلم اٹھایا اور ایک کاغذ پر لکھا:*
٭٭٭ گزشتہ سال میرا آپریشن ہوا اور پتا نکال دیا گیا، بڑھاپے میں ہو نے والے اس آپریشن کی وجہ سے مجھے کئی ہفتے تک بستر کا ہو کر رہنا پڑا۔
٭٭٭ اسی سال ہی
تاریخ صرف فتوحات گنتی ہے۔
دستر خوان پر پڑے انڈے ،جیم اور مکھن نہیں!
یہ 1973ء کی بات ہے۔
عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی۔
ایسے میں ایک امریکی سنیٹر ایک اہم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا۔ وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا 2/31