آسمان منزہ بریگیڈ میں پانی کی قلت پر سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھگڑا
جنوبی وزیرستان اپر کے آسمان منزہ فوجی بریگیڈ میں پانی کی شدید قلت پر ایس ایس جی کمانڈوز،فوج ،ایف آئی یو ،سادہ کپڑے میں ملبوس ادارے کے لوگ اور ایف سی اہلکاروں کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ اطلاعات کے مطابق واقعے میں 22 جوان زخمی ہوئے، جن میں سے 9 زخمیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق صورتحال پر قابو پالیا گیا ہے اور فی الحال حالات معمول پر ہیں۔
فیصل نصیر ڈرٹی ہیری کی نئی تعیناتی بہت ہی اہم ہے اور یہ نئی تعیناتی پہلے سے بھی زیادہ طاقتور والا اور آئی ایس آئی والے عہدے سے بھی زیادہ بڑا عہدہ ہے۔ آئی ایس پی آر
کوئی غزل ہو یہ لہجہ نہیں بدلتے ہم
کہ سچ ہو کتنا بھی کڑوا نہیں بدلتے ہم
کھلی کتاب کے جیسی ہے زندگی اپنی
کسی کے سامنے چہرہ نہیں بدلتے ہم
لہولہان ہوں نظریں یا روح ہو زخمی
ہماری آنکھوں کا سپنا نہیں بدلتے ہم
وفا کی راہ کے پکے ہیں ہم مسافر بھی
ملیں نہ منزلیں رستہ نہیں بدلتے ہم
کٹا پھٹا ہی سہی ہے یہ پیرہن سچ کا
نئے لباس سے کپڑا نہیں بدلتے ہم
سدیش کمار مہر
According to the @BBC, Fazal Qadir Mandokhail, a member of the Balochistan Assembly, has claimed that the #Pakistan Army has brought 1000s of former Afghan soldiers to #Balochistan and deployed them along the Durand Line near #Afghanistan. Is this credible? If it is true what is Pakistan's game plan? How will #Afghanistan respond?
https://t.co/YN6lLpdd2k
During a session of the Balochistan Assembly, Fazal Qadir Mandokhail, a member of Jamiat Ulema-e-Islam (F), claimed that thousands of former Afghan soldiers had been brought to areas of Pakistan near the Durand Line.
During the discussion, Fazal Qadir Mandokhail said that the security situation in the province was deteriorating day by day. He alleged that thousands of soldiers from the former Afghan republican government had been transferred to his area.
He asked the government why these individuals had been settled there.
ہتھیار پھینکنے کی وراثت آپ کے آقاؤں کے پاس ہے ۔
راہشون سردار عطاءاللہ مینگل نے اس وقت پی پی پی کے جیالے وزیر داخلہ رحمان ملک کو کچھ تاریخی الفاظ کہے تھے
#TributeToSardarAttaUllahMengal
جب ایمان مزاری جیل سے باہر تھیں تو ہمیں کوئی مشکل پیش نہیں کرنی پڑتی تھی۔ جب بھی کوئی مسئلہ ہوتا تھا، ہم انہیں براہِ راست کال کرتے تھے، تو یا وہ خود آ جاتی تھیں یا پھر عدالت کی طرف سے ہمیں ریلیف دلواتی تھیں۔
اب ہمارے پاس تو اتنے پیسے نہیں ہیں کہ ہم کوئی دوسرا وکیل کر سکیں۔ ایمان مزاری تقریباً تین، چار سال سے ہمارے کیسز دیکھ رہی تھیں۔ آج تک ہم نے نہ انہیں ایک روپیہ بھی دیا ہے اور نہ ہی انہوں نے کبھی ہم سے کوئی رقم لی ہے۔ ریڑھی بان کا سپریم کورٹ کے باہر عدالتوں سے شکوہ!!!!
ڈوباندو میں سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کے بعد مقامی لوگوں کے گھر نشانہ بنائے گئے
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے اپر دیر کے ڈوبانڈو علاقے میں مقامی علیحدگی پسند کے طور پر شناخت کیے گئے کئی افراد کے گھروں کو آگ لگا دی ہے، جن میں اجمل صفی اور الیاس شامل ہیں۔
(1/2)