دنیا کے اسٹیج پر اس وقت دو ہی فاشسٹ موجود ہیں: ایک ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرا عاصم منیر۔ دونوں ایک دوسرے کی دن رات تعریف و توصیف میں مگن ہیں۔
آج سکردو کی فلائٹ پر جاتے ہوئے اسد قیصر کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے ایئرپورٹ کی ٹریفک کئی گھنٹوں تک صرف اس لیے بند رکھی گئی کہ ایک سیاسی جماعت کا رہنما انتخابی مہم کے لیے نہ جا سکے۔ جنید اکبر کو بھی انتخابی مہم کے علاقے سے نکال دیا گیا۔
عاصم منیر، تم ایک فاشسٹ ہو۔ اور فاشسٹ، چاہے وہ مسولینی ہو، رومانیہ کا چاؤشیسکو ہو یا ہٹلر، ان سب کا انجام تاریخ میں درج ہے۔
جب اپنی ہی عوام اور اپنی ہی فوج کسی کے خلاف ہو جائے تو پھر کیا ہوتا ہے؟
کل رات جو ظلم و جبر اور فسطائیت عمران خان کی بہنوں، تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ اور صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلٰی اور صوبائی کابینہ کے ساتھ کیا گیا، اس ظلم کے خلاف لائحہ عمل کا اعلان آج خیبرپختونخوا ہ ہاوس میں پریس کانفرنس میں کریں گے۔
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی!
#زندان_ٹوٹے_گا_خان_چھوٹے_گا
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
لیڈرشپ ایکسپوزڈ 🚨
عظمٰی خان نے انکشاف کیا ہے کہ ہمیں انفارمیشن ملی ہے کہ آپ کے لوگوں نے ہی عمران خان کے ساتھ آپ کی ملاقاتیں بند کرائی ہیں
کیونکہ آپ کے لوگ ہی نہیں چاہتے کہ آپ جا کر ملاقات کریں اور عمران خان کی کوئی ہدایات باہر آئے
احمد خان نیازی جو کچھ کر رہے ہیں وہ عہد حاضر کی ناگزیر ضرورت ہے ہمیں یہ علم نہیں کہ وہ کیا حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں اور آئندہ کیا اقدامات کریں گے تاہم یہ تمام امور وقت کی پکار ہیں اور جب وہ پیش قدمی کریں گے تو ہم ان کا بھرپور ساتھ دیں گے ہمیں اس جماعت سے کوئی توقع باقی نہیں رہی ہمیں یکسر تنہا چھوڑ دیا گیا ہے لیکن اگر کسی کو یہ گمان ہے کہ ہم بے سہارا ہیں تو یہ محض فریب ہے ہمارے ساتھ ہماری سب سے بڑی طاقت ہمارا رب موجود ہے
جیسے حیدر سعید بھائی کی والدہ نے اپیل کی ہے کہ میرے بیٹے کے لئے آواز اٹھائیں.
اسی طرح تمام گمشدہ کارکنان کی مائیں بھی اپنے بیٹوں کیلئے تڑپ رہی ہیں. ان تمام لوگوں کے لئے ضرور آواز اٹھائیں.
عمران خان کی آنکھ چلی گئی؟
پختونخواہ حکومت جاتی ہے تو جائے
بیرسٹر گوہر کا عہدہ جاتا ہے تو جائے
سلمان اکرم راجہ کا عہدہ جاتا ہے تو جائے
محمود اچکزئی کا عہدہ جاتا ہے تو جائے
علامہ ناصر عباس کا عہدہ جاتا ہے تو جائے
پندرہ بیس درجن اراکین اسمبلی جاتے ہیں تو جائیں
اگر احتجاج مشکل ہے تو اسمبلیوں سے استعفے دیں ، اس نظام کو کندھا دینا تو بند کریں۔ جیل نہیں جانا نا جائیں ، گھر تو جائیں۔ جس عوامی نفرت کا رخ عمران خان کی یہ حالت کرنے والوں کی طرف ہونا چاہیے وہ یہ اپنی طرف کیے بیٹھے ہیں ؟ کیوں؟ اگر عہدوں سے بڑے ہیں تو عہدے چھوڑ دیں۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کا قد کاٹھ ، ان کی شناخت ، ان کی پہچان یہ عہدے ہی تو ہیں۔ بیرسٹر گوہر کی سیاسی حیثیت یا تاریخ کیا ہے؟ سلمان اکرم راجہ کی سیاسی حیثیت یا تاریخ کیا ہے؟ محمود اچکزئی اس سے پہلے کتنی مرتبہ لیڈر آف دی اپوزیشن بنے ہیں؟ علامہ ناصر عباس کتنی دفعہ سینٹر بنے ہیں؟
آواز اٹھائیں 🚨
رپورٹس کے مطابق اعجاز چوہدری کے گردے صرف تقریباً 20٪ کام کر رہے ہیں، وزن تیزی سے کم ہو رہا ہے اور صحت مسلسل بگڑ رہی ہے۔
اعجاز چوہدری کا کوئی مخصوص گروپ نہیں اس لئے جتنا بھی ممکن ہو رہائی کے لئے آواز اٹھائیں
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
عمران خان کے ساتھ کی گئی طبی دہشت گردی کے بعد ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی حالیہ طبی رپورٹ—بالخصوص آنکھوں کا اچانک مسئلہ—ان کے خدشات اور سابقہ بیانات کی مکمل تائید کرتی ہے۔ انہوں نے بارہا اپنے کھانے میں زہریلی اشیاء کی ملاوٹ کی شکایت کی تھی، جسے یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں ضروری معالجے اور طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا۔ یہ ایک انتہائی سنگین صورتحال ہے جہاں کوئی سنگین قسم کی میڈیکل ہسٹری نہ ہونے کے باوجود چند ہفتوں کے وقفے سے دونوں کی بینائی متاثر ہو گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کی طبی دستاویزات کا سامنے نہ آنا اور نہ ہی ان کا مکمل طبی معائنہ ہونا ان خدشات کو مزید واضح کرتا جا رہا ہے۔ عمران خان نے بارہا کہا ہے کہ جیل میں میرے ساتھ سلوک عاصم منیر کے کہنے پر ہو رہا ہے اور بشریٰ بی بی پر ظلم مجھے توڑنے کے لیے ہے۔
چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم کا اصل مقصد ہی یہی تھا کہ ملک میں عدل و انصاف کا جنازہ نکال کر قانون کو مذاق بنا دیا جائے۔ گزشتہ سال دسمبر سے عمران خان کو قید تنہائی میں رکھ کر ان کے حوصلے توڑنے کی مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
#ShameOnJudges
#FascismUnderAsimLaw
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”
Illegally Incarcerated Former Prime Minister of Pakistan, Imran Khan, speaking to his sons on phone from Adiala Jail - (March 21, 2026)
عید کے موقع پر دہشتگردوں کے خلاف جنگ بندی ہو سکتی ہے تو عید کے موقع پر سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ سے ان کی فیملی کی ملاقات کیوں نہیں کروائی جا سکتی؟
یہ سوال تو ہر پاکستانی کے ذہن میں آتا ہے!!
#CrueltyAgainstKhanOnEid
جس عمران خان کو یہ کرپٹ ٹولا یہودی ایجنٹ کہا کرتا تھا، اس عمران خان نے عالمی فورمز پر اتنے موثر طریقے سے عالمی دنیا کو یہ بنیادی نقطہ سمجھایا کہ جب کوئی ہمارے نبیٌ کی توہین کرتا ہے تو تمام مسلمانوں کے دل کو تکلیف ہوتی ہے-
اس کے بعد 2022 سے اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے-
عمران خان کا ایک بہت بڑا جُرم یہ بھی ہے کہ وہ پہلا مسلمان سربراہ تھا، جس نے یہ بیڑا اٹھایا اور اس کے خلاف آواز اٹھائی ورنہ کسی رہنما نے اس موضوع پر آواز نہیں اٹھائی تھی-
اس عظیم رہنما کو یزید کے پیروکار مناسب طبی سہولیات نہیں دے رہے-
#خان_کو_شفا_ہسپتال_منتقل_کرو