A woman lies on the ground, exhausted from the displacement from northern G:aza to the south, a scene that encapsulates the tragedy of displacement.
#Palestine#Gaza
صوبائی حکومت کی ناقص پالیسیوں اور غیر مؤثر حکمت عملی کے باعث آج صوبے کے مختلف علاقوں میں بدامنی اور آپریشنز کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے گنڈا پور کی سیاسی حکمت عملی ایک نابالغ کی طرح جوکہ ہمارے صوبے پر مسلط کیا۔
#آپریشن_کا_سہولتکار_گنڈاپور
ہمارے تعلیمی ادارے، خاص طور پر یونیورسٹیاں، اب تعلیم کے بجائے تشدد، گروہ بندی اور منشیات کا مرکز بنتی جا رہی ہیں۔
ہاسٹلز میں نہ صرف منشیات کی کھلے عام سپلائی ہو رہی ہے، بلکہ ایک دوست بتا رہے تھے کہ اسلام آباد بھر کو نشہ ہاسٹل سٹی سے پہنچایا جاتا ہے۔ یہ محض طلبہ کا مسئلہ نہیں رہا، یہ ہماری آنے والی نسلوں کا بحران ہے۔قائداعظم یونیورسٹی میں آج درجنوں طلبہ کی گرفتاری اسی بگاڑ کی تازہ مثال ہے۔ اس سے پہلے 2023 میں مجھے یاد ہے کہ کئی کلو منشیات یہاں سے برآمد ہوئی تھی، اکثریت یونیورسٹیز کی یہی صورتحال ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سمیت کئی جامعات میں طلبہ گروپوں کے تصادم معمول بن چکے ہیں جو کہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔ یونیورسٹیوں کو علم، تہذیب اور اصلاح کا گہوارہ ہونا تھا، مگر ہم نے انہیں نفرت اور بربادی کے مراکز میں بدل دیا ہے۔
جورج عبداللہ… وہ لبنانی مسیحی جس نے اپنی زندگی فلسطین کے لیے وقف کر دی
تنظیم "الفصائل المسلحة الثورية اللبنانية" کے سابق رکن جورج عبد اللہ جمعہ کے روز فرانس کی جیل سے رہا ہو گئے، جہاں وہ تقریباً 41 سال قید رہے۔ یہ رہائی پیرس کی اپیل کورٹ کے گزشتہ ہفتے دیے گئے فیصلے کے بعد عمل میں آئی، اور وہ بیروت روانہ ہو گئے۔
جورج ابراہیم عبد اللہ 1951 میں شمالی لبنان کے علاقے القبیات میں ایک مسیحی مارونی خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے اصولی موقف اور آزادی کی تحریکوں کی بھرپور حمایت کے لیے معروف ہیں، بالخصوص فلسطینی کاز کو انہوں نے اپنی سیاسی اور مسلح جدوجہد کا محور بنایا۔
فلسطین کے لیے جدوجہد
نوجوانی کے زمانے سے ہی وہ جبهة الشعبیة لتحرير فلسطين سے منسلک ہو گئے، جہاں انہوں نے انقلابی بائیں بازو کے نظریات سے اثر لیا۔ ان کا یقین تھا کہ فلسطین کی آزادی صرف مسلح مزاحمت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے اسرائیلی قبضے اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
1979 میں انہوں نے "الفصائل المسلحة الثورية اللبنانية" کے قیام میں حصہ لیا، جو ایک مارکسی نظریات پر مبنی تنظیم تھی اور فلسطینی کاز کی بھرپور حامی تھی۔ اس تنظیم نے یورپ میں امریکی اور اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جسے عبد اللہ نے فلسطینیوں کے خلاف صہیونی مظالم کا جواب قرار دیا، جیسا کہ انہوں نے اپنی عدالتی سماعت کے دوران کہا۔
عدالتی کارروائی اور انکارِ توبہ
انہیں 1984 میں فرانس میں گرفتار کیا گیا، اور 1987 میں امریکی و اسرائیلی سفارتکاروں کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ مقدمے کے دوران انہوں نے کبھی پچھتاوے کا اظہار نہیں کیا بلکہ اپنا مشہور جملہ کہا:
"میں ایک مجاہد ہوں، مجرم نہیں… اور فلسطین کی آزادی تک مزاحمت کے راستے پر قائم رہوں گا۔"
فلسطین کے لیے 4 دہائیوں سے زائد کی قید
اگرچہ وہ 1999 سے ہی مشروط رہائی کے قانونی معیار پر پورا اترتے تھے، لیکن صہیونی اور امریکی دباؤ کے باعث انہیں مزید 41 سال تک قید میں رکھا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، وہ سیاسی اسیر کی ایک علامت بن چکے تھے، جو فلسطین سے اپنی وفاداری کی قیمت چکا رہا تھا۔
وطن واپسی… اور عہدِ وفا
25 جولائی 2025 کو، مشروط رہائی کے فیصلے کے بعد، انہوں نے فرانس کی لانمیزان جیل کو خیرباد کہا اور لبنان لوٹ آئے، جہاں ان کے سینکڑوں حامیوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا۔ وطن واپسی پر اپنے بیان میں انہوں نے ایک بار پھر فلسطین سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا:
"فلسطین پر کوئی سودے بازی نہیں… ہمارا اندرونی صبر و استقلال بیرونی محاذ پر رفقاء کی جدوجہد سے جڑا ہے، اور مزاحمت کا سفر جاری ہے۔"