رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مومن کو کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، یا اس سے بھی کم کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالی�� اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند اور اس کے بدلے اس کا ایک گناہ معاف کر دیتا ہے“۔
(جامع ترمذی، ۹۶۵)
اگراللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں، اور اگر وہ تمہیں تنہا چھوڑدے تو کون ہے جو اس کے بعد تمہاری مدد کرے؟ اور مؤمنوں کو چاہئے کہ وہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں۔
﴿سورۃ آل عمران ، ۱۶۰﴾
ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےان سےفرمایا کہ پھر آنا۔ اس نےکہا: اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو؟ گویا وہ وفات کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ اگر تم مجھے نہ پا سکو تو ابوبکر کےپاس چلی آنا۔
(بخاری،۳۶۵۹)
برائیوں سے حفاظت کی دعا
غافر 7-8
رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ
اے ہمارے رب، تو اپنی رحمت اور اپنے ��لم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کر دے اور عذاب دوزخ سے بچا لے اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔
اے ہمارے رب، اور داخل کر اُن کو ہمیشہ رہنے والی اُن جنتوں میں جن کا تو نے اُن سے وعدہ کیا ہے، اور اُن کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ پہنچا دے) تو بلا شبہ قادر مطلق اور حکیم ہے۔
#الف_نگری
جھاڑ پھونک خود کرلیں
عاملوں کے چکر نہ لگائیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
جنوں اور انسان کی نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے، یہاں تک کہ معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) نازل ہوئیں، جب یہ سورتیں اتر گئیں تو آپ نے ان دونوں کو لے لیا اور ان کے علاوہ کو چھوڑ دیا۔
ترمذی، ح2058
حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لئے رسول اللہ (ﷺ) کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے، ہر اُس شخص کے لئے جو اللہ سے اور یومِ آخرت سے اُمید رکھتا ہو، اور کثرت سے اللہ کا ذِکر کرتا ہو۔
﴿سورۃ الاحزاب ، ۲۱﴾
جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو، تو تمام تر عزت اللہ کے قبضے میں ہے۔ پاکیزہ کلمہ اسی کی طرف چڑھتا ہے اور نیک عمل اس کو اوپر ��ٹھاتا ہے۔ اور جو لوگ بری بری مکاریاں کر رہے ہیں، ان کو سخت عذاب ہوگا، اور ان کی مکاری ہی ہے جو ملیا میٹ ہوجائے گی۔
(سورۃ فاطر ، ١٠)
قالَ ﷺ:
ہر فرض نماز کے بعد ایک دوسرے کے پیچھے کہے جانے والے چند کلمات ہیں، ان کا کہنے والا یا ادا کرنے والا کبھی ناکام یا نامراد نہیں رہتا:
(1) تینتیس (33) مرتبہ سبحان الله،
(2) تینتیس (33) مرتبہ الحمدلله، اور
(3) چونتیس (34) مرتبہ الله اکبر کہنا.
مسلم 1349، 1350
(مشکوٰۃ 966)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سےکوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے۔اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور جو دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا۔
(بخاری، ۱۳۷۹)
کیا تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح سائے کو پھیلاتا ہے؟ اور اگر وہ چاہتا تو اُسے ایک جگہ ٹھہرا دیتا۔ پھر ہم نے سورج کو اُس کے لئے رہنما ��نا دیا ہے پھر ہم اُسے تھوڑا تھوڑا کرکے اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔
سورۃ الفرقان
ت�� خدائے رحمن کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں پاؤگے۔اب پھر سے نظر دوڑاکر دیکھو کیا تمہیں کوئی رخنہ نظر آتا ہے؟
پھر بار بار نظر دوڑاؤ، نتیجہ یہی ہوگا کہ نظر تھک ہارکر تمہارے پاس نامراد لوٹ آئے گی۔
﴿سورۃ الملک، ۳-۴﴾
بادلوں کا وزن اور ہواؤں کا سہارا
(ایک قرآنی و سائنسی مشاہد��)
قرآنی آیت اور ترجمہ:
وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا
"اور اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے، پھر وہ بادلوں کو اٹھاتی (ابھارتی) ہیں۔"
(سورہ فاطر، آیت: 9)
سائنسی ریسرچ: لاکھوں ٹن وزنی بادل گرتے کیوں نہیں؟
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کے سر کے اوپر تیرتے ہوئے بادلوں کا وزن کتنا ہے؟
ایک اوسط بادل کا وزن تقریباً 5 لاکھ کلوگرام (یعنی 500 ٹن) ہوتا ہے! اتنے بھاری بادل زمین کی کششِ ثقل (Gravity) کے باوجود نیچے کیوں نہیں گر جاتے؟
جدید سائنس اس کی دو بڑی وجوہات بتاتی ہے جو عین قرآنی حکمت کے مطابق ہیں:
اپ ڈرافٹس (Updrafts): زمین سے گرم ہوا مسلسل اوپر کی طرف اٹھتی ہے۔۔ یہ ہوائیں بادل کے ننھے ننھے قطروں کو نیچے گرنے سے روکے رکھتی ہیں۔
یاد رہے ۔۔یہ وہی "ہوائیں" ہیں جن کا ذکر اللہ نے 1400 سال پہلے کیا تھا کہ وہ بادلوں کو "اٹھائے" پھرتی ہیں۔📖
پانی کے قطروں کا سفر:
گیس (Gas): سمندروں اور زمین سے پانی بھاپ بن کر اوپر اٹھتا ہے۔
بادل (Cloud Formation): بلندی پر جا کر یہ بھاپ ٹھنڈی ہو کر دوبارہ مائع (Liquid) یا برف کے باریک ذرات میں بدل جاتی ہے اور بادل کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔
گر��ویٹی کا غلبہ (Rain): جب یہ ننھے قطرے آپس میں مل کر بڑے اور وزنی ہو جاتے ہیں، تو اب ہوا کا دباؤ انہیں مزید نہیں تھام سکتا۔ یہاں گریویٹی اپنا کام دکھاتی ہے اور انہیں زمین کی طرف کھینچتی ہے اور جسے ہم بارش کہتے ہیں۔
حاصلِ کلام:
سبحان اللہ! جسے ہم صرف ایک موسم سمجھتے ہیں، اس کے پیچھے کائنات کی کتنی پیچیدہ انجینئرنگ چھپی ہے۔
اللہ نے ہواؤں کو بادلوں کے لیے ایک "غیر مرئی سہارا" (Invisible Support) بنا دیا ہے۔
#الف_نگری
اور اپنے رَبّ کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دِل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ، اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کئے بغیر! اور اُن لوگوں میں شامل نہ ہوجانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
﴿سورۃ الاعراف، ۲۰۵﴾