منیر نیازی کہتے ہیں کہ ابا جی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا
اچانک انہوں نے مجھ سے پوچھا:
"حیض کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ "
میں نے اپنے دل میں الحمد للہ پڑھ کر اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ ہم بھی اب اپنے آپ کو ان آزاد خیال لوگوں میں شمار کر سکتے ہیں جو اپنے گھر میں ہر قسم کے موضوع پر کھل کر بات کر سکتے ہیں
ساتھ ہی مجھے وہ سارے بیتے سال یاد آ گئے جو میں نے ابا جی کے رعب اور دہشت کے ساتھ اس گھر کے گھٹن زدہ ماحول میں گزار دیئے تھے
منیر نیازی نے مسکراتے ہوئے کہا:
" ابا جی، حیض اک ایسے سرکل کا نام ہے جس سے ہر جوان عورت مہینے میں ایlک بار گزرتی ہے "
ابا جی نے پھر پوچھا:
" تو پھر عورت اس حالت میں کیا کرتی ہے؟ "
منیر نیازی نے کہا:
" ابا جی ، عورت اس حالت میں نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ ہی روزہ رکھتی ہے "
ابا جی نے اس بار قدرے سخت اور اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا:
" پُتر ! اس کا مطلب یہ ہے کہ تجھ میں اور اُس حیض والی عورت میں کوئی فرق نہیں ہے ! "
اردو کلاسیک
بریکنگ نیوز 🚨: ظہران نظامانی کے آرٹیکل کے بعد سید جلال حسین کے آرٹیکل نے بھی بھائی لوگوں کی نیندیں اُڑا کر رکھ دیں۔ اسے بھی ڈیلیٹ کروا دیا گیا۔ یہ رہا آرٹیکل مکمل پڑھیے 🔥
خبردار اسکو ریٹویٹ کیے بغیر کوئی نہ گزرے 🚨
عنوان: عارضی بادشاہوں کی ایک سلطنت
سید جلال حسین
اسلام آباد کی مرطوب عدالتوں میں، جہاں خواہش قانون کا لبادہ اوڑھ لیتی ہے؛ اینٹوں سے گھرے محفوظ احاطوں میں، جہاں فیصلے سائے میں لکھے جاتے ہیں اور طاقت کی سیاہی سے، ہر وعدہ ماضی کی بازگشت ہے—نکولو میکیاولی کے دی پرنس کی وہ پرانی نصیحتیں خاموشی سے سانس لیتی ہیں۔
پانچ صدیاں پہلے میکیاولی نے خبردار کیا تھا کہ وعدے ماضی کی خدمت کے لیے ہوتے ہیں، حال کی نہیں۔ پاکستان کے بے چین سیاسی منظرنامے سے بڑھ کر اس کی سچائی کہیں اور نہیں ملتی، جہاں اتحاد ریت کی طرح سرک جاتے ہیں، اور نجات دہندہ کل کے ہی سانچوں میں آج کے روپ بدل لیتے ہیں۔ یہاں طاقت اب خدمت نہیں، بلکہ بقا کی آخری صورت بن چکی ہے۔
دی پرنس میں میکیاولی نے اقتدار کی باریک نفسیات بے نقاب کیں: خوف، محبت سے زیادہ قابلِ اعتماد ہے؛ ایک حکمران کو دونوں میں توازن رکھنا چاہیے، مگر جھکاؤ خوف کی طرف ہو۔ صدیوں پہلے لکھا گیا یہ کھیل نامہ، پاکستان کے حکمران طبقے نے بخوبی سیکھ لیا ہے—یا کم از کم یہی سمجھا ہے۔ یہاں وعدے شاندار اشاروں کے ساتھ عارضی اسٹیجوں پر کیے جاتے ہیں، اور پسِ پردہ بھاری دروازوں کے پیچھے توڑ دیے جاتے ہیں۔ سیاسی خاندان، جو کبھی جمہوریت کے معمار کہلاتے تھے، اب محض بقا کی جنگ لڑتے دکھائی دیتے ہیں، اپنے مفادات کے تحفظ کی روایات کو موڑتے ہوئے۔ ہر انتخاب امید اور بدگمانی کے درمیان ایک دُوئیل ہوتا ہے، اور بدگمانی اکثر جیت جاتی ہے۔ منشور چمکدار بروشرز میں چھپتے ہیں، بلند آواز وژن چکاچوند روشنیوں میں گونجتے ہیں، مگر جب دھول بیٹھتی ہے تو اصل وعدے وہی رہ جاتے ہیں جو بند کمروں میں کیے گئے تھے۔
جو لوگ صرف قسمت کے سہارے جیتے ہیں، میکیاولی نے خبردار کیا تھا، انہیں اپنی فتوحات بچانے کے لیے دوگنا محنت کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ ایسے رہنماؤں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے گہری جڑوں کے بجائے وقتی ہوا کے رخ پر سفر کیا۔ وہ ادھار اتحادوں، کھوکھلے کرشموں اور قومی مایوسی کے عارضی لمحوں کی پشت پر اٹھائے گئے—اور پھر دیکھا کہ جن ہاتھوں نے انہیں بلند کیا، وہی انہیں ایک لمحے میں گرا بھی سکتے تھے۔
خاموش سلطنت—وہ مستقل اسٹیبلشمنٹ جسے میکیاولی فوراً پہچان لیتا—پاکستان کی اصل حاکم ہے۔ جرنیل وردیاں بدلتے ہیں، جج لباس، سیاست دان وفاداریاں، مگر نظام اپنی شکل بدل کر بھی قائم رہتا ہے، خود کو یوں تازہ کرتا ہے جیسے کوئی وائرس جس کا کوئی علاج نہ ہو۔ انتخابی تماشوں اور کابینہ کی ردوبدل کے پیچھے، کنٹرول کی ساختیں برقرار رہتی ہیں: لچکدار، بے جواب دہ، اور ابدی۔
طاقت کو اچھی طرح معلوم ہے کہ کھلے عام نفرت کیے جانے کے بجائے خوف زدہ ہونا زیادہ محفوظ ہے۔ یہ وردی میں ملبوس صدر کے ذریعے گرجتی ہے۔ ٹوٹے ہوئے مائیکروفونوں اور سیاسی اتحادیوں پر برسنے والی گالیوں میں گونجتی ہے۔ بل بورڈز سے مسکراتی ہے جو قسمت بدلتے ہی راتوں رات غائب ہو جاتے ہیں۔ یہاں محبت ایک ذمہ داری ہے، ایک ناپائیدار زیور جو اگلی بڑی غداری سے بکھر جاتا ہے مگر خوف تلخ ذائقے کے ساتھ قومی شعور میں باقی رہتا ہے۔
کبھی ایک شہزادہ مینارِ پاکستان کے سائے تلے کھڑا تھا، بازو اٹھائے، کھلے آسمان تلے جمع ہجوم سے خطاب کرتا ہوا۔ اس نے انصاف، نوزائیدگی اور ایک صاف ستھرے مستقبل کی بات کی۔ لوگ نعرے لگاتے رہے، امید کے نشے میں مست۔ کہیں اور، ٹھنڈے اور خاموش کمروں میں، مرد سوٹ اور ستاروں کے ساتھ بیٹھے نوٹس لیتے رہے۔ انہوں نے ایک ابھرتا ہوا رہنما نہیں دیکھا، بلکہ ایک کارآمد آلہ—ایک ایسی ترتیب کے لیے جو اس کی افادیت ختم ہونے تک چلنی تھی۔
میکیاولی کی تنبیہ واضح تھی: جو لوگ قسمت کے زور پر ابھرتے ہیں، انہیں اقتدار برقرار رکھنے کے لیے کہیں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان میں، بدقسمتی اکثر وردی پہنتی ہے، اور مہربانی ہمیشہ مشروط ہوتی ہے۔ جب لہریں پلٹتی ہیں، تو انتقام سب سے مضبوط سلطنتوں کو بھی بہا لے جاتا ہے۔
یہاں غداری کوئی استثنا نہیں؛ یہ سیاست کے خون میں شامل ہے۔ کل کا بادشاہ ساز آج کا جلا وطن ہے۔ آج کا باغی کل کا اندرونی کھلاڑی۔ نجات دہندہ اور غاصب کے درمیان لکیر اتنی باریک ہے کہ آخرکار مٹ جاتی ہے، اور بقا کی بے رحم حقیقت میں گم ہو جاتی ہے۔
گرینڈ ٹرنک روڈ کے کنارے، پنجاب کے دل میں، سیاسی خاندان وفاداریوں کے کان میں سرگوشیاں کرتے ہیں۔ لاہور کا شیر زخمی مگر نہ ٹوٹا ہوا۔ ایک محتاط واپسی کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ اس کی وارث تقریریں نکھارتی ہے؛ پرانے کارکن پھٹے ہوئے جھنڈوں کی گرد جھاڑتے ہیں۔ تختوں کے مکین بدلتے رہتے ہیں
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
واہ میرایا مولا!!!
سسٹم کے منہ پر چپیڑ
ایک طرف دنیا کی مشہور اور باصلاحیت ڈاکٹر ثانیہ نشتر ، جسے پاکستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا تھا اور دوسری جانب ریاست پاکستان کے ڈاکو مصطفی کمال کو وزیر صحت نامزد کر کے جینیوا بھیجا گیا ہے۔
جینیوا میں اب اسی پاکستانی ڈاکٹر ثانیہ مرزا سے پاکستان کے لیے امداد مانگی جا رہی ہے۔
@SaniaNishtar
Dr.Sania Nishtar
عاصم منیر کی خواہش زمینی خدا بننے کی تھی اسی لئے اس نے پیغام بھجوایا کہ مجھ سے معافی مانگی جائے۔
عمران خان نے آج ایک دفعہ پھر کہہ دیا کہ میں لا الہ الا اللہ کا ماننے والا ہوں، چاہے ساری عمر بھی جیل میں رہنا پڑے، اللہ کے سوا کسی کے آگے سر نہیں جھکاؤں گا۔
کائنات میں سب سے افضل رتبہ انبیا کا ہے، ان کے بعد اصحاب رسول اور اہل بیت۔
تیسرے نمبر پر یقینناً عمران خان کا ہی درجہ ہوگا کیونکہ اللہ کی وحدانیت اور یاحیی یا قیوم پر اس کا ایمان غیرمنزلزل اور قابل رشک ہے۔ باقی تمام اولیا کرام، مجددین کی حیثیت عمران خان سے کم ہے!!!
منجانب: المفتی اعلی حضرت باباکوڈا
ستر سال تک ہمارا دعوی رہا کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے اونچی، سمندر سے گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔
چین نے 48 ممالک کی فہرست جاری کی جن کے شہری بغیر ویزہ کے چین کا وزٹ کرسکتے ہیں۔
پاکستان ان 48 ممالک میں بھی شامل نہ ہوپایا۔
ساری عمر ہم مراثیوں کی طرح چین کی شان میں شعر کہتے رہے اور چینی بھی ہماری قدر کرتے رہے۔ پھر یوں ہوا کہ ایک احساس کمتری کا شکار شخص آیا، بغض عمران میں اس نے چین کو بھی ناراض کردیا۔
اخے ہمالیہ سے اونچی ہماری دوستی ۔ ۔ ۔
پرتگال میں اسٹیبلشمنٹ کے ہرکاروں کی جائدادوں میں جرنیلوں (بالخصوص سابقہ اور موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی)کے مبینہ اثاثے بھی شامل ہیں۔ ادھر شریف کرائم مافیا کی کرپشن والی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا جاتا ہے تو دوسری طرف وہ فوجیوں کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ آئی ایس آئی نے خواجہ صاحب کا فرنٹ مین اے ڈی سی آر اٹھوایا تو پرتگال والا جواب آیا۔ میچ آن ہے اور مقابلہ سخت۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
Met with Pakistani Deputy Prime Minister and Foreign Minister @MIshaqDar50 today to discuss expanding bilateral trade and enhancing collaboration in the critical minerals sector. I also thanked him for Pakistan’s partnership in countering terrorism and preserving regional stability.
حسن نواز ابھی 20 سال کا تھا جب بی بی سی نے اس سے لندن میں انٹرویو کرکے پوچھا کہ تم جس فلیٹ میں رہتے ہو، وہ کہاں سے آیا؟ اس کا جواب تھا کہ میں اس کا کرایہ ادا کرتا ہوں۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ شریف خاندان کی ملکیت تھا۔
مریم نواز سے جب پہلا انٹرویو ہوا تو پہلا سوال اس کی لندن پراپرٹی کے بارے میں ہوا جس میں اس نے کہا کہ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں۔
سلمان شہباز جب پہلی مرتبہ میڈیا میں آیا تو وہ اپنے خاندان کی کرپشن کے الزامات کی وضاحت دینے کیلئے آیا۔
حمزہ شہباز ابھی رکن اسمبلی نہیں بنا تھا جب اس سے شہبازشریف کی کرپشن بارے سوالات ہونا شروع ہوگئے۔
بلاول ابھی بلوغت کے مراحل سے بھی نہیں گزرا تھا جب اس کے ماں باپ کو سوئس عدالت نے کرپشن اور منی لانڈرنگ کے مقدمات میں سزا سنائی۔ جب وہ کالج کی سوسائٹی کی تقریب میں گیا تو تمام سوالات ہی زرداری اور بینظیر کی کرپشن کے حوالے سے کئے گئے۔
جنرل باجوہ کے بیٹے اسد باجوہ سے مغربی صحافی نے دبئی میں پوچھا تھا کہ تمہارے باپ نے چھ سالہ سرکاری نوکری میں 14 ارب کے اثاثے کیسے بنائے؟
جنرل عاصم باجوہ کا بیٹا امریکہ میں ڈرگز کے کیسز میں سزایافتہ ہے۔ اس کے بھائی کو پاپاجونز پیزا کے حوالے سے ابھی تک کرپشن کے سوالات کا سامنا ہے۔
عاصم منیر کے دونوں بھائیوں پر کرپشن اور رشوت خوری کے الزامات ہیں۔ اس کی دونوں بیٹیوں کو آؤٹ آف دا وے ڈپلومیٹک پاسپورٹ ایشو کرنے پر سوالات کا سامنا ہے۔
اب آجائیں عمران خان کے بیٹوں پر۔ ان سے جو کوئی بھی انٹرویو کرتا ہے، ان کے والد کے ساتھ جیل میں ہوئی ناانصافی کے حوالے سے پوچھا جاتا ہے، ان کی تعلیم اور کیرئیر کے حوالے سے سوالات کئے جاتے ہیں ۔ ۔ ۔ چونکہ ان کے باپ کا کردار اجلا اور شفاف رہا، اس لئے اس کے بچوں کو بھی کرپشن کے حوالے سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی جاتی۔
ایک طرح سے دیکھا جائے تو دنیا میں سزا ایسے ہی ملتی ہے۔ شریف خاندان، زرداری اور جرنیلوں کی اولادوں پر ساری دنیا میں لعنتیں بھیجی جاتی ہیں، انہیں شدید قسم کی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان کا باہر نکلنا مشکل ہوچکا ہے۔ ۔ ۔
دوسری طرف عمران خان کے بچوں کی تربیت، تعلیم اور شعور کے حوالے سے تعریفیں کی جاتی ہیں۔
بے شک سزا اور جزا اس دنیا میں بھی مل کر رہتی ہے!!!
Here are the corresponding Apple App Store links for iPhone users.
1. Proton VPN
https://t.co/nmNlIaD4jh
2. Windscribe VPN
https://t.co/KryCj3yZmv
3. Riseup VPN
The Riseup VPN app doesn't currently have an official Apple App Store link for iPhone users
4. Psiphon VPN
https://t.co/fJ1IWYpZCC
چونکہ پاکستان میں اکثر لوگ کریڈٹ کارڈ کا استعمال نہیں کرتے! یہ فری Free میں چلنے والے VPN کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں!
سنسر شب عوام کے ذہنوں کو کمزور کرتا ہے! اور اقوام عالم کے درمیان امن کو خطرے میں ڈالتا ہے!
Proton Vpn: https://t.co/foPsXkAsBK
Windscribe Vpn: https://t.co/cnBC6O8ymi
Riseup Vpn: https://t.co/oqI8Br5SKy
Psihone Vpn: https://t.co/JSYm8z3zdR
استاد نے اسٹوڈنٹ سے پوچھا کہ ناکام عشق اور مکمل عشق میں کیا فرق ہوتا ہے؟
اسٹوڈنٹ نے جواب دیا؛
ناکام عشق بہترین شاعری کرتا ہے، غزلیں اور گیت گاتا ہے، پہاڑوں میں گھومتا ہے۔ عمدہ تحاریر لکھتا ہے۔ دل میں اتر جانے والی موسیقی ترتیب دیتا ہے۔ ہمیشہ امر ہوجانے والی مصوری کرتا ہے۔
مکمّل عشق سبزی لاتا ہے، آفس سے واپس آتے ہوئے آلو، گوشت، انڈے وغیرہ لاتا ہے۔ لان کی سیل کے دوران بچوں کو سنبھالتا ہے۔ پیمپر خرید کر لاتا ہے۔ تیز بارش میں گھر سے نہاری لینے کے لیے نکلتا ہے۔ سسرال میں نظریں جھکا کر بیٹھتا ہے۔ ماں بہنوں سے زن مریدی کے طعنے سنتا۔ اور پھر گھر آ کر یہ بھی سنتا ہے کہ آپ کتنے بدل گئے ہیں۔ شادی سے پہلے کتنے اچھے تھے۔
عمران خان کی حکومت ختم ہوئی تو پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پورے ملک میں لوگ اپنے طور پر جرنیلوں کیخلاف نکلے
عوام نے پہلی بار فوج کا فیصلہ رد کر دیا
اس کے بعد عمران خان نے بیک ٹو بیک ساٹھ جلسے کئے ، پر جلسے نے پچھلے جلسے کا ریکارڈ توڑا
عوام ہر بار نکلے
عمران خان پہ زمان پارک پہ حملہ ہوا
عوام نکلے اور چھتیس گھنٹے مسلسل مزاحمت کر کے سیکورٹی فورسز کو پسپائی پر مجبور کیا
عمران خان نے لانگ مارچ کی کال دی
لوگ نکلے اور بڑی تعداد میں نکلے
اٹھارہ مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس پہ عمران خان پہ قاتلانہ حملہ پلان تھا
لوگ از خود نکلے اور حملہ ناکام بنایا
عمران خان کو گرفتار کیا گیا
تو پورے ملک میں لوگ نکلے
جس کی آڑ میں نو مئی کا فالس فلیگ آپریشن پلان کیا گیا
لوگ آج تک اس دن کو بھگت رہے
مگر لوگ نکلے
اس کے بعد دو مرتبہ بڑی کالز دی گئیں
لوگ نکلے
اتنا لوگ قائد اعظم کیلئے نہیں نکلے
جتنا لوگ عمران خان کیلئے نکلے
عوام سے گلہ مت کریں
یہ بزدل لیڈر شپ تھی
کہ جس نے دھوکا دیا
کئی بار کال دی
جب عوام آدھے راستے میں تھے
کال واپس لے لی گئی
جان بوجھ کر مومینٹم توڑا گیا
عوام کو مایوس کیا گیا
علی امین کے ساتھ دو بار لاکھوں لوگ اسلام آباد پہنچے ، عین اس وقت کہ جب مافیاز گھٹنے ٹیکنے والے تھے
علی امین نے انہیں نئی زندگی دی
یاد رکھیں
لوگ اب بھی نکلیں گے
بس انہیں کوئی یقین دلا دے
کہ اس بار دھوکا نہیں ہو گا
اور ہاں ضروری ہے
کہ سب ایم این ایز اور ایم پی ایز قیادت کریں
خدا کی قسم !
یہ رجیم ایک جھٹکے کی مار نہیں
عوام نے سینکڑوں لاشیں دی ہیں
لوگوں کے ہزاروں گھر تباہ ہوئے ہیں
پندرہ ہزار کارکنان جیلوں میں رہے ہیں
ہمارے پاس سینکڑوں المناک کہانیاں ہیں
عوام حقیقی آزادی چاہتے ہیں
وہ پی ٹی آئی دلا دے
تو ویل اینڈ گڈ
نہیں تو وہ کسی اور کو لیڈر چنیں گے
مگر نکلیں گے ضرور،
جس ملک میں مریم نواز کی توہین کے پرچے ہونے لگیں ، اس ملک کی بربادی میں کوئی کسر بچی ہے ؟؟
#imrankhanPTI
@PTIofficial
ماہرنگ بلوچ ہو یا بی ایل اے ، ٹی ٹی پی ہو یا ٹی ایل پی، ان میں سے کوئی تحریک انصاف پر ہوئے مظالم کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا
تحریک انصاف کے خلاف ان سب کا وہی رویہ ہے
جو ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا ہے
وہی جو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا بیانیہ ہے
کیا یہ سب ایک ہی جگہ سے آپریٹ ہوتے ہیں ؟؟
#گولی_کیوں_چلائی
The Pakistani establishment is responssible for the current triple crises of security, politics, and economic well-being facing the country. What is to be done? @ImranKhanPTI must be freed. There must be negotiations and agreement on a roadmap for the country by PTI, the establishment and key players in the current government with a timeline for a free and fair elections. #Pakistan needs fundamental reforms. #USA @realDonaldTrump@DOGE
https://t.co/5mLY76DA6c
علیمہ خانم نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ اڈیالہ جیل حکام نے ہمیں کہا تھا کہ سرکاری تعطیلات کے دوران عمران خان کی کسی سے ملاقات نہیں ہوسکتی، لیکن اس کے باوجود گزشتہ روز اور آج کچھ ملاقاتیں کروائی گئیں۔
کیا وہ ملاقاتی حضرات، عمران خان کی فیملی پر فوقیت رکھتے تھے؟
بات صرف اتنی سی ہے کہ جرنیلوں کی پھٹی پڑی ہے۔ ان کا بس نہیں چل رہا کہ کسی طرح عمران خان کو ڈیل پر راضی کرلیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان سے یہ بھی برداشت نہیں ہورہا کہ عمران خان پیغام اس کی بہنوں کے ذریعے عوام تک نہ پہنچ پائے۔
اس حوالے سے میرا یہی اصول ہے کہ موجودہ حالات میں علیمہ خانم کے علاوہ کسی بھی شخص کے بیان پر اعتبار مت کیا جائے، چاہے وہ گنڈاپور، اعظم سواتی یا سلمان راجہ ہی کیوں نہ ہو۔
آخر کوئی تو وجہ ہے کہ عمران خان کی بہنوں کو ان کے بھائی سے ملنے نہیں دیا جارہا ۔ ۔ ۔
عاصم منیر نہیں چاہتا کہ عمران خان تک باہر کی خبریں پہنچیں اور عوام تک عمران خان کی بات۔ لیکن عوام کا اب عمران خان کے ساتھ روحانی تعلق استوار ہوچکا ہے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ عمران خان ہم سے کیا کہنا چاہتا ہے اور عمران خان بھی جانتا ہے کہ عوام اس سے کیا کہنا چاہتے ہیں۔
جرنیلا، تُو حسد سے جل، سڑ اور مر ۔ ۔ ۔ !!!
رجیم چینج سازش کے پانچ بڑے کردار تھے :
جنرل باجوہ ، جنرل ندیم انجم ، نواز شریف ، زرداری اور مولانا فضل الرحمان،
لوٹے خریدنے سے لے کر وزارتوں کی بندر بانٹ تک ، سب ملے ہوئے تھے
مولانا فضل الرحمان نے خصوصاً مواصلات کی وزارت لی کہ اس میں پیسہ بہت تھا
جو نقد مال وصول کیا
وہ الگ تھا
کسی بھی بیان سے دھوکا مت کھائیں
یہ سدھرنے والی روحیں ہی نہیں ہیں
#گولی_کیوں_چلائی